Skip to content
سفیر کو حقیر نہ سمجھو مدارسِ اسلامیہ اور ان کے سفراء کی عظمت اور ہماری ذمہ داری
✍️ از قلم : شیخ امیرالدین رحمانی
برصغیر میں دینی شناخت کی بقا، اسلامی علوم کی حفاظت اور قرآن و سنت کی اشاعت میں مدارسِ اسلامیہ کا کردار نہایت بنیادی اور فیصلہ کن رہا ہے۔ یہی وہ مراکز ہیں جہاں قرآنِ کریم حفظ کیا جاتا ہے، حدیث و فقہ کی تعلیم دی جاتی ہے، ائمہ و خطباء تیار ہوتے ہیں اور ملت کی فکری و روحانی رہنمائی کا سامان کیا جاتا ہے۔ یہ مدارس صرف تعلیمی ادارے نہیں بلکہ ایمان کے قلعے ہیں۔ انہی کی بدولت مساجد آباد ہیں، مکاتب زندہ ہیں اور اسلامی شعار باقی ہے۔ مگر ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ان مدارس کی اکثریت سرکاری امداد سے محروم ہے اور ان کا پورا نظام عوامی تعاون، زکوٰۃ اور صدقات پر قائم ہے۔ اسی تعاون کو جمع کرنے کے لیے مدارس اپنے نمائندوں کو مختلف شہروں اور ریاستوں میں بھیجتے ہیں جنہیں سفراء مدارس کہا جاتا ہے۔ بدقسمتی سے یہی وہ طبقہ ہے جسے اکثر حقارت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، حالاں کہ وہ اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ دین کی بقا کے لیے سفر کرتا ہے۔ سفیر کوئی پیشہ ور مانگنے والا نہیں ہوتا، نہ وہ اپنے بچوں کے خرچ کے لیے نکلتا ہے اور نہ اپنی تجارت کے لیے چندہ کرتا ہے، بلکہ وہ اپنے مدرسے کے بجٹ کی تکمیل، یتیم و نادار طلبہ کی کفالت اور دینی تعلیم کے تسلسل کو برقرار رکھنے کے لیے نکلتا ہے۔ وہ اپنی غرض کے لیے نہیں بلکہ اپنے ادارے کی ترقی و کامیابی کے لیے سفر کرتا ہے۔ رمضان المبارک میں جب مدارس سال بھر کے اخراجات کا انتظام کرتے ہیں تو اساتذہ اور سفراء بڑے بڑے شہروں کا رخ کرتے ہیں، بعض ذمہ داران بیرونِ ملک بھی جاتے ہیں، مگر اندرونِ ملک چندہ کرنے والے سفراء کی مشکلات نہایت کٹھن ہوتی ہیں۔ رہائش ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہوتا ہے، نہ ہر جگہ کوئی رشتہ دار ہوتا ہے اور نہ مستقل ٹھکانہ، محدود بجٹ کی وجہ سے وہ ہوٹل یا کرایہ کا کمرہ نہیں لیتے کہ چندے کی رقم ان کی ذات پر صرف نہ ہو بلکہ اپنے صحیح مصرف تک پہنچے، چنانچہ کبھی مسجد میں رات گزارتے ہیں، کبھی کسی دکان یا کارخانے میں اور کبھی بغیر آرام کے ہی دن نکال دیتے ہیں۔ بعض شہروں میں نماز فجر کے بعد مسجد میں ٹھہرنے پر پابندی بھی عائد ہوتی ہے جس سے ان کی آخری امید بھی ختم ہوجاتی ہے۔ کھانے کا بھی کوئی مستقل نظم نہیں ہوتا، کبھی دعوت مل گئی تو ٹھیک ورنہ سادہ کھانے یا فاقہ پر گزارا کرنا پڑتا ہے، مگر اس سب کے باوجود ان کا عزم کمزور نہیں ہوتا۔ سب سے کٹھن مرحلہ عوام سے ملنا اور چندہ طلب کرنا ہے جہاں بعض لوگ طنزیہ جملے کستے ہیں، مدرسہ کو دھندہ کہتے ہیں، معمولی رقم دے کر احسان جتاتے ہیں یا دسیوں تصدیق نامے طلب کرکے ناک بھوں چڑھاتے ہیں۔ کچھ تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ مدارس پر زکوٰۃ دینا ضائع کرنا ہے، حالاں کہ یہی چندہ جب سیاسی جماعتیں جمع کریں، اسکول ڈونیشن کے نام پر لیں یا کویئ دنیاوی سوسائٹی کریں تو کوئی اعتراض نہیں ہوتا۔ سوال یہ ہے کہ مدارس کا چندہ ہی نشانہ کیوں بنتا ہے؟ یہ درست ہے کہ چند افراد غلط طریقے اختیار کر لیتے ہیں، فرضی رسیدیں چھپوا لیتے ہیں یا ذاتی مفاد کے لیے مدرسہ کا نام استعمال کرتے ہیں، مگر چند نادر واقعات کی بنیاد پر پورے نظام کو مشکوک قرار دینا انصاف نہیں۔ مدارس وہ ادارے ہیں جو غریب طلبہ کو مفت تعلیم دیتے ہیں، زکوٰۃ کا صحیح مصرف کرتے ہیں، حفاظ و علماء تیار کرتے ہیں، مساجد و مکاتب کو آباد رکھتے ہیں اور معاشرے کی اصلاح کا کام انجام دیتے ہیں۔ انہی مدارس نے اس ملک میں اسلامی شناخت کو برقرار رکھا ہے اور آنے والی نسلوں کے ایمان کی حفاظت کا بیڑا اٹھایا ہے۔ اگر کوئی سفیر آپ کے دروازے پر آئے تو اسے عزت دیجئے، اخلاق سے پیش آئیے، استطاعت ہو تو تعاون کیجئے اور نہ ہو تو نرمی سے معذرت کر لیجئے، کیوں کہ مال دینا ہر ایک پر لازم نہیں مگر عزت دینا اخلاقی فریضہ ضرور ہے۔ سفیر اپنے گھر بار کو چھوڑ کر نکلتا ہے، اپنے وطن سے دور رہتا ہے، گرمی و سردی برداشت کرتا ہے اور بسا اوقات بھوکا پیاسا رہتا ہے تاکہ مدرسہ زندہ رہے، قرآن کی صدا بلند رہے اور ملت کا مستقبل محفوظ رہے۔ لہٰذا سفیر کو حقیر نہ سمجھو، وہ دین کا نمائندہ ہے، اس کی عزت دراصل علم اور دین کی عزت ہے، اور جو قوم اپنے علمی مراکز اور ان کے خادموں کی قدر نہیں کرتی وہ رفتہ رفتہ اپنی شناخت کھو دیتی ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مدارس اسلامیہ کی قدر کرنے، ان کے سفراء کا احترام کرنے اور اپنی استطاعت کے مطابق ان کا ساتھ دینے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
Like this:
Like Loading...