Skip to content
ایران اور نتیش کا جہاز، ڈبوایا ایک ساتھ
ڈاکٹر سلیم خان
کیا یہ محض اتفاق ہے کہ جس دن ایران کامہمان فوجی جہاز بحر ہند میں ڈوبا اسی دن نتیش کمار کی کشتی بھی ڈوب گئی۔ ایسے اتفاقات نہیں سازش ہوتی ہے۔ امریکی حملے کے ذریعہ ایرانی جہاز کے اپنے حدود میں ڈوبنے سے مودی سرکار کی زبردست بے عزتی ہورہی تھی کیونکہ فوجی مشق میں شامل ہونے کی خاطر آنے والے نہتے جنگی جہاز کو بحفاظت لوٹانا میزبان ہندوستان کی اخلاقی ذمہ داری تھی ۔ ہندوستان کو اعتماد میں لیے بغیر اس پر امریکہ نے حملہ کیا ہو یہ ناممکن ہے اور ایسا ہوا تو بھی حکومتِ ہند کو احتجاج کرنا چاہیے تھا مگر اس نے یہ کہہ کر کنیّ کاٹ لی کہ وہ ہمارے پانی سے نکل چکا تھا ۔ اس جھوٹ کو اگر سچ مان لیا جائے تب بھی ڈوبتے ہوئے ملاحوں کو بچانا مودی سرکار کا فرض تھا لیکن امریکہ بہادر کی ناراضی سے بچنے کی خاطر ہندوستانی بحری دستہ خاموش تماشائی بنا رہا یہاں تک سری لنکا کا بحریہ حرکت میں آیا اور اس نے ثابت کردیا کہ وہ امریکی حکومت سے مودی کی مانند خوفزدہ نہیں ہے ۔ اس طرح بیک وقت چارسمتوں سے رسوائی کے بادل آئے۔ پہلے تو خود اپنی ذمہ داری کی ادائیگی میں کوتاہی ، دوسرے امریکہ کو روکنے میں ناکامی جبکہ اسے اسٹریٹیجک دوست کہا جاتا ہے۔ تیسرے امداد نہ کرنا اور چوتھے سری لنکا کا یہ ثابت کردینا کہ مودی سرکار امریکہ کے آگے نہایت گئی گزری حالت میں ہے۔
ایرانی جہاز کے ڈوبنے سے ہاتھ آنے والی رسوائی کو ڈھانپنے کے لیے میڈیا کو نتیش کمار کا جھنجھنا پکڑایا گیا لیکن یہاں بھی وہی اپنے محسن کے پیٹھ میں خنجر گھونپنے کی سازش کار فرما تھی۔ نتیش کمار نے 27؍ سال قبل لالو پرساد یادو کے بغض میں این ڈی اے کا دامن تھا ما اور اٹل جی کی مرکزی حکومت میں وزیر بن گئے ۔ ان کی پیٹھ پر سوار ہوکر بی جے پی بہار میں داخل ہوئی اور بیس سال بعد موقع دیکھ کر ان کا گلا ریت دیا ۔ یہ کام بی جے پی نے اپنے ہر حلیف کے ساتھ کیا ۔ اس کی سب سے قدیم حلیف شیوسینا ہے اسے دو حصوں میں بانٹ کر ایک کو ساتھ لیا اور پھر اب نگل رہی ہے۔ پنجاب کا اکالی دل نہ گھر کا رہا نہ گھاٹ کا اس کی جگہ عام آدمی پارٹی نے لے لی ۔ کانگریس اب بھی پہلے کی طرح ہے وہاں موجود ہے اور بی جے پی کہیں نہیں ہے مگر اکالی دل جیسی مضبوط پارٹی کا جنازہ نکل گیا۔ آسام میں اے جی پی کے ساتھ الحاق کیا۔ اس کو لات مار کر اے جی پی رہنما سروا نند سونوال کو بی جے پی میں شامل کرکے وزیر اعلیٰ بنایا اور آگے چل کر اسے بھی کانگریسی ہیمنتا بسوا سرما سے بدل دیا ۔ سونوال کو پہلے مرکزی وزیر بنایا گیا مگر آج نہ تو سونوال کا اتہ پتہ ہے اور نہ اے جے پی کہیں موجود ہے۔
اڑیشہ میں کانگریس کو روکنے کے لیے نوین پٹنائک کی بی جے ڈی نے بی جے پی کو ساتھ لینے کی غلطی کی۔ اس نتیجہ یہ ہے کہ آج وہاں بی جے پی کا کمل کھلا ہوا ہے اور بی جےڈی کا نشان سنکھ پھونکنے والا کوئی نہیں ہے۔ تمل ناڈو میں بی جے پی کی حلیف انا ڈی ایم کے اقتدار سے کوسوں دور کھڑی ہے۔ جئے للیتا کے بعد بی جے پی نے اسے بھی توڑنے کی سازش کی مگر اس ٹوٹ پھوٹ کا کسی کو کوئی فائدہ نہیں ملا۔ گجرات کے اندر بھی جنتا دل کے چمن بھائی پٹیل کی دُم پکڑ کر یہ لوگ اقتدار سے ایسے چپکے کے نکلنے کا نام ہی نہیں لے رہے جبکہ جنتا پریوار کا نام و نشان مٹ گیا۔ اس طرح یہ لوگ اپنے حلیفوں کے خون سے اپنی پارٹی کے کمل کو سینچتے رہے ہیں ۔ ڈی ایم کے اور ٹی ایم سی نے بی جے پی کی سازش کا اندازہ لگا کر دوری اختیار کی اس لیے اسٹالن اور ممتا بنرجی محفوظ و مامون ہیں ورنہ نتیش کے ساتھ اٹل کی سرکار میں شامل ممتا بنرجی کے پتےّ بھی بکھر چکے ہوتے۔ آندھر ا پردیش چندرا بابو نائیڈو کا انجام بھی آگے چل کر محبوبہ مفتی کی مانند ہوگا جن کا نہ صرف بی جے پی بلکہ عوام نے بھی ساتھ چھوڑ دیا ہے۔ یہ ایک ایسابھسما سور ہے جو اپنے حلیفوں کو نگل جاتا ہے۔
نتیش کمار اور بی جے پی کی حکمت عملی میں یک گونہ مشابہت ہے۔ بہار میں منڈل کمیشن نافذ کرکے کرپوری ٹھاکر نے پسماندہ اور دلت طبقات کا ایک بے مثال اتحاد قائم کیا ۔ اس میں مسلمانوں کی شمولیت نے چار چاند لگا دئیے اوراس طرح کانگریس کی گائے اور بچھڑا دونوں اقتدار سے محروم کردئیے گئے ۔ ایمرجنسی کے خلاف جئے پرکاش نارائن کو بہار میں سب سے زیادہ حمایت ملی اور اس تحریک نے ملک کو لالو پرشاد یادو جیسا رہنما دیا جو تمام عمر بی جے پی کی فسطائیت سے سینہ سپر رہا ۔ لالو پرساد یادو نے اڈانی کے رام رتھ کو روک کر مسلمانوں کا دل جیت لیا تھا ۔ اس کے بعد جنتا دل کی حکومت میں مرکزی وزیر کی حیثیت سے بھی وہ بہت مقبول ہوئے۔ ان کے مضبوط قلعہ میں سیندھ لگانے کی خاطر نہایت آرزو مند نتیش کمار نے جارج فرنانڈیس جیسے کٹر فسطائی مخالف رہنما کی دُم پکڑ کر بی جے پی کا دامن تھاما اور سب سے پہلے اپنے محسنِ اعظم کی پیٹھ میں چھُرا گھونپ کر انہیں پارٹی سے نکال باہر کیا۔ آج اگر بی جے پی ان کو دھوکہ دے رہی ہے تو یہ اسی احسان فراموشی کا صلہ ہے۔ نتیش کمار کو اپنی دغابازی کا پھل زندگی میں ہی مل گیا ۔اس سے بڑی رسوائی کیا ہوگی کہ ان کی مرضی کے خلاف انہیں پٹنہ سے دہلی بھیجا گیا اور مشورے کے بغیر بی جے پی اپنا وزیر اعلیٰ بہار پر مسلط کرنے جارہی ہے۔
نتیش کمار نے صرف اپنے نظریہ اور قائد سے غداری نہیں کی اقتدار کی خاطر کرپوری ٹھاکر سماجی تانے بانے کو بھی توڑا۔ پسماندہ طبقات میں دیگر ذاتوں کو یادو کا مخالف بناکر کھڑا کیا۔ دلتوں کے اندر مہادلت کا طبقہ الگ کرکے ان کو تقسیم کیا ۔ یعنی ایک طرف بی جے پی جنتا دل میں سیاسی پھوٹ ڈال رہی تھی اور دوسری جانب نتیش کمار سماج کے اندر ذات پات کی بنیاد پر تفریق و امتیاز پیدا کررہے تھے ۔ بی جے پی کو اس ’بانٹو اور کاٹو‘ کی سیاست کا فائدہ ملا اور آج وہ اپنا وزیر اعلیٰ نامزد کرنے کی حیثیت میں آگئی۔ منو نواز نظریہ اسی طرح اپنے مخالفین کو بانٹ بانٹ کر نہایت کمزور کرکے خود کو طاقتور بنانے کی کوشش کرتا ہے۔ امت کے اندر بھی وہ لوگ بار بار یہ کوشش کرکے ناکام ہوجاتے ہیں اس لیے خار کھائے رہتے ہیں۔ نتیش کمار نے اقتدار کی ہوس میں نہ صرف اپنی پارٹی کو کھوکھلا کیا بلکہ سماج کے اندر بھی تفریق و امتیاز کی گہرا کرکے فسطائیت نواز فرقہ پرستوں کا راستہ آسان کردیا ۔
نتیش کمارکے بارے میں یہ سراسر غلط پروپگنڈا ہے کیا گیا کہ وہ بدعنوان نہیں ہیں۔ ان پرسرجن گھوٹالہ، ٹوائلٹ گھوٹالہ اور مہادلت وکاس مشن کے3 بڑے گھوٹالے سامنے آئے مگر بی جے پی کی مرکزی حکومت کارروائی کرنے کے بجائے صرف بلیک میل کرکے اپنا کام نکالتی رہی ۔کروڑوں روپے کے سرجن گھوٹالہ معاملے میں وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ ساتھ بی جے پی کے آنجہانی وزیر خزانہ سشیل مودی پر بھی سنگین الزامات لگے ۔ 25جولائی 2013کو سنجیت کمار نامی ایک چارٹرڈ اکاؤنٹینٹ اور سماجی کارکن نے وزیر اعلیٰ بہار کو سرجن ویمن بینک چلانے اور کروڑوں کے غبن سے متعلق معلومات دیتے ہوئے ایک تفصیلی خط لکھا تھا مگر وزیر اعلیٰ نے اس پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ انہوں نے نہ صرف گھوٹالہ کرنیوالوں کو بچایا بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی۔2013ء میں بھاگلپور کے ضلع مجسٹریٹ نے سرجن معاملے میں شکایت ملنے پر تحقیقات کا حکم دیا مگر اس کی رپورٹ دبا نے کے لیے تفتیشی کرنے والے جج کا تبادلہ کروادیا گیا۔
نتیش کمار نے اپنے انتظامیہ کی مدد سے مذکورہ بالا بدعنوانی کے ماسٹر مائنڈ نتیش کمار اور سشیل مودی کو بچانے کی خاطر منظم طریقے پر ثبوت مٹائے ۔لالو یادو پرساد یادو چونکہ فسطائیت کی مخالفت پر سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی مانند کھڑے رہےاس لیے ان کو چارہ گھوٹالے کی آڑ میں بدعنوانی کی علامت بناکر انتظامیہ نے نہ صرف آر جے ڈی کو بدنام کیا بلکہ بی جے پی کے گودی میڈیا نےنتیش اور بی جے پی کی بدعنوانیوں کو چھپا یا ۔ اپنی سیاسی زندگی کے اختتام پر ڈاکٹر نصرت پروین کا حجاب ہٹا کر نتیش نے جو غلطی کی وہ کلنک ان کی پیشانی سے کبھی نہیں دُھل سکے گا۔ نصرت پروین کو سرکاری ملازمت کی پیشکش قبول کرنے کے لیے تین مرتبہ تاریخ بڑھائی گئی لیکن وہ خوددار خاتون نہیں جھکی اور اپنے عمل سے نتیش سرکار کے منہ پر تھوک دیا۔ اس سانحہ کو تین ماہ بھی پورے نہیں ہوئے کہ ایک خبط الحواس کو ذلیل و خوار کرکے مشیت نےبھر پور انتقام لے لیا ۔بقول انجم خلیق ؎
تو یاس کے موسم میں بھی امید کا فن سیکھ
اللہ کے گھر دیر ہے اندھیر نہیں ہے
Like this:
Like Loading...