Skip to content
نماز تراویح کی تاریخ
ازقلم:محمد المختار ولد احمد
ترجمانی: ڈاکٹر انجم ضیاء الدین تاجی
اس مقالے میں ماہِ قرآن میں اہلِ ایمان کے دلوں کو محبوب اُس عبادت، یعنی نمازِ تراویح کی مختصر تاریخ پیش کی جارہی ہے۔نہایت اجمال کے ساتھ بیان کیا جائے گا کہ اسلام کے ابتدائی دور سے اس کی ابتدا کیسے ہوئی، اور تاریخی اعتبار سے اس پر بعض سماجی اثرات کیسے مرتب ہوئے، جن کی وجہ سے کبھی یہ عبادت کے دائرے سے نکل کر رواجکے دائرے میں داخل ہوئی۔ علاوہ ازیں امت کے عقائد و فقہ اور سیاسی افکار وسماجی اقدار کی بنیاد پر قائم مختلف فرقوں نے اس کی قبولیت اور عدم قبولیت کے ضمن میں کیا رویے اختیار کیے۔ نیز یہ بھی واضح کیا جائے گا کہ بعض اوقات مختلف اسباب کی بنا پر یہ عبادت کیوں معطل ہوئی۔ ان نکات کے علاوہ ان مشہور ائمہ اور مقتدیوں کا ذکر بھی کیا جائےگا، جنہوں نے تراویح کے قیام اور اہتمام میں نمایاں کردار ادا کیاہے۔اور اس حقیقت کو بھی بیان کیا جائےگا کہ اس عظیم شعار سے وابستہ ہماری بہت سی موجودہ عملی صورتیں نئی ایجاد نہیں بلکہ صدیوں سے نسل در نسل منتقل ہوتی چلی آ رہی ہیں۔
عمرؓ کی مبارک پہل
نمازِ تراویح کی ابتدا کی اصل کیا ہے؟
علامہ ابن مبرد حنبلی (متوفی:۹۰۹ھ) اپنی کتاب ”محض الصواب “میں نمازِ تراویح کی ابتدا کے بارے میں لکھتے ہیں: ”کوئی شخص یہ گمان نہ کرے کہ تراویح حضرت عمر بن خطابؓ (م: ۲۳ھ ) کی ایجاد ہے یا وہ اس کے بانی ہیں، بلکہ یہ نماز رسول اللہ ﷺ کے زمانے ہی سے مشروع تھی؛ البتہ عمرؓ وہ پہلے شخص ہیں، جنہوں نے لوگوں کو ایک قاری کے پیچھے جمع کیا۔ اس سے پہلے لوگ الگ الگ اپنی نماز پڑھتے تھے، تو انہوں نے سب کو ایک قاری کے پیچھے جمع کر دیا… اور اسے ’’تراویح‘‘ اس لیے کہا گیا کہ لوگ ہر چار رکعت کے بعد کچھ دیر آرام کرتے تھے۔“ابن مبرد سے چھ صدیوں پہلے امام طبری (م:۳۱۰ھ) نے اپنی تاریخ میں لکھا کہ حضرت عمرؓ نے لوگوں کو تراویح پر جمع کرنے کا حکم ۱۴ھ میں جاری فرمایا، اور اس کے متعلق مختلف علاقوں کو خطوط بھی لکھے۔حضرت عمرؓ نے مردوں کے لیے ایک قاری اور عورتوں کے لیے الگ قاری مقرر کیا تھا۔ تاہم ایسا معلوم ہوتا ہے کہ امہات المؤمنین اپنی خصوصی حیثیت کے باعث عام عورتوں کی تراویح میں شریک نہیں ہوتی تھیں۔ اس کا ثبوت وہ روایت ہے ،جسے امام ابو القاسم اصبہانی معروف بہ قوام السنۃ (م: ۵۳۵ھ)نے اپنی کتاب سیر السلف الصالحین میں نقل کی ہے۔اس کے مطابق ذَکوان (ابو عمرو،م: ۶۳ھ)،جو ام المومنین سیدہ عائشہؓ (م: ۵۸ھ) کے آزاد کردہ غلام تھے، وہ ان کی تراویح کی نماز کی امامت کرتے تھے اور مصحف سے قراَت کرتے تھے۔
فقہ، تاریخ اور تذکروں کی کتابوں میں ان قاریوںکے نام محفوظ ہیں، جنہیں حضرت عمر ابن خطابؓ نے مختلف اوقات میں اس ذمہ داری کے لیے مقرر فرمایا۔مردوں کی امامت کے لیےحضرت ابیبن كعب انصاری (م:۲۲ھ) کا تقرر کیا گیا تھا۔ بقول ابن تيميہ(م: ۷۲۸ھ) ”وہ لوگوں کو بیس رکعت نماز پڑھاتے تھے، پھر تین رکعت وتر ادا کراتے تھے، اور رکعتوں کی تعداد بڑھنے کے باوجود قراَت کو ہلکا رکھتے تھے۔“ ( مجموع الفتاویٰ)دوسرے قاری حضرت معاذ بن حارث انصاری (م:۶۳ھ)تھے۔جب کہ خواتین کی امامت کی ذمہ داریتمیم بن اوس الداری (م:۴۰) ،کو دی گئی تھی۔ان کے بارے میں یہ بھی منقول ہے کہ انہوں نے مردوں کو بھی نماز پڑھائی۔ اسی طرح سلیمان بن ابی حَثمہ قرشی (م: بعد از ۴۳ھ) اور عمرو بن حریث مخزومی (م:۸۵ھ)بھی اس منصب پر فائز کیے گئے تھے۔
تراویح کی بعض اولیات
نمازِ تراویح کی تاریخ سے متعلق اہم اوّلیات میں سے ایک یہ ہے کہ خانۂ کعبہ کے گرد صفوں کو دائرے کی شکل میں قائم کیا گیا۔ چناںچہ ابو عبید بکری اندلسی(م: ۴۸۷ھ)اپنی کتاب المسالک والممالک میں سفیان بن عیینہ(م:۱۹۸ھ)سے روایت کرتے ہیں کہ: ”رمضان کے قیام (تراویح) میں سب سے پہلے جس شخص نے کعبہ کے گرد صفوں کو دائرے کی صورت میں قائم کیا ،دور بنو امیہ کا مکہ کے گورنر خالد بن عبد الله القسری(م:۱۲۰ھ) تھا۔ اس سے پہلے لوگ مسجد کے بالائی حصے میں نماز ادا کرتےتھے، انہوں نے ائمہ کو حکم دیا کہ وہ آگے بڑھ کر مقامِ ابراہیم کے پیچھے نماز ادا کریں اور کعبہ کے اطراف دائروی شکل میں صفیں باندھیں۔“
اہلِ سنت کے فقہا کے نزدیک تراویح ”سنت“ ہے، ”واجب“ نہیں ہے۔ بعض علما نے اسے ”بدعت ِ حسنہ“ بھی کہا ہے۔ تاج الدین السبکی (م: ۷۷۱ھ) نے اپنی کتاب طبقات الشافعیہکی رائے کا خلاصہ یہ ہے کہ: ”مساجد میں نماز تراویح کو ترک کرنا جائز نہیں ہے، کیوںکہ یہ مسلمانوں کی ایک اہم دینی شعار بن چکی ہے، لہٰذا یہ فرض کفایہ یا ایسی سنت کے حکم میں آ جاتی ہے، جو شعار بن جائے، جیسے عید کی نماز۔“امام ابو بکر البيهقيؒ (م: ۴۵۸ھ)نے اپنی تالیف ’’شعب الايمان‘‘ میں رمضان میں مساجد میں روشنی میں اضافہ کرنے کے عمل کو مستحب قرار دیا ہے۔ یعنی زیادہ سے زیادہ چراغ اور قندیلیں لٹکائی جائیں۔ اور یہ بھی کہا کہ یہ عمل سب سے پہلے عمر بن الخطاب نے اس وقت کیا جب انہوں نے لوگوں کو تراویح پر جمع کیا۔ یہ روایت مدینہ منورہ کے مؤرخ نور الدين سمهودي (م: ۹۱۱ھ)نے وفاء الوفاء بأخبار دار المصطفى میں نقل کی ہے۔اسی سلسلے میں امام نووی (م:۶۷۶ھ) نے تهذيب الأسماء واللغات میں روایت کیا ہے کہ علی بن ابی طالبؓرمضان کے مہینے میں مساجد سے گزرے، تو دیکھا کہ وہاں چراغ روشن ہیں۔ آپؓ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ عمر کی قبر کو نور سے بھر دے، جس طرح انہوں نے ہماری مساجد کو نور سے بھر دیا!“
اگرچہ مسلمانوں کی اکثریت صحابہ کرام کے طریقے پر رمضان میں تراویح قائم کرتی چلی آ رہی ہے، لیکن کچھ شیعہ فرقوں نے اسے ”بدعت ِ عمری“ کہہ کر اس کی مشروعیت سے انکار کیا؛ جیسا کہ شیعہ کے بعض گروہ (سوائے چند زیدی ائمہ کے) ایسا کہتے ہیں۔اور مقریزی(م:۸۴۵ھ)نے اپنی کتاب المواعظ والاعتبار میں معتزلہ کے نَظّامی فرقے کی طرف یہ قول منسوب کیا ہے کہ: ”نمازِ تراویح جائز نہیں ہے۔“
[فقہ جعفریہ کے نزدیک باجماعت تراویح بدعت ہے، اس لیے جائز نہیں ہے ۔ لیکن رمضان المبارک کی راتوں میں نصف شب کے بعد قیام لیل یا تہجد کی ادائیگی انفرادی طور پر مستحب ہے ۔(مترجم) ]
تراویح کے مشہور ائمہ
اسلامی تاریخ کے مختلف ادوار میں نمازِ تراویح کی امامت کی سعادت صرف حفاظ ،قاریوں اور علما ہی کو حاصل نہیں ہوئی ہے، بلکہ مشہور سیّاحوں ، تاجروں ،سلاطین حتیٰ کہ خادمین مساجد کو بھی یہ شرف حاصل ہوا ہے۔ائمہ میں شیخُ المفسرین محمد بن جریر طبری، شیخ المقرئین ابو بکر ابن مجاهد بغدادی (م:۳۲۴ھ) اور شیخ الواعظین ابن جوزی (م:۵۹۷ھ) شامل ہیں۔خطیب بغدادی (م:۴۶۳ھ) اپنی کتاب تاریخ بغداد میں بیان کرتے ہیں کہ ابن مجاہد نے ایک رات اپنے ہم عصر اور ہم وطن طبری کی آواز سنی، جب وہ بغداد کی اپنی مسجد میں لوگوں کو تراویح پڑھا رہے تھے، تو انہوں نے اپنے ایک شاگرد سے کہا: ”مجھے گمان نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسا انسان پیدا کیا ہوگا، جو اس قدر خوبصورت انداز میں قراَت کر سکتا ہو!“اسی طرح ابن عساکر (م:۵۷۱ھ) اپنی کتاب تاریخ دمشق میں ذکر کرتے ہیں کہ ان کے شیخ قاری ابو الفتح انصاری مقدسی (م:۵۳۹ھ) دمشق میں مسجد علی بن الحسن میں تراویح پڑھاتے تھے۔ابو جعفر ابن فنكي شافعي قرطبي (م:۵۹۶ھ)کے بارے میں آتا ہے کہ ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے لوگ برکت کے حصول اور ان کی خوش الحان قراَت سننے کی غرض سے ازدحام کیا کرتے تھے۔ جب وہ مکہ میں مقیم تھے، تو وہ رمضان میں تراویح کی قراَت کے لیے باری باری پڑھنے والوں میں شامل ہوتے تھے، اور ان کی قراَت ایسی پُراثر تھی کہ بے جان چیزیں بھی خشوع کے ساتھ نرم ہو جاتی تھیں۔ابن جبیر (م:۶۱۴ھ) نے اپنے سفرنامے لکھا ہے کہ نمازِ تراویح کے ائمہ میں ایک عظیم نام ابن تيميہ الحراني کا بھی ہے۔ ان کے شاگرد اور مورخ ابن الوردی معری کندی (م:۷۴۹ھ) نے اپنی تاریخ میں ان کا ذکرکرتے ہوئے لکھا: ”میں نے رمضان میں ان کے پیچھے تراویح پڑھی، تو ان کی قراَت میں خشوع دیکھا، اور ان کی نماز میں ایسی رقت اور دلکشی پائی، جو دلوں کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔“
مشہور فقیہ اور سیّاح عالم مقدسی بشاری (م:۳۸۰ھ) نے دوران سیاحت تراویح کی امامت کی سعادت پائی۔وہ اپنے سفرنامہ میں یمن کے سفر کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اہل عدن رمضان میں نماز کے اندر قرآن ختم کرتے ہیں، پھر دعا کرتے اور رکوع میں جاتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں: ”میں نے عدن میں لوگوں کو تراویح پڑھائی، تو سلام کے بعد دعا کی، جس پر وہ حیران رہ گئے!“ابتدائی قرون ہی سے بعض علما و ائمہء دین نے تجارت کو بطور پیشہ اختیار کیا،مگر تراویح کی امامت بھی کی۔ان میں سے ایک ابو علی ہلالی حورانی قاری (م:۵۴۶ھ) مکہ کے ایک بڑے تاجرتھے۔اس طرح خواجہ جمال الدین ابن شیخ علی جیلانی (م:۸۲۴ھ) کے بارے میں آتا ہے کہ: ”انہوں نے قرآنِ کریم حفظ کیا اور ۸۱۶ھ میں بیت اللہ شریف میں حنفی مصلیٰ پر تراویح پڑھائی۔“خادمین حرم میں احمد بن عبد اللہ الدُّوری مکی (م:۸۱۹ھ) رمضان میں لوگوں کو تراویح پڑھاتے تھے۔علاوہ ازیں بعض امرا و سلاطین کے نام بھی ائمہء تراویح کے طور تاریخ میں محفوظ ہیں۔ جیسے اورنگزیب عالمگیر (م:۱۱۱۸ھ)، جنہوں نے پچاس برس ہندوستان پر حکومت کی، کے متعلق معاصر مورخ المحبی الدمشقي (م:۱۱۱۱ھ)نے خلاصة الأثر في أعيان القرن الحادي عشر میں لکھا ہے کہ وہ اپنے زمانے کے بادشاہوں میں حسنِ سیرت کے اعتبار سے بے مثال تھے۔ وہ مزید لکھتے ہیں کہ اورنگزیب، اپنی وسیع سلطنت کے باوجود، رمضان میں اپنی محنت کی کمائی سے جو کے آٹے کی ایک روٹی کھاتے، لوگوں کو تراویح پڑھاتے، اور نہایت زیادہ نیکیاں اور خیرات کیا کرتے تھے۔ائمہ تراویح سے متعلق عجیب ترین واقعات میں سے ایک وہ ہے ، جسے مورخ صلاح الدين صفدي (م:۷۶۴ھ)نے نقل کیا ہے کہ ایک بڑے یہودی عالم موسیٰ بن میمون القرطبی (م:۶۰۱ھ)نے مراکش میں (دورِ موحدین میں مجبوراً) اسلام قبول کیا، قرآن حفظ کیا اور فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ پھر جب وہ ۵۶۰ھ میں سمندری راستے سے مغرب سے فلسطین جارہا تھا، تو دوران ِسفر رمضان کا مہینہ شروع ہوگیا۔اس نے جہاز میں موجود مسلمانوں کو تراویح پڑھائی۔بعد میں یہ شخص فلسطین سے مصر چلا گیا، اور ۵۷۳ھ میںاپنے اصل مذہب کی طرف لوٹ گیا اور مصر میں یہودیوں کا سربراہ اور ان کا قاضی بن گیا ۔یہ واقعہ سلطان صلاح الدين ايوبي (م: ۵۸۹ھ)کے دور کاہے۔
ختم قرآن کی مدت
نمازِ تراویح کی ایک اہم روایت شبینہ کی بھی ہے، ایسے حفاظ میں دمشق کے قاضی القضاة ابو الحسن عماد الدین طرسوسی حنفی (م:۷۴۸ھ) کے بارے میں محی الدین قرشی (م: ۷۷۵ھ)نے اپنی کتاب الجواہر المضیة فی طبقات الحنفیة میں لکھا ہے کہ:وہ بہت کم مدت میں قرآن مکمل سنا دیتے تھے،ایک مرتبہ انہوں نے باوقار لوگوں کی ایک جماعت کی موجودگی میں ساڑھے تین گھنٹے کے قریب وقت میں تراویح میں قرآن مکمل پڑھ دیا۔“اگرچہ قدیم زمانے میں گھنٹہ کا تصور آج کے وقت کے پیمانے سے مختلف تھا، اس کے باوجود مورخین کی جانب سے ختم قرآن کے وقت میں کچھ مبالغہ کا امکان بہرحال موجود ہے۔شمس الدین جزری (م: ۸۳۳ھ)اپنی کتاب غایة النهایة فی طبقات القراء میں روایت کرتے ہیں کہ قاری کمال الدین ابو الحسن حميري اسکندري (م: ۶۹۴ھ)ہر رات تراویح میں پورا مہینہ ایک مکمل ختم کیا کرتے تھے۔ اسی طرح قاری ابو محمد یعقوب بن یوسف حربي (م: ۵۸۷ھ)رمضان میں ہر رات نصف قرآن کے ساتھ تراویح پڑھاتے تھے۔( لسان المیزان ازابن حجر عسقلانی )کچھ ائمہ ایسے بھی تھے، جو رمضان کی ہر دس راتوں میں ایک ختم مکمل کرتے تھے۔ اندلسی مؤرخ ابن بشکوال (م: ۵۷۸ھ)نے الصلة میں لکھا ہے کہ ابو القاسم خلف بن یحیی فہری طلیطلی (م:۴۰۵ھ)قرطبہ کے مسجد الیتیم کے امام تھے اور رمضان میں مالکی مسلک کے مطابق اٹھارہ رکعت پڑھاتے اور تین ختم کرتے: پہلا دس تاریخ کی رات، دوسرا بیس تاریخ کی رات اور تیسرا انتیس تاریخ کی رات۔بہت سے ائمہء تراویح سات یا دس قراَت کے ساتھ نماز پڑھایا کرتے تھے۔ ان میں ابو علی هلالی حورانی بھی شامل ہیں ،جو دمشق کی جامع مسجد میں مختلف قراَت کو ملا کر پڑھتے اور اختلافی لفظ کو بار بار دہراتے تھے۔الذہبی (م:۷۴۸ھ)اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں ذکر کرتے ہیں کہ نابینا قاری ابو العباس برداني بغدادي (م:۶۲۱ھ) تراویح میں شاذ قراَت شہرت کی خواہش میں پڑھا کرتے تھے۔ اسی طرح سخاوی (م:۹۰۲ھ)نے الضوء اللامع میں بیان کیا ہے کہقاری محمد بن احمد مقدسی شافعی (م: ۸۸۵ھ) نے رمضان میں لوگوں کو پورا قرآن اس طرح پڑھایا کہ ہر دسواں حصہ قراء عشرہ میں سے کسی ایک امام کی قراَت کے مطابق تھا۔ تاج الدین ابن انجب ساعی (م:۶۷۴ھ) الدر الثمین میں لکھتے ہیں کہ طویل مدت تک تراویح میں قرآن مجید سنانے میں ابو علی الحسن بن داود قرشی اموی کوفی (م: ۳۵۲ھ)کا ذکر ملتا ہے، جو خوش الحان تھے اور تینتالیس برس تک جامع کوفہ میں تراویح پڑھاتے رہے۔اسی طرح ابن فوطی شيبانی (م:۷۲۳ھ)نے مجمع الآداب فی معجم الألقاب میں نقل کیا ہےکہ ابو عبد الله نیشاپوری (م:۳۹۲ھ)تریسٹھ برس تک تراویح میں قرآن سناتے رہے۔ اور خطيبکریم الدین ابو جعفر عباسی (م: ۵۷۴ھ) بغداد کے جامع القصر میں تقریباً پچاس برس تک خطبہ بھی دیتے رہے اور تراویح بھی پڑھاتے رہے۔
خاص تراویح
سلاطین اور وزرا اور دیگر حکام رمضان المبارک میں ایسے حفاظ کو منتخب کرتے،جو مضبوط حافظہ، اعلیٰ ادائیگی اور خوش الحانی کے مالک ہوتے، تاکہ وہ انہیں تراویح پڑھائیں۔مثلاً ذہبی نے سیر أعلام النبلاء میں نقل کیا ہے کہ عباسی خلیفہ المستظهر بالله (م: ۵۱۲ھ) نے کسی ایسے شخص کی خواہش ظاہر کی، جو اسے تراویح پڑھائے، چناںچہ اس کا انتخاب قاضی ابن الدواس پر ہوا۔ خلیفہ ان کی قراَت سے بہت متاثر ہوا ۔ جب رمضان کی پہلی رات انہوں نے تراویح شروع کی، تو پہلی دو رکعتوں میں ایک ایک آیت پڑھتے رہے۔ سلام پھیرنے کے بعد المستظهر نے کہا: ”ہمیں اور زیادہ تلاوت سناؤ!“ چناںچہ انہوں نے دو دو آیتیں پڑھنا شروع کر دیں۔ پھر خلیفہ نے کہا: ”اور بڑھاؤ!“ یہاں تک کہ ہر رات ایک پارہ پڑھنے لگے۔نیز ذہبی تاریخ الاسلام میں ذکر کرتے ہیں کہ قاری ابو الخطاب كاتب شافعي بغدادي (م: ۴۹۷ھ)عباسی خلیفہ المستظهر باللہ کو تراویح پڑھایا کرتے تھے۔حافظ ابن عساکر بیان کرتے ہیں کہ زین القضاة سلطان بن یحیی قرشی دمشقی (م: ۵۳۰ھ) نے بغداد کے نظامیہ مدرسہ میں تراویح پڑھائی اور عباسی خلیفہ نے انہیں خلعت عطا کی۔امام ابن رجب حنبلی (م: ۷۹۵ھ) نے کتاب الذیل علی طبقات الحنابلہ میں لکھا ہے کہ قاری ابو القاسم هبة الله بن الحسن الاشقر بغدادي (م: ۶۳۴ھ)عباسی خلیفہ الظاهر بامر الله (م: ۶۲۳ھ)کو تراویح پڑھاتے تھے، انہیں اس نماز کا باقاعدہ امام مقرر کیا گیا تھا، اور لوگوں کو اجازت تھی کہ وہ بغداد میں خلیفہ کے محل کی مسجد میں ان کے ساتھ نماز میں شریک ہوں۔اندلس میں ابن عبد الملك مراكشي (م: ۷۰۳ھ) الذیل والتکملہ میں ابن مقاتل قیسی غرناطی (م: ۵۷۴ھ) کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ وہ قرآن کے حافظ، قراَت کے ماہر اور خوش آواز تھے، اور غرناطہ کی جامع مسجد میں تراویح کی امامت کے لیے منتخب کیے گئے تھے۔اسی طرح المراکشی لکھتے ہیں کہ موحدین کے سلطان يعقوب المنصور (م: ۵۹۵ھ)نے ایک دن قاری ابو الحسن قرطبي (م: ۶۱۷ھ)کی تلاوت سنی، تو ان کی خوش الحانی اور حسنِ ادائیگی سے بے حد متاثر ہوا، انہیں تقرب عطا کیا، اپنے بچوں کا معلم مقرر کیا، اور رمضان میں تراویح کے ایک حزب کی قراَت ان کے سپرد کی۔اور قاری ابو بكر انصاري قرطبي (م: ۶۱۴ھ) خوش آواز تھے، امیر انہیں تراویح پڑھانے کے لیے بلایا کرتا تھا۔( تاریخ الاسلام از الذہبی)اسی طرح ابو الحسن ابن واجب قيسي بلنسي (م:۶۳۷ھ)کا شمار بھی خوش الحان قاریوں میں ہوتا تھا۔
ابن الابار القضاعی بلنسی (م: ۶۵۸ھ) نے اپنی تالیف التکملة لکتاب الصلة میںلکھا ہے کہ ابن وزیر بلنسی (م: ۶۲۴ھ) حکمرانوں کو تراویح پڑھاتے تھے، اور تجوید کے ماہر، قراَت میں پختہ اور خوش ذوق نیک قاریوں میں سے تھے۔اندلسی وزیر اور مؤرخ لسان الدين ابن خطيب (م: ۷۷۶ھ) نے اپنی کتاب الإحاطة في أخبار غرناطة میں اپنے ہم عصر قاری محمد بن قاسم انصاري جياني (م: ۷۷۶ھ)کے بارے میں لکھا ہے کہ ”وہ نہایت خوش آواز تھے، اسی خوش الحانی کی وجہ سے انھوں نے بادشاہوں تک رسائی حاصل کی، اور غرناطہ میں قصرِ الحمراء کی مسجد میں تراویح پڑھائی۔“
قدیم زمانے میں بھی بڑے بڑے علما بھی بعض اوقات خود تراویح پڑھانے کے بجائے کسی اور کو اپنا امام بنا لیتے تھے۔قاضی القضاة اور مورخ ابن خلكان (م: ۶۸۱ھ)نے وفيات الأعيان میں ذکر کیا ہے کہ ایوبی وزیر صفي الدين بن شكر دميري (م: ۶۳۰ھ) نے قاہرۂ معزیہ میں اپنے قائم کردہ مدرسہ کے لیے ایک قاری کا انتخاب کرنا چاہا، جو وہاں تراویح پڑھائے، چناںچہ اس مقصد کے لیے دو افراد منتخب کیے گئے: ایک کا نام زیادۃ اور دوسرے کا مرتضیٰ تھا۔ ابن ابی یعلیٰ حنبلی (م:۵۲۶ھ) نے طبقات الحنابلہ میں نقل کیا ہےکہعمر بن سلیمان ابو حفص مؤدب (م: ۲۵۰ھ)کہتے ہیں: ”میں نے رمضان میں احمد بن حنبل (م: ۲۴۱ھ)کے ساتھ تراویح پڑھی، اور انہیں ابنِ عُمیر نماز پڑھا رہے تھے۔“اسی طرح سخاوي نے الضوء اللامع میں قاری بدر الدین بن تقی قبانی (م: ۸۴۴ھ)کے حالات میں لکھا ہے کہ ”وہ ہمارے شیخ، حافظ ابن حجر عسقلاني کو قاہرہ کے منکوتَمُریہ مدرسہ میں وفات تک تراویح پڑھاتے رہے۔ “خطيب بغدادي نے یہ بھی ذکر کیا ہے کہ امام قعنبي (م: ۲۲۱ھ)جو امام مالك بن انس (م: ۱۷۹ھ)سے موطا کے بڑے راویوں میں سے تھے، ان کے شاگرد ابن عباد النسائی المعروف بہ جلاجلی (م: ۲۸۷ھ) کو انہوں نے تراویح کی امامت کے لیے آگے کیا، کیوںکہ ان کی آواز انہیں بہت پسند آئی۔اس کے برعکس بعض جلیل القدر ائمہ ایسے بھی تھے ،جو تراویح لوگوں کے ساتھ مسجد میں پڑھنے کے بجائے اپنے گھروں میں ادا کرنا پسند کرتے تھے۔ چناں چہ امام شافعي (م: ۲۰۴ھ)کے بارے میں منقول ہے کہ ”وہ مسجد میں لوگوں کے ساتھ تراویح نہیں پڑھتے تھے، بلکہ اپنے گھر میں نماز ادا کرتے اور رمضان میں ساٹھ مرتبہ قرآن ختم کرتے تھے۔“
خوش آوازی ایک اہم معیار
نمازِ تراویح کے ائمہ کے انتخاب کا ایک اہم معیار ہمیشہ خوش آوازی رہا ہے، خاص طور پر جب ایک ہی علاقے یا محلے میں متعدد حفاظموجود ہوں۔ اس ضمن میں شرف الدین بن یحییٰ حمزی معروف بہ کِبریت المولوی (م: ۱۰۷۰ھ)اپنی تالیف رحلة الشتاء والصيف میں لکھتے ہیں: ”شام کی خوبیوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہاں رمضان المبارک کی راتوں کو زندہ رکھا جاتا ہے، اور تراویح نہایت عمدہ انداز میں قائم کی جاتی ہے ،جو نشاط پیدا کرتی ہے۔ تکبیر کہنے والے خوش آوازوں کے ساتھ مختلف انداز اختیار کرتے ہیں؛ تکبیر کا آغاز مقامِ عراق سے کرتے ہیں اور مقامِ عشّاق پر اختتام کرتے ہیں۔“ یہ اقتباس اس بات کی واضح دلیل ہے کہ حسنِ صوت صدیوں سے تراویح کی امامت میں ایک نمایاں اور مطلوب وصف رہا ہے۔قدیم زمانے میں حسنِ آواز یا قراَتوں میں خوبصورت ادائیگی کی بنیاد پر تراویح کے لیے حفاظ منتخب کیے جاتے تھے۔ ان خوش نصیب قاریوںمیں سے ایک ابو البركات بن عسال حنبلي (م: ۵۰۹ھ)ہیں۔ ان کے بارے میں ابن رجب حنبلي نے ذیل طبقات الحنابلہ میں لکھاہے کہ ”وہ عمدہ تجوید کے ساتھ قرأت کرتے تھے، ان کی تلفظ کی ادائیگی اور ،عمدہنغمگی کی وجہ سے رمضان میں بغداد کے دور دراز علاقوں سے لوگ ان کی قراَت سننے کے لیے نمازِ تراویح میں آتے تھے۔“ خطيب بغدادي نے تاریخ بغداد میں قاری احمد بن حمدی ابو المظفر (م: ۵۷۶ھ)کے متعلق لکھا کہ ” وہ زیادہ قراَتوں کے ساتھ عمدہ تجوید رکھنے والے قاری تھے… وہ بغداد میں مسجد ابن جَردہ میں امامت کرتے تھے، اور لوگ تراویح میں ان کی قراَت سننے کے لیے ان کے پاس آتے تھے۔“حافظ ابن حجر عسقلاني نے الدرر الكامنة في أعيان المائة الثامنة میں شمس الدین زرعی ابن بصّال قاری (م: ۷۳۸ھ)کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ”وہ نہایت خوش آواز تھے، اور لوگ تراویح میں ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے ان کی مسجد میں ازدحام کرتے تھے۔“ اسی طرح مکہ کے قاری محمد بن علی الشِّیرَجی (م: ۸۲۷ھ) کے متعلق مکہ مکرمہ کے مؤرخ تقي الدين فاسي کی تالیف العقد الثمين في تاريخ البلد الأمين میں بیان کیا گیا ہے کہ ”وہ قراَت میں نہایت خوش گلو تھے، اور جب مسجدِ حرام میں تراویح پڑھاتے، تو ان کی قراَت سننے کے لیے نمازیوں کا بڑا ہجوم جمع ہو جاتا تھا۔“
مقريزي کا بیان ہے کہ قاہرہ میں ”مدرسۂ بقریہ“ کے امام زین الدین ابو بکر نحوی (م: ۷۴۶ھ)ایسے تھے کہ ”رمضان کے مہینے میں لوگ ان کی قراَت سننے کے لیے سفر کر کے آتے تھے، کیوںکہ ان کی آواز دلکش، نغمہ خوش گوار، ادائیگی حسین، اور انہیں قراَتِ سبعہ، عشرہ اور شاذ قراَت پر عبور حاصل تھا۔“اور مورخ سخاوي نے الضوء اللامع میں لکھا ہے کہ ناصر الدین ابو الخیر محمد بن احمد خزرجي حنفی (م: ۸۹۱ھ)قاہرہ کی جامع الحاکم اور دیگر مساجد میں تراویح پڑھاتے تھے، اور لوگ ان کی قراَت سننے اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کے لیے ازدحام کرتے تھے۔اسی طرح احمد بن محمد بلقینی شافعی قاہری (م: ۸۳۸ھ)کے بارے میں آتا ہے کہ وہ قرآن کی تلاوت نہایت خوش اسلوبی سے کرتےتھے، اس لیے خاص طور پررمضان کی راتوں میں دور دراز علاقوں سے لوگ ان کی قراَت سننے کے لیے دوڑ پڑتے تھے، اور ان کے ہجوم سے گلیاں تنگ ہو جاتی تھیں۔
کتب تذکرہ سے پتہ چلتا ہے کہ ائمہء تراویح نے قرآن کی دلنشیں تلاوت کے ذریعے غیر مسلموں کو بھی متاثر کیا۔ اس کی مثال خطيب بغدادي کے ہاں ملتی ہے، جہاں وہ امام علی بن عبد اللہ بردانی (م: ۳۷۶ھ)کا واقعہ بیان کرتے ہیں، جنہیں ”مصطبانس“ کہا جاتا تھا۔ جب ان سے اس عجیب لقب کی وجہ پوچھی گئی، تو انہوں نے بتایا: ”میں رمضان میں لوگوں کو تراویح پڑھا رہا تھا کہ کچھ عیسائیوں نے میری قراَت سنی، انہیں بہت پسند آئی، تو کہنے لگے: اس آدمی کی قراَت تو ہمارے پادری مصطبانس جیسی ہے! بس اسی نسبت سے لوگ مجھے اسی لقب سے پکارنے لگے۔“تاہم ائمہء تراویح کے درمیان فضیلت کا معیار صرف خوش آوازی ہی نہیں تھا،بعض نمازیوں کے لیے نماز میں تخفیف بھی محبوب ہوتی تھی۔ فاسی نے العقد الثمين میں ذکر کیا ہےکہ احمد بن عبد اللہ الدُّوری مکی (م: ۸۱۹ھ)کے بارے میں آتا ہے کہ وہ حرمِ مکی میں رمضان کے دوران تراویح پڑھاتے تھے، اور ان کی نماز میں تخفیف کی وجہ سے ان کے پیچھے نمازیوں کی بڑی تعداد جمع ہو جاتی تھی، حتیٰکہ لوگ ان کی تراویح کو ”المسلوقة“ (یعنی بہت ہلکی نماز) کہنے لگے تھے۔ ذہبی اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں ہمیں بتاتے ہیں کہ نابینا قاری ابو بكر ابن حبيش بغدادي (م: ۳۱۴ھ)”پرسوز آواز میں تلاوت کرتے تھے، جو دلوں میں اتر جاتی تھی، اور بغداد کی جامع مسجد میں لوگوں کو تراویح پڑھاتے تھے۔“
سیاسی پابندی
ہم پہلے اشارہ کر چکے ہیں کہ نمازِ تراویح کی شرعی حیثیت کے بارے میں امت میں اختلاف رہا ہے۔اہل سنت میں رائج تراویح کی باجماعت ادائیگی کو اہل تشیع بدعت سمجھتے ہیں۔اس لیے بسا اوقات انھوں نے اپنے زیر اقتدار علاقوں میں اس پر پابندی بھی لگائی۔مثلاً فاطمیوں نے، جو شیعہ اسماعیلی ریاست کے بانی تھے، اپنے دورِ حکومت کے بعض ادوار میں نمازِ تراویح پر پابندی عائد کی۔ ان کی حکومت مغربی اسلامی دنیا، مصر، شام اور حجاز تک پھیلی ہوئی تھی۔ابن عذاری مراکشی (م: ۷۱۲ھ)البيان المُغرب في أخبار الأندلس والمغرب میں روایت کرتے ہیں کہ فاطمیوں نے، ریاست کے قیام سے قبل، دعوتی مرحلے میں، تیونس میں اپنے پیروکاروں کو رمضان کے آغاز پر یہ پیغام دیا: ”رمضان آ گیا ہے، اور ہمارے مذہب میں تراویح ادا نہیں کی جاتی، کیوںکہ یہ نبی ﷺ کی سنت نہیں بلکہ عمرؓ نے اسے رائج کیا۔ ہم عشا کی آخری نماز میں قراَت کو طویل کرتے ہیں اور لمبی سورتیں پڑھتے ہیں، اور یہی تراویح کا بدل ہے۔“تاہم سبط ابن جوزی (وفات 654ھ/1256ء) مرآة الزمان میں بیان کرتے ہیں کہ فاطمی خلیفہ المنصور إسماعيل بن القائم بامر الله (م: ۳۳۴ھ)نے اپنے والد اور دادا کی پالیسی کے برخلاف تیونس میں، مصر منتقل ہونے سے پہلے، ”تراویح اور دیگر سنن قائم کیں۔“ یہ واقعہ ۳۶۲ھ میں فاطمی خلافت کے مصر منتقل ہونے سے پہلے کا ہے۔مورخ ابن سعید انطاکی (م: ۴۵۸ھ)اپنی تاریخ میں لکھتے ہیں کہ ۳۷۰ھ میں مصر کے دوسرے فاطمی خلیفہ العزيز بالله (م: ۳۸۶ھ)نے مصر میں نمازِ تراویح پر پابندی لگائی،جس سے اہلِ سنت کے تمام مسلمانوں کو سخت صدمہ پہنچا۔اس کے جانشین الحاكم بامر الله (م:۴۱۱ھ)نے پہلے عارضی طور پر تراویح کی اجازت دی، پھر دس برس تک اس پر پابندی لگا دی، یہاں تک کہ اسے ادا کرنے کی سزا قتل مقرر کر دی گئی۔چنانچہ مقريزي اتعاظ الحنفا میں لکھتے ہیں کہ ۳۹۹ھ میں الحاکم نے ”رجاء بن ابی الحسین (م: ۳۹۹ھ)کو صرف اس جرم میں قتل کرنے کا حکم دیا کہ انھوں نے رمضان میں نمازِ تراویح ادا کی تھی۔“ ابن عساکر بیان کرتے ہیںکہبیت المقدس کی مسجد اقصیٰ میں صالح بزرگ ابو القاسم الواسطی (چوتھی/پانچویں صدی ہجری) کو اس قدر مارا گیا کہ وہ ہلاکت کے قریب پہنچ گئے، صرف اس وجہ سے کہ انہوں نے ”فاطمی سلطان کے تراویح پر پابندی لگانے کے حکم پر اعتراض کیا تھا۔“ بعد ازاں فاطمی خلیفہ الحاکم نے ۴۰۸ھ میں دوبارہ مساجد میں تراویح کی اجازت دے دی، اور اس سلسلے میں ایک سرکاری فرمان جاری کیا گیا ،جو مصر اور دیگر علاقوں کی مساجد میں پڑھ کر سنایا گیا۔ یہ اجازت اس کی وفات تک برقرار رہی۔
الحاکم کے بعد جب شیعہ اسماعیلیوں میں افتراق پیدا ہوا، تو حشاشین نے عباسی خلافت کے مشرقی حصے میںاپنا اقتدار قائم کیا۔کھوجا فرقہ اسی گروہ کے باقیات میں سے ہے۔ اس گروہ نے فارس اور خراسان کے ان علاقوں میں جہاں ان کا قبضہ تھا، نمازِ تراویح پر پابندی لگا دی تھی، پھر اپنے اقتدار کے آخری دور میں وہاں اس کی اجازت دے دی۔مورخ ابن تغری بردی (م: ۸۷۴ھ)اپنی کتاب النجوم الزاهرة میں لکھتے ہیں کہ ۶۰۸ھ میں جلال الدين حسن (م: ۶۱۸ھ)، جو قلعہ اَلَموت کا حاکم تھا، کا ایک ایلچی بغداد آیا اور اس نے عباسی خلیفہ الناصر لدين الله عباسي (م: ۶۲۲ھ) کو اطلاع دی کہ وہ باطنی عقائد سے بَری ہو چکے ہیں، انہوں نے جامع مساجد تعمیر کی ہے اور رمضان کے مہینے میں نمازِ تراویح ادا کی ہے۔اس خبر سے خلیفہ اور عام لوگ بہت خوش ہوئے۔ممکن ہے کہ مساجد میں عبادات، جن میں تراویح بھی شامل ہے، کے معاملے میں حکومتی مداخلت زیادہ تر علاقائی سیاسی حریفوں سے کشمکش کے تناظر میں ہوتی ہو، نہ کہ کسی مخصوص مذہبی موقف پر حقیقی یقین کی بنا پر۔ چنانچہ ذہبی اپنی کتاب تاریخ الاسلام میں بیان کرتے ہیں کہ رمضان ۴۹۴ھ میں عباسی خلیفہ المستظهر بالله نے حکم دیا کہ بغداد میں جامع القصر کھولاجائے، اس میں تراویح قائم کی جائے اور بسم اللہ بالجہر پڑھی جائے، حالانکہ اس سے پہلے بغداد کی جامع مساجد میں بسم اللہ بالجہر پڑھنے کا رواج نہیں تھا۔ یہ اس لیے تھا کہ عباسی، مصر کے فاطمی شیعوں کی مخالفت میں یہ طرزِ عمل اختیار کرتے تھے۔
صرف فرقہ وارانہ تعصبات پر مبنی سیاسی فیصلے ہی تراویح کے تعطل کا سبب نہیں بنے، بلکہ تاریخ کی کتابیں یہ بھی بتاتی ہیں کہ رمضان کے مہینہ میں بعض عمومی آفات، جیسے وباؤں یا جنگوں کی وجہ سے نماز باجماعت کے ساتھ نمازتراویح بھی، جزوی یا کلی طور پر متاثر ہوئی۔مثلاً ابن جوزی ۴۳۹ھ کے واقعات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ رمضان میں بغداد میں مہنگائی اس قدر بڑھ گئی کہ موصل سے خبر آئی کہ وہاں لوگ مردار کھانے پر مجبور ہو گئے، اور اموات کی کثرت کا یہ عالم تھا کہ جمعہ کی نماز پڑھنے والوں کی گنتی کی گئی، تو صرف چار سو نکلے۔ جب جمعہ جیسی فرض عبادت بھی معطل ہو جائے ،تو ظاہر ہے کہ تراویح جیسی نفل عبادت کا رک جانا بدرجۂ اولیٰ ممکن ہے۔اسی طرح مورخ ابو العباس ناصري (م: ۱۳۱۵ھ)اپنی کتاب الاستقصا لأخبار دول المغرب الأقصى میں صراحت سے لکھتے ہیں کہ امن و امان کی خرابی کی وجہ سے تراویح معطل ہو گئی۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ جب مراکش کے سعدی سلطان عبد الملك بن زيدان (م: ۱۰۴۰ھ)قتل ہوا اور اس کے بھائی الوليد بن زيدان (م: ۱۰۴۵ھ)کو بادشاہ بنایا گیا، تو فاس میں فتنوں کا ایسا غلبہ ہوا کہ کچھ عرصے تک جامع القرويين میں جمعہ اور تراویح دونوں معطل رہیں، اور شبِ قدر میں شدتِ خوف اور جنگوں کی وجہ سے وہاں صرف ایک ہی شخص نے نماز ادا کی۔
متعدد محراب
حرم ِ مکی میں عبدالعزیز ابن عبدالرحمٰن آل سعود کے مکمل تسلط حاصل کرنے سے پہلے نمازِ تراویح کے قیام کی ایک نہایت عجیب خصوصیت یہ تھی کہ وہاں فقہی مذاہب کے مطابق چارمحرابیں تھیں اور چارجماعتیں قائم کی جاتی تھیں۔ یہ منظر دراصل تاریخ میں اتحاد امت مسلمہ کے پارہ پارہ ہونے کی ایک تصویر تھا، جو مذہبی اور فرقہ وارانہ تعصب کے نتیجے میں پیدا ہوئی تھی۔ حتیٰ کہ وہ ایک ہی کعبہ، ایک ہی قبلہ، ایک ہی عبادت اور ایک ہی دائرۂ دین کے اندر جمع ہوتے ہوئے بھی تقسیم کا شکار رہے۔چناںچہ اس زمانے میں بقول مجير الدين عليمي حنبلي (م: ۹۲۸ھ) معمول یہ تھا کہ” شافعیوں کا امام مقامِ ابراہیم میں، خانۂ کعبہ کے دروازے کے سامنے نماز پڑھاتا؛ پھر حنفیوں کا امام حجر اسماعیل کے مقابل، میزابِ رحمت کی سمت؛ پھر مالکیوں کا امام رکنِ یمانی اور رکنِ شامی کے درمیان؛ اور اس کے بعد حنبلیوں کا امام حجر اسود کے سامنے نماز پڑھاتا تھا۔“(الأنس الجليل )یہ رواج ۴۹۷ھسے رائج تھا، اور حجاز پر آلِ سعود کے مکمل اقتدار (۱۳۴۴ھ)کے بعد ہی ختم ہوا۔ اسی طرح امام ابو طاهر سلفي (م: ۵۷۶ھ)نے حج کے موقع پر حرمِ مکی میں فقہی مذاہب کے مطابق متعدد محرابوں اور نمازوں کے ترتیب کا مشاہدہ کیا، اور لکھا کہ شافعیوں کا امام حرم کے ائمہ میں سب سے پہلے نماز پڑھاتا تھا… پھر مالکی، حنفی اور زیدی ائمہ آتے تھے۔( شفاء الغرام بأخبار البلد الحرام ازتقي الدين الفاسي )یہ سلسلہ یہیں پر نہیں رکا، بلکہ مسجد نبوی اور بیت المقدس میں بھی رائجہوگیا۔، مدینہ منورہ کے مورخ نور الدين سمهودي نے فقہی مذاہب کے مطابق متعدد محرابوں کی روایت اور اس کے پھیلاؤ کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ مدینہ منورہ میں اس کا آغاز حنفی فقیہ طُوغان شیخ المحمدی (م: ۸۸۱ھ) کی کوششوں سے ہوا،”چنانچہ فقہی بنیادوں پر متعدد محرابیں قائم کرنے کا فرمان۸۶۰ھ کے بعد جاری کیا گیا۔“،اور انہوں نے واضح کیا کہ اندلسی سیّاح ابن جبير نے اپنے سفرنامے میں مکہ میں رمضان کے مظاہر کا نقشہ کھینچتے ہوئے لکھا کہ جب وہ ۵۷۹ھ میں رمضان کے آغاز پر مکہ پہنچے تو:”اس بابرکت مہینے کے استقبال میں مسجدِ حرام میں غیر معمولی اہتمام تھا… یہاں تک کہ حرم نور سے جگمگا اٹھا اور اس کی روشنی پھیل گئی۔ ائمہ تراویح کے لیے فقہی مذاہب کے مطابق الگ الگ جماعتوں میں تقسیم ہو گئے، ہر جماعت نے مسجد کے کسی نہ کسی گوشے میں اپنا امام مقرر کر رکھا تھا… مسجد میں کوئی گوشہ یا کونہ ایسا نہ بچتا تھا جہاں کوئی قاری جماعت کو نماز نہ پڑھا رہا ہو، اور چاروں طرف سے تلاوت کی آوازوں سے مسجد گونج اٹھتی تھی۔“حتیٰ کہ ایک ہی فقہی مسلک کے اندر بھی تراویح کے کئی ائمہ ہوتے تھے، مثلاً مالکیوں کے بارے میں انہوں نے لکھا کہ”وہ تین قاریوں پر مجتمع تھے ،جو باری باری قراَت کرتے تھے۔“حرمِ مکی سے یہ رواج مسجدِ اقصیٰ اور دیگر مقامات تک بھی منتقل ہوا؛ چنانچہ سمہودی کے بقول ”اسی طرح کا طریقہ بیت المقدس اور جامعِ مصر میں بھی رائج ہوا۔“اسی طرح یہ تعددِ محراب فلسطین میں حضرت ابراہیمؑ کی طرف منسوب مسجد (مسجدِ خلیل) تک بھی پہنچا۔(الانس الجلیل از مجیر الدین العُلَیمی الحنبلی)
بعض شواہد کی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہمسجد اقصیٰ میں، بالخصوص نماز تراویح کے اہتمام میں متعدد ائمہ اور جماعتوں کا رواج حرم مکی میں رواج کے فوراً بعد ہی شروع ہوگیا ہوگا۔مثلاً امام ابن عربي مالكي (م: ۵۴۳ھ)نے پانچویں صدی ہجری کے آخری عشرے میں اپنے بیت المقدس کے سفر کے دوران یہ صورتِ حال اپنی آنکھوں سے دیکھی۔ابن عربی اپنی تفسیر أحكام القرآن میں لکھتے ہیں: ”میں نے بابِ اَسباط کے پاس یا اس کے قریب اٹھائیس ائمہ میں سے ایک امام کو دیکھا، جو رمضان میں ترکوں کو تراویح پڑھاتا تھا۔ وہ ہر رکعت میں الحمدلله اور قل هو الله أحد پڑھتا تھا، یہاں تک کہ پوری تراویح مکمل کر لیتا، یہ سب تخفیف اور ترغیب کے مقصد کے لیے تھا۔اسی طرح اندلسی سیّاح اور قاضی ابو البقاء البلوي (م: بعد از ۷۶۷ھ) اپنے مشرقی سفر کے دوران مسجدِ اقصیٰ، جسے وہ ”دنیا کی عظیم ترین مساجد میں سے ایک“ کہتے ہیں، میں رمضان کے مناظر بیان کرتے ہوئے وہاں تراویح کی جماعتوں کی کثرت کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:”میں نے رمضان المبارک میں وہاں وتر اور تراویح کی جگہوں کو گنا، تو تقریباً چالیس مقامات پائے!!“بعض اوقات ایک ہی مسجد میں تراویح کی متعدد جماعتوں سے پیدا ہونے والی بدانتظامی کو ختم کرنے کے لیے حکومتی ادارے مداخلت کرتے تھے، کیوںکہ اس تعدد کے نتیجے میں قاری ائمہ کی آوازیں باہم گڈمڈ ہو جاتیں اور سننے والے نمازیوں کے لیے تشویش پیدا ہوتی تھی۔چنانچہ امام ابن كثير (م:۷۷۴ھ) اپنی کتاب البداية والنهاية میں لکھتے ہیں کہ دمشق کی جامع اموی میں چاروں فقہی مذاہب کے الگ الگ محراب تھے، لیکن ان کے زمانے میں حکومتی مداخلت کے ذریعے تراویح کو یکجا کر دیا گیا،چنانچہ لوگ ایک ہی قاری پر جمع ہو گئے۔نیز انھوں نے اس سے تقریباً سو سال پہلے ۶۳۵ھ میں بھی اسی نوعیت کی ایک حکومتی مداخلت کا ذکر کیا ہے۔اسی طرح شمس الدین ابن طولون دمشقي (م: ۹۵۳ھ) اپنی کتاب مفاكهة الخلان میں لکھا ہے کہ رمضان ۹۲۶ھ میں دمشق کے عثمانی حاکم نے حکم دیا کہ جامع اموی میں حنفی امام ایک رات مقصورہ میں تراویح پڑھائے، اور اگلی رات شافعی امام پڑھائے۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا، اور حنفی محراب میں تراویح ترک کر دی گئی۔یہ فیصلہ شافعی مسلک کے متعصب پیروکاروں کے لیے آسان نہ تھا، اور انہوں نے اسے خوش دلی سے قبول نہیں کیا۔
بچوں کی امامت
نمازِ تراویح میں بچوں کی امامت کا کیا حکم ہے؟
رمضان المبارک میں صدیوں سےایک دلچسپ روایت یہ بھی جاری ہے کہ بعض بڑے شہروں کی جامع مساجد میں، اور خاص طور پر حرمِ مکی میں، بچے نمازِ تراویح کی امامت کرتے تھے۔ اگرچہ علما کے درمیان اس مسئلے میں اختلاف پایا جاتا ہے، جیسا کہ ابن ضياءحنفي (م:۸۵۴ھ)نے تاریخ مكة المشرفة والمسجد الحرام میں لکھا ہے کہ ”نمازِ تراویح میں بچوں کے پیچھے نماز پڑھنے کی صحت کے بارے میں اختلاف ہے۔“تاریخی طور پر اس کی سب سے قدیم مثال میں سیّاح مقدسی کے اس قول کا ذکر کیا جاسکتا ہے،جو انھوں نے اہل شیراز کے متعلق لکھا ہے کہ ”اہل شیرازتراویح پڑھتے ہیں… اور اس میں بچوں کو آگے کرتے ہیں۔“اسی طرح ابن جوزي (م: ۵۹۵ھ) المنتظم میں لکھتے ہیں کہ۳۹۵ھ میں بغداد کے بُوَیہی سلطان نے ابو الحسين بن الرَّفّاء، ابو عبد الله بن زجاجي اور ابو عبد الله بن بهلول، جو ”لوگوں میں سب سے بہتر قراَت کرنے والے تھے، کو سرکاری طور پر تراویح کے ائمہ مقرر کیا، حالانکہ وہ سب نابالغ تھے۔ وہ باری باری نماز پڑھاتے تھے، اور لوگوں کو انہی کی وجہ سے تراویح میں رغبت پیدا ہوئی۔حجاز اور مصر میں یہ بات باقاعدہ رواج بن گئی کہ جب کوئی بچہ قرآن مکمل حفظ کر لیتا اور بارہ برس کی عمر کو پہنچ جاتا، تو وہ تراویح میں لوگوں کی امامت کرتا۔“ابن جبير اندلسي اپنی رحلة ابن جبير میں حرمِ مکی میں بچوں کی امامت اور اس سے جڑی تقریبات کا تفصیلی ذکر کرتے ہیں، حتیٰ کہ بعض اہلِ علم نے یہ جملہ کہا:”اسلام کی خوبیوں میں سے یہ ہے: بغداد میں جمعہ، اور مکہ میں تراویح“؛جیسا کہ أبو علي تنوخي (م:۳۸۴ھ) نے نشوار المحاضرة میں نقل کیا ہے۔ابن جبیر لکھتے ہیں کہ اکیسویں رمضان کی رات مکہ کے ایک خاندان کے بیٹے نے ختم کیا۔ جب نماز ختم ہوئی ،تو وہ بچہ لوگوں میں خطبہ دینے کھڑا ہوا، پھر اس کے والد نے سب کو اپنے گھر میں ضیافت کی دعوت دی۔ اسی طرح تئیسویں رات ایک اور مکی خاندان کے لڑکے نے، جس کی عمر پندرہ برس سے کم تھی، ختم کیا۔ اس رات ایک کم سن امام نے تراویح پڑھائی اور ختم کیا، اور مسجدِ حرام میں مرد و عورت کثرت سے جمع ہو گئے، جبکہ وہ بچہ اپنے محراب میں کھڑا تھا۔یہ روایت ابن بطوطہ (م:۷۷۹ھ) کے زمانے تک اور اس کے بعد بھی جاری رہی۔ وہ اپنی رحلہ میں لکھتے ہیں کہ ہر فقہی مسلک کا اپنا محراب ہوتا ہے، اور رمضان کے آخری عشرے کی ہر وتر رات میں قرآن ختم کیا جاتا ہے۔ ختم کے موقع پر قاضی، فقہااور معززین حاضر ہوتے ہیں، اور ختم کرانے والاعموماً مکہ کے کسی معزز خاندان کا کوئی لڑکا ہوتا ہے۔ پھر اس کے لیے ریشم سے آراستہ منبر نصب کیا جاتا، شمعیں روشن کی جاتیں، وہ خطبہ دیتا، اور بعد میں اس کا والد لوگوں کو اپنے گھر دعوت دے کر خوب کھانا اور مٹھائیاں کھلاتا۔قاضی شافعی جلال الدين بلقيني (م:۸۲۴ھ) کے ترجمے میں آتا ہے کہ انہوں نے قرآن حفظ کیا اور کم عمری ہی میں تراویح پڑھائی؛ جیسا کہ ابن حجر عسقلاني نے رفع الاصر عن قضاة مصر میں ذکر کیا ہے۔خود ابن حجر کے بارے میں بھی سخاوي نے الجواهر والدرر في ترجمة شيخ الإسلام ابن حجر میں لکھا ہے کہ ”انہوں نے۷۸۵ھ میں بارہ برس کی عمر میں حرمِ مکی میں تراویح پڑھائی ،جیسا کہ قرآن مکمل حفظ کرنے والے بچوں کے بارے میں معمول تھا۔“سخاوی مزید بیان کرتے ہیں کہ بعد کے زمانے میں، جب ابن حجر عظیم امام بن چکے تھے، تو ایک رمضان کی رات وہ جامع الحاکم میں ابن الکویز کے پیچھے تراویح میں شریک ہوئے، کیونکہ اس نے ابھی قرآن ختم کیا تھا اور بچوں کی روایت کے مطابق اسی رات تراویح پڑھا رہا تھا۔اسی طرح تقي الدين الفاسي العقد الثمين میں لکھتے ہیں کہ مکہ کے قاضی و مفتی محب الدين بن ظهيرہ (م:۸۲۷ھ) نے قرآن حفظ کیا اور ۷۹۹ھ میں دس برس کی عمر میں تراویح پڑھائی، کیوںکہ ان کی پیدایش ۷۸۹ھ میں ہوئی تھی۔یہ تمام روایات اس بات کی شہادت ہیں کہ تاریخِ اسلام میں بچوں کی امامتِ تراویح ایک معروف اور قدیم روایت رہی ہے، اگرچہ فقہی طور پر اس پر اختلاف موجود ہے۔
رکعات کی تعداد اور مستقل تصانیف
تاریخی طور پر نمازِ تراویح کی رکعات کی تعداد فقہی مذاہب کے مختلف اختیارات کے مطابق مختلف رہی ہے۔ اگر ہم حرمین شریفین (مکہ اور مدینہ) میں رائج صورتِ حال کو دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک ہزار سال سے زائد عرصے تک دونوں مقامات میں رکعات کی تعداد یکساں نہیں رہی، بلکہ یہ اختلاف سعودی دور (چودھویں صدی ہجری کے وسط) تک برقرار رہا۔چنانچہ ابن بطوطہ کے مطابق مکہ کے لوگ ”معمول کی تراویح، یعنی بیس رکعت پڑھتے تھے،پھر اس کے بعد تین رکعت وتر ادا کرتے تھے۔“جب کہ مدینہ کے لوگوں کے بارے میں امام نووی کا یہ قول مدینہ کے مورخ نور الدين سمهودي نے وفاء الوفاء میں نقل کیا ہے کہ امام شافعی نے فرمایا: ”میں نے اہلِ مدینہ کو انتالیس (39) رکعت پڑھتے دیکھا، جن میں تین رکعت وتر کی ہوتی تھیں۔“ السخاوي التحفة اللطيفة میں بتاتے ہیں کہ آٹھویں صدی ہجری کے اواخر میں محدث حافظ زين الدين عبد الرحيم عراقي (م: ۸۰۶ھ) مدینہ میں مسجدِ نبوی کے مدرس تھے۔ انہی کے ذریعے اہلِ مدینہ کے ہاں تراویح کی رکعات کا معمول بدل گیا۔ وہ عشا کے بعد لوگوں کو بیس رکعت تراویح اور تین رکعت وتر پڑھاتے، اور رات کے آخری حصے میں مزید سولہ رکعت پڑھاتے تھے۔ بعد میں مسجدِ نبوی کے ائمہ نے بھی اسی طریقے کو اختیار کر لیا۔مصر کی مساجد میں تراویح کی رکعات کبھی فقہی مذاہب کے آزادانہ انتخاب کے مطابق اور کبھی سرکاری حکم کے تحت مقرر ہوتی رہیں۔ اس سلسلے میں مقريزي المواعظ والاعتبار میں لکھتے ہیں: ”اہل مصر رمضان ۲۵۳ھ تک چھ ترویحات (یعنی بارہ رکعت) پڑھتے تھے۔“اسی سال بغداد کی عباسی حکومت نے ازجور بن اولغ ترک کو مصر کا گورنر مقرر کیا، جس نے حکم دیا کہ رمضان میں پانچ ترویحات (یعنی دس رکعت) پڑھی جائیں۔فقہ کی عمومی کتابوں اور شروح حدیث میں نمازِ تراویح کے احکام اور اس کی رکعات کا تفصیلی بیان ملتا ہے، اور بعض علما نے اس موضوع پر مستقل کتابیں بھی تصنیف کیں، اگرچہ ان میں سے اکثر صرف نام کی صورت میں ہم تک پہنچی ہیں۔ان میں سے چند مشہور تصنیفات یہ ہیں: فضل التراویح از حافظ ابو بكر محمد بن الحسن النقاش (م: ۶۰۰ھ) كتاب التراويح از امام حسام الدين الشهيد (م:۵۳۶ھ) كتاب التراويح از مفتی خوارزم احمد بن إسماعيل التمرتاشي (تقریباً۶۰۰ھ) اسی طرح: صلاة التراويح از محدث ابن عبد الهادي الجماعيل (م:۷۴۴ھ) ضوء المصابيح في صلاة التراويح اور إشراق المصابيح في صلاة التراويح دونوں تقي الدين سبكي (م: ۷۵۶ھ) کی تصانیف إقامة البرهان على كمية التراويح في رمضاناز ابو ضياء غيثي (م: ۹۷۵ھ) یہ تمام تفصیلات اس بات کو واضح کرتی ہیں کہ نمازِ تراویح کی رکعات اور اس کے طریقِ ادا پر امت کے اندر تاریخی طور پر تنوع پایا جاتا رہا ہے، اور علما نے اس موضوع کو مستقل علمی اہمیت دی ہے۔
پس اسلامی تاریخ کے تمام ادوار میں مسلمانوں کی نمازِ تراویح کے ساتھ وابستگی اور دلچسپی نہایت عظیم اور بےنظیررہی، کیوںکہ وہ اسے رمضان کے استقبال اور اس کی تعظیم کے نمایاں ترین مظاہر میں شمار کرتے تھے۔ اس کی روحانی برکتوں سے فیض یاب ہونے کے لیے مسلمان معاشروں کے تمام طبقے، مرد، عورتیں اور بچے، سب ہی آگے بڑھتے تھے۔چنانچہ مشہور سیّاح ابن بطوطہ ہمیں ہندوستان کے بارے میں بتاتے ہیں کہ وہاں ایک ”گانے والوں کا بازار (سوق المغنين) تھا، جس میں مساجد موجود تھیں، اور وہاں رہنے والی گانے والی عورتیں رمضان میں انہی مساجد میں اکٹھا ہو کر تراویح پڑھتی تھیں، اور ائمہ انہیں نماز پڑھاتے تھے، ان کی تعداد بھی بہت زیادہ ہوتی تھی، اسی طرح مرد گانے والوں کابھی معمول تھا۔“اور اپنی کتاب المواعظ والاعتبار میں المقريزي مملوکی دور کے قاہرہ میں سوق الشمّاعین (شمع فروشوں کا بازار) کا ذکر کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ رمضان کی راتوں میں وہاں شمعوں اور قندیلوں کی خرید و فروخت غیر معمولی حد تک بڑھ جاتی تھی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ”رمضان کے مہینے میں وہاں ایک عظیم موسم ہوتا تھا، کیوںکہ جلوسوں میں استعمال ہونے والی شمعیں بکثرت خریدی اور کرائے پر لی جاتی تھیں… خاص طور پر بچوں کے تراویح کے لیے جلوس کی صورت میں جانے کے موقع پر۔ رمضان کی راتوں میں ان شمعوں کا ایسا منظر ہوتا تھا ،جس کی کیفیت بیان کرنے سے فصیح ترین زبان بھی عاجز آ جائے۔“اسی طرح ابو البرکات سویدی بغدادی (م: ۱۱۷۴ھ) اپنی کتاب النفحة المسكية في الرحلة المكية میں دمشق کے رمضان کی یادیں بیان کرتے ہوئے جامع اموی میں تراویح اور اس سے جڑی سماجی گہماگہمی کا نقشہ کھینچتے ہیں: ”ان کے عجیب معاملات میں سے ایک یہ ہے کہ تراویح کے وقت عورتیں مردوں کے ساتھ گھل مل جاتی ہیں… اور ایک مرتبہ میں نے جامع اموی میں تراویح پڑھی ،تو دیکھا کہ لوگ صفوں کے درمیان بیٹھے باتیں کر رہے ہیں، بچے شور و غوغا اور کھیل کود کر رہے ہیں، اس شور و غل سے نمازیوں کو سخت الجھن ہوتی ہے۔“البتہ کبھی کبھی تراویح کا قیام بچوں کے شور سے بھی بڑھ کر سنگین حالات سے دوچار ہو جاتا تھا۔ دمشق کے روزنامچہ نویس مؤرخ شهاب الدين بديري (م: ۱۱۷۵ھ)اپنی کتاب حوادث دمشق اليومية میں لکھتے ہیں کہ ۱۱۷۳ھ میں پیر کے دن سے رمضان کا آغاز ہوا، اور تیسرے دن کی رات جب لوگ تراویح میں مشغول تھے، تو ایک شدید زلزلہ آیا، جس سے لوگوں نے نماز چھوڑ دی، بھگدڑ مچ گئی، لوگ ایک دوسرے کو روندنے لگے اور سب سخت خوف زدہ ہو گئے۔جہاں یہ اجتماعی المیے تراویح کی محفلوں کو متاثر کرتے رہے، وہیں شعرا نے بھی ان مواقع کو لطیف ادبی انداز میں برتا۔ چنانچہ محدث قطب الدين اليونيني (م:۷۲۶ھ) ذیل مرآة الزمان میں بیان کرتے ہیں کہ شاعر جمال الدین المصری المعروف ابن الجزّار (م:۶۷۹ھ) ایک رمضان کی رات مملوکی وزیر بهاء الدين احمد بن حنا (م: ۶۷۷ھ)کے ہاں ٹھہرے۔ وہاں تراویح میں امام نے ایک ہی رکعت میں سورۂ انعام پڑھ دی، تو ابن الجزّار نے یہ شعر کہا:
ما لي على "الأنعام” من قدرة لا سيما في ركــعة واحــدة
فلا تسوموني حضــوراً سوى في ليلة "الأنفال” و”المائدة
مجھے سورۂ انعام کی تو طاقت نہیںخصوصاً ایک ہی رکعت میں پڑھنا ممکن نہیںمجھ سے حاضری کا تقاضا مت کرناسوائے سورۂ انفال اور سورۂ مائدہ کی رات کے!
یہ واقعہ اس بات کی خوب صورت مثال ہے کہ تراویح صدیوں سے نہ صرف عبادت بلکہ مسلمانوں کی اجتماعی ثقافت اور ادبی اظہار کا بھی حصہ رہی ہے۔
اضافہء مترجم:
تراویح تہجد ہی کا دوسرا نام ہے
علامہ ابوالحسن عبیداللہ بن علامہ محمد عبدالسلام مبارکپوری کی راے یہ ہے کہ نماز تراویح دراصل نماز تہجد ہی کا دوسرا نام ہے۔ آپ تحریر فرماتے ہیں:
یہ بات جان لینی چاہیے کہ تراویح، قیامِ رمضان، صلاة اللیل اور رمضان میں تہجد دراصل ایک ہی نماز کے مختلف نام ہیں۔ رمضان میں تہجد، تراویح سے الگ کوئی نماز نہیں ہے، کیونکہ کسی صحیح یا ضعیف روایت سے یہ ثابت نہیں ہوتی کہ نبی ﷺ نے رمضان کی راتوں میں دو الگ نمازیں پڑھیں ہوں: ایک تراویح اور دوسری تہجد۔لہٰذا رمضان کے علاوہ جو تہجد ہے، رمضان میں وہی تراویح ہے۔ اس بات پر حضرت ابوذرؓ کی حدیث وغیرہ دلالت کرتی ہے۔اسی رائے کو حنفی علما میں سے صاحب فیض الباری نے اختیار کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں:میرے نزدیک مختار قول یہ ہے کہ تراویح اور نمازِ شب(یعنی تہجد) ایک ہی نماز ہیں، اگرچہ ان کی صورت میں کچھ فرق ہو سکتا ہے۔ مثلاً:تراویح پر ہمیشہ پابندی نہیں رہی ۔اسے جماعت کے ساتھ ادا کیا جاتا ہے،کبھی رات کے شروع میں پڑھی جاتی ہےاور کبھی سحر تک جاری رہتی ہے،جب کہ تہجد عموماً رات کے آخری حصے میں ادا کی جاتی تھی اور اس میں جماعت نہیں ہوتی تھی۔صرف صفات کے اختلاف کو دو الگ نمازوں کے اختلاف کی دلیل بنانا ،میرے نزدیک درست نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک ہی نماز تھی:جب وہ پہلے وقت میں ادا کی جاتی، تو تراویح کہلاتی ،اور جب آخر رات میں ادا کی جاتی، تو تہجد کہلاتی۔کسی ایک نماز کے دو نام ہونا، کوئی عجیب بات نہیں، کیونکہ اوصاف کے اختلاف کے ساتھ ناموں کا مختلف ہونا کوئی مانع نہیں، جب امت اس پر متفق ہو جائے۔البتہ دو الگ نمازیں ہونا، اسی وقت ثابت ہوگا، جب نبی ﷺ سے یہ ثابت ہو کہ آپ نے تراویح قائم رکھتے ہوئے الگ سے تہجد بھی ادا کی ہو۔مصنف کہتے ہیں:میرے نزدیک اس میں شک نہیں کہ تراویح اور تہجد ایک ہی نماز ہیں، لیکن تہجد کو خاص طور پر رات کے آخری حصے کے ساتھ مخصوص کرنا محلِ نظر ہے۔ہاں، یہ ضرور ہے کہ نبی ﷺ کی اکثر رات کی نماز رات کے آخری حصے میں ہوتی تھی۔ (مرعاۃ المفاتیح شرح مشکاۃ المصابیح، جلد پنجم، ص ۳۱۱۔۳۱۲)
ءءء
Like this:
Like Loading...