Skip to content
ٹیڑھی لکیر
ازقلم:ڈاکٹر سراج انور، امراؤتی(مہاراشٹر)
موبائل : 08668323359
ہوا تھم گئی تھی۔ پتے بھی اپنی جگہ ساکت تھے۔ دنیا جیسے ایک لمحے کے لیے سانس روک کر کھڑی ہو گئی ہو۔ جب سورج کنارے پر تھا، نہ دن نہ رات۔ یوسف بھی اسی خاموشی میں ڈوبا ہوا تھا۔ اپنے کچے مکان کے صحن میں بیٹھا، ہاتھوں میں سوئی اور دھاگہ لیے، وہ ڈھلتی روشنی میں کام کرتا جا رہا تھا۔ روشنی دیواروں پر سرخی بن کر پھیل رہی تھی، اور سامنے رکھی مشین پر ادھوری قمیض کئی گھنٹوں سے اپنے مکمل ہونے کا انتظار کر رہی تھی۔ شاید یوسف بھی اسی انتظار کا حصہ بن گیا تھا۔
آج رمضان کا انتیسواں روزہ تھا۔ پچھلے رمضان میں کئی جوڑے سلنے کو آئے تھے اور صحن میں مشین کی آواز مسلسل گونجتی رہتی تھی، مگر اس سال تین جوڑے بھی مشکل سے ملے۔ اب اکثر یہ ہوتا کہ گاہک کپڑا چھوڑ جاتے اور پھر لینے کے لیے کئی دن تک یوسف کو انتظار کرنا پڑتا۔ دھیرے دھیرے اسے یہ احساس ہونے لگا تھا کہ وقت بدل رہا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب عید سے پندرہ دن پہلے ہی محلے کے مرد اور لڑکے کپڑا لے کر آ جاتے تھے۔ کوئی کرتا پاجامہ چاہتا، کوئی شلوار قمیض، تو کوئی پٹھانی سوٹ ۔صحن میں کپڑوں کے ڈھیر لگ جاتے۔ مشین اتنی چلتی کہ رات کو یوسف کے کانوں میں اس کی آواز گونجتی رہتی۔ ان دنوں صائمہ بھی عید پر نئے کپڑے پہنتی تھی۔ یوسف کے اپنے ہاتھ کے سلے ہوئے۔ بیوی کہتی تھی، "تمہاری مشین ہی ہماری عید ہے۔” وہ ہنس دیتا تھا۔ وہ دن اب خواب لگتے تھے۔
پھر ایک دن اسمارٹ فون آیا، پھر ایپ آئی، پھر فیسٹیول سیل آئی۔ اور آہستہ آہستہ گاہک کم ہوتے گئے۔ پہلے تیس جوڑے، پھر بیس، پھر دس۔ اور اب تو یہ تین بھی بڑی مشکل سے۔
اسی لمحے اندر سے صائمہ آئی۔ اس کے قدم غیر معمولی طور پر سست تھے۔ ہاتھ میں پلیٹ تھی جس میں پتلی سی روٹی کا بس ایک ٹکڑا تھا، جس پر گھی کی ہلکی سی چمک تھی، اتنی کم کہ ذائقہ بھی نہ دے، مگر غربت میں یہ بھی کسی نعمت سے کم نہ تھا۔ دوسرے ہاتھ میں چند کھجوریں تھیں، جو شاید کسی ہمسائی نے دی تھیں، اور ساتھ چھوٹے کپ میں آدھی چائے تھی، جس کی بھاپ اب مدھم ہو چکی تھی۔ وہ باپ کے سامنے آ کر بیٹھ گئی، نظریں جھکائے ہوئے۔ صائمہ بیوہ تھی؛ کووڈ کے دنوں میں اس کے شوہر کا انتقال ہو گیا تھا۔ اب اس کے دو ننھے بچے بھی یوسف کی ذمہ داری بن گئے تھے۔
"ابّا…” اس کی آواز کانپ رہی تھی۔
یوسف نے فوراً سلائی روک دی۔ قمیض گود میں رکھی اور بیٹی کی طرف دیکھنے لگا۔
صائمہ کی آنکھیں ڈبڈبائی ہوئی تھیں، جیسے وہ بہت کچھ کہنا چاہتی ہو مگر الفاظ ساتھ نہ دے رہے ہوں۔
"ابّا… بس یہی بچی ہے آج۔ باقی سب دوپہر میں بچوں نے کھا لیا۔”
یوسف نے مشین پر سے پیر ہٹا لیا۔
وہ جانتا تھا کہ صائمہ نے اپنا حصہ بھی بچوں کو دے دیا تھا۔
افطار سے کچھ لمحے پہلے صائمہ کے بچے گلی میں کھیل رہے تھے۔ ہر طرف سے خوشبوئیں اٹھ رہی تھیں؛ کہیں پکوڑوں کے تلنے کی چھن چھن سنائی دیتی تھی، کہیں دروازے کے قریب رکھی پلیٹوں سے سموسوں کی جھلک دکھائی دیتی تھی اور کہیں کھڑکیوں کے پاس مختلف پھلوں کی ٹوکریاں صاف نظر آ رہی تھیں۔ شربت کے جگوں سے برف کی کھنک اور لسی کے گلاسوں سے اٹھتی خوشبو بچوں کو اپنی طرف بلا رہی تھی۔
بچوں نے کھیلتے کھیلتے اچانک اپنے قدم روک لیے۔ ان کی آنکھیں ان مناظر اور خوشبوؤں پر جم گئیں۔ ننھے دلوں میں خواہش جاگی کہ کاش وہ بھی ان دسترخوانوں کا حصہ بن جائیں، مگر ایک انجان سی خاموشی ان کے چہروں پر اتر آئی، جیسے بھوک نے ان کی مسکراہٹ روک لی ہو۔ ان معصوموں کو پتہ تھا کہ ان کے گھر میں صرف ایک روٹی، چند کھجوریں اور چائے کا آدھا کپ ہی ہے۔
تبھی مسجد سے "روزہ افطار کیجیے” کی صدا گلیوں میں گونجنے لگی۔ یوسف نے آہستگی سے روٹی، کھجور اور چائے کا کپ اٹھایا۔ اس کے ہاتھ لرز رہے تھے۔ اس نے روٹی کو دو حصوں میں توڑا، ایک بڑا اور ایک چھوٹا۔ کھجور بھی آدھی کر دی اور چائے کے آدھے کپ کو دو گھونٹوں میں بانٹ دیا۔
"یہ لے۔”
"نہیں ابّا… آپ کھائیں، آپ کا روزہ ہے۔”
یوسف نے کچھ نہیں کہا۔ بس وہ ٹکڑا صائمہ کے ہاتھ میں رکھ دیا۔
صائمہ نے روٹی اور کھجور کا چھوٹا ٹکڑا لیا اور چائے کا ایک گھونٹ پیا۔ دونوں نے ایک ساتھ منہ میں ڈالا۔ روٹی خشک تھی، کھجور چھوٹی سی تھی اور چائے کا ذائقہ مدھم تھا۔
افطار اور نماز کے بعد گلیوں میں چہل پہل تھی۔ کوئی فون پر خوشی خوشی بتا رہا تھا کہ اس کا پارسل پہنچ گیا ہے، اور اسی شور میں ایک پڑوسن اپنی ہمسائی کو بتا رہی تھی کہ اس نے رمضان فیسٹیول کے موقع پر بھاری ڈسکاؤنٹ پر شوہر اور بچوں کے لیے کپڑے آن لائن منگوائے ہیں، اور ساتھ اپنے لیے بھی ایک جوڑا لے لیا۔ یوسف صحن میں بیٹھا یہ سب سنتا رہا۔ ایک وقت تھا جب یہی گلی اس کی مشین کی آواز سے گونجتی تھی، مگر اب نوٹیفکیشن اور سودے بازی کی آوازیں تھیں اور اس کے گھر میں خاموشی تھی۔
اس نے ادھوری قمیض پر نظر ڈالی۔ مشین کا دھاگہ جیسے رک گیا تھا۔
وہ ماضی کی یادوں میں گم تھا کہ اندر سے یکایک بچوں کی آواز ابھری:
"امّی… عید پر ہم بھی نئے کپڑے پہنیں گے نا؟”
چند لمحے کوئی جواب نہ آیا۔ پھر صائمہ کی آواز سنائی دی، آہستہ، جیسے الفاظ چن رہی ہو:
"ہاں… کیوں نہیں… تمہارے نانا ہیں نا…”
آخری لفظ کے بعد ہلکی سی خاموشی تھی، جیسے جملہ مکمل تو ہو گیا ہو مگر یقین باقی نہ رہا ہو۔
یوسف کے ہاتھ خود بخود رک گئے۔
وہ دیر تک قمیض کو دیکھتا رہا۔ وہ قمیض جو کسی اور کی عید کے لیے تھی۔ اس نے سوئی کپڑے میں اتاری، مگر دھاگہ الجھ گیا۔ انگلی میں ہلکی سی چبھن ہوئی۔ ایک ننھا سا قطرہ ابھرا اور سفید کپڑے پر پھیلنے لگا۔
اس نے فوراً انگوٹھے سے اسے مٹا دیا۔
مشین دوبارہ چلنے لگی، مگر اس بار سلائی ایک ٹیڑھی لکیر کی شکل میں تھی۔
٭٭٭
Like this:
Like Loading...