Skip to content
ہم اس لہو کا خراج لیں گے، خراج لیں گے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
10؍ رمضان کا سورج آیت اللہ علی خامہ ای کی شہادت کےلہو رنگ سے منور ہوئی ۔ اس وقت کون سوچ سکتا تھا ایک ہفتے کے اندر یہ خون ناحق دنیا کی تصویر بدل دے گا لیکن مشیت ایزدی اگر کوئی فیصلہ کرلے تو اس کو بدلنے کا یارہ کسی میں نہیں ہے۔ رہبر معظم کی شہادت کو سورۂ احزاب کی آیت نمبر 23 کے حوالے نشر کیا گیا جس کا ترجمہ ہے:’’ ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے ۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔ انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی ‘‘۔ قرآن مجید کی اس ایک آیت نے رنج و الم کے سارے کوہسار یزہ ریزہ کردئیے ۔ اس آیت نے نہ شہید کی عظمت بیان کرکے بعد والوں کو بھی جذبۂ شہادت سے مالا مال کردیا۔ مذکورہ بالاپیغام میں یاد دہانی کی گئی کہ آیت اللہ خامنہ ای نے کہا تھا’’ایرانی قوم اپنے اسلامی اسباق کو اچھی طرح جانتی ہے، اور اسے بخوبی علم ہے کہ (ایسے حالات میں) کیا کرنا ہے‘‘۔ اس ہفتے کے دوران وقوع پذیر ہونے والا ایک ایک اقدام اس پیغام کا گواہ بن گیا۔
امت کا حوصلہ بلند رکھنے کی خاطر ایرانی میڈیا نے نبی اکرم ﷺ کے نواسے امام حسینؓ کا یہ قول بھی نقل کردیا کہ ’’ مجھ جیسا کوئی شخص، یزید جیسے کی بیعت نہیں کر سکتا‘‘۔ یہی وجہ ہے کہ اگلے دن جب امریکی صدر نئی قیادت سے گفتگو کی پیشکش کی تو اسے منہ پر مار کر کہہ دیا گیا کہ ’’جنگ تم نے شروع کی ہے ختم ہم کریں گے ‘‘ یعنی یہ معرکہ اب ایران کی مرضی اور شرائط پر رکے گی ۔ اس کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی فوج اتارنے کی دھمکی دی تو ا یران کی قیادت نے گھبرانے کے بجائے اعلان کیا’ہم اس کے منتظر ہیں‘۔ ایرانی وزارتِ خارجہ نے آیت اللہ خامنہ ای سے اظہار عقیدت کرتے ہوئے اپنے پیغام میں لکھا کہ موصوف نے ایک خدا ترسی کی زندگی گزاری، ایران سے محبت کی، ملکی خودمختاری کو محفوظ بنایا اور بیرونی تسلط کےخلاف برسرِ پیکار رہے۔وزارت کے بیان میں کہا گیا کہ رمضان المبارک کی 10 تاریخ کو ان کی شہادت انہیں ایران اور عالم اسلام کی تاریخ میں ایک متاثر کن شخصیت بنا دیتی ہے۔حکومتِ ایران نے اس سانحہ پرملک میں 40 روزہ سوگ اور سات دن کی سرکاری تعطیل کا اعلان کیا اور سخت انتقام کی وارننگ بھی دی۔
وزارتِ خارجہ نے حملے کے ذمہ داران کو خبردار کرتے ہوئے کہا: ’’وہ اپنے قاتلوں کے لیے ہمیشہ ایک زندہ ڈراؤنا خواب بنے رہیں گے۔‘‘ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: ’’غم سے بوجھل دل کے ساتھ میں اپنے دانا رہنما اور بصیرت افروز قائد، حضرت آیت اللہ امام خامنہ ای کی شہادت پر امامِ عصر، ملتِ ایران اور امت مسلمہ کو دلی تعزیت پیش کرتا ہوں۔‘‘ آیت اللہ خامنہ ای کو ایک مدبر، باحکمت اور ثابت قدم رہنما کے القاب سے یاد کرکےوہ بولے کہ موصوف نے وقار، بصیرت اور استقامت کی لازوال میراث چھوڑی ہے۔ وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ ان کی شہادت بلاشبہ ایک عظیم نقصان ہے، لیکن ان کی فکر اور نظریہ زندہ و متحرک رہے گا۔ عراقچی نے عزم کا اظہار کیا کہ : ’’ان کا بلند کیا گیا پرچم زمین پر نہیں گرے گا، وفادار اور ثابت قدم ہاتھ اسے مزید بلند مقامات تک لے جائیں گے۔‘‘یہ معاملہ محض سرکار دربار تک محدود نہیں تھا بلکہ بمباری کے خطرات کو بالائے طاق رکھ کر ایران میں لاکھوں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔
دارالحکومت تہران کے علاوہ اصفہان اور زنجان میں بھی بڑے اجتماعات منعقد ہوئے۔ شہر قم میں واقع حرم حضرت معصومہ پر ’’مرگ بر امریکہ‘‘ اور ’’مرگ بر اسرائیل‘‘ کے نعرے لگائے گئے۔ اسی طرح جمکران مسجد کے گنبد پر علامتی طور پر سرخ ’’پرچم انتقام‘‘ لہرا دیا گیا۔ایران کے باہر ہندوستان سمیت دنیا کے مختلف شہروں عوامی تعزیتی اجتماعات کا انعقاد ہوا اور یہ سلسلہ ہنوز جاری ہے آج دہلی کے اسلامک سینٹر میں مسلم پولیٹیکل کونسل اور کل ممبئی کے آزاد میدان میں دائیں باز و کا اتحاد امریکہ و اسرائیلی جارحیت کے خلاف احتجاج کررہا ہے۔ ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے اس دہشت گردی کا سخت ترین جواب دینے کی دھمکی دی ۔ اس بزدلانہ کارروائی کو دینی، اخلاقی اور قانونی حدود کی کھلی خلاف ورزی قرار دے کر اس کی تمام تر ذمہ داری امریکہ اور غاصب اسرائیل پر عائد کی ۔ پاسداران کے بیان میں اس عزم کا اعادہ کیا گیاکہ ‘انتقام کا ہاتھ ہمیشہ دراز رہے گا’ اور مسلح افواج اپنے قائد کے نقشِ قدم پر چلتی رہیں گی، نیز ہر داخلی یا خارجی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا جائے گا۔
یہ کو ئی گیدڑ بھپکی نہیں تھی بلکہ ایران نے فوراً جوابی کارروائی کرتے ہوئے اسرائیل سمیت خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو چن چن کر نشانہ بنایا ۔ بحرین میں امریکی فوجی اڈے پر ڈرونز سے حملہ کیا گیا، مسقط کے قریب بھی بحری جہاز پر کو نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی فوج کے مطابق نہ صرف کویت میں امریکی فوجی اڈے کو مکمل طور پر ناکارہ بنادیا گیا بلکہ امریکی طیارہ بردار جہاز ابراہام لنکن پر بھی چار میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔ امریکی ذرائع نے بحری بیڑ ے پر ایرانی حملے کی تو تردید کی نہ نہ کرکے 3 امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور 5 کے زخمی ہونے کو تسلیم کرلیا جبکہ دو دن کے اندر ایرانی فوج نے دعویٰ کردیا کہ میزائل حملوں میں مارے جانے والے امریکی فوجیوں کی تعداد 560 ہوگئی ۔ یہی وجہ ہے کہ دیکھتے مشرق وسطیٰ سے امریکیوں کے قدم اکھڑ گئے۔ امریکہ کی یہ ذلت ڈونلڈ ٹرمپ کے ہاتھوں کی کمائی ہے۔
ٹرمپ نےاپنے بزدلانہ حملے کے بعد تو اس نے بڑے طمطراق سے دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ نےایران کی 48؍ اہم شخصیات کو ہلاک کردیا اورپوری ایرانی لیڈرشپ ماری جا چکی ہے نیز بہت سے لوگ ہتھیار ڈالنا چاہتے ہیں۔ وہ لوگ ٹرمپ کے خوابوں میں تھے کیونکہ حقیقت کی دنیا میں تو نظر نہیں آئے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ویڈیو خطاب میں کہا تھا کہ پاسداران انقلاب کی تنصیبات،ایرانی فضائی دفاعی نظام سمیت 9 بحری جہاز اور ایرانی بحریہ کی عمارت کو بھی نشانہ بنایا لیکن اگر وہ کامیاب ہوگئے ہوتے مفاہمت کی پیشکش کیوں کی جاتی؟دو دن قبل جن پاسدارانِ انقلاب، ایرانی فوج اور پولیس کو موت سے بچنے کے لیے ہتھیارڈالنے کی دھمکی دی جارہی تھی اب وہی ٹرمپ کا ناطقہ بند کر رہے ہیں۔ ٹرمپ کو چونکہ ردعمل کا اندازہ نہیں تھا اس لیے ہانک دیا کہ اہداف کے حصول تک آپریشن جاری رہے گا اور مزید امریکیوں کی ہلاکتوں کا امکان ہے مگراس کا بدلہ لیا جائے گا ایسے میں نئی قیادت سے بات چیت کی پیشکش کیا اعترافِ شکست نہیں ہے؟
رہبر معظم کی شہادت کے ایک ہی دن بعد ٹرمپ کو دال آٹے کا بھاو پتہ چل گیا۔ ایک امریکی جریدےوا؛ اسٹریٹ سے انٹرویو میں ٹرمپ کا کہا کہ وہ نئے ایرانی رہنما سے بات کرنے پر راضی ہے ، اس کے ساتھ ٹرمپ نے یہ جھوٹا دعویٰ بھی کردیا کہ ایران کے نئے رہنما بھی اس سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں حالانکہ سچائی یہ ہے کہ ایران نے ڈونلڈ ٹرمپ کی مذاکرات کی پیشکش مسترد کرتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے سے صاف انکار کردیا۔ ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے سوشل میڈیا سائٹ ایکس پر جاری کیے گئے بیان میں اعلان کیا کہ ایران امریکہ کےساتھ مذاکرات نہیں کرےگا۔ انہوں نے امریکی صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنی ’خیالی تصورات‘ کے باعث مشرقِ وسطیٰ کو افراتفری میں دھکیل دیا ہے اور اب مزید امریکی ہلاکتوں سے خوفزدہ ہے۔ لاریجانی نے یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا کہ ٹرمپ نے اپنے ’امریکہ فرسٹ‘ کے نعرے کو ’اسرائیل فرسٹ‘ میں بدل دیا اور امریکی فوجیوں کو اسرائیل کے مفادات کی خاطر قربان کیا۔ان کے مطابق اس کی قیمت امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو چکانا پڑے گی جبکہ ایران اپنے دفاع کا حق برقرار رکھے گا۔ اپنے اس حق ایرانی فوج اور پاسداران نے اس خوبی کے ساتھ استعمال کیا دشمن کے ہوش اڑا دئیے اور دانت کھٹے کردئیے۔ کل تک جو لوگ ایران کی وجودیت کے بارے میں مشکوک تھے اب اسرائیل کے وجود پر سوال کررہے ہیں ۔ عظیم تر اسرائیل خواب دیکھنے والوں کے ہوش ٹھکانے آچکے ہیں اور انہیں نیل و فرات کے درمیان سرچھپانے کی جگہ نہیں مل رہی ہے ۔ آئے دن سائرن کے بجنے سے زیر زمین بنکر میں جاکر چھپ جانا ان کا مقدر بن چکا ہے۔ ایران کی انتقامی کارروائی حمایت علی شاعر کی مشہورترانہ یاد دلاتی ہے جس کادرمیانی بند اس طرح ہے؎
ہم اس لہو کا خراج لیں گے،خراج لیں گے
یہی علَم ہے نشانِ حیدرؓ،اسی میں رازِ شکستِ خیبر
اسی میں خونِ حسینؓ شامل،یہی تھا طارقؒ پہ سایہ گستر
یہی تھا یرّوشلم کا فاتح،یہی تھا ایوبیوںؒ کا شہپر
یہی علَم ہے ہمارا ورثہ،یہی علَم ہے ہمارا رہبر
یہی علَم ہے مینارِ معبد،یہی علَم ہے ہمارا منبر
اسی میں ضربِ کلیمؑ شامل،اسی میں نورِ خدا منور
یہی علَم ہے نشانِ حیدرؓ،یہی علَم ہے نشانِ حیدرؓ
وطن کے بیدار سورماؤ،اٹھاؤ اپنا علَم اٹھاؤ
ہم اس لہو کا خراج لیں گے،خراج لیں گے
Like this:
Like Loading...