Skip to content
صدقۂ فطر کی اہمیت وفضیلت احادیث اورفقہ کےآئینہ میں
ازقلم: مفتی محمد ظہیر صادق حسامی ندوی
استاذ شعبۂ افتاء و قضاء
ڈائریکٹر عرش ایجوکیشنل اکیڈمی حیدرآباد
رمضان المبارک وہ بابرکت ماہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں پر رحمتوں کی بارش نازل فرمائی، گناہوں کی معافی کا دروازہ کھول دیا اور نیکیوں کے اجر کو کئی گنا بڑھا دیا۔ اس ماہِ طیبہ میں روزوں کی ادائیگی، تلاوتِ قرآن، قیامِ لیل، صدقات و خیرات کے ذریعے بندہ اپنے رب سے قربت حاصل کرتا ہے۔ جب یہ مقدس ماہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو اللہ کے رسول ﷺ نے امتِ مسلمہ کو ایک آخری تحفہ عطا فرمایا جو نہ صرف روزوں کی تکمیل کا شکریہ ہے بلکہ ان کی ممکنہ کوتاہیوں کا کفارہ بھی بنتا ہے،اوروہ تحفہ ہے صدقۂ فطر،
یہ صدقہ محض ایک مالی عبادت نہیں بلکہ ایک عظیم سماجی فریضہ بھی ہے جو امیر و غریب کے درمیان محبت و ہمدردی کا ایک خوبصورت پل قائم کرتا ہے،عید الفطر کی خوشی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب ہر خوشحال مسلمان اپنے محتاج بھائیوں کو بھی اس پرمسرت لمحات میں شریک کرے،نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ صدقۂ فطر روزہ دار کے لغو اور فحش کلام سے پیدا ہونے والے اثرات کو صاف کرتا ہے اور مسکینوں کے لیے کھانے کا بندوبست کرتا ہے،یہی وجہ ہے کہ یہ صدقہ رمضان کی رحمتوں کو مکمل کرنے اور عید کی خوشی کو عام کرنے کا ذریعہ بنا،
آج کےاس مضمون میں صدقۂ فطر کی شرعی حیثیت، اس کی فضیلت، وجوب، مقدار، وقتِ ادائیگی اور دیگر اہم احکام کی تفصیلات درج کی جائےگی،تاکہ ہر مسلمان اس عظیم فریضے کو بہتر طریقے سے ادا کر سکے اور رمضان کی برکتوں سے مکمل فیض یاب ہو سکے،
“ فطر کے معنی “
فطر کے معنی روزہ کھولنے کے ہیں، اور صدقۂ فطر اس صدقہ کا نام ہے جو ماہ رمضان کے ختم ہونے پر روزہ کھولنے کی خوشی اور رمضان المبارک کے دوران سر زد ہونے والی کوتاہیوں اور غلطیوں کے کفارہ کے طور پر ادا کیا جاتا ہے،صدقۂ فطر کے اور بھی کئی نام احادیث میں ملتے ہیں، جیسے کہ زکاةِ فطر ، صدقۂ فطر، زكاةِ رمضان ، صدقۂ رمضان، زكاةِ صوم ، صدقۂ صوم ، صدقۂ رُؤوس ، زكاة البدن ( عمدۃ القاری 107/9)
اسلام اپنوں اور غیروں کو بھی خوشی میں شامل کرتا ہے
دین اسلام جہاں عید اور خوشی منانے کی اجازت دیتا ہے، وہیں اپنوں اور غیروں کو بھی اسلامی عید و خوشی میں شریک کرنے کی ہدایت و تعلیم دیتا ہے، یہ اسلام کا طرۂ امتیاز ہے، کہ وہ اپنے ماتحت لوگوں کو کبھی فراموش نہیں کرتا ، بلکہ ان کی غریبی اور مفلسی کا بھر پور خیال رکھتا ہے اور ان کے درد و دکھ میں مکمل ساتھ دیتا ہے، اسلام وہ مذہب ہے جو غریب و مفلس ، سب کے ساتھ رواداری، الفت و محبت ،اور ہمدردی و غمخواری کر کے ان کےخوشی وغم میں مکمل شریک ہوتا ہے،
یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بندۂ مومن کو اپنے مال کی زکوۃ اور دیگر صدقات وغیرہ نکالنے کا حکم دیا ہے، تاکہ اس کے ذریعہ ان کی امداد کی جا سکے، جس طرح رمضان کے مبارک مہینہ میں اللہ کے مخلص بندے اللہ کے حکم سے اپنے مال کی زکوۃ نکالنے کا اہتمام کرتے ہیں، اسی طرح رمضان کے اختتام پر نماز عید سے پہلے پہلے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے ، صاحب دولت اور صاحب نصاب مسلمانوں کو صدقۃ الفطر نکالنے کا حکم فرمایا ہے، تا کہ عید سعید کے موقع پر کوئی بھی غریب غریب نہ رہے، اور ان کو گھر گھر پھر کر مانگنے کی ضرورت پیش نہ آئے ، اور عید کے دن ان کو اس بات کا بلکل بھی احساس نہ ہو کہ ان کی غریبی اور لاچاری نے ان کی عید کی خوشی چھین لی ہے، اور ان کی عید کورنج والم کےسایہ نےگھیرلیاہے،
حضرت عمر بن شعیب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : الا ان صدقة الفطر واجبة على کل مسلم ذكر او انثی، حر او عبد صغير او كبير ( ترمذی 146/2)
آگاہ ہو جاؤ ! ہر مسلمان پر صدقہ فطر واجب ہے، چاہے مرد ہو یا عورت ، آزاد ہو یا غلام، چھوٹا ہو یا بڑا،
ایک دوسری روایت میں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : أغنوهم في هذا اليوم (ابوداود ح / 1606)
تم عید کے دن دست سوال دراز کرنے والوں کو بے نیاز کر دو!
صدقہ فطر کی حکمت و مصلحت
غور کیا جائے تو محسوس ہوگا کہ اللہ نے صدقہ فطر نکالنے کے پیچھے بڑی حکمتیں رکھی ہیں، ایک روزہ دار کے روزہ رکھنے میں جو کمیاں اور کوتاہیاں ہو جاتی ہیں، صدقہ فطر ادا کرنے سے وہ کو تا ہیاں اور کمیاں ختم ہو جاتی ہیں، اور اللہ کی جانب سے پاکیزگی عطا ہوتی ہے،
حضرت عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
قال رسول الله ﷺ : صدقة الفطر طهرة للصائم من اللغو والرفث وطعمة للمساكين من اداها قبل الصلاة فهى زكاة مقبولة، ومن اداها بعد الصلاة فهي صدقة من الصدقات ( ابوداود – بحواله الترغيب والترهيب ص /174)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : کہ صدقہ فطر لغو اور بے ہودہ باتوں سے روزہ دار کو پاک کرتا ہے، اور مسکینوں کو کھانا فراہم کرتا ہے، جس نے نماز (عید) سے پہلے ادا کیا، تو یہ مقبول زکاۃ ہے، اور جس نے نماز کے بعد ادا کیا تو یہ عام صدقات میں سے ایک صدقہ ہوگا۔
حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے : قال رسول الله ﷺ: صوم شهر رمضان معلق بين السماء والارض، ولا يرفع الابزكاة الفطر ( الترغيب والترهيب : 174) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : کہ ماہ رمضان کا روزہ آسمان وزمین کے درمیان معلقرہتا ہے، اور زکاۃ فطر ادا کرنے کے بعد او پر جاتا ہے،
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
فرض رسول الله ﷺ : زكاة الفطر، وامر بها أن تؤدى قبل خروج الناس الى الصلاة (بخاری 104/1)
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکاۃ الفطر ( صدقہ فطر ) کو فرض قرار دیا اور نماز عید کے لئے نکلنے سے پہلے محتاجوں کو ادا کر دینے کا حکم فرمایا۔
صدقہ فطر کا وجوب
عید الفطر کی صبح صادق طلوع ہونے کے بعد صدقہ فطر واجب ہو جاتا ہے، طلوع صبح صادق سے پہلے کسی کا انتقال ہو جائے، یا کوئی مالدار غریب ہو جائے ، تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہوگا ، اسی طرح طلوع صبح صادق سے پہلے کوئی مسلمان ہو جائے ، یا کوئی فقیر مالدار ہو جائے ، یا کسی کو بچہ تولد ہوا تو صدقہ فطر واجب ہو جائے گا۔ اور اگر صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد کوئی مالدار غریب ہو جاتا ہے تو اس کے ذمہ سے صدقہ فطر ساقط نہیں ہوگا ، اسی طرح صبح صادق کے طلوع ہونے کے بعد اگر کوئی بچہ تولد ہوتا ہے، یا کوئی شخص مسلمان ہو جاتا ہے تو اس پر صدقہ فطر واجب نہیں ہوگا عالمگیری 98/1)بحوالہ، رمضان کے شرعی احکام )
صدقہ فطر ادا کرنے میں افضل اور بہتر یہ ہے کہ ایک غریب آدمی کو مکمل ایک صدقہ فطر دیا جائے۔ (عالمگیری 193/1)
صدقہ فطر کی مقدار
صدقہ فطر کی مقدار کے سلسلہ میں علماء ہند کی مختلف رائیں ہیں، حضرت مولانا مفتی شفیع صاحب ( رحمتہ اللہ علیہ )کی تحقیق کے مطابق نصف صاع گیہوں، ایک کیلو پانچ سونوے، 590-1 گرام ہوتا ہے۔ (جواہر الفقہ 428/1)
اور حضرت مولانا رشید احمد صاحب (رحمۃ اللہ علیہ )کی تحقیق کے مطابق نصف صاع گیہوں،دو کیلو پچیس گرام ہوتا ہے،) 25-2 ))احسن الفتاوی)406/4)
جید و متبحر عالم دین اور فقیہ زمانہ حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی صاحب (حفظہ اللہ ورعاه ) تحریر فرماتے ہیں، کہ ہندوستان کے اکثر ارباب افتاء کی رائے مفتی شفیع صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی رائے سے قریب ہے، اور زیادہ احتیاط مفتی رشید صاحب کی رائے پر عمل کرنے میں ہے ،( اسلام کا نظام عشروز کاۃ ص /182) بحوالہ رمضان کے شرعی احکام ص/421)
صدقۃ الفطر کی جو مقدار او پر ذکر کی گئی ہے اسکے مطابق فطرہ نکالنے کی ہدایت دی گئی ہے، اور اگر مذکورہ مقدار کی قیمت کا حساب لگا کر صدقہ فطر ادا کیا جائے تو وہ بھی مناسب ہے، بلکہ رقم کے ذریعہ صدقہ فطر ادا کرنا ایک غریب کی ضروریات زندگی کے لئے زیادہ ممد و معاون ہے،
امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: لان الواجب في الحقيقة إغناء الفقيرلقوله : أغنوهم عن المسئلة في مثل هذا اليوم: والاغناء يحصل بالقيمة بل أتم و أو فر و أيسر : لانها الى دفع الحاجة ( بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع : 129)یعنی حقیقت میں عید کے دن غریب و فقیر کو دست سوال دراز کرنے سے بے نیاز کرنا مقصود ہے، اس لئے کہ حدیث کے اندر یہ واضح ہے، (اغنوهم في مثل هذا اليوم ) کہ عید کے دن فقیر کو مانگنے سے بے نیاز کر دو، اور یہ مقصد رقم کے ذریعہ سے حاصل ہو جاتا ہے، بلکہ یہ صورت زیادہ تام اور آسان ہے، اور نقد رقم کے ذریعہ ایک فقیر کی ضرورت کو پوری کرنا اس کے حق میں زیادہ مفید اور مددگار ہے، اس کے علاوہ منصوص اجناس کا ذکر احادیث میں ملتا ہے، جیسے کہ ایک صاع کھجور ایک صاع جو ) ایک صاع کشمش منتقی ، خشک انگور، پنیر وغیره ( بخاری 204/1)
صدقہ فطر میں قیمت دینا
بلکہ آج کے دور میں اہل ثروت کو اس بات کا زیادہ خیال رکھنا چاہئے کہ جو منصوص اجناس ہیں اور ان میں سے جن کی قیمت زیادہ ہوتی ہے، تو اس کا حساب لگا کر رقم کے ذریعہ صدقۃ الفطر ادا کریں، تا کہ غرباء و مساکین کے لئے زیادہ فائدہ بخش ہو، اور وہ اپنی ضروریات زندگی به آسانی پوری کر سکیں ، مخصوص اجناس کی تفصیل کچھ اس طرح ہے،اور اہم بات بھی یہی ہےکہ چار قسم کے اجناس واناج کےذریعہ فطرہ ادا کیاجاتاہے،” گیہوں “ کےذریعہ، “ جَوࣿ “ کےذریعہ، “ عمدہ کھجور “ کےذریعہ، “ ادنی کھجور “ کےذریعہ، اور “ کشمش “ کےذریعہ، شہرحیدرآباداوراس کے اکناف میں اس کی موجودہ قیمتیں کچھ اس طرح ہیں،
گیہوں، 80 روپے، جَو ، ساڑھے تین کیلو، 350 روپے، عمدہ کھجور ساڑھے تین کیلو، 1050) ادنی کھجور یعنی کم کوالیٹی والا، ساڑھے تین کیلو، 350، اورکشمش، ساڑھے تین کیلو، 1925) ان تمام اقسام کےذریعہ صدقۂ فطر ادا کیاجائےگا، یااس کی جورقم درج کی گئی ہےوہ رقم ایک آدمی کےحساب سےاداکی جائےگی، اسی طرح ایک اہم مسئلہ یہ بھی ہےکہ جوحضرات روزہ نہ رکھنےکی طاقت رکھتےہیں یعنی ڈاکٹروں نے منع کردیاہےکہ اب آپ روزہ نہیں رکھ سکتےاورکبھی نہیں رکھ سکتےتواب یہ عذرِشرعی پرمحمول کیاجائےگا، لہذا ایسے لوگ تیس روزےکافدیہ اداکریں گے، اورایک روزہ کافدیہ بھی وہی ہےجو اوپر تفصیل لکھی گئی ہے، ایک ضروری بات یہ ہےکہ مِڈل کلاس کےلوگ تو فی کس 80 روپے کےذریعہ فطرہ اورفِدیہ تواداکریں گے ہی مگر دیکھنے اور سننے میں آتاہےکہ اچھےاچھےمالدارلوگ بھی گیہوں یعنی 80 روپے کےذریعہ ہی فطرہ یافدیہ ادا کرتےہیں، جبکہ ان لوگوں کو جَو یعنی اس کی قیمت 350 یاعمدہ کھجور یعنی اس کی قیمت 1050 یا کشمش یعنی اس کی قیمت 1925 کےذریعہ ادا کرناچاہئیے۔ تاکہ زیادہ سےزیادہ غرباءومساکین اورمحتاج لوگوں کافائدہ ہو، اللہ نیک عمل کی توفیق عطافرمائے،اس ضمن میں ایک اوراہم بات یہ ہےکہ ایک فطرہ یا ایک فدیہ کی رقم ایک ہی آدمی کودینابہترہےکیونکہ ایک فطرہ کی رقم کوبھی ایک توڑتوڑکردیاجائےتوپھرکسی غریب کی ضرورت پوری ہونامشکل ہے، لہذا اس انداز سے دیاجائےکہ ایک غریب اپنی ضرورت پوری کرسکے،اس پرخاص توجہ کی ضرورت ہے،
صدقہ فطر کے مصارف
صدقہ فطر کے مصارف وہی ہیں جو زکوۃ کے مصارف ہیں ۔ صدقة الفطر كالزكاة في المصارف (در مختار مع الرد ۲/۳۶۹)
یعنی جن کو زکاۃ دینا درست ہے، انہیں کو فطرہ دینا بھی درست ہے ، صدقہ فطر عید سے ایک دو دن قبل بھی ادا کیا جا سکتا ہے، چنانچہ حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے:
وكانوا يعطون قبل الفطر بيوم او يومین ،( بخاری 205/1) یعنی لوگ صدقہ فطر عید سے ایک دو دن پہلے ہی دے دیا کرتے تھے۔
صدقہ فطر کے چند مسائل
اس کے علاوہ ، صدقہ فطر کے اندر یہ بات بھی ملحوظ رکھنا ہے، کہ نابالغ بچے اگر نصاب کے مالک نہ ہوں تو ان کی جانب سے ان کے باپ پر صدقہ فطر واجب ہے، اور اگر وہ بچے صاحب نصاب ہوں تو پھر ان کے مال میں سے ان کا صدقہ فطر نکالا جائے گا، (عالمگیری 192/1)
اسی طرح عاقل اور بالغ اولاد کا صدقہ فطر باپ پر واجب نہیں ہے لیکن وہ بچے باپ کی زیر پروش ہیں تو ان کی جانب سے باپ اگر صدقہ فطر نکال دے تو صدقۂ فطر ادا ہو جائے گا۔ (در مختار 285/3)
شوہر پر بیوی کا صدقۂ فطر واجب نہیں ہے لیکن اگر بیوی کی اجازت یا بغیر اجازت کے شوہر اس کی طرف سے صدقہ فطر ادا کر دے تو ادا ہو جائے گا۔ (در مختار 185/3)
علماء فرماتے ہیں کہ صدقہ فطر ادا کرنے کے کئی فائدے حاصل ہوتے ہیں۔
قبول الصوم، والفلاح والنجاة من سكرات الموت وعذاب القبر -روزہ قبول ہوتا ہے، دنیا و آخرت میں کامیابی اور نجات ملتی ہے، موت کی سختی اور قبر کے عذاب سے حفاظت ہوتی ہے۔ ( مجمع الانھر 226/1)
حضرت وکیع بن جراح رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: کہ صدقہ فطر کی مثال رمضان میں ایسی ہےجیسا کہ سجدہ سہو کی مثال نماز کے اندر ، جس طرح سجدۂ سہو نماز کے نقصان کی تلافی کر دیتا ہے، اسی طرح صدقہ فطر روزوں کے نقصان کی تلافی کرتا ہے، ( تاریخ بغداد 286/10)
اس لئے ہر صاحب نصاب مسلمان پر یہ ضروری ہے کہ وہ صدقہ فطر نکالنے کا خوب اہتمام کریں تا کہ غرباء و مساکین کی بھر پور مدد کی جاسکے اور عید کے موقع سے وہ کسی بھی طرح کی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ، وہ خوشی خوشی اپنی تمام ضرورتوں کومکمل کرسکیں، عیدکی خوشی کی مسکراہٹ ان کےچہروں پربھی چمکتی رہے، اور ہمارے لئےان کی زبان سےدعانکلے،
صدقۂ فطر کوئی معمولی صدقہ نہیں، بلکہ یہ رسول اللہ ﷺ کی سنتِ مبارکہ اور شریعتِ اسلامیہ کا ایک روشن حصہ ہے جو روزوں کی پاکیزگی، مسکینوں کی کفالت اور امت کے باہمی اتحاد کو یقینی بناتا ہے۔ جب ہم اسے عید کی نماز سے پہلے ادا کرتے ہیں تو نہ صرف ہمارے روزے مکمل طور پر قبول ہونے کی دعا قبول ہوتی ہے بلکہ غریبوں کے چہروں پر مسکراہٹ اور دلوں میں سکون بھی پیدا ہوتا ہے۔
آئیے! اس عید پر ہم سب اس سنتِ نبوی کو زندہ کریں۔ اپنی استطاعت کے مطابق نہ صرف اپنا فطرہ ادا کریں بلکہ اپنے زیر کفالت افراد کا بھی خیال رکھیں اور اگر ممکن ہو تو ضرورت مندوں تک اسے جلد پہنچائیں۔ یاد رکھیں کہ صدقۂ فطر ادا کرنے والا شخص رمضان کی رحمتوں سے محروم نہیں رہتا بلکہ اللہ کی طرف سے خاص شفقت اور مغفرت کا مستحق بنتا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس فریضے کی ادائیگی کی توفیق عطا فرمائے، ہمارے روزوں کو قبول فرمائے، ہمارے گناہ معاف فرمائے اور پوری امت کو عید کی حقیقی خوشیوں سے نوازے۔ آمین یا رب العالمین۰
Like this:
Like Loading...