Skip to content
رمضانُ کا چاند اور بازاروں کا موسمِ بہار
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
رمضانُ المبارک کا مہینہ اسلامی روحانیت، تقویٰ، خود احتسابی اور اجتماعی اصلاح کا مہینہ ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب مسلمان اپنی مصروف زندگی سے کچھ لمحے نکال کر اپنے ربّ کے ساتھ تعلق کو مضبوط کرتے ہیں۔ مساجد آباد ہوتی ہیں، قرآن کی تلاوت گونجتی ہے، دل نرم ہوتے ہیں اور انسان اپنے نفس کے محاسبے کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
لیکن اگر ہم ذرا اپنے گرد و پیش کا جائزہ لیں تو ایک عجیب تضاد سامنے آتا ہے۔ رمضان کی برکتوں کے ساتھ ساتھ ہمارے مسلم علاقوں میں ایک ایسا منظر بھی پیدا ہو جاتا ہے جسے دیکھ کر یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید ہم روحانیت کے بجائے بازاریت کے کسی نئے مذہب کے پیروکار بن گئے ہیں۔
افطار کے بعد جیسے ہی مغرب کی اذان کی بازگشت ختم ہوتی ہے، بہت سے علاقوں میں ایک دوسری اذان شروع ہو جاتی ہے۔ یہ اذان کسی مینار سے نہیں بلکہ دکانوں کے شٹر سے بلند ہوتی ہے۔ شٹر ایسے اٹھتے ہیں جیسے کسی خفیہ معاہدے کے تحت انہیں ٹھیک اسی وقت بیدار ہونے کا حکم ملا ہو۔ گلیاں جو دن بھر خاموش اور سنجیدہ نظر آتی ہیں، رات کے وقت اچانک ایسے جاگ اٹھتی ہیں جیسے کسی بڑے میلے کا افتتاح ہونے والا ہو۔ دن میں جن راستوں پر بلیاں بھی اطمینان سے چہل قدمی کرتی تھیں، رات میں وہاں انسانوں کا ایسا سیلاب آ جاتا ہے کہ اگر کوئی پرندہ اوپر سے دیکھے تو اسے یوں محسوس ہو کہ شاید کسی نئے تہوار کا آغاز ہو گیا ہے۔
کپڑوں کی دکانیں جگمگا رہی ہوتی ہیں، جوتوں کے اسٹال قطار میں ایسے لگے ہوتے ہیں جیسے وہ بھی تراویح کی جماعت کے منتظر ہوں۔ عطر و خوشبو کے بیچنے والے اپنے شیشیوں کے لشکر کے ساتھ ماحول کو روحانی بنانے کی بھرپور کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ ادھر چٹ پٹی چیزوں کی خوشبو فضاء میں ایسی گردش کر رہی ہوتی ہے کہ روزہ تو کھل چکا ہوتا ہے مگر صبر و ضبط کا امتحان ابھی باقی رہتا ہے۔ ان مناظر کو دیکھ کر کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ رمضان کا اصل مقصد شاید بدل کر تزکیۂ نفس سے تزئینِ الماری ہو گیا ہے۔ گویا روح کی اصلاح سے زیادہ کپڑوں کی اصلاح ضروری سمجھ لی گئی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ خریداری کرنے والے حضرات بڑے سنجیدہ انداز میں ایک دوسرے سے پوچھتے ہیں: "بھائی یہ کپڑا عید کے لیے ٹھیک رہے گا نا؟”۔ حالانکہ اگر کوئی پوچھ بیٹھے کہ "رمضان کے لیے کیا تیاری کی؟” تو سوال کرنے والے کو بھی تھوڑی دیر سوچنا پڑ جائے۔ بازار کی یہ رونقیں کبھی کبھی اتنی پرجوش ہو جاتی ہیں کہ ایسا لگتا ہے جیسے لوگوں نے دل ہی دل میں یہ اصول بنا لیا ہو کہ تراویح کے بعد خریداری بھی ایک مستقل سنتِ بازار ہے۔ بچّوں کے ہاتھ میں آئس کریم، بڑوں کے ہاتھ میں خریداری کے تھیلے، اور دکانداروں کے چہروں پر مسکراہٹیں! یہ سب مل کر ایسا منظر بناتے ہیں کہ اگر کوئی ناواقف شخص اچانک وہاں آ جائے تو وہ شاید یہی سمجھے کہ یہ رمضان نہیں بلکہ کسی فلمی میلے کی شوٹنگ ہو رہی ہے۔
حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ رمضان کا پیغام اس شور و ہنگامے سے کہیں زیادہ خاموش اور گہرا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں سادگی، اعتدال اور اپنے اندر جھانکنے کا درس دیتا ہے۔ مگر ہم میں سے بہت سے لوگ اس درس کو سننے کے بجائے دکانوں کے لاؤڈ اسپیکر اور رعایتی سیل کے اشتہارات میں زیادہ دلچسپی لینے لگتے ہیں۔ یوں بازار کی یہ تہذیب ایک دلچسپ تضاد پیدا کر دیتی ہے: مسجدوں میں روح کو جگانے کی کوشش ہو رہی ہوتی ہے، اور بازاروں میں جیب کو جگانے کی۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اس رونق سے گھبرائیں بھی نہیں اور اس میں ڈوب بھی نہ جائیں۔ بازار آباد رہیں، خریداری بھی ہو، مگر رمضان کی اصل روح یعنی سادگی، تقویٰ اور خود احتسابی کہیں اس ہجوم میں گم نہ ہو جائے۔ کیونکہ اگر رمضان میں بھی انسان اپنے نفس کو نہ پہچان سکے تو پھر الماری میں نئے کپڑے تو آ جائیں گے، مگر دل کی الماری شاید ویسی ہی خالی رہ جائے گی۔
رمضان کا چاند نظر آتے ہی جہاں مساجد میں عبادتوں کی بہار آتی ہے، وہیں بعض علاقوں میں ایک اور بہار بھی کھل جاتی ہے اور وہ ہے غیر قانونی دکانوں کی بہار۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کچھ دکانیں بھی روزے کی طرح "چاند دیکھ کر” شروع ہوتی ہیں۔ جہاں کل تک سڑک تھی، آج وہاں اچانک اسٹال نمودار ہو جاتے ہیں۔ جہاں کل تک فٹ پاتھ تھا، وہاں اب عارضی مارکیٹ آباد ہو جاتی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے زمین کے نیچے کہیں دکانوں کے بیج بو دیے گئے ہوں اور رمضان کا چاند نکلتے ہی وہ بیج فوراً اگ آتے ہوں۔ یہ منظر دیکھ کر کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ اگر زرعی ماہرین کو اس راز کا پتا چل جائے تو وہ شاید گندم اور چاول کے بجائے "دکانوں کی کاشت” پر تحقیق شروع کر دیں۔ گویا رمضان کا چاند صرف عبادت کے آغاز کا اعلان نہیں کرتا بلکہ غیر قانونی دکانوں کے موسمِ بہار کا بھی پیغام لے کر آتا ہے۔
فٹ پاتھ جو پیدل چلنے والوں کے لیے بنائے گئے تھے، اب دکانوں کے رحم و کرم پر ہوتے ہیں۔ پیدل چلنے والا اگر بیچارہ ادھر سے گزرنا چاہے تو اسے یوں لگتا ہے جیسے وہ کسی مارکیٹ میں مہمان بن کر آیا ہو اور اس کی موجودگی دکانداروں کی مرضی پر منحصر ہو۔ سڑکیں جو ٹریفک کے لیے تھیں، اب رکشوں، موٹر سائیکلوں اور خریداری کے شوقین ہجوم کی آماجگاہ بن جاتی ہیں۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عام شہری کو گھر پہنچنے کے لیے ایسے راستے تلاش کرنے پڑتے ہیں جیسے کسی قدیم قلعے کی بھول بھلیاں میں راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔ کبھی کبھی تو یہ کیفیت ہو جاتی ہے کہ آدمی گھر سے نکلتے وقت راستہ یاد رکھتا ہے مگر واپسی پر اسے شک ہونے لگتا ہے کہ شاید وہ کسی اور شہر میں آ گیا ہے۔
ان تمام مسائل کا سب سے زیادہ بوجھ آخرکار عام عوام ہی کو اٹھانا پڑتا ہے۔ گھنٹوں کے ٹریفک جام، شور و ہنگامہ، گندگی اور بدانتظامی یہ سب شہری زندگی کا روزمرّہ حصّہ بن جاتے ہیں۔ کوئی مریض اسپتال جانے کے لیے راستہ تلاش کر رہا ہوتا ہے، کوئی ملازم گھر پہنچنے کی فکر میں پریشان ہوتا ہے، اور کوئی بزرگ اس ہجوم میں خود کو سنبھالتا ہوا آگے بڑھنے کی کوشش کر رہا ہوتا ہے۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس پورے منظر میں نام نہاد قیادت کی آواز کہیں سنائی نہیں دیتی۔ جو حضرات عام دنوں میں قوم کی رہنمائی کے بلند بانگ دعوے کرتے ہیں، رمضان کے دنوں میں اکثر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ شاید ان کی توجہ بھی بازار کی رعایتی سیل پر مرکوز ہو گئی ہے۔ ان کی خاموشی اتنی گہری ہوتی ہے کہ کبھی کبھی آدمی کو شک ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ بھی رمضان کی کسی خاص عبادت کا حصّہ ہے۔
اور اگر کہیں سے کوئی آواز سنائی دیتی بھی ہے تو وہ اصلاح کی نہیں بلکہ وصولی کی سرگوشیوں کی ہوتی ہے۔
گویا کچھ لوگوں نے رمضان کو عبادت اور احتساب کے مہینے کے بجائے "موسمِ انتظام و انصرام” بنا لیا ہے، جس میں سب سے زیادہ سرگرمی اس بات پر ہوتی ہے کہ کون سی جگہ کس کے زیرِ انتظام ہے۔ یوں اس سارے منظر میں ایک عجیب سا تضاد پیدا ہو جاتا ہے: مسجدوں میں لوگ اپنے گناہوں کی معافی مانگ رہے ہوتے ہیں، اور بازاروں میں کچھ لوگ اپنے "حصّے” کی وصولی کا حساب لگا رہے ہوتے ہیں۔ اصلاح کی ضرورت اس بات کی ہے کہ رمضان کو واقعی اس کی اصل روح کے ساتھ سمجھا جائے۔ کیونکہ اگر عبادت کے مہینے میں بھی ہم نظم و انصاف قائم نہ کر سکیں تو پھر باقی گیارہ مہینوں سے کیا امید رکھی جا سکتی ہے۔ اور سچ تو یہ ہے کہ اگر قیادت اپنی ذمّہ داریوں کو سنجیدگی سے لے تو رمضان کی یہ رونقیں عوام کے لیے رحمت بھی بن سکتی ہیں، ورنہ فی الحال تو بہت سے لوگوں کے لیے یہ رونقیں آزمائش سے کم نہیں۔
بازاروں کی اس اچانک افزائش کے پیچھے صرف دکانوں کا جوش و خروش ہی نہیں ہوتا بلکہ ایک مکمل "معاشی نظام” بھی پوری چابک دستی کے ساتھ کام کر رہا ہوتا ہے۔ یہ ایسا نظام ہے جس کا نصاب کہیں پڑھایا نہیں جاتا، مگر اس کے ماہرین ہر گلی اور ہر بازار میں بآسانی مل جاتے ہیں۔ اس نظام کا طریقۂ کار بھی بڑا سادہ اور منظم ہوتا ہے۔ پہلا مرحلہ یہ ہوتا ہے کہ کوئی دکاندار ایک مناسب جگہ پر قبضہ جما لیتا ہے۔ دوسرا مرحلہ یہ کہ فوراً کوئی نہ کوئی دلال صاحب نمودار ہوتے ہیں جو بڑے خلوص کے ساتھ اس دکاندار کو یقین دلاتے ہیں کہ وہ اس جگہ پر مکمل "تحفّظ” فراہم کریں گے۔ یہ تحفّظ ایسا ہوتا ہے جس میں دکاندار کو کسی سرکاری قانون سے نہیں بلکہ انہی حضرات سے بچایا جاتا ہے جو تحفّظ فراہم کر رہے ہوتے ہیں۔
ظاہر ہے اس تحفّظ کی ایک قیمت بھی ہوتی ہے، جو روزانہ یا ہفتہ وار ادا کی جاتی ہے۔ یوں آہستہ آہستہ ایک غیر رسمی معیشت وجود میں آ جاتی ہے جسے عوام عام زبان میں وصولی مافیا کے نام سے جانتے ہیں۔ یہ حضرات بظاہر بڑے خدمتگار ہوتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں شائستگی اور لہجے میں بڑی اپنائیت ہوتی ہے۔ مگر ان کی خدمت کا انداز کچھ ایسا ہوتا ہے کہ اگر کوئی دکاندار ان کی "مہربانی” قبول نہ کرے تو اگلے دن اس کی دکان بھی ایسے غائب ہو سکتی ہے جیسے کبھی وہاں موجود ہی نہ تھی۔ یوں یہاں بھی وہی اصول کارفرما ہوتا ہے جسے مزاحیہ انداز میں یوں بیان کیا جا سکتا ہے: "یہاں قانون سے زیادہ طاقتور رسید کا وہ پرزہ ہے جو کبھی دکھایا نہیں جاتا”۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس پورے نظام میں سب کچھ بڑی خاموشی اور مہارت سے چلتا رہتا ہے۔ عام آدمی حیران رہ جاتا ہے کہ اتنی دکانیں کہاں سے آ گئیں اور اتنی آسانی سے کیسے قائم رہتی ہیں۔
رمضان کے بازاروں کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ ان کی رونقیں عموماً افطار کے بعد شروع ہوتی ہیں اور سحر تک جاری رہتی ہیں۔ وہ راتیں جو کبھی عبادت، قیام اللیل اور ذکر و دعا کے لیے مخصوص سمجھی جاتی تھیں، اب بہت سی جگہوں پر ایک باقاعدہ شاپنگ فیسٹیول کی صورت اختیار کر چکی ہیں۔ سحر تک بازاروں میں ایسا رش ہوتا ہے کہ کبھی کبھی آدمی کو یہ فیصلہ کرنا مشکل ہو جاتا ہے کہ یہ لوگ خریداری کے لیے آئے ہیں یا کسی ریلی میں شریک ہونے کے لیے۔ اس رش میں خواتین کی بڑی تعداد بھی خریداری میں مصروف نظر آتی ہے۔ یقیناً ان میں سے بہت سی خواتین ایسی ہوتی ہیں جو گھر کی ضروریات کے لیے خریداری کر رہی ہوتی ہیں، لیکن مجموعی منظر کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے ہم کسی مذہبی مہینے میں نہیں بلکہ کسی بڑے تہوار کے میلے میں آ گئے ہوں۔ دکاندار پورے جوش و خروش کے ساتھ آوازیں لگا رہے ہوتے ہیں، بچے ہاتھوں میں کھانے پینے کی چیزیں لیے خوشی خوشی گھوم رہے ہوتے ہیں، اور خریدار بڑی سنجیدگی سے کپڑوں کے رنگ، ڈیزائن اور قیمتوں پر غور کر رہے ہوتے ہیں۔
یوں تراویح کے بعد جو وقت کبھی قرآن کی تلاوت، ذکر و فکر یا خاموش عبادت میں گزرتا تھا، اب اکثر کپڑوں کے رنگ اور ڈیزائن کے انتخاب میں صرف ہونے لگا ہے۔ اس منظر کو دیکھ کر کبھی کبھی دل میں یہ خیال بھی آتا ہے کہ اگر کسی کو رمضان کی روحانیت کا اندازہ صرف بازار دیکھ کر لگانا پڑے تو وہ شاید یہی سمجھے کہ اس مہینے کا اصل پیغام سیل، رعایت اور نئے کپڑے ہیں۔
حالانکہ حقیقت اس سے کہیں زیادہ گہری اور خوبصورت ہے۔ رمضان ہمیں سادگی، ضبط نفس اور روحانی بلندی کا درس دیتا ہے۔ بازار کی رونق اپنی جگہ بری نہیں، مگر اگر یہ رونق ہماری ترجیحات کو اس حد تک بدل دے کہ عبادت پیچھے رہ جائے اور خریداری آگے نکل جائے تو پھر یہ رونق ایک خاموش سوال بن جاتی ہے۔ اور یہ سوال ہر سنجیدہ انسان سے یہی پوچھتا ہے کہ کیا ہم رمضان کو منا رہے ہیں، یا رمضان کے نام پر صرف بازار کو منا رہے ہیں؟
یہاں اصل سوال یہ نہیں ہے کہ بازار کیوں لگتے ہیں یا لوگ خریداری کیوں کرتے ہیں۔ بازار تو انسانی معاشرت کا لازمی حصّہ ہیں۔ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے خرید و فروخت بھی ضروری ہے اور عید کی خوشیوں کے لیے کچھ تیاری بھی فطری بات ہے۔ مسئلہ بازار کے وجود کا نہیں، بلکہ بازار کے غلبے کا ہے۔ اگر بازار اپنی جگہ رہے اور عبادت اپنی جگہ، تو زندگی کا توازن قائم رہتا ہے۔ لیکن جب بازار ہماری ترجیحات کے تخت پر بیٹھ جائے اور عبادت کو پیچھے کی نشست پر دھکیل دے، تو پھر معاملہ کچھ گڑبڑ ہونے لگتا ہے۔ رمضان ہمیں سادگی، اعتدال اور ضبطِ نفس کا درس دیتا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اس کے کردار، اس کے تقویٰ اور اس کے اخلاق میں ہے نہ کہ اس کے لباس کی چمک دمک میں اور نہ ہی خریداری کے تھیلوں کی تعداد میں۔ مگر ہمارے بعض بازاروں کا منظر دیکھ کر کبھی کبھی یوں لگتا ہے جیسے ہم نے اس سبق کو کچھ اس طرح سمجھ لیا ہو کہ "روح کی اصلاح بعد میں، پہلے الماری کی اصلاح ضروری ہے!”۔ حالانکہ رمضان کا پیغام اس سے کہیں زیادہ سادہ اور گہرا ہے۔ یہ مہینہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسان اگر اپنے نفس کو قابو میں رکھ لے تو وہی سب سے بڑی کامیابی ہے۔
اس صورت حال میں سب سے زیادہ ضرورت سنجیدہ اصلاح کی ہے۔ ایسی اصلاح جو صرف تقریروں میں نہیں بلکہ عملی زندگی میں بھی نظر آئے۔ سب سے پہلے شہری انتظامیہ کو چاہیے کہ غیر قانونی دکانوں اور تجاوزات کے مسئلے کو سنجیدگی سے دیکھے۔ سڑکیں ٹریفک کے لیے اور فٹ پاتھ پیدل چلنے والوں کے لیے ہوتے ہیں، نہ کہ عارضی بازاروں کے لیے۔ اگر انتظامیہ چاہے تو نظم قائم کرنا کوئی ناممکن کام نہیں۔ اسی طرح مسلم قیادت کو بھی چاہیے کہ رمضان کو واقعی روحانی اور سماجی اصلاح کا مہینہ بنانے کی کوشش کرے۔ قوم کی رہنمائی صرف جلسوں اور بیانات سے نہیں بلکہ عملی مثال سے ہوتی ہے۔
مساجد، مدارس اور دینی اداروں کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ان کے منبروں سے صرف عبادات کی فضیلت ہی نہیں بلکہ اعتدال، سادگی اور سماجی ذمّہ داری کا پیغام بھی پہنچنا چاہیے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ عوام کو بھی اپنے اندر جھانکنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ معاشرے کی اصل تبدیلی اوپر سے نہیں بلکہ نیچے سے آتی ہے۔ اگر ہر شخص تھوڑی سی خود احتسابی کر لے، اپنی ترجیحات کا جائزہ لے اور یہ سوچ لے کہ رمضان صرف بازار کی رونق بڑھانے کے لیے نہیں بلکہ دل کی روشنی بڑھانے کے لیے آیا ہے، تو بہت سے مسائل خود بخود کم ہو سکتے ہیں۔ آخرکار حقیقت یہی ہے کہ اگر رمضان جیسا مبارک مہینہ بھی ہمیں اپنی زندگیوں کو سنوارنے کا موقع نہ دے سکے تو پھر باقی گیارہ مہینوں سے ایسی امید رکھنا شاید کچھ زیادہ ہی خوش فہمی ہوگی۔
رمضان کا مہینہ دراصل ہمیں یہ یاد دلانے آتا ہے کہ زندگی صرف کھانے، پہننے اور جمع کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ انسان بننے کا نام ہے۔ اگر ہم اس مہینے میں بھی بازاروں کی چکاچوند میں اپنے اصل مقصد کو بھلا دیں تو یہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص قیمتی موتی کی تلاش میں نکلے اور راستے میں رنگ برنگے کنکروں پر ہی خوش ہو کر بیٹھ جائے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ رمضان کی رونقیں اپنی جگہ رہیں، بازار بھی آباد رہیں، خریداری بھی ہو اور عبادت بھی، مگر دلوں کی مسجدیں بھی آباد رہیں۔ دل کا قبلہ بازار کی طرف نہیں بلکہ خدا کی طرف رہے۔ کیونکہ اگر دل ویران ہو جائیں تو بازاروں کی ساری روشنی بھی اندھیرا ہی محسوس ہوتی ہے۔
🗓 (09.03.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Like this:
Like Loading...