Skip to content
اسرائیل کی طاقت کا معمہ.
عالمی سرپرستی، سفارتی تحفّظ اور جیوپولیٹیکل حقیقتیں
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
اسلامی فکر میں طاقت (قوت) کا تصور محض عسکری غلبے یا مادی وسائل کی فراوانی تک محدود نہیں۔ قرآنِ مجید طاقت کو ایک امانت قرار دیتا ہے جس کا مقصد ظلم کا فروغ نہیں بلکہ عدل کا قیام ہے: "إِنَّ اللّٰهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالْإِحْسَانِ”۔ اسی طرح ایک اور مقام پر واضح کیا گیا کہ قوموں کے عروج و زوال کا مدار محض ظاہری قوت پر نہیں بلکہ اخلاقی و عملی رویّوں پر بھی ہوتا ہے: "وَتِلْكَ الْأَيَّامُ نُدَاوِلُهَا بَيْنَ النَّاسِ”۔ چنانچہ اسلامی زاویۂ نگاہ سے طاقت کا ہر تجزیہ اخلاقی ذمّہ داری، عدلِ اجتماعی اور انسانی حرمت کے اصولوں سے جدا ہو کر مکمل نہیں ہو سکتا۔ اسی تناظر میں جب مشرقِ وسطیٰ میں قائم ہونے والی صہیونی ریاست اسرائیل کی قوت اور اس کے بین الاقوامی کردار کا مطالعہ کیا جاتا ہے تو سوال محض عسکری برتری یا ٹیکنالوجی تک محدود نہیں رہتا۔ اسلامی اصول یہ تقاضا کرتے ہیں کہ کسی بھی ریاستی طاقت کو اس کے اسباب، اس کے اخلاقی جواز، اور اس کے نتائج کے ساتھ دیکھا جائے۔ قرآنِ مجید ظلم و تعدّی کو انسانی معاشروں کے فساد کی جڑ قرار دیتا ہے اور طاقت کے استعمال کو حدود و قیود کا پابند بناتا ہے۔ لہٰذا طاقت کے تصور کا تنقیدی جائزہ لینا نہ صرف ایک سیاسی تقاضا ہے بلکہ ایک اخلاقی و دینی فریضہ بھی ہے۔
عالمی سیاست میں بڑی طاقتوں، خصوصاً ریاستہائے متحدہ امریکہ اور متحدہ سلطنتِ برطانیہ کی سرپرستی نے اسرائیل کو جس نوع کی عسکری، مالی اور سفارتی تقویت فراہم کی ہے، اس کا مطالعہ محض سیاسیات کا موضوع نہیں بلکہ عدلِ بین الاقوامی کا سوال بھی ہے۔ اسلامی اصول یہ سکھاتے ہیں کہ کسی بھی معاملے میں گواہی عدل کے ساتھ دی جائے: "كُونُوا قَوَّامِينَ لِلّٰهِ شُهَدَاءَ بِالْقِسْطِ”۔ اس لیے یہ تحریر نہ جذباتی ردِّعمل ہے اور نہ محض سیاسی بیانیہ؛ بلکہ ایک کوشش ہے کہ عالمی طاقت اور اس کی پشت پناہی کو اصولی اور تحقیقی بنیادوں پر سمجھا جائے۔ اسلامی تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کبھی مطلق نہیں ہوتی؛ وہ نسبتی اور عارضی ہوتی ہے۔ قرآن نے بارہا یہ اصول واضح کیا کہ اگر طاقت ظلم کا ذریعہ بن جائے تو اس کا زوال بھی یقینی ہے۔ اسی اصول کی روشنی میں یہ مضمون عالمی طاقتوں کی سرپرستی، سفارتی تحفّظ، عسکری امداد اور بیانیہ سازی کے کردار کا جائزہ لیتا ہے، تاکہ یہ سمجھا جا سکے کہ کسی ریاست کی قوت کس حد تک داخلی صلاحیت کا نتیجہ ہوتی ہے اور کس حد تک بیرونی اتحادوں کا حاصل۔
یہ مطالعہ الزام تراشی کے بجائے تجزیہ، اور تعصب کے بجائے توازن کی راہ اختیار کرتا ہے۔ اسلامی علمی روایت میں تحقیق (تحقیق)، توازن (اعتدال) اور انصاف (عدل) بنیادی اوصاف ہیں۔ اسی روایت کی پیروی کرتے ہوئے اس مضمون میں طاقت کے تصور کو اس کے وسیع تر تناظر میں پرکھنے کی کوشش کی گئی ہے، نہ مبالغہ کے ساتھ، نہ انکار کے ساتھ؛ بلکہ حقائق، اصول اور اخلاقی معیار کی روشنی میں۔ اسی زاویۂ نگاہ سے آگے کی سطور میں عالمی سرپرستی، عسکری تعاون، سفارتی تحفّظ اور بیانیہ سازی کے عناصر کا تجزیہ پیش کیا جائے گا، تاکہ طاقت کے اس مرکب تصور کو سمجھا جا سکے جو آج کی عالمی سیاست میں ایک فیصلہ کن کردار ادا کر رہا ہے۔
عالمی سیاست میں طاقت صرف ٹینکوں، طیاروں اور میزائلوں کا نام نہیں؛ یہ سفارتی تحفّظ، معاشی اعانت، علمی و ابلاغی برتری اور بین الاقوامی بیانیہ سازی کا مجموعہ ہوتی ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی غاصب ریاست اسرائیل کی طاقت کا تصور بھی اسی مرکب حقیقت سے تشکیل پاتا ہے۔ یہ سوال محض یہ نہیں کہ اسرائیل کتنا طاقتور ہے؛ اصل سوال یہ ہے کہ اس کی طاقت کا تصور کیسے تشکیل دیا گیا، کس نے اسے تقویت دی، اور اس تصور کے پیچھے کون سی بین الاقوامی سرپرستیاں کارفرما رہیں۔
عالمی سیاست کی بساط پر کچھ ریاستیں اپنی داخلی قوت کے سبب نمایاں ہوتی ہیں، اور کچھ اپنی پشت پر کھڑی طاقتوں کی وجہ سے۔ مشرقِ وسطیٰ میں قائم ہونے والی غاصب صہیونی ریاست اسرائیل کی طاقت، بقاء اور عالمی اثر پذیری کا سوال محض اس کی عسکری تیاری یا داخلی تنظیم تک محدود نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں موجود عالمی طاقتوں کی مسلسل عسکری، سفارتی اور مالی سرپرستی کو سمجھے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ یہ مضمون اسی حقیقت کا تجزیاتی مطالعہ پیش کرتا ہے کہ کس طرح بڑی عالمی قوتوں، خصوصاً ریاستہائے متحدہ امریکہ اور متحدہ سلطنتِ برطانیہ نے تاریخی، سفارتی اور عسکری سطح پر ایسے حالات پیدا کیے جنہوں نے اسرائیل کو ایک علاقائی ریاست سے بڑھا کر ایک غیر معمولی اثر رکھنے والی طاقت میں تبدیل کر دیا۔
اسرائیل کا قیام ایک مقامی واقعہ نہیں بلکہ عالمی سیاست کے پیچیدہ جال کا نتیجہ تھا۔ برطانوی دورِ انتداب میں فلسطین کی سیاسی تشکیل، اور بعد ازاں عالمی قوتوں کی منظوری نے اس ریاست کو وجود عطاء کیا۔ صہیونی تحریک کی سیاسی کامیابی محض مقامی جدوجہد کا نتیجہ نہیں تھی۔ پہلی جنگِ عظیم کے دوران برطانوی حکومت کی پالیسیوں، خصوصاً بالفور اعلامیے (1917ء)، نے فلسطین میں یہودی قومی وطن کے قیام کے لیے بین الاقوامی راہ ہموار کی۔ برطانوی انتداب کے دور میں انتظامی و قانونی اقدامات نے صہیونی آبادکاری کو تقویت دی۔ دوسری جنگِ عظیم کے بعد جب عالمی سیاست کی قیادت امریکہ کے ہاتھ آئی تو نئی عالمی ترتیب میں اسرائیل کو نہ صرف تسلیم کیا گیا بلکہ اسے ایک اسٹریٹجک اتحادی کی حیثیت سے مستحکم کیا گیا۔ یوں اسرائیل کا قیام محض ایک علاقائی واقعہ نہیں بلکہ عالمی طاقتوں کے سیاسی مفادات کا حصّہ تھا۔ یہ سرپرستی نظریاتی نہیں بلکہ جغرافیائی و تزویراتی مفادات پر مبنی تھی۔ سرد جنگ کے دور میں اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں مغربی مفادات کا مضبوط مورچہ بن کر ابھرا۔
اسرائیل کی عسکری قوت کا تجزیہ کرتے وقت تین عناصر نمایاں نظر آتے ہیں: جدید ترین اسلحہ کی فراہمی، دفاعی معاہدات اور مشترکہ عسکری مشقیں، ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس تعاون، امریکہ کئی دہائیوں سے اسرائیل کو سالانہ اربوں ڈالر کی عسکری امداد فراہم کرتا رہا ہے۔ جدید میزائل دفاعی نظام، فضائی برتری، تحقیقاتی تعاون اور انٹیلیجنس اشتراک نے اسے خطے کی دیگر ریاستوں پر واضح سبقت دی ہے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ مسلسل مالی و تکنیکی امداد نہ ہو تو کیا طاقت کا توازن برقرار رہ سکتا ہے؟ بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق کسی بھی ریاست کی عسکری برتری صرف اس کی داخلی پیداوار کا نتیجہ نہیں ہوتی بلکہ اتحادوں کا حاصل بھی ہوتی ہے۔ یہ امر قابلِ غور ہے کہ عالمی اتحاد کسی ریاست کی طاقت میں ضرب (multiplier) کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اسرائیل کی طاقت بھی بڑی حد تک اس ضربی اثر کی مرہونِ منت ہے۔
بین الاقوامی نظام میں قانونی و اخلاقی جواز کی فراہمی سفارتی حمایت سے ہوتی ہے۔ اسرائیل کو عالمی اداروں، خصوصاً اقوامِ متحدہ میں غیر معمولی سفارتی تحفّظ حاصل رہا ہے۔ متعدد قراردادوں کے باوجود ان پر عمل درآمد نہ ہونا اس بات کی علامت ہے کہ عالمی سیاست میں اصول سے زیادہ مفاد کارفرما ہوتا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ویٹو پاور رکھنے والی طاقتوں کا کردار اسرائیل کے لیے حفاظتی حصار ثابت ہوا ہے۔ اس سفارتی پشت پناہی نے اسرائیل کو بین الاقوامی دباؤ سے بڑی حد تک محفوظ رکھا۔ یہاں ایک بنیادی نکتہ سامنے آتا ہے؛ عالمی سیاست میں اصول اور مفاد اکثر ایک دوسرے سے متصادم ہوتے ہیں، اور اکثر اوقات مفاد غالب آ جاتا ہے۔ اسرائیل کو حاصل سفارتی تحفّظ اسی حقیقت کی مثال ہے۔
اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کو عالمی سطح پر ایک غیر معمولی صلاحیت رکھنے والی ایجنسی کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بلاشبہ اس کی پیشہ ورانہ مہارت اپنی جگہ، مگر اس کی عالمی رسائی اور کارروائیوں میں مغربی انٹیلیجنس تعاون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ بیانیہ سازی (Narrative Building) بھی طاقت کا اہم پہلو ہے۔ مغربی میڈیا اور تھنک ٹینکس میں اسرائیل کو جمہوری اقدار کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا جاتا رہا ہے، جس سے اسے اخلاقی جواز فراہم کیا جاتا ہے۔ انٹیلیجنس کا تبادلہ، مشترکہ آپریشنز اور ٹیکنالوجی کا اشتراک اسرائیل کی اسٹریٹجک صلاحیت کو وسعت دیتا ہے۔ یوں اس کی طاقت محض داخلی نظم کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک وسیع تر نیٹ ورک کا ثمر ہے۔
غزہ اور دیگر محاذوں پر ہونے والی محدود المدت جنگوں نے یہ ظاہر کیا کہ عسکری برتری کے باوجود اسرائیل کو طویل المدت تنازعات میں چیلنجز کا سامنا رہتا ہے۔ ان جنگوں میں اس کی دفاعی صلاحیتوں کا انحصار جدید ٹیکنالوجی اور بیرونی امداد پر نمایاں طور پر دکھائی دیتا ہے۔
اگر فرض کیا جائے کہ عالمی طاقتیں اپنی عسکری و مالی معاونت روک دیں تو خطے میں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو سکتا ہے۔ تاہم بین الاقوامی سیاست میں ایسے امکانات محض مفروضاتی ہوتے ہیں کیونکہ ریاستیں اپنے مفادات کے مطابق اتحاد قائم رکھتی ہیں۔
عالمی نظام یک قطبی سے کثیر قطبی سمت کی طرف بڑھ رہا ہے۔ نئی طاقتوں کا ابھار، توانائی کی سیاست، اور خطے میں بدلتے اتحاد مستقبل میں اسرائیل اور اس کے سرپرستوں کے تعلقات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ لیکن تاریخ یہ بھی بتاتی ہے کہ طاقت کا توازن یک دم نہیں بدلتا؛ یہ بتدریج تغیر کا نتیجہ ہوتا ہے۔ طاقت کا ایک اہم پہلو "تصورِ طاقت” ہے۔ مغربی میڈیا، تحقیقی ادارے اور تھنک ٹینکس اسرائیل کو جمہوری اقدار کے نمائندہ اور مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کے ضامن کے طور پر پیش کرتے رہے ہیں۔ یہ بیانیہ عالمی رائے عامہ پر اثر انداز ہوتا ہے اور سفارتی و عسکری اقدامات کو اخلاقی جواز فراہم کرتا ہے۔ یوں طاقت کا تصور صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ ذہنوں میں بھی تشکیل پاتا ہے۔
عالمی نظام میں طاقت کا سرچشمہ صرف اسلحہ نہیں بلکہ اتحاد، سرمایہ اور سفارت کاری ہے۔ امریکہ اور برطانیہ کے لیے اسرائیل مشرقِ وسطیٰ میں ایک اسٹریٹجک اثاثہ ہے۔ اس کے ذریعے خطے میں اثرورسوخ برقرار رکھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عسکری امداد، سفارتی تحفّظ اور انٹیلیجنس اشتراک کو محض ہمدردی نہیں بلکہ مفاد کی عینک سے دیکھنا چاہیے۔ اگر مفروضاتی طور پر یہ تصور کیا جائے کہ عالمی طاقتیں اپنی عسکری، مالی اور سفارتی سرپرستی محدود کر دیں تو اسرائیل کی پوزیشن یقیناً متاثر ہو سکتی ہے۔ تاہم بین الاقوامی تعلقات کے اصولوں کے مطابق ریاستیں اپنے مفادات کی بنیاد پر اتحاد قائم رکھتی ہیں، اور جب تک مفاد برقرار ہو، سرپرستی بھی جاری رہتی ہے۔ لہٰذا طاقت کے تصور کا تنقیدی جائزہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ کسی بھی ریاست کی قوت کو مطلق (absolute) نہیں بلکہ نسبتی (relative) تناظر میں دیکھا جائے۔
اس تجزیے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ اسرائیل کی موجودہ طاقت کو اس کی داخلی صلاحیتوں تک محدود کر کے نہیں سمجھا جا سکتا۔ عالمی طاقتوں کی عسکری، مالی اور سفارتی سرپرستی نے اسے خطے میں ایک فیصلہ کن کردار عطاء کیا ہے۔ تاہم تاریخ کا سبق یہ بھی ہے کہ عالمی اتحاد دائمی نہیں ہوتے؛ وہ مفادات کے تابع ہوتے ہیں۔ اگر کبھی مفادات کا توازن تبدیل ہو جائے تو طاقت کے موجودہ ڈھانچے بھی بدل سکتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی سنجیدہ مطالعے میں جذبات سے زیادہ حقائق، نعروں سے زیادہ اعداد و شمار، اور قیاس سے زیادہ تجزیہ کو بنیاد بنانا چاہیے۔ اسی لیے علمی دیانت کا تقاضا ہے کہ ہم طاقت کو اس کے پورے تناظر میں دیکھیں نہ مبالغہ کے ساتھ، نہ انکار کے ساتھ؛ بلکہ توازن، تحقیق اور حقیقت پسندی کے ساتھ۔ یہی تنقیدی شعور مستقبل کی فکری رہنمائی کا سرچشمہ بن سکتا ہے۔ یہی علمی دیانت کا تقاضا ہے اور یہی مستقبل کی درست فہم کی ضمانت۔
ہم طاقت کے تصور کو ازسرِ نو سمجھیں، طاقت صرف اسلحہ نہیں؛ علم بھی طاقت ہے، معیشت بھی طاقت ہے، اخلاقی برتری بھی طاقت ہے، اور سب سے بڑھ کر اتحاد بھی طاقت ہے۔ جب اُمّت اپنی توانائیوں کو منتشر کرنے کے بجائے یکجا کرے گی، جب وہ فرقہ وارانہ و قومی تقسیم سے اوپر اٹھ کر مشترکہ مفادات کی بنیاد پر حکمتِ عملی اختیار کرے گی، تب وہ عالمی سیاست میں ایک فعال اور باوقار کردار ادا کر سکے گی۔ عالمی طاقتوں کی سرپرستی سے تشکیل پانے والے موجودہ توازن کو سمجھنا ضروری ہے، مگر اس سے زیادہ ضروری اپنی اصلاح اور اپنی تیاری ہے۔ حالات کا شکوہ کرنے کے بجائے حالات کو بدلنے کی استعداد پیدا کرنا ہی اُمّتی فریضہ ہے۔ اگر ہم علمی دیانت، اخلاقی استقامت اور اجتماعی حکمت کو اپنا شعار بنا لیں تو مستقبل کے عالمی منظرنامے میں بھی حق و عدل کی آواز مضبوط ہو سکتی ہے۔ یہی اُمّتی بیداری کا پیغام ہے، یہی ذمّہ داری کا تقاضا، اور یہی امید کی بنیاد۔
🗓 (08.03.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Like this:
Like Loading...