Skip to content
نتیش اور بی جے پی: چوروں کا مال سب چور کھاگئے
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
بی جے پی اگر پچھلے پارلیمانی انتخاب میں چار سو پار کرنے میں کامیاب ہوجاتی تو اس کے بعد سب سے پہلے نتیش کمار کو بلی کا بکرا بنایا جاتا لیکن ایسا نہیں ہوسکا بلکہ سچائی تو یہ ہے کہ دہلی کا انتخاب جیتنے کے بعد بھی اس کا اعتماد بحال نہیں ہوا۔ دہلی کی کرسی ہتھیانے کے لیے اسے اروند کیجریوال سمیت پوری لیڈر شپ کو جیل بھیجنا پڑا۔ اس کے بعد جب احساس ہوا کہ یہ داوں الٹا پڑرہا ہے اور کیجریوال کوعوام کی ہمدردی مل رہی ہے تو انہیں ضمانت دلوا دی گئی مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ کٹرّ ایماندار والی شبیہ کو خراب کرنے کی خاطر میڈیا کی مدد سے زبردست مہم چلائی گئی اور متوسط طبقے کے کچھ لوگ یہ سوچنے پر مجبور ہوگئے کہ عام آدمی پارٹی کو وہ جو سمجھتے تھے وہ ایسی ہے نہیں۔ جہاں تک غریب طبقات کا تعلق ان کی نظر میں تمام سیاستدان بدعنوان ہیں اس لیے انہیں اس سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا ۔ وہ تو دیکھتے ہیں کہ کون ان کے بچوں کی تعلیم کا انتظام کرتا ہے یا کون دکھ بیماری میں کام آتا ہے۔ یہ کام تو عآپ کررہی تھی پھر بھی الیکشن کمیشن کی مدد سے انتخاب چرا کر نیوز چینلس کو بحث کرنےکے لیے یہ حیلہ بہانہ دیا گیا کہ مودی سرکار نے کیجریوال کا اصلی چہرا بے نقاب کرکے انتخاب جیت لیا ۔
بہار کے اندر دہلی والا گورکھ دھندا کرنا ممکن نہیں تھا کیونکہ نتیش کمار کے نام پر بی جے پی برسرِ اقتدار تھی اور مرکز میں مودی سرکار نتیش کی بیساکھی پر سوار تھی۔ عوام کے ایک بہت بڑے طبقے کی ہمدردیاں اب بھی نتیش کمار کے ساتھ تھیں ۔ اسی لیے انتخاب سے قبل نعرہ لگایا گیا ’پچیس سے تیس ، پھر سے نتیش ‘ لیکن وہ ایک دھوکہ تھا ۔ بی جے پی نے عوام کو اس نعرے کی مدد سے ٹھگا اور الیکشن کمیشن کی مدد سے نتیش کے بجائے آر جے ڈی کو اتنا کمزور کردیا کہ نتیش کمار اس کے ساتھ مل کر سرکار نہ بنا سکیں ۔ اس مقصد میں کامیابی کے بعد لگاتار نتیش کی ایسی شبیہ بنائی گئی کہ ان کی دماغی حالت درست نہیں ہے حالانکہ خود نریندر مودی کے بارے میں بھی وہی سب کہا جاسکتا ہے۔ ملک کے اندر تو خیر وہ کسی سے ملتے ہی نہیں لیکن باہر جاتے ہی بلا وجہ لوگوں سے لپٹ جانا ۔ گلے پڑ کر لوگوں کو ڈرا دینا ۔ احمقانہ قہقہے لگانا اور سوال کو سمجھے بغیر ’اباڈبا جبا‘ جیسے جوابات دینا مودی جی کی فطرت ثانیہ بن چکی ہے لیکن ان کے ذہنی عدم توازن پر کبھی گفتگو نہیں ہوتی بلکہ اس سے چشم پوشی کی جاتی ہے۔ بہر حال اسی کی آڑ میں نتیش کی چھٹی ہوگئی اور اس پر یہی کہنا پڑے گا کہ برسوں تک اپنے ساتھیوں کی پیٹھ میں چھورا گھونپنے والے دغاباز کو اب اپنے سے بڑا دھوکہ باز مل گیا جس نے اسے دھوبی پچھاڑ دیا۔
یہ وہی نتیش کمار ہے جو ایک زمانے میں وزیر اعظم بننے کا خواب دیکھ رہے تھے۔ انہیں یقین تھا کہ لال کرشن اڈوانی لاکھ ہاتھ پیر مار لیں وزیر اعظم نہیں بن سکیں گے۔ وہ توقع کررہے تھے کہ منموہن سنگھ کی شکست کے بعد بی جے پی اکثریت نہیں جٹا پائے گی تو انہیں بی جے پی کی حمایت سے وزیر اعظم بننے کا موقع مل جائے گا لیکن جب مودی کو بلا واسطہ امیدوار بنایا گیا تو وہ سمجھ گئے کہ اب ان کے اقتدار میں آنے کا سپنا چکنا چور ہوکر بکھرنے والا ہے۔اسی لیے عین انتخاب سے قبل انہوں نے پالا بدلا اور آر جے ڈی کی حمایت سے وزیر اعلیٰ بنے ۔ وہیں سے ان کے سیاسی زوال کی ابتداء ہوئی ۔ وہ قومی انتخاب میں بری طرح ناکام رہے ۔ اس کی ذمہ داری قبول کرکے مہادلت جتن رام مانجھی کو وزیر اعلیٰ بنایا اور آگے چل کر ریاستی انتخاب جیت گئے ۔ انتخاب کے بعد جتن رام مانجھی نے ان کے لیے عہدہ چھوڑنے سے انکار کردیا اور بی جے پی سے جاملے۔ اس کے باوجود نتیش کمار نے وزیر اعلیٰ کا عہدہ سنبھالا مگر بی جے پی نے انہیں بلیک میل کرکے مہا گٹھ بندھن سے توڑ لیا ۔ وہی زمانہ تھا جب تاحیات وزیر اعلیٰ بنے رہنے کے چکر میں انہیں پلٹو رام کے لقب سے نوازہ گیا۔
2019کے بعد بی جے پی کی کمزوری نے ان کے دل میں پھر ایک بار وزیر اعظم بننے کی خواہش کو اجاگر کردیا۔انہوں نے پھر سے بی جے پی کا ساتھ چھوڑ کر آر جے ڈی کے ساتھ حکومت بنائی اور حزب اختلاف کو متحد کرکےانڈیا محاذ کے قیام میں اہم کردار ادا کیا مگر راہل گاندھی نے کنیا کماری سے کشمیر تک پیدل مارچ کرکے اپنی مقبولیت میں خاصہ اضافہ کرلیا تھا۔ اس سے بی جے پی بھی ڈر گئی تھی ۔ اس نے نتیش کا سمجھایا ہوگا کہ دیکھوتم وزیر اعظم تو ویسے بھی نہیں بن سکتے اس لیے گھر واپسی کرلو ورنہ تم کو بدعنوانی کے الزام میں جیل کے اندر سڑا دیا جائے گا۔یہ حربہ کام آیا ، نتیش کمار نے انڈیا محاذکو چھوڑ کر پھر سے این ڈی اے کا رخ کیا اور پھر سے وزیر اعلیٰ بنے رہے۔ 20سالوں تک وزیر اعلیٰ بنے رہنے کے لیے 5؍ مرتبہ حلف برداری کافی ہے لیکن انہوں نے دس بار یہ رسم ادا کی اور بالآخر اس سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے ۔
بی جے پی نے 2020 کے صوبائی انتخاب میں نتیش کمار کو ہٹاکر اپنا وزیر اعلیٰ بہار پر تھوپنے کا منصوبہ بنا لیا تھا ۔ اس کے تحت گھر کے بھیدی چراغ پاسوان کو این ڈی اے اتحاد سے نکال کر ان پر چھوڑ دیا گیا۔ بی جے پی چاہتی تھی کہ چراغ پاسوان کے ذریعہ نتیش کو کمزور کردیا جائے اور پاسوان کے بیرونی حمایت سے وزارت اعلیٰ کی کرسی پر اپنی دعویداری ٹھونک دی جائے۔ اس منصوبے میں جزوی کامیابی ملی یعنی نتیش کمار کی نشستیں نصف ہوگئیں مگر پاسوان کا چراغ بھی بجھ گیا اور اس آپسی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر آر جے ڈی پہلے نمبر پر پہنچ گئی۔ اب نتیش کمار کے لیے آر جے ڈی کے ساتھ ہاتھ ملا کر وزیر اعلیٰ بننا آسان ہوگیا اس لیے مرتا کیا نہ کرتا کی مصداق نہایت کمزور جے ڈی یو رہنما کو برداشت کیا گیا۔ اس کے بعد 2025کے انتخاب میں آر جے ڈی کی زبردست لہر تھی اس لیے بی جے پی کے لیے نتیش کمار کے چہرے پر ووٹ مانگنا مجبوری بن گئی۔ اس بار پاسوان کو ساتھ رکھا گیا اور ووٹ چوری کے ذریعہ آر جے ڈی کو نہایت کمزور کردیا گیا۔ انتخابی نتائج کے بعدنتیش سے وزارتِ داخلہ چھین کر یہ اشارہ کردیا گیا کہ اب وہ چند دنوں کے مہمان ہیں اور پھر جب ایوان بالا کے ارکان کی نامزدگی شروع ہوئی تو ان کا کانٹا نکال دیا گیا ۔
نتیش کمار کے بے آبرو ہوکر پٹنہ سے نکالے جانے پر مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کے بیان سے تعزیت کی بو آتی ہے۔ امیت شاہ نے بہار کے وزیر اعلیٰ کے طور پر نتیش کمار کے ’’شاندار‘‘ دور حکومت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس عرصے میں انہوں نے بہار کی ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا۔وہ بولے ، 2005 سے اب تک بہار کے وزیر اعلیٰ کے طور پر خدمات انجام دینے والے نتیش کمار کا دور واقعی شاندار رہا ہے۔ یہ دور بہار کی تاریخ میں سنہری باب کے طور پر لکھا جائے گا اور ریاست کی مجموعی ترقی کو نئی سمت دے گا۔امیت شاہ نے مزید کہا كہ اپنے طویل سیاسی کیریئر میں رکن اسمبلی، رکن پارلیمنٹ، وزیر اعلیٰ اور مرکزی وزیر کے طور پر خدمات انجام دیتے ہوئے ان کے کرتا پر کبھی کوئی داغ نہیں لگا۔ ان کی پوری زندگی بدعنوانی کے الزامات سے پاک رہی ہے۔امت شاہ نے کہا كہ وزیر اعلیٰ کے طور پر ان کا دور ہمیشہ بہار کے عوام کے دلوں میں یاد رکھا جائے گا اور اس کا احترام کیا جائے گا۔یہ بیان دراصل نتیش کمار کی سیاسی موت کا اعلان ہے ۔ وہ جب بھی اس دنیا سے داغِ مفارقت دے کر جائیں گے تو امیت شاہ کو نیا بیان بنانے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی بلکہ اسی کو دوبارہ جاری کرنا کافی ہوجائے گا۔
نتیش کمار کی حالت فی الحال ’نہ خدا ہی ملا نہ وصالِ صنم ‘ کی سی ہے۔ وہ جاتے جاتے اپنے بیٹے نشانت کمار کو نائب وزیر اعلیٰ بناکر جانا چاہتے ہیں تاکہ اقربا پروری کا کلنک بھی اپنی پیشانی پر لگا کر جائیں مگر بی جے پی شاید ہی اس کی اجازت دے۔ دہلی جانے سے قبل اپنے بیٹے کی تاجپوشی کے لیے انہوں نے ایک دعوت طعام کا اہتمام کیا تو آر جے ڈی کارکنان نے اس میں توڑ پھوڑ مچادی۔ ان لوگوں نے للن سنگھ سمیت ایسے تمام رہنماوں کے خلاف نعرے لگائے بلکہ روک بھی دیا جنھوں نے آر جے ڈی کو اندر سے کھوکھلا کرکے بی جے پی کے ہاتھوں میں فروخت کردیا۔ اقتدار پرست بی جے پی کے لیے ابن الوقتی اور موقع پرستی کوئی عیب نہیں بلکہ خوبی ہے ۔ اس نے اسی راستے سے اپنے ساتھیوں کو دھوکہ دے د ے کر اقتدار پر قبضہ کیا ہے اس لیے نتیش کمار کی سیاست میں اس کے لیے بہترین نمونہ ہے ۔ اس معاملے میں انہوں نے جو ناموری حاصل کی ہے اس کا مقابلہ شاید ہی کوئی دوسرا سیاستدان کر سکے۔ اس لیے نتیش کو اپنی ابن الوقتی اور موقع پرستی کے سبب ہمیشہ یاد کیا جائے گا۔ اب نتیش کا ’گیم فنش ‘ یا ٹائیں ٹائیں فش ہوچکا ہے۔
Like this:
Like Loading...