Skip to content
رمضان میں مسلم قیدیوں کی رہائی کے لیے ، گلوبل کیئر فاؤنڈیشن کی انسانیت نواز مہم
معمولی ضمانتی رقم اور جیل کی سلاخیں،گلوبل کیئر فاؤنڈیشن نے چھ برس میں 1600 افراد کو رہائی دلائی، نوجوانوں کو مسجد اور بزرگوں سے جوڑنا وقت کی ضرورت
ممبئی،9 مارچ
معاشرے میں بہت سے ایسے لوگ ہوتے ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت میں لگے رہتے ہیں۔ وہ نہ کسی شہرت کے طلبگار ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی صلے کے۔ ان کا اصل مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ کسی مجبور انسان کے چہرے پر مسکراہٹ لوٹ آئے۔ ایسے ہی ایک سماجی کارکن ہیں عابد احمدکندلم ،جوگلوبل کیئر فاؤنڈیشن کے بانی اور منیجنگ ٹرسٹی ہیں۔ ان کی تنظیم گزشتہ کئی برسوں سے ان قیدیوں کی رہائی کے لیے کام کر رہی ہے جو ضمانت ملنے کے باوجود صرف اس لیے جیل میں بند رہتے ہیں کہ ان کے پاس معمولی سی ضمانت کی رقم ادا کرنے کی استطاعت نہیں ہوتی۔
رمضان المبارک کے موقع پر یہ خدمت اور زیادہ تیز ہو جاتی ہے، کیونکہ تنظیم کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ قیدی اپنے گھروں کو لوٹ سکیں اور اپنے اہل خانہ کے ساتھ رمضان اور عید کی خوشیاں منا سکیں۔
عابد احمدکہتے ہیں کہ ہماری تنظیم بنیادی طور پر ایسے قیدیوں کی مدد کرتی ہے جو معمولی نوعیت کے مقدمات میں گرفتار ہوتے ہیں۔ عدالت انہیں ضمانت تو دے دیتی ہے، لیکن ان کے پاس ضمانت کی رقم جمع کرنے کے لیے پیسے نہیں ہوتے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جیل میں ہی پڑے رہتے ہیں، حالانکہ قانون کے مطابق انہیں باہر ہونا چاہیے۔
اکثر اوقات یہ رقم بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ کئی معاملات میں دس یا پندرہ ہزار روپے ہی درکار ہوتے ہیں، مگر غربت اور بے بسی کی وجہ سے یہ رقم بھی جمع نہیں ہو پاتی۔ ہم ایسے ہی لوگوں کی تلاش کرتے ہیں، ان کے مقدمات کا جائزہ لیتے ہیں اور پھر ان کی ضمانت کی رقم ادا کر کے انہیں رہائی دلانے کی کوشش کرتے ہیں۔
عابد احمدنے ایک سوال پر کہاکہ ہم گزشتہ تقریباً چھ برسوں سے یہ کام کر رہے ہیں۔ اس عرصے میں الحمدللہ ہم تقریباً سولہ سو قیدیوں کو جیل سے رہائی دلانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی ہم تقریباً ڈیڑھ سو افراد کے مقدمات پر کام کر رہے ہیں۔ ہماری کوشش ہوتی ہے کہ ہر کیس کو اچھی طرح سمجھا جائے تاکہ واقعی مستحق لوگوں تک مدد پہنچ سکے۔
رمضان المبارک کے مہینے میں کام کی نوعیت اور سرگرمیوں میں فرق پڑنے کے معاملہ میں انہوں نے کہاکہ رمضان کا مہینہ برکتوں کا مہینہ ہے۔رمضان میں کام رک نہیں جاتا بلکہ اور زیادہ بڑھ جاتا ہے۔ البتہ کچھ عملی مشکلات ضرور ہوتی ہیں۔ چونکہ لوگوں کے معمولات بدل جاتے ہیں، اس لیے ملاقاتوں اور رابطوں کے اوقات بھی تبدیل ہو جاتے ہیں۔ کبھی کسی کے گھر جانا ہوتا ہے، کبھی کسی صاحب سے مالی تعاون کے لیے ملنا ہوتا ہے، تو ان سب چیزوں میں وقت کا فرق پڑ جاتا ہے۔
لیکن سچ یہ ہے کہ رمضان میں ہمیں بوجھ محسوس نہیں ہوتا۔ اس مہینے میں اللہ کی خاص برکتیں شامل ہو جاتی ہیں۔ لوگ بھی زیادہ دل کھول کر مدد کرتے ہیں اور کام نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔
نجی طور پر رمضان کی سب سے بڑی یاد جو دل میں رہ گئی ہے وہ میری والدہ سے جڑی ہوئی ہے۔ اب وہ اس دنیا میں نہیں ہیں، لیکن ان کا بنایا ہوا کھانا اور ان کے ساتھ افطار کا وقت بہت یاد آتا ہے۔
پہلے گھر میں سب لوگ اکٹھے بیٹھ کر افطار کرتے تھے۔ ایک خاص ماحول ہوتا تھا۔ آج مصروفیات اتنی بڑھ گئی ہیں کہ وہ لمحے کم ہی مل پاتے ہیں۔ کوشش کے باوجود ایسا نہیں ہو پاتا کہ روزانہ پورا خاندان ایک ساتھ بیٹھے۔ یہی چیز سب سے زیادہ یاد آتی ہے۔
عابد احمدکہتے ہیں کہ اس مہینے میں ہماری کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ایسے قیدیوں کو رہا کیا جائے جو مسلمان ہیں اور جو اپنے خاندان سے دور جیل میں ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ رمضان کے روزے اپنے گھروں میں رکھیں اور عید اپنے بچوں اور والدین کے ساتھ منا سکیں۔
پچھلے سال رمضان میں ہم نے تقریباً 79 قیدیوں کو رہا کروایا تھا۔ جب کوئی شخص جیل سے نکل کر اپنے گھر پہنچتا ہے اور اس کی ماں، بیوی یا بچے اسے گلے لگاتے ہیں تو وہ منظر بہت جذباتی ہوتا ہے۔ ایسے لمحے ہمیں یہ احساس دلاتے ہیں کہ ہماری محنت واقعی کسی کے لیے خوشی کا سبب بن رہی ہے۔
امسال بھی ہماری کوشش ہے کہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو رہائی دلائی جائے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ ان شاء اللہ اس مرتبہ بھی اچھا خاصا نمبر ہوگا۔
عابد احمدکے مطابق جب کوئی قیدی رہا ہوتا ہے تو اس وقت کا منظر دل کو چھو لیتاہے،وہ لمحہ بہت خاص ہوتا ہے۔ کئی قیدی ایسے ہوتے ہیں جو مہینوں بلکہ بعض اوقات سالوں سے اپنے گھر والوں سے دور ہوتے ہیں۔ جب انہیں بتایا جاتا ہے کہ اب وہ آزاد ہیں اور اپنے گھر جا سکتے ہیں تو ان کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو چھلک جاتے ہیں۔
ہم نے کئی مرتبہ دیکھا ہے کہ کسی ماں کو اپنے بیٹے کی رہائی کی خبر ملتی ہے تو وہ سجدۂ شکر میں گر جاتی ہے۔ کسی بچے کو اپنے باپ کے آنے کی خبر ملتی ہے تو وہ خوشی سے رو پڑتا ہے۔ ایسے مناظر انسان کو اندر سے ہلا دیتے ہیں۔
گزشتہ دو دہائیوں میں مسلمانوں کے معاشرے میں پیش آنے والی تبدیلی پر عابد احمدکہتے ہیں "میرے خیال میں سب سے بڑی تبدیلی کمیونیکیشن گیپ کی صورت میں آئی ہے۔ پہلے خاندانوں میں آپس میں گفتگو زیادہ ہوتی تھی۔ بڑے اور چھوٹے ایک ساتھ بیٹھتے تھے، باتیں کرتے تھے، مسائل حل ہوتے تھے۔ سوشل میڈیا اور موبائل کی وجہ سے لوگ ایک دوسرے کے قریب ہوتے ہوئے بھی دور ہو گئے ہیں۔ بازار میں بیٹھے ہوں تو بھی ہر شخص اپنے فون میں مصروف ہوتا ہے۔ یہ فاصلہ مسلمانوں میں ہی نہیں بلکہ سبھی معاشرے کے لیے ایک بڑا مسئلہ بن رہا ہے۔
تعلیمی میدان میں عابد احمدکاخیال ہے کہ تعلیم کے معاملے میں ایک مثبت بات یہ ہے کہ شعور بڑھا ہے۔ لوگ تعلیم کی اہمیت کو سمجھنے لگے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ایک تشویش بھی ہے کہ ہم اپنی ثقافت اور دینی ماحول کو برقرار رکھنے میں کمزور پڑ رہے ہیں،لیکن افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ
پہلے ایسا ہوتا تھا کہ بچے جدید تعلیم بھی حاصل کرتے تھے اور ساتھ ساتھ اپنے اسلامی کلچر سے بھی جڑے رہتے تھے۔ اب جدید تعلیم کے ساتھ ساتھ ثقافتی اور دینی ماحول کمزور ہوتا جا رہا ہے۔
عابد احمد کا مشورہ ہے کہ اس صورتحال میں مستقبل کے لیے ایک لائحۂ عمل ہونا چاہیے،” میرا خیال ہے کہ ہمیں نوجوان نسل کو مسجدوں اور محلوں کے بزرگوں سے جوڑنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اگر بچے مسجد کے ماحول سے جڑیں گے تو انہیں اپنے کلچر اور دین دونوں کی سمجھ آئے گی۔
کئی جگہوں پر نوجوانوں کے لیے مسجدوں میں مختلف سرگرمیاں شروع کی گئی ہیں، جیسے تربیتی پروگرام یا سماجی خدمات۔ ایسے تجربات اگر صحیح طریقے سے کیے جائیں تو نوجوانوں کو مثبت راستہ مل سکتا ہے۔اس تعلق سے مثالی مسجد کے تعلق سے ان کی ایک کتاب بھی شائع ہوئی ہے اور کئی ادارے اس پر کام کررہے ہیں۔اردو میڈیم اسکولوں کو بھی کئی مسائل کا سامنا ہے۔ سب سے بڑا مسئلہ اساتذہ کی کمی ہے۔ کئی اسکولوں میں اسامیوں کے باوجود اساتذہ مقرر نہیں ہو پاتے، جس کی وجہ سے بچوں کو مکمل تعلیم نہیں ملتی۔
اگر ہم اپنی زبان اور تعلیمی اداروں کو مضبوط نہیں کریں گے تو آنے والی نسلیں اپنی شناخت سے دور ہو سکتی ہیں۔
عابد کا کہناہے کہ ان کی تنظیم کے کام میں سب سے بڑی رکاوٹمالی تعاون کی کمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ زیادہ تر کیسوں میں ضمانت کی رقم بہت زیادہ نہیں ہوتی۔ اکثر اوقات دس یا پندرہ ہزار روپے میں کسی کی بھی آزادی ممکن ہوتی ہے۔
لیکن بدقسمتی سے ملت کی طرف سے اس معاملے میں زیادہ توجہ نہیں دی جاتی۔ اگر لوگ تھوڑا سا بھی تعاون کریں تو سینکڑوں لوگوں کی زندگیاں بدل سکتی ہیں۔دراصل نئی نسل کو سماجی خدمت میں آگے آنا چاہیے۔ معاشرے کے مسائل کو سمجھنا اور ان کے حل کے لیے کام کرنا بہت ضروری ہے۔
اگر نوجوان اس میدان میں قدم رکھیں گے تو نہ صرف معاشرہ بہتر ہوگا بلکہ انہیں خود بھی زندگی کا ایک مثبت مقصد ملے گا۔ ان کی تنظیم کی جدوجہد اس حقیقت کی یاد دلاتی ہے کہ معاشرے میں ابھی بھی ایسے لوگ موجود ہیں جو خاموشی سے انسانیت کی خدمت کر رہے ہیں۔ ایک معمولی سی ضمانت کی رقم کسی قیدی کے لیے آزادی کا دروازہ بن سکتی ہے، اور رمضان جیسے بابرکت مہینے میں یہ آزادی اس کے لیے نئی زندگی کا آغاز بن جاتی ہے۔
جب کوئی قیدی جیل سے نکل کر اپنے گھر والوں کے درمیان پہنچتا ہے، تو اس کی آنکھوں میں جو خوشی اور شکرگزاری ہوتی ہے، وہ دراصل اسی خدمت کا سب سے بڑا انعام ہے۔ رمضان کی روح بھی یہی ہے کہ انسان دوسرے انسان کے دکھ کو محسوس کرے اور اس کے چہرے پر مسکراہٹ لانے کی کوشش کرے۔
Like this:
Like Loading...