Skip to content
اعتکاف کا مقصد اور عصرِ حاضر کا المیہ!
ازقلم: (حافظ) افتخاراحمدقادری
انسانی زندگی کی تمام تر مصروفیات کے باوجود روح کی ایک بنیادی ضرورت یہ ہے کہ وہ اپنے خالق و مالک سے گہرا تعلق قائم کرے۔ دنیاوی معاملات کی کثرت، مادی خواہشات کی فراوانی اور معاشرتی ہنگاموں کے بیچ انسان کا قلب بسا اوقات غفلت کے غبار سے ڈھک جاتا ہے۔ ایسے میں شریعتِ اسلامیہ نے بعض ایسے روحانی اعمال مقرر کیے ہیں جو انسان کے باطن کو جِلا بخشتے ہیں، اس کے دل کو نورِ ایمان سے منور کرتے ہیں اور اسے اپنے رب کے حضور عاجزی و انکساری کے ساتھ جھکنے کا سلیقہ سکھاتے ہیں۔ انہی روحانی عبادات میں ایک عظیم اور بابرکت عبادت اعتکاف ہے جو بندے کو دنیاوی مصروفیات سے جدا کر کے الله تعالیٰ کی یاد اور عبادت میں مشغول ہونے کا ایک بامعنی موقع فراہم کرتی ہے۔ اسلام ایک ایسا جامع اور ہمہ گیر نظامِ حیات ہے جس میں عبادت کے ساتھ ساتھ روحانی تربیت اور اخلاقی اصلاح کا بھی پورا اہتمام کیا گیا ہے۔ روزہ، نماز، زکوٰۃ اور حج کی طرح اعتکاف بھی بندے کو اپنے رب کے قریب کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اس عبادت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس میں انسان دنیا کی رنگینیوں سے کنارہ کش ہوکر مسجد کے ماحول میں اپنے دل و دماغ کو عبادت، ذکر و فکر اور تلاوتِ قرآن سے معطر کرتا ہے۔ گویا اعتکاف انسان کے لیے ایک روحانی خلوت ہے جس میں وہ اپنے رب کے حضور حاضر ہوکر اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا ہے اور آئندہ زندگی کو تقویٰ اور پرہیز گاری کے سانچے میں ڈھالنے کا عزم کرتا ہے۔ اعتکاف کے لغوی معنیٰ کسی چیز کو لازم پکڑنے اور اس پر ٹھہر جانے کے ہیں۔ عربی زبان میں عکف کا مادہ کسی شے کے ساتھ لگے رہنے یا اس پر جم جانے کے مفہوم کو ظاہر کرتا ہے۔ شریعتِ اسلامیہ کی اصطلاح میں اعتکاف سے مراد یہ ہے کہ انسان الله تعالیٰ کی رضا اور قرب کے حصول کے لیے مسجد میں قیام کرے اور خود کو عبادت و طاعت میں مشغول رکھے۔ قرآن مجید میں اعتکاف کا ذکر بڑی وضاحت کے ساتھ موجود ہے۔ الله تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: ”اور جب تم مسجدوں میں اعتکاف کی حالت میں ہو تو اپنی بیویوں سے مباشرت نہ کرو“۔ (البقرہ:187)
اعتکاف کا تعلق مسجد کے ساتھ ہے اور یہ عبادت قدیم زمانے سے اہلِ ایمان میں معروف رہی ہے۔ اعتکاف کی سب سے نمایاں سنت ہمیں حضور اکرم ﷺ کی مبارک زندگی میں نظر آتی ہے۔ رسول الله ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں باقاعدگی کے ساتھ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ حضرت سیدتنا عائشہ صدیقہ رضی الله عنہا بیان فرماتی ہیں: نبی کریم ﷺ رمضان المبارک کے آخری دس دنوں میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے یہاں تک کہ آپ ﷺ کا وصال ہو گیا، پھر آپ کے بعد آپ کی ازواجِ مطہرات نے بھی اعتکاف کیا۔ (صحیح البخاری، کتاب الاعتکاف:2026) (صحیح مسلم، حدیث: 1172) اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف رسول الله ﷺ کی دائمی سنت ہے اور آپ ﷺ نے اسے خاص طور پر رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اختیار فرمایا۔ اعتکاف کے اوقات کے بارے میں اسلامی تعلیمات سے معلوم ہوتا ہے کہ رمضان المبارک کے آخری دس دن اس عبادت کے لیے سب سے افضل ہیں۔ درحقیقت اس کی ایک بڑی حکمت شبِ قدر کی تلاش بھی ہے۔ شبِ قدر وہ بابرکت رات ہے جس کے بارے میں قرآن مجید میں فرمایا گیا: ”شبِ قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے“۔ (القدر: 3) چونکہ شبِ قدر کی تعیین مخفی رکھی گئی ہے، اس لیے رسول الله ﷺ نے امت کو یہ تعلیم دی کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں عبادت کا اہتمام کریں اور اعتکاف کے ذریعے اس مبارک رات کو تلاش کریں۔
حضرت عبد الله بن عمر رضی الله عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: شبِ قدر کو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔ (صحیح البخاری: 2017) اعتکاف کے طریقے کے بارے میں فقہاء اسلام نے قرآن و سنت کی روشنی میں تفصیلی احکام بیان کیے ہیں۔ اعتکاف کرنے والا شخص نیت کے ساتھ مسجد میں قیام کرتا ہے اور اپنی تمام تر توجہ عبادتِ الٰہی کی طرف مبذول رکھتا ہے۔ فقہ حنفی کے مطابق رمضان المبارک کے آخری عشرے کا اعتکاف سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے، یعنی اگر کسی ایک شخص نے بھی محلے کی مسجد میں اعتکاف کر لیا تو باقی لوگوں سے یہ ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے لیکن اگر کوئی بھی اعتکاف نہ کرے تو پورا محلہ گناہگار ہوگا۔ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: اعتکاف رمضان کے آخری عشرے کو سنتِ مؤکدہ علی الکفایہ قرار دیا گیا ہے۔ (رد المحتار علی الدر المختار، جلد 2، ص 440) اعتکاف کا آغاز بیسویں رمضان المبارک کے غروبِ آفتاب سے ہوتا ہے اور عید کا چاند نظر آنے تک جاری رہتا ہے۔ معتکف کو چاہیے کہ وہ مسجد ہی میں قیام کرے اور بلا ضرورت باہر نہ نکلے۔ البتہ شرعی ضرورتوں جیسے قضائے حاجت یا وضو کے لیے مسجد سے باہر جانا جائز ہے۔ اعتکاف کا اصل مقصد دنیاوی مشاغل سے کنارہ کش ہو کر الله تعالیٰ کی یاد میں مصروف ہونا ہے۔ اس دوران معتکف تلاوتِ قرآن، ذکر و اذکار، نوافل، دعا اور استغفار میں اپنا وقت صرف کرتا ہے۔ یہ دراصل ایک روحانی تربیتی عمل ہے جس کے ذریعے انسان اپنے نفس کو قابو میں لانا سیکھتا ہے اور اپنے دل کو گناہوں کی آلودگی سے پاک کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ حضرت امام غزالی رحمہ الله اعتکاف کی حکمت بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ اعتکاف دراصل دل کو دنیا کے ہنگاموں سے آزاد کر کے الله تعالیٰ کی طرف متوجہ کرنے کا ایک ذریعہ ہے کیونکہ جب انسان مسجد کے ماحول میں رہتا ہے تو اس کے دل میں خشوع و خضوع کی کیفیت پیدا ہوتی ہے اور اس کا قلب عبادت کے نور سے منور ہو جاتا ہے۔ (احیاء علوم الدین:244)
اعتکاف کے بے شمار روحانی فوائد ہیں۔ یہ انسان کے اندر صبر، ضبط نفس اور تقویٰ کی صفات پیدا کرتا ہے۔ جب کوئی شخص کئی دن تک مسجد میں رہ کر عبادت میں مشغول رہتا ہے تو اس کے دل میں دنیا کی بے ثباتی کا احساس بیدار ہوتا ہے اور آخرت کی فکر غالب آ جاتی ہے۔ یہی وہ کیفیت ہے جو انسان کو حقیقی معنوں میں الله تعالیٰ کا مطیع بندہ بناتی ہے۔ علاوہ ازیں اعتکاف انسان کو اجتماعی عبادت کے ماحول سے بھی روشناس کراتا ہے۔ مسجد میں رہتے ہوئے معتکف دیگر نمازیوں کے ساتھ مل کر عبادت کرتا ہے، دینی گفتگو سنتا ہے اور علمِ دین سے فیض یاب ہوتا ہے۔ اس طرح اس کی روحانی و علمی تربیت بھی ہوتی ہے۔ اسلامی تاریخ میں ہمیں یہ حقیقت بھی ملتی ہے کہ بزرگانِ دین اور صلحاء امت اعتکاف کو بڑی اہمیت دیتے تھے۔ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کو عبادت، تلاوت اور دعا میں گزارتے تھے اور اپنے شاگردوں کو بھی اس کی ترغیب دیتے تھے۔ ان کے نزدیک اعتکاف صرف ایک عبادت نہیں بلکہ روحانی اصلاح اور تزکیہ نفس کا ایک مؤثر ذریعہ تھا۔ یہ بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ اعتکاف کا مقصد صرف مسجد میں قیام کرنا نہیں بلکہ اپنے باطن کو پاکیزہ بنانا اور الله تعالیٰ کے ساتھ اپنے تعلق کو مضبوط کرنا ہے۔ اگر اعتکاف کے دوران انسان اپنے دل کو اخلاص، تقویٰ اور محبتِ الٰہی سے منور کر لے تو یہی اس عبادت کی حقیقی کامیابی ہے۔ یوں اعتکاف دراصل بندے کی زندگی میں ایک روحانی انقلاب کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ یہ عبادت انسان کو یاد دلاتی ہے کہ دنیا کی مصروفیات عارضی ہیں جبکہ الله تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی کامیابی ہی اصل مقصد ہے۔ جب کوئی بندہ مسجد کی خلوت میں اپنے رب کے حضور جھکتا ہے، تلاوتِ قرآن سے اپنے دل کو روشن کرتا ہے اور دعا کے ذریعے اپنے گناہوں کی معافی طلب کرتا ہے تو وہ حقیقت میں ایک نئی روحانی زندگی کی طرف قدم بڑھاتا ہے۔ الله تعالیٰ ہمیں اعتکاف کی روح اور اس کے حقیقی مقاصد کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم رمضان المبارک کی برکتوں سے بھرپور استفادہ کر سکیں اور اپنی زندگیوں کو تقویٰ، اخلاص اور اطاعتِ الٰہی کے نور سے منور بنا سکیں۔
عصرِ حاضر کے حالات پر اگر سنجیدگی سے نظر ڈالی جائے تو ایک تلخ حقیقت یہ بھی سامنے آتی ہے کہ جس عبادت کا مقصد انسان کے باطن کی تطہیر، روح کی بالیدگی اور الله تعالیٰ کے ساتھ تعلق کی مضبوطی تھا، وہ آہستہ آہستہ بہت سے لوگوں کے نزدیک محض ایک رسمی اور روایتی عمل بن کر رہ گئی ہے۔ اعتکاف کی اصل روح اخلاص، خشوع اور انقطاع الی الله میں پوشیدہ ہے مگر افسوس کہ آج بعض مقامات پر اس عبادت کی معنویت دھندلا سی گئی ہے اور اس کی جگہ ظاہری اہتمام اور سماجی نمود و نمائش نے لے لی ہے۔ یہ بات کسی سے مخفی نہیں کہ بہت سے لوگ اعتکاف کو ایک روحانی خلوت کے بجائے ایک معمولی رسم کے طور پر اختیار کرنے لگے ہیں۔ بعض معتکفین کا بیشتر وقت ذکر و فکر، تلاوتِ قرآن اور دعا کے بجائے غیر ضروری گفتگو، دنیاوی موضوعات یا فضول مشاغل میں گزر جاتا ہے۔ کہیں موبائل فون اور دیگر ذرائع انسان کو مسجد کی خلوت میں بھی دنیا کی ہنگامہ خیزی سے وابستہ رکھ دیتے ہیں اور کہیں اعتکاف کی جگہ محض ایک عارضی قیام گاہ کا منظر پیش کرتی ہے جہاں عبادت کی سنجیدگی کے بجائے غیر ضروری مصروفیات غالب آجاتی ہیں۔ حالانکہ اعتکاف کا اصل مقصد یہ تھا کہ انسان چند دن کے لیے دنیا کے شور و غوغا سے الگ ہو کر اپنے رب کے حضور جھک جائے، اپنے گناہوں پر نادم ہو اور اپنے دل کو نورِ تقویٰ سے منور کرے۔ اس صورتِ حال کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے عبادات کی روح کو سمجھنے کے بجائے ان کے ظاہری پہلو پر زیادہ توجہ دینا شروع کر دی ہے۔ جب عبادت کا اصل مقصد نگاہوں سے اوجھل ہو جاتا ہے تو وہ محض ایک رسم کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ یہی کیفیت اعتکاف کے ساتھ بھی پیش آ رہی ہے۔ بعض لوگ اسے صرف اس لیے اختیار کرتے ہیں کہ معاشرے میں ایک روایت کے طور پر اسے ادا کیا جاتا ہے، یا اس سے ایک خاص مذہبی شناخت وابستہ ہو گئی ہے حالانکہ اعتکاف کی اصل حقیقت اس سے کہیں زیادہ بلند اور بامعنی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہماری مصروف اور مادی زندگی نے ہمارے دلوں کو اس قدر دنیا کے معاملات میں الجھا دیا ہے کہ ہم عبادات کو بھی اسی سطحی انداز میں ادا کرنے لگے ہیں۔ اعتکاف جیسی عبادت جو دراصل دنیا سے عارضی بے تعلقی اور الله تعالیٰ سے تعلق کی تجدید کا ذریعہ ہے اس کی روح تبھی زندہ رہ سکتی ہے جب انسان سچے دل سے اس کے مقصد کو سمجھے اور اپنے باطن کو سنوارنے کی نیت کے ساتھ اس میں شریک ہو۔ اگر اعتکاف کے دوران بھی دل دنیا کی خواہشات اور مشاغل میں الجھا رہے تو یہ عبادت اپنی حقیقی تاثیر سے محروم ہو جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اعتکاف کو صرف ایک روایتی عمل نہ سمجھیں بلکہ اسے ایک روحانی تربیت گاہ کے طور پر اختیار کریں۔ مسجد کی چار دیواری میں گزارے جانے والے یہ چند دن دراصل انسان کی پوری زندگی کے لیے ایک نئی سمت متعین کر سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ انہیں اخلاص، خشوع اور سچی نیت کے ساتھ گزارے۔ معتکف کو چاہیے کہ وہ اپنے وقت کو قیمتی سمجھے اور اسے تلاوتِ قرآن، ذکرِ الٰہی، دعا اور استغفار میں صرف کرے۔ وہ اپنے ماضی کے گناہوں پر ندامت کا اظہار کرے اور آئندہ زندگی کو تقویٰ، دیانت اور اطاعتِ الٰہی کے راستے پر گزارنے کا عزم کرے۔ یاد رکھیں کہ اعتکاف کی خلوت دراصل ہمیں زندگی کے اصل مقصد کی یاد دہانی کراتی ہے۔ یہ ہمیں بتاتی ہے کہ دنیا کی تمام تر مصروفیات عارضی ہیں اور انسان کی اصل کامیابی الله تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ہے۔ جب انسان مسجد کے پر سکون ماحول میں اپنے رب کے حضور گڑگڑاتا ہے، اپنی کمزوریوں کا اعتراف کرتا ہے اور مغفرت کی دعا کرتا ہے تو اس کے دل میں ایک نئی روحانی بیداری پیدا ہوتی ہے۔ یہی بیداری اعتکاف کا حقیقی ثمر ہے۔ لہٰذا! آج کے اس دور میں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اعتکاف کی اصل روح کو زندہ کریں۔ ہمیں چاہیے کہ اس عبادت کو محض ایک رسم یا سماجی روایت کے طور پر ادا کرنے کے بجائے اس کے حقیقی مقاصد کو سمجھیں اور اپنے دلوں کو الله تعالیٰ کی محبت اور خوف سے معمور کریں۔ اگر ہم اعتکاف کے ان مبارک لمحات کو اخلاص اور خشوع کے ساتھ گزاریں تو یہ عبادت ہماری زندگیوں میں ایک حقیقی روحانی انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ دعا ہے کہ الله تعالیٰ ہمیں عبادات کی اصل روح کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ان اعمال کو اخلاص، محبت اور تقویٰ کے ساتھ ادا کرنے کی سعادت نصیب فرمائے۔ اگر ہم اعتکاف کو اس کے حقیقی مقصد کے ساتھ اختیار کریں تو یقیناً یہ عبادت ہمارے دلوں کو نورِ ایمان سے منور کر دے گی اور ہمیں اس راستے پر گامزن کر دے گی جو الله تعالیٰ کی رضا اور آخرت کی دائمی کامیابی تک پہنچاتا ہے۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت یوپی
iftikharahmadquadri@gmail.com
Like this:
Like Loading...