Skip to content
رمضان کا مبارک مہینہ اور نفلی عبادات کا خاص اہتمام:
ازقلم:محمد مجیب احمد فیضی بلرام پوری
محبوبیہ رمواپور کلاں اترولہ
دنیا جانتی ہے کہ رمضان المبارک اپنی تمام ترنعمتوں اور برکتوں کے ساتھ ہم
پر سایہ فگن ہے۔جس میں بے شمار نعم وبرکات کا ہرشب نزول ہوتا ہے۔
ماہ رمضان المبارک سال کے بارہ مہینوں میں سے ایک ایسا بابرکت مہینہ ہے کہ جس کی ہرہر گھڑی، ہرہر لمحہ رحمت و برکت سے پر ہوتا ہے،منبع حسنات و برکات ہونے کے ساتھ رحمت ومغفرت کا مرکز ہے۔قرآن واحادیث میں اس کے بہت سے فضائل مرقوم ہیں۔اس ماہ میں اللہ رب العزت کی رحمت کاملہ خصوصی طور اپنے بندوں کی طرف متوجہ ہوتی ہے،اور رب تبارک وتعالی اپنے بندوں کی ہرجائز دعا قبول فرماتاہے،نیز ان کی ہر نیک اور جائز خواہشات کی تکمیل بھی فرماتا ہے۔
اس مبارک مہینہ میں بندگان خدا اپنے معبود برحق کی بارگاہ میں اپنے صغائر وکبائر سےتوبہ واستغفار کرتے ہیں،کثرت سے تلاوت قرآن کریم نیز انتہائی عاجزانہ انداز میں اپنی جبین نیاز اس کی بارگاہ میں خم کر کے درازئی عمر، وسعت رزق،عزت وآبرو کی تحفظ وبقاء اور اپنے کئے ہوئے گناہوں پراظہارندامت کرتے ہیں،
رب تعالی اپنے بندوں پر خاص فضل وکرم فرماتا ہے اور سب کی خطاؤں کو معاف و درگزر کرکےاپنابنالیتا ہے،اسی لئے اس کو رحمت وغفران کا مہینہ بھی کہاجاتا ہے۔
ماہ رمضان المبارک کی عظمت ورفعت اور اس کی برکت سے بھلا کس کوانکار ہوسکتا ہے جس کا کوئی بھی لمحہ رحمت الہی سےخالی نہیں ہوتا، اللہ
رب العزت کا لاکھوں کروڑوں احسان ہے اس نے فرزندان توحیدکو رمضان المبارک کے فرض روزے رکھنے کا موقع عنایت فرمایا۔اس نعمت کے ملنے پر اس کا جتنا بھی شکریہ اداکیا جائے ہمیشہ کم ہی معلوم ہوتاہے۔رمضان
اللہ رب العزت جل جلالہ کی طرف سے ایک
ایسا انمول تحفہ ہے جو اپنےاندر بے شمار رحمتوں و برکتوں کو سمیٹے ہوئے ہر انسان کو اپنے رب کی طرف آنے کی دعوت دیتا ہے تاکہ بندے کا کٹا ہوا رشتہ اپنے معبود برحق پھر سے جڑ سکے ،نیز یہ سراپا ماہ خیرو برکت اپنے خالق ومالک کو منانے کے لئے بڑا اچھامہینہ ہے،کیوں کہ اس موسم میں اس کی رحمت عام وتام ہوتی ہے،
اس لئے اس کاکوئی بھی لمحہ ضائع ہونے سے خود کو بچائیں،فرائض و واجبات سنن اور مستحبات کے ساتھ راتوں میں بھی نماز تہجد کا خصوصی اہتمام کریں!
احادیث کریمہ کی ضوبارکرن میں اس ماہ کی رفعت وعظمت اور تقدس اظہر من الشمس ہے، رمضان المبارک کا مہینہ تین عشروں پر مشتمل ہوتا ہے، ایک سے دس رمضان المبارک تک پہلا عشرہ کہلاتا ہے۔اور دس سے بیس تک دوسرا عشرہ،
جب کہ بیس سے اخیر تک کو عشرہء اخیر کہاجاتا ہے۔
مذکورہ بالا تینوں عشرے احادیث کریمہ کی روشنی میں الگ الگ اہمیت اور جداگانہ افادیت کے حامل ہوتے ہیں،
چنانچہ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا عشرہ مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے نجات یعنی آزادی کا ہے۔
اسی طرح حضور رحمت عالم فخر بنی آدم علیہ التحیۃ والثناء ایک مقام پر رمضان المبارک کے خصائص کاتذکرہ فرماتے ہوئے کچھ اس طرح گویا ہیں:جیساکہ صحابئ رسول حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کونین کے رہبر داعیئ دین برحق کا فرمان عالی شان ہے:”کہ میری امت کو ماہ رمضان میں پانچ ایسی چیزیں عطا کی گئیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی علیہ السلام کو نہ ملیں” ۔
پہلی یہ کہ جب رمضان المبارک کی پہلی رات ہوتی ہے تو اللہ تعالی ان کی طرف رحمت کی نظر فرماتا ہے اور جس کی طرف رب رحمت کی نظر فرمائے اس کو کبھی عذاب نہ دے گا۔
دوسری یہ کہ شام کے وقت روزہ داروں کے منہ کی بو (جو بھوک کی وجہ سے ہوتی ہے)اللہ تبارک و تعالی کے نزدیک مشک کی خوشبو سے بھی بہتر ہے۔
تیسرے یہ کہ فرشتے ہررات اور دن ان کے لئے مغفرت کی دعائیں کرتے رہتے ہیں۔
چوتھے یہ کہ اللہ تعالی جنت کو حکم دیتے ہوئے ارشاد فرماتا ہے:”مرے نیک) بندوں کے لئے مزین ہوجا عنقریب وہ دنیا کی مشقت سے سے میرے گھر اور کرم میں راحت پائیں گے "۔
پانچواں یہ کہ جب رمضان المبارک کی آخری رات آتی ہے تو اللہ رب العزت سب کی مغفرت فرمادیتا ہے۔ماہ مبارک کی ان تمام فضیلتوں اور عطاؤں کو دیکھتے ہوئے مسلمانوں کو اس ماہ میں عبادت کا خاص اہتمام کرنا چاہئیے اور کوئی لمحہ ضاٰئع اور بے کار نہیں جانے دینا چاہیئے۔
رمضان المبارک میں ہر عمل خیر
کا ثواب ستر گنا یااس سےکہیں زیادہ بڑھادیا جاتا ہے،
اس ماہ کی عظمت ورفعت کی ہم
کیا بات کریں جس میں نفل جو کہ امر
زائد ہے، اس کا ثواب بھی فرض کے مساوی
اور فرض جو کہ اصل ہے اس کا ثواب
ستر فرائض کے برابر، بلکہ ایک روایت
کے مطابق اس سے بھی کہیں زیادہ یعنی
سات سوگنا کردیاجاتا ہے۔
اس ماہ خیر میں بندہ نماز، روزہ، تلاوت، صدقات وعطیات اور دیگر اعمال صالحہ کے ذریعہ اپنے خالق ومالک کی رضا وخوشنودی کو حاصل کرکے دارین کی فلاح وبہبودی سے ہم کنار ہوتا ہے۔
اس ماہ خیر میں جہاں تک بات عبادت وریاضت صدقات وخیرات کی ہے
تو عبادت وریاضت تلاوت قرآن کریم، ذکر واذکار ہروقت کرنی ہی چاہئیے اسی طرح غریبوں۔۔۔ مفلسوں۔۔۔قلاسوں مجبوروں۔۔۔ بیواؤں۔۔۔اور مزدوروں کی ہردم، ہرگھڑی،اور ہرلمحہ مدد کرنی ہی چاہیئے خاص کر ماہ رمضان میں
اس کے بہت سے وجوہات ہیں ایک یہ کہ اس موسم میں ہر نیکی کا ثواب کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے۔اس لئے فرائض و واجبات کے ساتھ سنن ونوافل کا بھی خاص اہتمام کریں تاکہ ڈھیر ساری نیکیاں آپ کے نامہ اعمال میں جمع ہوں اور آخرت میں اللہ جل مجدہ الکریم کی ناراضگی اور ذلت ورسوائی سے بچ سکیں۔ شعر:
ہم تومائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں راہ دکھلائیں کسےکوئی رہرومنزل ہی نہی
**قرآن وحدیث میں تہجد کی اہمیت**
قرآن کریم میں رب تبارک وتعالی ایک مقام پر ارشاد فرماتا ہے:
"ان کی کروٹیں جداہوتی ہیں خواب گاہوں سے اور اپنے رب کو پکارتے ہیں ڈرتے اورامید کرتے اورہمارے دیئے ہوئے میں سےکچھ خیرات کرتے ہیں
( "سورۃ السجدہ،آیت نمبر: ۱۶ )
تفسیر عالمانہ
اس آیت کریمہ میں اللہ رب العزت نے ایمان والوں کے اوصاف بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ رات کے وقت نوافل پڑھنے کے لئے نرم وگداز بستروں کی راحت کو چھوڑ کراٹھتے ہیں اور ذکر وعبادت الہی میں مشغول ہوجاتے ہیں نیز اللہ تعالی کے عذاب سے ڈرتے اور اس کی رحمت کی امید کرتے ہوئے اس کو پکارتے ہیں،
اورایمان والوں کا ایک وصف یہ بھی ہے کہ جو مال ہم نے انھیں عطا کیا ہے اس میں سے بھلائی کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ (صراط الجنان تحت الایۃ)
احادیث کریمہ میں تہجد کے بہت سے فضائل مرقوم ہیں:چنانچہ زینت محراب ومنبر مولائے کائنات حضرت علی مرتضی شیر خدا کرم اللہ وجہہ الکریم سے روایت ہے کہ کونین کے رہبر داعئی دین برحق نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"جنت میں بالا خانے ہیں جن کے باہر کے حصے اندر سے اور اندر کے حصے باہر سے نظر آتے ہوں گے۔ایک اعرابی نے عرض کیا:یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، یہ کس کے لئے ہوں گے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو اچھی گفتگو کرے، کھانا کھلائے، ہمیشہ روزہ رکھے اور رات میں نماز اداکرے جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں”(ترمذی البر والصلۃ)
ایک اور مقام پر نبی رحمت، شفیع امت جان کائنات صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں: "لوگ قیامت کے دن ایک میدان میں جمع کئے جائیں گے تو ایک آواز دینے والا آواز دے گا:کہاں ہیں وہ لوگ جن کے پہلو اپنی خواب گاہوں سے الگ رہتے تھے؟چنانچہ وہ لوگ کھڑے ہوجائیں گے اور وہ تھوڑے ہوں گے اور وہ جنت میں بغیر حساب داخل ہوں گے،پھر باقی تمام لوگوں کو حساب کی (جگہ)کی طرف جانے کا حکم دیا جائے گا”۔
( شعب الایمان )
نیز ایک مقام پر صبح کائنات کے شمس الضحی شام کائنات کے بدرالدجی حضور فخر رسولاں سردار انبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: رات میں قیام کو اپنے اوپر لازم کرلو کہ یہ اگلے نیک لوگوں کا طریقہ ہے اور تمہارے رب کی طرف قربت کا ذریعہ اور گناہوں کو مٹانے والا اور گناہوں سے روکنے والا ہے۔( ترمذی )
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "جو شخص رات میں بیدار ہو اور اپنے اہل خانہ کو جگائے پھر دونوں دو دو رکعت پڑھیں تو کثرت سے یاد کرنے والوں میں لکھے جائیں گے”۔ ( مستدرک )
یہ روایت بھی صحابی رسول حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے فرماتے ہیں: "ایک مرتبہ میں نے عرض کی: یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم،
مجھے کوئی ایسا عمل ارشاد فرمایئے جسے میں اختیار کروں تو جنت میں داخل ہوجاؤں”۔حضور نے ارشاد فرمایا:”سلام کو عام کرو، کھانا کھلاؤ، رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو،رات میں نماز پڑھو جب لوگ سوتے ہوں تو سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہوجاؤگے”
( حوالہ سابق )
متذکرہ بالا آیت قرآنی اور احادیث مبارکہ کے مطالعہ کے بعد نفلی عبادات کی اہمیت افادیت روز روشن کی طرح عیاں ہوجاتی ہے۔کیوں کہ یہ عبادات اگر رب کو محبوب نہ ہوتیں تو قرآن نہ ان کے اوصاف بیان کرتا اور نہ ہی حدیثوں میں اس کاذکر آتا۔
لہذا مسلمانوں کو غورو فکر کرکے یہ عہد کرلیناچاہیئے کہ اس ماہ مبین ہم بجائے شوشل میڈیا، یوٹیوب،فیس بک، واٹشاب
،انسٹا گرام اور ٹویٹر پر وقت خرچ کرنے کےبجایے عبادت الہیہ میں اپنا قیمتی وقت صرف کریں گے،نماز،روزہ کی پابندی، کثرت سے تلاوت قرآن اورراتوں میں جگ کر نفلی عبادت یعنی تہجد کی نمازادا کریں گے،توبہ استغفار صلوۃ وتسبیح اوراد وظائف صدقات وخیرات پر سختی سے عمل پیرا رہیں گے،اور جملہ اعمال قبیحہ،بالخصوص جھوٹ،ظلم،غیبت چغلی ،حسد ۔کینہ ،بغض وعنادسورخوری زناکاری جیسے فسق وفجور سے دور رہیں گے۔ان تمام معصیات رجوع کریں گےاور شیطانی وسوسوں کی رب کی بارگاہ میں پناہ مانگیں گے،
تاکہ ہم سے ہمارا پروردگارخوب راضی ہوجائے،اور ہماری برائیوں کو نیکیوں میں تبدیل فرمادے۔
اللہ تعالی رمضان المبارک کے حسنات وبرکات نیز نفلی عبادات کے فیضان سے عالم اسلام کو مالا مال فرمائے اور ہم سب کے اعمال صالحہ کو اپنی بارگاہ
میں قبول فرمائے۔
امین یارب العلمین بجاہ سیدالمرسلین جل جلالہ وصلی اللہ علیہ وسلم ۔
Like this:
Like Loading...