Skip to content
ایران پر حملہ: کیا ٹرمپ سیدنا عیسیٰؑ کے حکم پر یہ جنگ لڑرہے ہیں؟
ترتیب: عبدالعزیز
مغرب خود کو لاکھ سیکولر باور کروائے، مسلمانوں کے معاملے میںآج بھی صلیبی جنگوں کی فضا میں سانس لیتا ہے۔ امریکی صدر بش صبح صادق سے پہلے اٹھتے تھے۔ کافی پینے سے پہلے ایک خاموش جگہ پر تنہا بیٹھ کروہ کچھ پڑھتے تھے۔ یہ نہ تو خبروں کے تراشے ہوتے تھے اور نہ ہی گزشتہ رات کی انٹلیجنس رپورٹیں۔ وہ اس وقت ’’لواسٹوالڈ چیمبر‘‘ کی کتاب کا مطالعہ کرتے تھے۔ لواسٹوالڈ چیمبر جگہ جگہ پھرنے والا اسکاٹ پادری، جس نے بیت المقدس کو فتح کرنے کی مہم میں حصہ لیا تھا۔ ان دنوں نیوزویک نے سرخی لگائی تھی ’’نصف صدی میں پہلی بار وائٹ ہائوس سمیت پورے امریکا پر کٹر بائبل پرستوں کا کنٹرول‘‘ صدر بش کٹر مذہبی عقائد کے پیچھے بھاگنے والے شخص تھے۔ صدر ریگن اسرائیل کی توسیع کے لیے مانگی جانے والی دعائوں میں باقاعدگی سے شرکت کرتے تھے۔ ان کا یقین تھا کہ آرما گیڈن (آخری بڑی جنگ) ہوگی اور ہم جیتیں گے۔ جمی کارٹر کہا کرتے تھے ’’اسرائیل کا قیام بائبل کی پیش گوئیوں کی تکمیل ہے‘‘۔ کھلنڈرے کلنٹن کی بھی خواہش تھی کہ وہ اسرائیل میں مورچہ لگا کر رائفل سے اسرائیل کے دفاع کے لیے لڑنے کی سعادت حاصل کرے۔
کیا صدر ٹرمپ سابقہ امریکی صدور سے مختلف ہیں۔ وہ نابالغ لڑکیوں کے جنسی استحصال اور ان کی اسمگلنگ کے ماسٹر جیفری ایپسٹین کی سرگرمیوں میں کتنے ہی سرگرم کیوں نہ ہوں، اسرائیل کے معاملے میں بائبل کی مشکوک پیش گوئیوں پر اتنا ہی یقین رکھتے ہیں جتنا سابق امریکی صدور۔ ریگن کی طرح وہ بھی اسرائیل کی توسیع کے خواہش مند ہیں اور اس کے چھوٹے سے ہونے پر فکر مند ہیں۔ وہ ایک مسیحی جنگی فرقے کے فرد کے طور پر سامنے آئے ہیں جو صلیبی جنگوں کے انداز سے آگے بڑھ رہا ہے۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل اور ملٹری ریلیجیس فریڈم فائونڈیشن MRFF (امریکا میں مذہبی آزادی کیلئے کام کرنے والاادارہ) کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی ملٹری کمانڈرز منظم طریقے سے فوجیوں کو قیامت کے نظریات سے ذہنی طور پر متاثر کررہے ہیں۔ فوجیوں کو بتایا جارہا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ قومی سلامتی کی جنگ نہیں ہے بلکہ خدا کے منصوبے کو پورا کرنے کے بارے میں ہے۔ یہ جنگ کانگریس کی منظوری کے بغیر شروع کی گئی ہے کیونکہ یہ ’’بائبلی طور پر منظورشدہ‘‘ ہے۔ صدر ٹرمپ سیدنا عیسیٰؑ کے حکم پر یہ جنگ لڑرہے ہیں۔ سیدنا عیسیٰؑ نے صدر ٹرمپ کو اپنی برکات دی ہیں تاکہ ایران میں (مسح) anointed کا اشارہ روشن کرسکیں۔ سیدنا عیسیٰؑ کے آنے سے پہلے جو آخری جنگ (آرما گیڈن) ہوگی ٹرمپ ایران کے ساتھ وہ جنگ لڑرہے ہیں۔ وہ سیدنا مسیح کی دوبارہ واپسی کو ممکن بنارہے ہیں۔
امریکا کے اسرائیل میں سفیر مائیک بکابی کا کہناہے کہ ’’ٹرمپ کو حملے سے پہلے الٰہی پیغام ملاتھا‘‘ امریکی فوجیوں کو بتایا جارہا ہے کہ یہ دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں ہے بلکہ یہ ایک مقدس جنگ ہے۔ ایرانی شہروں پر بارش کی طرح میزائل برسانے (کارپٹ بمبنگ) کے جواز میں بائبل کے حوالے دیے جارہے ہیں۔ کمانڈرز بیان کررہے ہیں کہ ’’جنگ کو خونریز اور شدید ہونا چاہیے تاکہ مسیحی قیامت کی پیش گوئیوں کو پورا کیا جاسکے‘‘۔ وہ ٹرمپ کو ’’دوسری آمد کا مسیحا‘‘ یا ’’خدا کا آلہ‘‘ سمجھتے ہیں۔ ٹرمپ کے حامی انہیں ’’خدا کا تحفہ‘‘ کہتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ٹرمپ نے کرسچن اقدار کو بحال کیا ہے۔
مذہبی اور بائبلی سیاق میں Anointed کے معنی ہیں ’’مسح شدہ‘‘ یا ’’منتخب شدہ‘‘۔ بائبل میں یہ لفظ وہاں استعمال ہوتا ہے جہاں خدا کی طرف سے کسی شخص کو خاص مقصد کیلئے چنا جاتا ہے۔ جیسے بادشاہوں یا نبیوں کو تیل سے مسح کرنا۔ سیدنا دائودؑ کا مسح اس کی مثال ہے۔ امریکی کرسچن ایوینجیلیکل اور صہیونی گروپوں میں یہ لفظ صدر ٹرمپ کو ’’خدا کی طرف سے منتخب‘‘ قرار دینے کیلئے استعمال ہوتا ہے۔ anointed کا اشارہ صدر ٹرمپ کی حمایت کرنے والے ان مذہبی لیڈروں اور فوجی کمانڈروں کی طرف سے دیا جاتا ہے جو ان کی اسرائیل کی حمایت اور ایران کے ساتھ جنگ کو بائبلی پیش گوئیوں سے جوڑتے ہیں۔
بائبل کی کتاب اشعیا (Isaiah45) میں خدانے ایک غیر یہودی بادشاہ، سائرس کو ’’اپنا مسح شدہ‘‘ (anointed) قراردیا ہے جو یہودیوں کو بائبل کی غلامی سے آزاد کرانے کا سبب بنا۔ اس اشارے کو کرسچن صہیونیزم میں یہودیوں کی اسرائیل میں آبادکاری کو سیدنا عیسیٰؑ کی دوسری آمد اور قیامت (آرما گیڈون) کی تیاری سمجھا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ کو بھی اسی طرح دیکھا جاتا ہے ’’ایک نامکمل شخص جو خدا کے منصوبے کو پورا کررہا ہے‘‘۔ مثال کے طور پر ایوینجیلیکل لیڈرلانس والنو نے ٹرمپ کو خدا کی طرف سے anointed قرار دیا اور اسے سائرس (Cyrus) سے تشبیہ دی۔ یہ نظریہ امریکا کی تقریباً پچیس فی صد آبادی میں مقبول ہے جو سفید ایوینجیلیکلز ہیں۔
ٹرمپ کی حمایت کرنے والے مذہبی لیڈر ہینک کونی مین کا کہنا ہے: ٹرمپ پر anointing ہے جو شیطانی قوتوں کو کمزور کرتی ہے۔ ٹرمپ کے روحانی مشیر پالا وائٹ نے کہا ہے کہ ٹرمپ کو خدا نے منتخب کیا ہے۔ ایک سروے میں 49 فی صد سفید ایوینجیلیکلز نے کہا ہے کہ ٹرمپ خدا کی طرف سے anointed ہے۔ ٹرمپ خود بھی ایسے اشارے دیتا ہے۔ 2025ء میں اس نے کہا تھا ’’میں دنیا اور ملک چلاتا ہوں‘‘ ٹرمپ کو بائبلی بادشاہوں جیسے Jehu یا Cyrus سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ 2018ء میں ایک سکہ بنایا گیا تھا جس میں ٹرمپ اور سائرس کو ساتھ دکھایا گیا تھا۔ یہ اشارہ ٹرمپ کی 45 ویں صدارت کو Isaiah45 سے جوڑتا ہے۔
مشرق وسطیٰ کی سیاست میں جہاں کوئی بھی چنگاری ایک نئی آگ بھڑکا سکتی ہے۔ گزشتہ دنوں اسرائیل میں امریکی سفیر مائیک بکابی کا بیان سامنے آیا جس میں مذہبی عقائد کو یہودی ریاست کے حق میں بطور ہتھیار استعمال کرتے ہوئے کہا گیا ’’بائبل کی کتاب پیدائش (Genesis15) کے مطابق دریائے نیل (مصر) سے دریائے فرات (عراق) تک کا علاقہ اسرائیل کا الٰہی حق ہے‘‘ یہ علاقہ موجودہ دور میں مصر، سعودی عرب، اردن، شام، عراق اور لبنان کے بڑے حصوں کو یہودی ریاست میں شامل کرتا ہے۔ بکابی کے الفاظ میں ’’یہ ٹھیک ہوگا اگر وہ (اسرائیل) یہ سب لے لے‘‘۔ اس بیان نے امریکا میں گریٹر اسرائیل کے پرانے تصور کو ایک نئی زندگی دی ہے۔ بکابی پہلا شخص نہیں ہے جو کرسچن صہیونی بائبل کے ان الفاظ کی اسرائیل کے حق میں تعبیر کرتا ہے کہ ’’خدانے سیدنا ابراہیم ؑ سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی اولاد کو یہ وسیع زمین ملے گی‘‘۔
ڈیلی میل، ملٹری ریلجیس فریڈم فائونڈیشن MRFF کی رپورٹس اور بکابی کے بیانات یہ تمام سرگرمیاں اس وقت سامنے آئی ہیں جب اسرائیل اور امریکا پوری شدت کے ساتھ ایران کو تباہ وبرباد کرنے کے درپے ہیں۔ اس جنگ کو مذہبی رنگ دینا ایران اور مسلم ممالک کو ختم کرنے کی رفتارکو مزید خوفناک بنانا ہے۔ کرسچن صہیونیزم امریکا کی خارجہ پالیسی کو پہلے ہی اسرائیل کی حمایت میں جکڑے ہوئے ہے۔ اس موقع پر اس کی تکرار اس جنگ کو 2026ء کی صلیبی جنگ کا روپ دینے کی کوشش ہے۔ بکابی ٹرمپ انتظامیہ میں سفیر کے عہدے پر فائز ہیں اور اسرائیل میں تعینات ہیں جہاں کسی ایسے شخص کا ہی تقرر کیا جاسکتا ہے جو اسرائیل کے حق میں اس امریکی پالیسی کا درست ادراک رکھتا ہو، جس کا ایک ہی ہدف ہے ’’خون مسلم کی ارزانی‘‘۔ صہیونی لابی صدر ٹرمپ جیسے شو مین کو عرش تقدیس پر بٹھا کر، اسے الٰہی انتخاب کے فریب کا یقین دلاکر، جنگ کو جس انتہا پر لے جانا چاہتی ہے بعید نہیں کہ اس کا انجام اکیسویں صدی کی نئی صلیبی جنگوںکی صورت میں سامنے آئے۔(بابا الف)
Like this:
Like Loading...