Skip to content
زکوۃ اور پشہ ور بھکاری : حقائق اور غلط فہمیاں
از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
توپران ضلع میدک تلنگانہ
اسلام ایک کامل اور جامع نظامِ حیات ہے جو انسانی زندگی کے ہر شعبہ میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اسلام نے جہاں عبادات کا نظام دیا ہے وہیں ایک مکمل اور منصفانہ معاشی نظام بھی قائم کیا ہے جس کا بنیادی ستون زکوٰۃ ہے۔ زکوٰۃ محض ایک مالی عبادت نہیں بلکہ ایک ایسا سماجی اور معاشی نظام ہے جس کے ذریعے معاشرے میں دولت کی منصفانہ تقسیم اور غربت کے خاتمے کا مقصد حاصل کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم میں نماز کے ساتھ زکوٰۃ کا ذکر بار بار کیا گیا ہے جو اس کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں: وَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ (البقرة: 43) یعنی نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو۔ اسی طرح ایک اور مقام پر فرمایا: خُذْ مِنْ أَمْوَالِهِمْ صَدَقَةً تُطَهِّرُهُمْ وَتُزَكِّيهِم بِهَا (التوبة: 103) یعنی ان کے مالوں میں سے صدقہ لیجیے جو انہیں پاک کرے اور ان کا تزکیہ کرے۔ ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ زکوٰۃ کا بنیادی مقصد مال کی پاکیزگی اور معاشرے کی اصلاح ہے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی زکوٰۃ کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا: بُنِيَ الْإِسْلَامُ عَلَى خَمْسٍ یعنی اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے: کلمہ، نماز، زکوٰۃ، روزہ اور حج (صحیح بخاری، کتاب الایمان، حدیث 8، ص 12؛ صحیح مسلم، کتاب الایمان، حدیث 16، ص 45)۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ زکوٰۃ اسلام کے بنیادی ارکان میں سے ہے اور اس کی حیثیت ایک لازمی فریضہ کی ہے۔
زکوٰۃ کی لغوی حقیقت کے بارے میں علماء لغت لکھتے ہیں کہ زکوٰۃ کے معنی پاکیزگی اور بڑھوتری کے ہیں۔ علامہ ابن منظور لکھتے ہیں: الزكاة في اللغة النماء والطهارة یعنی زکوٰۃ کے معنی بڑھوتری اور پاکیزگی کے ہیں (لسان العرب، ج 14، ص 358)۔ شریعت کی اصطلاح میں فقہاء نے زکوٰۃ کی تعریف یوں بیان کی ہے کہ مال کے ایک مخصوص حصے کو مخصوص شرائط کے ساتھ کسی مستحق مسلمان کو مالک بنا دینا۔ علامہ کاسانی لکھتے ہیں: هي تمليك جزء من المال لفقير مسلم على وجه مخصوص (بدائع الصنائع، ج 2، ص 4)۔ اس تعریف سے یہ اصول واضح ہوتا ہے کہ زکوٰۃ دینے کا اصل مقصد مستحق کو مال کا مالک بنانا ہے۔
اسلامی شریعت میں زکوٰۃ کے مستحقین کو بھی واضح طور پر بیان کر دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ (التوبة: 60)۔ اس آیت میں زکوٰۃ کے آٹھ مصارف بیان کیے گئے ہیں۔ مفسرین لکھتے ہیں کہ اس آیت کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے زکوٰۃ کے مصرف کو متعین کر دیا ہے تاکہ لوگ اپنی مرضی سے اسے کسی بھی جگہ خرچ نہ کریں۔ حافظ ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ اس آیت میں زکوٰۃ کے آٹھ مستحقین بیان کیے گئے ہیں اور یہی اس کے شرعی مصارف ہیں (تفسیر ابن کثیر، ج 4، ص 169)۔
فقہائے اسلام نے اس مسئلے کو مزید واضح کرتے ہوئے یہ اصول بیان کیا ہے کہ زکوٰۃ لینے کے لیے اصل معیار فقیر ہونا ہے اور فقیر کی تعریف یہ ہے کہ وہ شخص نصاب کا مالک نہ ہو۔ علامہ کاسانی لکھتے ہیں: الفقير من لا يملك نصاباً یعنی فقیر وہ شخص ہے جو نصاب کا مالک نہ ہو (بدائع الصنائع، ج 2، ص 45)۔ اسی طرح علامہ ابن عابدین لکھتے ہیں کہ جو شخص اپنی بنیادی ضروریات کے علاوہ نصاب کا مالک ہو وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں (رد المحتار، ج 2، ص 353)۔
یہاں ایک اہم مسئلہ یہ سمجھنا ضروری ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر لوگ زکوٰۃ دیتے وقت اصل معیار کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ کسی نابینا، لنگڑے یا معذور شخص کو دیکھ کر فوراً زکوٰۃ دے دیتے ہیں حالانکہ شریعت میں معذوری زکوٰۃ لینے کی شرط نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص معذور ہے لیکن اس کے پاس نصاب کے برابر مال موجود ہے تو وہ زکوٰۃ کا مستحق نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لا تحل الصدقة لغني ولا لذي مرة سوي یعنی صدقہ کسی مالدار یا طاقتور شخص کے لیے حلال نہیں ہے (سنن ترمذی، کتاب الزکاۃ، حدیث 652، ص 281؛ سنن ابی داود، حدیث 1634، ص 220)۔
اسی طرح معاشرے میں ایک اور غلط فہمی یہ پائی جاتی ہے کہ ہر سوال کرنے والا شخص مستحق ہوتا ہے۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے واضح فرمایا کہ اصل مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس جا کر مانگتا ہے بلکہ وہ ہے جو اپنی ضرورت کے باوجود سوال نہیں کرتا۔ حدیث میں ہے: ليس المسكين الذي يطوف على الناس ترده اللقمة واللقمتان یعنی مسکین وہ نہیں جو لوگوں کے پاس گھومتا پھرے اور ایک دو لقمے لے لے بلکہ حقیقی مسکین وہ ہے جو اپنی حاجت کے باوجود سوال نہیں کرتا (صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، حدیث 1479، ص 338؛ صحیح مسلم، حدیث 1039، ص 721)۔
بعض لوگ ایک حدیث کو دلیل بنا کر یہ کہتے ہیں کہ ہر سوال کرنے والے کو دینا چاہیے۔ اس حدیث کے الفاظ ہیں: للسائل حق وإن جاء على فرس یعنی سوال کرنے والے کا بھی حق ہے اگرچہ وہ گھوڑے پر سوار ہو کر آئے (مسند احمد، ج 2، ص 165؛ المعجم الکبیر للطبرانی، ج 11، ص 64)۔ محدثین نے اس حدیث کی تشریح میں لکھا ہے کہ اس کا مقصد یہ نہیں کہ ہر سوال کرنے والے کو زکوٰۃ دی جائے بلکہ اس کا مقصد یہ ہے کہ سوال کرنے والے کو سختی سے جھڑکا نہ جائے۔ علامہ نووی لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ سائل کے ساتھ نرمی اور حسنِ اخلاق کا معاملہ کیا جائے (شرح صحیح مسلم للنووی، ج 7، ص 133)۔
اسی مضمون کو قرآن کریم نے بھی بیان کیا ہے جہاں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَأَمَّا السَّائِلَ فَلَا تَنْهَرْ (الضحی: 10) یعنی سوال کرنے والے کو نہ جھڑکو۔ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی سوال کرے تو اسے برا بھلا کہنا یا ڈانٹنا درست نہیں بلکہ نرمی سے جواب دینا چاہیے۔
فقہاء نے زکوٰۃ دینے والے پر یہ ذمہ داری بھی عائد کی ہے کہ وہ مستحق کی تحقیق کرے۔ علامہ ابن عابدین لکھتے ہیں کہ زکوٰۃ کے مصارف میں تحقیق کرنا ضروری ہے تاکہ زکوٰۃ صحیح جگہ خرچ ہو (رد المحتار، ج 2، ص 354)۔ اسی طرح امام سرخسی لکھتے ہیں کہ زکوٰۃ کا مقصد محتاج لوگوں کی ضرورت پوری کرنا ہے اس لیے اسے صحیح مستحق تک پہنچانا ضروری ہے (المبسوط للسرخسی، ج 2، ص 176)۔
صحابہ کرام کے دور میں زکوٰۃ کے نظام کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کے خلاف قتال کیا جنہوں نے زکوٰۃ دینے سے انکار کیا تھا۔ انہوں نے فرمایا: والله لو منعوني عقالاً كانوا يؤدونه إلى رسول الله لقاتلتهم عليه یعنی اگر لوگ اونٹ باندھنے کی ایک رسی بھی روکیں گے جو وہ رسول اللہ کو دیا کرتے تھے تو میں ان سے قتال کروں گا (صحیح بخاری، کتاب الزکاۃ، حدیث 1400، ص 312)۔
ان تمام دلائل سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ زکوٰۃ اسلام کا ایک منظم معاشی نظام ہے۔ اسے جذبات یا ظاہری ہمدردی کی بنیاد پر نہیں بلکہ شریعت کے اصولوں کے مطابق ادا کرنا ضروری ہے۔ اگر مسلمان زکوٰۃ کو اس کے صحیح اصولوں کے مطابق ادا کریں تو معاشرے میں غربتح اور محرومی نمایاں طور پر کم ہو سکتی ہے اور اسلامی معاشرہ دوبارہ عدل و انصاف کا نمونہ بن سکتا ہے۔
اسلام نے زکوٰۃ کو ایک منظم اور باقاعدہ معاشی نظام کے طور پر مقرر کیا ہے۔ اس لیے شریعت نے زکوٰۃ کے ادا کرنے میں صرف نیت کو کافی نہیں قرار دیا بلکہ اس بات کو بھی ضروری قرار دیا ہے کہ زکوٰۃ صحیح مستحق تک پہنچے۔ اگر زکوٰۃ ایسے شخص کو دے دی جائے جو شرعاً مستحق نہیں تو زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی۔ فقہاء نے اس مسئلہ کو واضح طور پر بیان کیا ہے کہ زکوٰۃ دیتے وقت مستحق کی تحقیق کرنا ضروری ہے۔ علامہ ابن عابدین شامی لکھتے ہیں: ويجب التحري في مصرف الزكاة حتى تقع في محلها یعنی زکوٰۃ کے مصرف میں تحقیق کرنا واجب ہے تاکہ زکوٰۃ صحیح جگہ پر خرچ ہو (رد المحتار، ج 2، ص 354)۔
آج کے دور میں یہ مسئلہ اور زیادہ اہم ہو گیا ہے کیونکہ بہت سے لوگ پیشہ ورانہ طور پر بھیک مانگنے کا کام کرتے ہیں۔ رمضان المبارک کے مہینے میں خاص طور پر یہ صورت حال دیکھنے میں آتی ہے کہ مختلف علاقوں سے لوگ آ جاتے ہیں اور مسلمانوں کے لباس اختیار کر لیتے ہیں۔ بعض اوقات غیر مسلم افراد بھی مسلمانوں کی طرح ٹوپی پہن کر، داڑھی رکھ کر یا برقع پہن کر لوگوں سے زکوٰۃ اور صدقات مانگتے ہیں تاکہ لوگوں کے جذبات سے فائدہ اٹھا سکیں۔
بہت سے لوگ رمضان میں عمرے کا سفر کرتے ہیں تاکہ وہاں کے مالدار حضرات سے اپنی غربت یا پھر علاقہ کی غربت یا پھر جھوٹی دینی کام کی تصاویر بتا کر مال کو جمع کریں ایسے 100 نہیں ہزاروں افراد ہیں جنہیں وہاں کی حکومت نے گرفتار کیا ہے پھر بھی لوگ باز نہیں آتے اس لیے کہ مانگنے کی عادت جو پڑ گئی ہے محنت اور مشقت س انسان کو دور کر دیتی ہے اور یہ خیال ذہن میں بٹھا دیتی ہےکہ سال کے ایک مہینے میں سے میں اگرچہ بھیک مانگلوں تو پورا سال میرے گھر کا میرے خاندان کا گزارا ہوگا اور علاقے کے اندر مال کی کثرت کی وجہ سے اپنا رعب اور دبددبہ بھی رہے گا یہ غلطی معاشرے میں چل رہی ہے مانگنے کی عادت کی وجہ سے
اور دوسرا زکوۃ کا مال دینے والے حضرات کی بے جا اعتماد کی وجہ سے ایسے لوگوں کی خدمت میں اضافہ ہو رہا ہے کیا ہماری آنکھوں کے سامنے ایسے ویڈیوز نہیں آئے جس میں غیر مسلم رمضان میں برقعہ پہن کر اور مرد کرتا پجامہ اور داڑھی رکھ کر مساجد کے سامنے مانتے ہوئے نہیں پکڑے گئے ہماری عقل کو کیا ہوا ہے ہم دینی امور میں کیوں بے وقوف بن جاتے ہیں دنیاوی امور میں چھان بین کرنے کی عادت ہے اور دینی امور میں نظر اندازی کسی انجان شخص پر اعتماد یہ غیر مناسب بات ہے ہمیں ہر بار تحقیق کرنی چاہیے
فقہاء نے صراحت کے ساتھ لکھا ہے کہ زکوٰۃ صرف مسلمان فقیر کو دی جا سکتی ہے۔ کسی غیر مسلم کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں۔ علامہ کاسانی لکھتے ہیں: ولا يجوز دفع الزكاة إلى الكافر یعنی کافر کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں (بدائع الصنائع، ج 2، ص 49)۔
اسی طرح ایک اور اہم مسئلہ یہ ہے کہ بہت سے پیشہ ور بھکاری حقیقت میں فقیر نہیں ہوتے بلکہ وہ اس کام کو باقاعدہ پیشہ بنا لیتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عمل کی سخت مذمت فرمائی ہے۔ حدیث میں ہے: من سأل الناس تكثراً فإنما يسأل جمراً یعنی جو شخص لوگوں سے مال زیادہ حاصل کرنے کے لیے سوال کرتا ہے وہ دراصل اپنے لیے آگ کے انگارے مانگتا ہے (صحیح مسلم، کتاب الزکاۃ، حدیث 1041، ص 723)۔
Like this:
Like Loading...