Skip to content
اعتکاف کے پس پردہ شکیلیت : نگرانی ضروری ہے
از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
توپران ضلع میدک تلنگانہ
اعتکاف ایک نہایت مقدس عبادت ہے جس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل توجہ، توبہ، ذکر و تلاوت اور روحانی اصلاح ہے۔ مگر یہ عبادت چونکہ مسجد میں اجتماعی ماحول میں ادا کی جاتی ہے، اس لیے اس میں نظم و ضبط، احتیاط اور صحیح رہنمائی کا ہونا بھی انتہائی ضروری ہے۔ موجودہ دور میں یہ بات خاص طور پر اہم ہو گئی ہے کہ اعتکاف میں بیٹھنے والے افراد مسجد کے امام کے تابع رہیں اور ان کا باقاعدہ اندراج امام یا مسجد کی انتظامیہ کے پاس موجود ہو، تاکہ کسی قسم کے فتنہ، گمراہی یا غلط عقائد کی اشاعت کا دروازہ بند ہو سکے۔
اسی طرح مساجد اسلام کے مقدس ترین مقامات ہیں جہاں عبادت، ذکر، تلاوتِ قرآن اور تعلیمِ دین کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ خصوصاً رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف کی عبادت کے لیے مسلمان مساجد میں قیام کرتے ہیں تاکہ وہ دنیاوی مشاغل سے ہٹ کر اللہ تعالیٰ کی عبادت میں مشغول رہیں۔ لیکن موجودہ دور میں بعض مقامات پر یہ دیکھا گیا ہے کہ کچھ لوگ اعتکاف کے نام پر مساجد میں بیٹھ کر نوجوانوں کے عقائد اور افکار پر اثر انداز ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے مساجد کی انتظامیہ اور اہلِ محلہ کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس معاملے میں محتاط رہیں اور کسی اجنبی شخص کو بغیر تحقیق اور جانچ پڑتال کے مسجد میں اعتکاف کی اجازت نہ دیں تاکہ مسجد کا ماحول اور مسلمانوں کے عقائد محفوظ رہیں۔
(الجن: 18، القرآن الکریم، ص: 573، دارالسلام ایڈیشن)
اسلام میں مساجد کی عظمت اور ان کے صحیح استعمال پر بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتے ہیں:
﴿وَأَنَّ الْمَسَاجِدَ لِلَّهِ فَلَا تَدْعُوا مَعَ اللَّهِ أَحَدًا﴾
ترجمہ: “اور یہ کہ مساجد اللہ کے لیے ہیں، لہٰذا اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔” اس آیت سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ مساجد خالصتاً اللہ تعالیٰ کی عبادت اور صحیح دین کی تعلیم کے لیے ہیں۔ اگر مسجد میں ایسے افراد کو کھلی آزادی دے دی جائے جو لوگوں کے عقائد میں بگاڑ پیدا کریں یا فتنہ و فساد کا سبب بنیں تو یہ مسجد کے اصل مقصد کے خلاف ہوگا، اس لیے مساجد کے نظم و ضبط اور عقیدہ کی حفاظت ضروری ہے۔
اعتکاف ایک عظیم عبادت ہے جس کا مقصد اللہ تعالیٰ کی طرف مکمل توجہ اور روحانی اصلاح ہے۔ رسول اللہ ﷺ رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا روایت کرتی ہیں:
“كان النبي ﷺ يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله.”
ترجمہ: “نبی کریم ﷺ اپنی وفات تک رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔” اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اعتکاف عبادت، ذکر اور اصلاحِ نفس کے لیے ہوتا ہے، نہ کہ لوگوں میں اختلافات پیدا کرنے یا گمراہ کن نظریات پھیلانے کے لیے۔
(صحیح البخاری، کتاب الاعتکاف، حدیث: 2026، ص: 481، دار طوق النجاة)
فقہائے اسلام نے بھی مسجد کے نظم و انتظام کی ذمہ داری متولیانِ مسجد پر عائد کی ہے۔ اگر کوئی شخص مسجد کے ماحول کو خراب کرے، لوگوں کے درمیان فتنہ پھیلائے یا گمراہ کن نظریات کی تبلیغ کرے تو مسجد کی انتظامیہ کو حق حاصل ہے کہ وہ ایسے شخص کو مسجد کے نظم سے دور رکھے تاکہ مسجد کا تقدس اور مسلمانوں کے عقائد محفوظ رہیں۔ اس کا مقصد کسی کو عبادت سے روکنا نہیں بلکہ مسجد کے ماحول اور امت کے ایمان کی حفاظت کرنا ہے۔
موجودہ دور میں مختلف گمراہ فرقے اور فتنہ پرور گروہ نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ بسا اوقات مساجد میں اعتکاف کے نام پر بیٹھ کر نوجوانوں کے ذہنوں میں شکوک و شبہات پیدا کرتے ہیں اور انہیں صحیح عقیدہ سے دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ مساجد کی انتظامیہ اس بات کا خاص خیال رکھے کہ اعتکاف کے لیے آنے والے افراد کے بارے میں مکمل معلومات حاصل کی جائیں اور اگر کوئی شخص اجنبی ہو تو اس کی شناخت اور عقیدہ کے بارے میں تحقیق کی جائے بعض مرتبہ تو ایمان خطرے میں پڑ جاتا ہے ایسے ناگہانی آفات اور حالات سے بچنے کے لیے اور نوجوان نسل کے تحفظ کے لیے نگرانی کو لازمی قرار دیں
اسی طرح مساجد کے منتظمین کو چاہیے کہ اعتکاف کے لیے ایک واضح اور منظم نظام قائم کریں۔ مثال کے طور پر اعتکاف کرنے والوں کا مکمل تعارف، پتہ اور شناخت درج کی جائے، مقامی معتبر افراد کے ذریعے ان کی تصدیق کی جائے اور مسجد کے نظم و ضبط کی پابندی کو یقینی بنایا جائے۔ اس طرح مسجد کا ماحول بھی محفوظ رہے گا اور اعتکاف کی عبادت بھی صحیح مقصد کے ساتھ ادا ہوگی۔
ہر معتکف کی امام مسجد یا ذمہ دار مسجد نگرانی کریں
آج کے زمانے میں مختلف باطل نظریات، گمراہ فرقے اور فتنہ پرور لوگ مسلمانوں کے درمیان اپنے افکار پھیلانے کی کوشش کرتے ہیں۔ بعض اوقات یہ لوگ عبادت کے مواقع اور دینی اجتماعات کو بھی اپنے نظریات پھیلانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ اعتکاف کے دوران چونکہ نوجوان، نئے نمازی اور دینی ذوق رکھنے والے لوگ مسجد میں زیادہ وقت گزارتے ہیں، اس لیے اگر کسی گمراہ یا فتنہ پرور شخص کو وہاں آزادانہ طور پر اثر انداز ہونے کا موقع مل جائے تو وہ ناتجربہ کار افراد کے ذہنوں میں شکوک و شبہات ڈال سکتا ہے یا انہیں غلط عقائد کی طرف مائل کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ مسجد کے امام کے پاس ہر معتکف کی مکمل معلومات موجود ہوں اور وہ امام کی نگرانی اور رہنمائی میں اعتکاف کرے۔
قرآن کریم مسلمانوں کو جماعت اور نظم کے ساتھ رہنے کی تعلیم دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا
(سورۃ آل عمران: 103)
ترجمہ: “اور سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔”
اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے لیے اتحاد اور صحیح رہنمائی کے تحت رہنا ضروری ہے۔ اگر ہر شخص اپنی مرضی سے کسی اجنبی یا غیر معروف شخص کی باتوں کو ماننے لگے تو اس سے اختلاف اور گمراہی پیدا ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
اسی طرح رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
إِنَّمَا جُعِلَ الإِمَامُ لِيُؤْتَمَّ بِهِ
“امام اسی لیے بنایا جاتا ہے کہ اس کی اقتداء کی جائے۔”
(صحیح بخاری، حدیث: 722)
اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ امام کی حیثیت رہنما اور مقتدا کی ہوتی ہے۔ مسجد میں عبادات اور دینی ماحول کی حفاظت کے لیے امام کا کردار بنیادی ہوتا ہے۔ اس لیے اعتکاف کے دوران بھی معتکفین کے لیے ضروری ہے کہ وہ امام کی نگرانی اور رہنمائی میں رہیں۔
اسی طرح یہ بھی ضروری ہے کہ مسجد میں اعتکاف کرنے والے افراد کسی اجنبی شخص کو اپنا رہبر یا استاد نہ بنا لیں۔ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ کوئی شخص ظاہری دینداری کا اظہار کر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کر لیتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اپنے غلط نظریات یا فرقہ وارانہ خیالات پھیلانے لگتا ہے۔ اس لیے دینی اعتبار سے یہ اصول بہت اہم ہے کہ انسان صرف ان لوگوں سے دینی رہنمائی حاصل کرے جو معروف، معتبر اور صحیح العقیدہ ہوں۔
اگر کوئی شخص مسجد کے امام کو نہ جانتا ہو یا کسی وجہ سے امام سے براہِ راست رابطہ نہ ہو سکے تو کم از کم اسے محلے کے کسی معروف اور معتبر شخص کے تابع رہنا چاہیے، جو صحیح العقیدہ ہو، دین کی بنیادی سمجھ رکھتا ہو اور جس کی دیانت و دینداری اہلِ محلہ میں مسلم ہو۔ اس طرح ایک محفوظ اور مستند دینی ماحول برقرار رہتا ہے اور نوجوانوں اور نئے نمازیوں کے عقائد بھی محفوظ رہتے ہیں۔
اسی مقصد کے لیے ضروری ہے کہ ہر معتکف کا باقاعدہ اندراج مسجد کے امام یا انتظامیہ کے پاس ہو۔ اس اندراج میں اس کا نام، پتہ اور بنیادی معلومات درج ہوں تاکہ معلوم ہو سکے کہ مسجد میں کون لوگ اعتکاف کر رہے ہیں۔ اس سے مسجد کا نظم بہتر رہتا ہے اور کسی مشکوک یا نامعلوم شخص کی سرگرمیوں پر بھی نظر رکھی جا سکتی ہے۔
اسلام ہمیشہ فتنوں سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ جہاں گمراہی یا فتنہ پھیلنے کا خطرہ ہو وہاں احتیاطی تدابیر اختیار کرنا ضروری ہے۔ اعتکاف کے ماحول کو محفوظ اور پاکیزہ رکھنے کے لیے بھی یہی اصول اختیار کرنا چاہیے کہ معتکفین امام مسجد کے تابع رہیں اور کسی غیر معروف شخص کی پیروی سے بچیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ اعتکاف کا مقصد اللہ کی عبادت اور روحانی اصلاح ہے، نہ کہ اختلاف، بحث و مباحثہ یا نئے نظریات کی تشہیر۔ اس لیے ہر معتکف کے لیے ضروری ہے کہ وہ مسجد کے امام کے تابع رہے، اپنی معلومات مسجد کے پاس درج کروائے اور دینی رہنمائی صرف معتبر اور صحیح العقیدہ لوگوں سے حاصل کرے۔ اسی طریقے سے مسجد کا ماحول محفوظ رہے گا، نوجوانوں کے عقائد محفوظ رہیں گے اور اعتکاف اپنی اصل روح کے مطابق عبادت اور اصلاح کا ذریعہ بنے گا۔
Like this:
Like Loading...