Skip to content
اخری عشرے میں خوب عبادت کیجئے ۔۔۔۔
ازقلم:مفتی احمد عبدالحسیب تنویر قاسمی
تمام تعریف اس اللہ تعالی کے لیے ہے جس نے پوری کائنات کو اپنی قدرت سے بغیر کسی نمونے کے بنایا
درود و سلام کا مقدس نذرانہ ہم سب کی طرف سے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں جو ہمیشہ اپنی امت کی کامیابی فلاح اور بہبودگی کی فکر میں ہمہ تن مشغول و مصروف رہتے تھے ۔۔۔۔۔۔
رمضان المبارک کی امد سے پہلے یہ خوشی تھی کہ رمضان المبارک انے والا ہے ہم سب غیر معمولی خوشی محسوس کر رہے تھے رمضان المبارک کی امد کی مناسبت سے اللہ تعالی نے اپنے فضل سے رمضان المبارک صحت سلامتی عافیت کی حالت میں عطا فرمایا ۔۔۔۔رمضان ایا اور دیکھتے ہی دیکھتے ہم سے رخصت ہونا چاہتا ہے ۔۔۔۔
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عام دنوں کے مقابلے میں رمضان المبارک میں بہت زیادہ سخی ہو جاتے تھے
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَجْوَدَ النَّاسِ بِالْخَيْرِ وَكَانَ أَجْوَدَ مَا يَكُونُ فِي رَمَضَان وَكَانَ جِبْرِيلُ يَلْقَاهُ كُلَّ لَيْلَةٍ فِي رَمَضَانَ يَعْرِضُ عَلَيْهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْقُرْآنَ فَإِذَا لَقِيَهُ جِبْرِيلُ كَانَ أَجْوَدُ بِالْخَيْرِ مِنَ الرّيح الْمُرْسلَة
[مشكوة المصابيح/كتاب الصوم/حدیث: 2098]
ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خیر و بھلائی میں سب سے زیادہ سخی تھے، اور جب رمضان میں جبریل ؑ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے ملاقات کرتے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سخاوت بڑھ جاتی، وہ رمضان کی ہر رات آپ سے ملاقات کرتے تو نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم انہیں قرآن سنایا کرتے تھے، جب جبرئیل علیہ السلام آپ سے ملاقات کرتے تو آپ خیر و بھلائی اور سخاوت کرنے میں کھلی ہوا (تیز رفتار آندھی) سے بھی بڑھ کر ہوتے تھے۔ متفق علیہ
۔۔۔۔۔۔
عام دنوں کے مقابلے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کا انداز رمضان المبارک میں بہت زیادہ ہو جاتا اور پورے رمضان کے مقابلے میں اخری عشرے کی عبادت تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بہت ہی نرالی اور مثالی تھی چنانچہ حدیث شریف میں ہے حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا بیان کرتی ہیں
، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:” كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ الأَوَاخِرُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ أَيْقَظَ أَهْلَهُ، وَأَحْيَا اللَّيْلَ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ” . قَالَ: فَقَالَ غَيْرُهُ: وَجَدَّ.
جب رمضان کا آخری عشرہ آ جاتا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر والوں کو بیدار کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر عبادت کرتے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کمر کس لیتے تھے۔ [مسند الحميدي/حدیث: 187]
یوں تو رمضان کا پورا مہینہ دیگر مہینوں میں ممتاز اور خصوصی مقام کا حامل ہے، لیکن رمضان شریف کے آخری دس دنوں (آخری عشرہ) کے فضائل اور بھی زیادہ ہیں۔
مذکورہ حدیث میں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بیان کرتی ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں عبادت وطاعت ، شب بیداری اور ذکر و فکر میں اور زیادہ منہمک ہوجاتے تھے۔ احادیث میں ذکرہے، ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم آخری عشرہ میں اتنا مجاہدہ کیا کرتے تھے جتنا دوسرے دنوں میں نہیں کیا کرتے تھے ۔(صحیح مسلم، حدیث 2009) سنن ابن ماجہ ، صحیح ابن خزیمہ اور مسند احمد میں بھی اسی مفہوم کی احادیث مروی ہیں جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رمضان کے اخری عشرہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات دیگر ایام کے مقابلہ میں بڑھ جاتے تھے۔
دیگر احادیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معمولات کی تفصیلات ملتی ہیں۔ جیسا کہ اس حدیث میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب رمضان المبارک کا آخری عشرہ شروع ہوجاتا تونبی صلی اللہ علیہ وسلم رات بھر بیدار رہتے اور اپنی کمرکس لیتے اوراپنے گھروالوں بھی جگاتے تھے۔ (صحیح بخاری ، حدیث :1884، صحیح مسلم، حدیث :2008)شعب الایمان۔۔۔۔۔ بیہقی کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ مہینہ ختم ہونے سے پہلے بستر پر نہیں آتے تھے۔ (حدیث:3471)
راتوں کو اٹھ کر عبادت کرنے کا معمول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا تو ہمیشہ ہی تھا، لیکن رمضان میں آپ کمر کس کر عبادت کے لیے تیار ہوجاتے اور پوری پوری رات عبادت میں گزارتے۔ یہ مضمون حضرت عائشہ رضي اللہ تعالی عنہا کی ایک دوسری روایت سے اور زیادہ واضح ہوتا ہے ، وہ بیان فرماتی ہیں: مجھے یاد نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے علاوہ کبھی بھی ایک ہی رات میں پورا قرآن مجید پڑھا ہو یا پھر صبح تک عبادت ہی کرتے رہے ہوں ، یا رمضان المبارک کے علاوہ کسی اورمکمل مہینہ کے روزے رکھے ہوں۔ (سنن نسائی ،حدیث : 1336)
دوسرا خصوصی معمول جس کا ذکرحدیث میں ہے وہ ہے اپنے اہل خانہ کو رات میں عبادت کے لیے جگانا۔احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھروالوں کو سارا سال ہی جگایا کرتے تھے ، اور رمضان المبارک میں خصوصیت کے ساتھ جگانے کے ذکر کا صاف مطلب یہی ہے کہ رمضان کے آخری عشرہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اپنی گھروالوں کو باقی سارے سال کی بہ نسبت جگانے کا زیادہ اہتمام فرماتے تھے
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے مقرب بندے ہیں حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی گناہ اور لغزش کا کام نہیں ہوا مگر حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کو منانے کے لیے پوری پوری رات عبادت میں مشغول اور مصروف ہیں اعتکاف ہو رہا ہے عبادت ہو رہی ہے دعاؤں میں مشغول ہیں ۔۔۔اور ہماری زندگی کا اکثر حصہ اللہ تعالی کی نافرمانی اور لا ابالی پن میں گزر گیا رمضان المبارک اللہ تعالی نے اپنے فضل سے عطا فرمایا اس کی قدر نہ کر کے کھانے پینے دیگر اپنے خواہشوں میں ہم لوگ مگن ہو گئے یہاں تک کہ رمضان ایا اور رخصت ہو گیا تو رمضان کے انے کا ہمارے لیے فائدہ کیا ہوا ۔۔۔۔رمضان المبارک اتا ہے تاکہ لوگوں کی مغفرت کا انتظام ہو جائے اگر رمضان المبارک میں عبادت کر کے کوئی شخص اللہ کو نہیں منوایا اور اللہ تعالی سے اپنی مغفرت نہیں کروا لی تو اس کے لیے حضرت جبرائیل امین علیہ الصلاۃ والسلام نے بددعا دی اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر امین بھی فرمائی
ورَغِم أنفُ رَجُلٍ دخَل عليه رمَضانُ، ثمَّ انسَلَخ قبلَ أن يُغفَرَ له”، أي: خاب وخَسِر وذَلَّ وعَجَز ولَصِق أنفُه بالتُّرابِ كلُّ مَن أدرَك شَهرَ رمَضانَ، فكَسِلَ عن العِبادةِ ولم يَجتَهِدْ ويُشمِّرْ حتَّى انتَهى الشَّهرُ فلم يَظفَرْ ببرَكةِ الشَّهرِ الكريمِ ولم يُغفَرْ له، ”
اور اس آدمی کی ناک خاک میں مل جائے جو رمضان میں داخل ہوا اور پھر اس کی مغفرت ہونے سے پہلے ہی گزر گیا، یعنی ہر اس شخص کی ناک خاک میں مل جائے جو رمضان کو پالیا اور اس نے عبادت میں سستی کی اور مہینہ ختم ہونے تک محنت اور مشقت نہ کی اور اس نے ماہ مقدس کی برکت حاصل نہ کی اور نہ ہی اپنی مغفرت کی فکر کی۔
اللہ تعالی ہم سب کی حفاظت فرمائے کہیں جبرائیل امین علیہ الصلاۃ والسلام کی بددعا اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امین ہمارے لیے تو نہیں ؟۔۔۔ غور کرنے کی ضرورت ہے ہماری زندگی میں اب تک کتنے رمضان ائے اور چلے گئے ہم نے رمضان کی صحیح قدردانی نہیں کی ۔۔۔۔کیا اس وعید کے ہم مستحق تو نہیں بن گئے ؟
رمضان المبارک کی دیگر عبادتوں میں ایک اہم ترین عبادت صدقۃ الفطر کی ادائیگی ہے ۔۔۔۔۔
غریبوں کی مدد کرنا اور ہم نے جو کچھ روزے رکھے اس میں نہ چاہتے ہوئے بھی بہت سارے زبان کے گناہ یا کوئی ایسے گناہ ہو گئے جو روزے کے تقاضوں کے منافی ہیں۔۔۔۔ روزے کےتقاضوں کے منافی کاموں کی معافی کے لیے رب ذوالجلال نے صدقۃ الفطر کا اہتمام کروایا تاکہ مالدار مسلمان اپنے گناہوں کی معافی کروا سکیں اور غریب لوگوں کی عید کی اور دیگر تیاریوں میں سہولت ہو سکے ۔۔۔
جو مسلمان اتنا مال دار ہے کہ اس پر زکاۃ واجب ہے یا اس پر زکاۃ واجب نہیں، لیکن قرض اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال یا اسباب اس کی ملکیت میں موجود ہے جس کی مالیت ساڑھے باون تولے چاندی کی قیمت کے برابر یا اس سے زیادہ ہو تو اس پر عیدالفطر کے دن صدقہ دینا واجب ہے، چاہے وہ تجارت کا مال ہو یا تجارت کا مال نہ ہو، چاہے اس پر سال گزر چکا ہو یا نہ گزرا ہو۔ اس صدقہ کو صدقۂ فطر کہتے ہیں۔
جس طرح مال دار ہونے کی صورت میں مردوں پر صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے اسی طرح اگر عورت مال دار صاحب نصاب ہے یا اس کی ملکیت میں قرضہ اور ضروری اسباب سے زائد اتنی قیمت کا مال وغیرہ ہے جس کی قیمت ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت کے برابر ہے، مثلاً اس کے پاس زیور ہے جو والدین کی طرف سے ملا ہے یا شوہر نے نصاب کے برابر زیور عورت کو بطور ملکیت دیا ہے، یا مہر میں اتنا زیور ملا جو نصاب کے برابر ہے تو عورت کو بھی اپنی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا واجب ہے، ہاں اگرشوہر اس کی طرف سے اسے بتاکر ادا کردے تو ادا ہوجائے گا۔
مال دار عورت پر اپنا صدقۂ فطر ادا کرنا تو واجب ہے، لیکن اس پر کسی اور کی طرف سے ادا کرنا واجب نہیں، نہ بچوں کی طرف سے نہ ماں باپ کی طرف سے، نہ شوہر کی طرف سے۔
البتہ مال دار آدمی کے لیے صدقۂ فطر اپنی طرف سے بھی ادا کرنا واجب ہے، اپنی نابالغ اولاد کی طرف سے بھی، نابالغ اولاد اگر مال دار ہو تو ان کے مال سے ادا کرے اور اگر مال دار نہیں ہے تو اپنے مال سے ادا کرے۔ بالغ اولاد اگر مال دار ہے تو ان کی طرف سے صدقۂ فطر ادا کرنا باپ پر واجب نہیں، ہاں اگر باپ ازخود ادا کردے گا تو صدقۂ فطر ادا ہوجائے گا۔۔۔۔
گیہوں کے ذریعے بھی ادا کیا جا سکتا ہے اور اسی حدیث میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقۃ الفطر کا جس میں نصاب بتایا کھجور اور کشمش کو بھی شمار فرمایا ہے ۔۔۔۔گیہوں کے ذریعے ادائیگی کرتے ہیں تو غریبوں کی امداد کم ہوتی ہے اس لیے کھجور اور کشمش سے ادا کرنے کا بھی طریقہ بتایا گیا ۔۔۔۔بہت زیادہ دشواری نہ ہو تو اچھا ہے کھجور کے ذریعے یا کشمش کے ذریعے اپنا صدقۃ الفطر ادا کریں ۔۔۔۔عید کی نماز پڑھنے سے پہلے پہلے صدقۃ الفطر ادا کر دینا ضروری ہے ۔۔۔۔اچھا ہے رمضان المبارک کے اخری ایام میں صدقۃ الفطر یاد سے ادا کر دیجئے ۔۔۔۔۔جو انسان جس جگہ رہتا ہے اس جگہ کی مناسبت سے صدقۃ الفطر کی قیمت ادا کریں گے ۔۔۔۔۔ادا کہیں بھی کریں مگر جہاں رہتے ہیں وہاں کی قیمت کا اندازہ لگایا جائے گا ۔۔۔
# صدقۃ الفطر کی رقم ہو یا صدقۃ الفطر میں دی جانے والی اشیاء صرف مسلمانوں کا حق ہے کسی غیر مسلم کو صدقۃ الفطر کی رقم یا صدقۃ الفطر میں دی جانے والی چیزیں نہیں دی جا سکتی ۔۔۔۔۔
اب جتنے دن بچے ہیں رمضان المبارک کے ختم ہونے میں ان دنوں کی خوب قدر کیجیے اللہ کو منائیے ،دن رات عبادت کیجیے قران پاک کی تلاوت کیجئے استغفار کیجئے خوب یکسوئی کے ساتھ عبادت میں لگے رہیے (اگرچہ ہماری عبادت کا معیار اللہ تعالی کی شان اقدس کے معیار کے مطابق نہیں ہے مگر پھر بھی جو ممکن ہے اخلاص اور خشوع و خضوع کے ذریعے ) عبادت اس معیار کی کیجئے کہ اپ کا دل اپ کو گواہی دے کہ میں نے اپنے رب کو منانے کی فکر کی ہے اور میرا رب ضرور مان جائے گا میرے منانے سے ۔۔۔۔
جتنی طاق راتیں باقی رہ گئی ہیں ان طاق راتوں میں اہتمام کے ساتھ عبادت کرتے رہیے ہو سکتا ہے جو طاق راتیں باقی رہ گئی ہیں ان میں سے کوئی رات شب قدر ہو اور شب قدر کی عبادت ہم کو اگر نصیب ہو گئی تو ہم بڑے نصیب والے ہو سکتے ۔۔۔۔
اللہ تعالی کے راستے میں صدقہ اور خیرات کا معمول بنا لیجئے ۔۔۔
حرمین شریفین کے ائمہ اور بہت سارے اللہ والے اپنے خطبوں میں سارے لوگوں کو یہ مشورہ دیتے ہیں کہ ہر رمضان کی رات میں اور خاص طور پر طاق راتوں میں اللہ کے راستے میں صدقہ اور خیرات کرنے کا معمول بنا لیجئے ہو سکتا ہے ہمارا وہ صدقہ اور خیرات اللہ کی بارگاہ میں مقبول ہو جائے۔۔۔
رمضان کی آخری رات (جسے عید کی رات یا لیلۃ الجائزہ بھی کہتے ہیں) اللہ تعالیٰ مومنین کو ان کے روزوں اوردیگر عبادتوں کا مکمل اجر و ثواب عطا فرماتے ہیں یہ رات مغفرت اور بخشش کی رات ہے، جس میں جہنم سے آزادی کا پروانہ تقسیم کیا جاتا ہے। اس رات کی فضیلت اور عبادت کا خاص اہتمام کرنا چاہیے۔۔۔۔۔
رمضان کی آخری رات (لیلۃ الجائزہ) کی فضیلت:
انعام کی رات: روایات کے مطابق، آخری رات کو اللہ تعالیٰ اپنے روزہ دار بندوں کو ان کے اعمال کا مکمل اجر "انعام” (جائزہ) کے طور پر عطا فرماتے ہیں۔۔۔۔۔
مغفرت: اس رات اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد فرماتے ہیں۔۔۔۔۔
عبادت کی تاکید: آخری عشرے کی طاق راتوں اور خصوصاً آخری رات کو اصطلاح میں لیلۃ الجائزہ بھی کہا جاتا ہے میں قیام (عبادت) کی بہت تاکید کی گئی ہے۔۔۔۔۔۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ اخری جو ایام باقی ہیں اس میں خوب اللہ کو منایا جائے اور اللہ تعالی کی طرف سے جہنم سے ازادی اور مغفرت کا پروانہ جن لوگوں کو ملتا ہے اس میں اپنے اپ کو شامل کرانے کے لیے خوب عبادتوں کا اوردعاؤں کا اہتمام کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔۔۔
اللہ تعالی ہم سب کو رمضان المبارک کا خیر نصیب فرمائے رمضان میں ہم سب کی مغفرت فرمائے اور رمضان المبارک میں اللہ تعالی نے جیسی ہماری تربیت کروائی ہے اسی تربیت کے مطابق ما بقیہ زندگی گزارنے کی توفیق نصیب فرمائے
Like this:
Like Loading...