نیپال کی عوام کو نئی حکومت اور نیاقائد مبارک ہو
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایک زمانے میں ایشیا کا جنوب مشرق سیاسی طور پر ٹھنڈا ٹھنڈا ہوا کرتا تھا ۔ اس حصے کے نوجوانوں کو ہنگامی یا استثنائی حالات کے علاوہ سیاسی معاملات میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہوتی تھی لیکن پھر سری لنکا میں اقتدار کی بزورِ قوت تبدیلی رونما ہوگئی تو پتہ چلا خون گرم ہے۔ 2020ء میں مہندا راجا پاکسے سری لنکا کے صدر اور ان کے بھائی گوٹا بایا راجا پاکسے وزیر اعظم منتخب ہوگئے۔ 2021ء میں ان ہی کے ایک بھائی باسیل کو وزیر خزانہ بنا دیا گیا اورچمل راجاپکشے کے پاس زراعت و ماہی گیری وغیرہ کے قلمدان تھے ۔ یہ طاقتور خاندان پوری طرح ملک سیاہ و سفید کا مالک بن گیا تھا لیکن 2022 میں جب عوام کا غم غصہ پھوٹا تو یہ دیکھتے دیکھتے یہ تارِ عنکبوت بکھر گیا۔ اس تبدیلی میں نوجوانوں کا بہت بڑا حصہ تھا مگر دوسال بعد جب انتخابات ہوئے تو مارکسی نظریات کے حامی انورا کمارا ڈسا نائیکےسری لنکا کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔اس سے قبل نیپال کے اندر 2008ء میں بادشاہت کےا ختتام پرشدت پسند کمیونسٹ ماؤ نواز پارٹی کے سربراہ پشپا کمال دہل عرف پرا چندا تین دفعہ نیپال کے وزیراعظم بنے تھے ۔ان دونوں پارٹیوں نے پہلے اپنے اپنے ملک میں مسلح جدوجہد کے ذریعے کمیونسٹ انقلاب لانے کی کوشش کی مگر پھر قومی دھارے میں شامل ہو گئیں ۔
نیپال میں 6؍ ماہ قبل سری لنکا جیسی اقتدار کی تبدیلی واقع ہوئی اورہوا مخالف سمت میں چل گئی ۔ وہاں عوامی انقلاب نے ماونواز کمیونسٹ پارٹی کے وزیر اعظم کے پی شرما اولی کو اقتدار سے بے دخل کردیا ۔ نئی نسل (جین زی) کی یہ تحریک 5 مارچ 2026 کے انتخاب سے انجام پذیر ہوئی ۔ نیپالی ایوانِ نمائندگان کے انتخابات میں تقریباً 60 فیصد ووٹ پڑے اور 165؍ انتخابی حلقوں کے نتائج نے واضح طور پر بالیندرشاہ عرف بالین کو ملک کاوزیر اعظم چن لیا ۔ بالین نے 4 مرتبہ کےوزیر اعظم کے پی اولی سمیت ساری روایتی سیاسی جماعتوں کو عبرتناک شکست سے دوچار کردیا ۔ راجدھانی کاٹھمنڈو کےجھاپا۔5 انتخابی حلقہ میں نیپال کی سب سے پرانی سیاسی جماعت سی پی این۔یو ایم ایل کے صدر سابق وزیراعظم کے پی شرما اولی کے مقابلے بالین میدان میں اترے اور سیدھی ٹکر لے کر نیپال کی قدیم سیاسی جماعت کا غلبہ ختم کر دیا ۔ الیکشن کمیشن کے جاری کردہ اعدادو شمار میں بالین کی مقبولیت اور اولی ذلت کا راز پنہاں ہے۔
35 سالہ بالین شاہ کو اس بار 68348 ووٹ ملے جبکہ 74 برس کے اولی محض 18734 ووٹ حاصل کرپائےیعنی ساڑھے تین گنا سے زیادہ ووٹ حاصل کرکے تقریباًپچاس ہزار کے فرق سے شاندار جیت درج کرائی ۔ 2014 میں اروند کیجریوال نے نریندر مودی کو وارانسی میں جاکر ہرانے کی کوشش کی تھی مگر ناکام رہے ورنہ ملک نقشہ ہی کچھ اور ہوتا۔ بالین کی سیاسی جماعت راشٹریہ سوتنتر پارٹی( آر ایس پی) کی تشکیل 2022 میں روی لامیچھانے نے کی تھی۔ اس نوزائیدہ سیاسی پارٹی نے اتوار کی صبح 7 بجے تک اعلان کردہ 129 سیٹوں میں سے اکیلے 117 سیٹوں جیت لیں۔ اس کے مقابلے نیپالی کانگریس 17 نشستیں جیت سکی ۔ اشتراکیوں میں سے کمیونسٹ پارٹی آف نیپال کو 7نشستوں پر کامیابی ملی جبکہ نیپال کمیونسٹ پارٹی کو 7 نشستوں پر قناعت کرنی پڑی ۔ شرمک شکتی پارٹی (ایس ایس پی) نے 3 سیٹوں پر برتری حاصل کی اور راشٹریہ پرجاتنتر پارٹی (آر پی پی) کے کھاتے میں بھی صرف ایک سیٹ آئی جبکہ ایک سیٹ پر آزاد امیدوار کا قبضہ رہا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پارٹی اس وقت مزید 25 نشستوں پر آر ایس پی آگے چل رہی تھی۔ آر ایس پی نے کاٹھمنڈو کی تمام 10 سیٹوں پر کلین سویپ کرتے ہوئے آس پاس کے علاقے مثلاً بھگت پور کی 2 نشستیں،للت پور کی 3 نشستیں بھی جیت کر کئی بڑے رہنماوں اور سابق وزراء سمیت دیگر جماعتوں کا نام و نشان مٹا دیا۔
نیپال ایک زمانے میں دنیا کی واحد ہندوریاست یعنی ہندو راشٹر ہوا کرتاتھا ۔ وہاں اقتدار کی خاطرولیعہد دیپیندر سنگھ نے ماں اور باپ سمیت خاندان کے نو افراد کو قتل کرکے خودکشی کرلی تھی۔ اس ہندو راشٹر کے خلاف 1996-2006 کے درمیان ماؤ نوازوں نے بغاوت کر دی ۔ اس کے نتیجے میں برپا ہونے والی کشمش میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے مگر بالآخر بادشاہت کا خاتمہ ہو گیا ۔اس کے بعد نیپال کے اندر مستحکم حکومت قائم نہیں ہوسکی۔ پچھلے 18 سالوں میں 14 حکومتیں بنیں اور نیپال ہندوستان اور چین کی زور آزمائی کا اکھاڑہ بن گیا۔ 2008 سے جاری اس سیاسی اتھل پتھل کے بعد بالین شاہ کی قیادت میں ایک نئے سیاسی دور کے آغاز ہوا ہے۔ ان سے توقع ہے کہ وہ اپنی مقبولیت کو مؤثر حکمرانی میں تبدیل کرکے نیپال کو سیاسی استحکام دے سکیں گے تاکہ معاشی ترقی کی راہیں ہموار ہو سکیں ۔ بالیندر شاہ نہ صرف نیپال کی پارلیمانی تاریخ میں سب سے کم عمر وزیر اعظم ہوں گے بلکہ وہ ملک کے پہلے مدھیسی وزیر اعظم بھی ہوں گے۔ وہ کسی سیاسی گھرانے سے تو دور سماجی کا موں سے بھی سیاست میں نہیں آئے بلکہ انہوں نےموسیقی کی دنیا میں مقبولیت حاصل کی ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک ریپر سے ملک کی راجدھانی کا میئر منتخب کیا گیا ۔
بالیندر شاہ نے ویسے تو سول انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی لیکن نیپال میں انڈر گراؤنڈ ہپ ہاپ میوزک نے انہیں قومی سطح پر مشہورکیا۔ ان کے نغمے بدعنوانی اور عدم مساوات کے خلاف ہوا کرتےتھے اور وہی موضوعات اب بھی ان کے طرزِ سیاست کی علامت بنے ہوئے ہیں۔شاہ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کہا تھا، "اگر سیاست میں شامل کوئی شخص ادب یا موسیقی سے بھی وابستہ ہو تو یہ احساسات وجذبات کی تحریک برپا کرتا ہے۔” ان کا اصرار ہے کہ ، "ہمیں اپنی زندگی کے حسیّ پہلو کی بھی پرورش کرنی چاہیے اور ایک سیاست دان میں یہ حساسیت بھی ہونی چاہیے۔” ایک ایسے دور میں جبکہ عام سیاستداں ابن الوقتی اور سنگدلی کی علامت بنے ہوئے ہیں بالیندر شاہ کی شخصیت کا یہ پہلو انہیں اپنے ہمعصروں سے ممیز و ممتاز کرتاہے۔ نیپال میں جب نوجوان بدعنوانی، اقربا پروری اور پرانی سیاست کے خلاف میدانِ عمل میں اترے تو انہیں بالیندر شاہ کے اندر ایک قابل تقلید نمونہ نظر آیا ۔ نوجوانوں نے ناراضی ظاہر کرنے کے لیے ان کو اپنا قائد بنا کریہ ثابت کردیا کہ اگر نئی نسل یعنی جنریشن زیڈ بیدارا ہوجائے تو دنیا کا نقشہ بدل سکتا ہے۔
پینتیس سالہ اصلاح پسند رہنما نے کاٹھمنڈو کے میئر کے عہدے سے استعفیٰ دینے کے بعد اپنے لیے کوئی محفوظ حلقۂ انتخاب تلاش کرنے کے بجائے سیدھے سابق وزیرِ اعظم اولی کو ان کے اپنے ہی گڑھ میں چیلنج کیا اور جائنٹ کلر بن گئے۔نیپال کی پارلیمنٹ جملہ275؍ارکان پر مشتمل ہوتی ہے۔ ان میں سے165؍ ارکان براہ راست ووٹنگ (فرسٹ پاسٹ دی پوسٹ نظام) کے ذریعے منتخب کیے جاتے ہیں، جبکہ باقی 110 ارکان متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت منتخب ہوتے ہیں تاکہ تمام ہی طبقات کو مناسب نمائندگی مل سکے۔ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویٰ کرنے والے ہندوستان کو اپنے ننھے منےہم سایہ سے یہ سبق سیکھنا چاہیے شورائیت تمام لوگوں کو شریک مشورہ کرنے کا نام ہے۔ یہاں تمام طبقات کو نمائندگی دینے کے بجائے اپنے سوا سبھی کی آواز دبانے کی سعی کی جاتی ہے۔مدھیسی برادری بنیادی طور پر نیپال کے جنوبی ترائی علاقے میں آباد ہے اور طویل عرصے سے قومی سیاست میں زیادہ نمائندگی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔اس مرتبہ انہیں میں سے وزیر اعظم کا منتخب ہوجانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ایسا انقلابی قدم روایتی بزرگوں سے نہیں بلکہ نوجوان رائے دہندگان سے ہی ممکن ہے۔
بالیندر شاہ نے جب 2022 میں کٹھمنڈو کے میئر کا انتخاب بطور آزاد امیدوار جیتاتو انہوں نے شہر میں غیر قانونی تعمیرات کے خلاف کارروائی، شہری نظم و نسق کی بہتری اور شفاف انتظامیہ پر زور دیا۔ اسی عوامی مقبولیت کی بنیاد پر انہوں نے راشٹریہ سوتنترا پارٹی کو مضبوط کیا اور اسے تبدیلی اور اصلاحات کی سیاست کی علامت قرار دیا۔حالیہ انتخابی کامیابی بالین شاہ کو اقتدارپر تو فائز کردے گی لیکن ان کی ممکنہ حکومت کو کئی بڑے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ نیپال کی معیشت اس وقت سست روی، بے روزگاری اور بیرون ملک روزگار پر انحصار جیسے مسائل سے دوچار ہے۔ بڑی تعداد میں نیپالی نوجوان روزگار کے لیے بیرون ملک جاتے ہیں اور ملک کی معیشت بڑی حد تک ان کی بھیجی گئی رقوم پر منحصر ہے۔اس کے علاوہ نیپال کو بنیادی ڈھانچے کی کمی، قدرتی آفات کے خطرات اور سیاسی استحکام برقرار رکھنے جیسے مسائل کا بھی سامنا ہے۔
عوام کو امید ہے کہ بالین شاہ ان مسائل کو حل کرنے میں کامیاب ہوں گے ۔ نیپال چونکہ تین طرف سے ہندوستان کے درمیان ہے اس لیے اسے ہندوستانی داداگیری کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی نے نیپال میں کامیاب انتخابات کے انعقاد پر وہاں کے عوام کو مبارکباد دیتے ہوئے اسےوہاں کی جمہوری تاریخ میں ایک اہم سنگ میل قرار دیا۔انہوں نے قریبی دوست اور ہمسایہ کے طور پر نئی حکومت کے ساتھ مل کر امن، ترقی اور خوشحالی کے مشترکہ اہداف کے حصول کی خاطر تعاون کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ان دونوں ممالک کے درمیان تعاون اشتراک بہت ضروری ہے لیکن اس میں اگر دھونس دھمکی یا ریشہ دوانیاں شامل ہوجائیں تو اعتماد کے شیشے میں بال پڑ جاتا ہے اور ساری چکنی چپڑی باتیں بے سود ہوجاتی ہیں ۔ ماضی میں یہی ہوا ہے آئندہ اس سے سبق سیکھا جائے تو اچھا ہے۔
