Skip to content
کیا تقوی۔۔۔ ٹوپی ، لمبی داڑھی اور کرتا پاجامہ میں ہے ؟؟
ازقلم:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
———-
اسلام کی پوری عمارت جس بنیاد پر کھڑی ہے اسے تقویٰ کہتے ہیں۔ تقویٰ دراصل دل کی وہ کیفیت ہے جس میں انسان ہر لمحہ یہ احساس رکھتا ہے کہ اللہ مجھے دیکھ رہا ہے، میرے اعمال سے باخبر ہے اور ایک دن مجھے اس کے سامنے جواب دینا ہے۔
اسی لیے قرآن مجید میں بار بار انسان کو ایک ہی نصیحت کی گئی ہے: “اللہ سے ڈرو”۔
یہی تقویٰ انسان کو گناہوں سے بچاتا ہے، اس کے اخلاق کو سنوارتا ہے اور اس کی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق بناتا ہے۔
1۔ قرآن کی پہلی عالمی دعوت: اللہ سے ڈرو
قرآن مجید میں انسانوں کو سب سے پہلی اجتماعی نصیحت یہی دی گئی:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
لوگو! اپنے رب کی بندگی کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم میں تقویٰ پیدا ہو۔
(البقرہ)
یہ آیت واضح کرتی ہے کہ عبادت کا اصل مقصد تقویٰ پیدا کرنا ہے۔
نماز، روزہ، زکوٰۃ، حج … سب عبادتیں انسان کے اندر اللہ کا خوف اور ذمہ داری کا احساس پیدا کرنے کے لیے ہیں۔
2۔ ایمان والوں کے لیے خصوصی ہدایت
اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو خاص طور پر مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ
اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔
(آل عمران)
یعنی صرف زبانی ایمان کافی نہیں بلکہ زندگی کے ہر معاملے میں اللہ کا خوف اور اس کی اطاعت ضروری ہے۔
3۔ تقویٰ کامیابی کی کنجی ہے
قرآن بار بار یہ اعلان کرتا ہے:
وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اللہ سے ڈرو تاکہ تم کامیاب ہو جاؤ۔
(آل عمران)
یہاں ایک بڑی حقیقت بیان ہوئی ہے کہ حقیقی کامیابی مال، طاقت یا شہرت میں نہیں بلکہ تقویٰ میں ہے۔
4۔ قیامت کی یاد اور اللہ کا خوف
قرآن انسان کو آخرت کی یاد دلاتا ہے:
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمْ إِنَّ زَلْزَلَةَ السَّاعَةِ شَيْءٌ عَظِيمٌ
لوگو! اپنے رب سے ڈرو، قیامت کا زلزلہ بڑی ہولناک چیز ہے۔
(الحج)
یہ آیت انسان کو متنبہ کرتی ہے کہ دنیا عارضی ہے اور اصل زندگی آخرت کی ہے۔
5۔ نبی کریم ﷺ کی تعلیم
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
اتَّقِ اللّٰهَ حَيْثُمَا كُنْتَ
جہاں بھی ہو اللہ سے ڈرتے رہو۔
(ترمذی)
یعنی تقویٰ صرف مسجد تک محدود نہیں بلکہ
* گھر میں
* بازار میں
* تجارت میں
* سیاست میں
* تنہائی میں
ہر جگہ ہونا چاہیے۔
6۔ صحابہ کرامؓ کے نزدیک تقویٰ
حضرت عمرؓ نے حضرت ابی بن کعبؓ سے پوچھا:
تقویٰ کیا ہے؟
انہوں نے کہا:
“کیا آپ کبھی کانٹوں والے راستے سے گزرے ہیں؟”
حضرت عمرؓ نے کہا: “ہاں”
انہوں نے پوچھا: “آپ نے کیا کیا؟”
حضرت عمرؓ نے کہا: “اپنا دامن سمیٹ کر احتیاط سے چلا”
انہوں نے کہا:
“بس یہی تقویٰ ہے”
یعنی گناہوں کے کانٹوں سے بچتے ہوئے زندگی گزارنا۔
7۔ تقویٰ کے اثرات
قرآن کے مطابق تقویٰ کے چند عظیم فوائد ہیں:
1. اللہ کی مدد حاصل ہوتی ہے
2. مشکلات سے نکلنے کا راستہ ملتا ہے
3. رزق میں برکت آتی ہے
4. دل کو سکون ملتا ہے
5. آخرت میں کامیابی نصیب ہوتی ہے
اللہ فرماتا ہے:
وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا
جو اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے راستہ نکال دیتا ہے۔
(الطلاق)
8۔ تقویٰ کا عملی مطلب
تقویٰ کا مطلب یہ ہے کہ انسان:
* جھوٹ سے بچے
* ظلم سے بچے
* حرام سے بچے
* لوگوں کے حقوق ادا کرے
* اللہ کی نافرمانی سے بچے
* یعنی زندگی کا ہر فیصلہ اللہ کی رضا کے مطابق کرے۔
آج امت مسلمہ کی کمزوری کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہم نے تقویٰ کو چھوڑ دیا ہے۔
اگر مسلمان دوبارہ اللہ کا خوف اور تقویٰ اختیار کر لیں تو ان کی حالت بدل سکتی ہے۔
قرآن کی آخری نصیحت ہے:
فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ
جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو۔
(التغابن)
خلاصہ
تقویٰ:
* ایمان کی روح ہے
* اخلاق کی بنیاد ہے
* عبادت کا مقصد ہے
* کامیابی کی کنجی ہے
اور آخرت کی نجات کا راستہ ہے۔
اس لیے قرآن کی مسلسل آواز یہی ہے:
“اللہ سے ڈرو اور اسی کی اطاعت میں زندگی گزارو”
(1)يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ
لوگو! اپنے اس رب کی بندگی کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا، توقع ہے کہ اسی طرح تم میں تقویٰ پیدا ہوگا۔
(سورۃ البقرہ 2:21
(2) وَآمِنُوا بِمَا أَنْزَلْتُ مُصَدِّقًا لِمَا مَعَكُمْ وَلَا تَكُونُوا أَوَّلَ كَافِرٍ بِهِ وَلَا تَشْتَرُوا بِآيَاتِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَإِيَّايَ فَاتَّقُونِ
اور جو کتاب میں نے نازل کی ہے اس پر ایمان لاؤ جو اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود ہے، اور تم اس کے پہلے منکر نہ بن جاؤ، اور میری آیات کو تھوڑی قیمت پر فروخت نہ کرو، اور مجھی سے ڈرو۔
(سورۃ البقرہ 2:41)
(3) وَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ
اور اللہ سے ڈرتے رہو اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔
(سورۃ البقرہ 2:194)
(4) وَتَزَوَّدُوا فَإِنَّ خَيْرَ الزَّادِ التَّقْوَىٰ وَاتَّقُونِ يَا أُولِي الْأَلْبَابِ
اور زادِ راہ لے لیا کرو، سب سے بہتر زادِ راہ تقویٰ ہے۔ پس اے ہوش مند لوگو! مجھ سے ڈرو۔
(سورۃ البقرہ 2:197)
(5) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم ہو۔
(سورۃ آل عمران 3:102)
(6) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
اے ایمان لانے والو! دوگنا اور چوگنا بڑھا کر سود نہ کھاؤ اور اللہ سے ڈرو تاکہ تم فلاح پاؤ۔
(سورۃ آل عمران 3:130)
(7) يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ
لوگو! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا۔(سورۃ النساء 4:1)
(8) وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ
اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔
(سورۃ المائدہ 5:2)
(9) وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ
اور اللہ سے ڈرو، یقیناً اللہ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔
(سورۃ المائدہ 5:8)
(10) يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا
اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی بات کہا کرو۔(سورۃ الاحزاب 33:70)
(11) فَاتَّقُوا اللَّهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ
لہٰذا جہاں تک تم سے ہو سکے اللہ سے ڈرتے رہو۔(سورۃ التغابن 64:16)
Like this:
Like Loading...
جی ہاں ٹوپی کرتا لمبی ڈاڑھی میں بھی تقویٰ ہے
مگر اس کو دیکھنے کے لیے سنت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عینک لگانے کی ضرورت ہے