Skip to content
غم نہ کرو! یہ امریکی زوال کا آغاز ہے
ترتیب: عبدالعزیز
امریکا نے دوسری جنگ عظیم کے بعد سپر پاور کا درجہ حاصل کیا، 1945ء کے بعد سوویت یونین کے مقابلے میں امریکی معیشت اور فوج مضبوط ہوئی اور عالمی اثرو رسوخ میں اضافہ ہوا، انسانیت نے عالمی جنگ میں ہولناک تباہی دیکھی، کروڑوں انسان لقمہ ? اجل بن گئے، لاکھوں، ہنستی بستی آبادیاں برباد ہو گئیں، جو زندہ رہ گئے ان کے لیے زندگی موت سے بدتر ہو گئی، کوئی سہولت حاصل نہ رہی، دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل ہو گیا تب دنیا بھر کے لوگوں کو طاقت کے قانون کے بجائے عدل اجتماعی، اعلیٰ اخلاقی اقدار اور ہمدردی کے اصولوں کی اہمیت کا احساس ہوا، اس ضرورت کے تحت انہوں نے اقوام عالم کے درمیان تنازعات کے پرامن حل، ظالم کو ظلم سے روکنے، پسماندہ ملکوں کے مجبور و بے بس عوام کی ترقی و بہبود کے لیے ایک عالمی تنظیم ’’انجمن اقوام متحدہ‘‘ قائم کی۔ میں نے 1979ء میں کوچہ صحافت میں قدم رکھا، میں اس سے پہلے ہی مغربی اقوام، امریکا، برطانیہ، جرمنی، فرانس وغیرہ کی اخلاقی برتری سے مرعوب ہو چکا تھا بطور صحافی میں جب مغربی معاشرے میں جاری بہترین اخلاقی قدروں کی خبریں پڑھتا تو اپنی حالت پر شرم ساری ہوتی، یورپی ملکوں سے انسان تو انسان جانوروں کے حقوق کی بھی خبریں موصول ہوتیں، ایک بلی کے بچے کو جلتی عمارت سے نکالنے کے لیے ریسکیو عملے نے اپنی جان داؤ پر لگا دی، کبوتروں کو وقت پر خوراک نہ دینے والے کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا۔
مغربی ممالک خاص طور پر امریکا کی جانب سے ہر سال دنیا بھر کے ملکوں میں انسانی حقوق خاص طور پر خواتین کے حقوق، مذہبی آزادی، اقلیتوں کے ساتھ سلوک وغیرہ کی رپورٹیں جاری کی جاتیں اور ان رپورٹوں میں خاص طور پر مسلم ممالک کے حوالے سے دیے گئے اعداد و شمار اور تنقید پر دل میں ان کی عظمت مزید بڑھ جاتی اور مسلمانوں کی پستی کا احساس گہرا ہو جاتا، اخلاقی برتری، معیشت کی مضبوطی، بہترین فوجی صلاحیتوں اور جدید ترین ہتھیاروں کی تیاری نے مغربی ملکوں کو اہم طاقتیں اور امریکا کو سپر پاور بنا دیا اس دوران امریکا نے ویتنام، کوریا، افغانستان، عراق، لیبیا وغیرہ کے خلاف جنگیں لڑیں اور انہیں تباہ و برباد کر دیا اور ان ملکوں کے عوام کی زندگیاں اجیرن کردیں لیکن اس وقت تک ٹرمپ جیسا کوئی شخص امریکا کا سربراہ نہیں بنا تھا اس لیے کچھ رکھ رکھاؤ باقی تھا، اقوام متحدہ سے کسی نہ کسی درجے میں مشاورت کی گئی اور جھوٹی سچی رپورٹیں دکھا کر ان ملکوں کے خلاف جارحیت کی رسمی اجازت لی گئی، غزہ میں اسرائیل کے حملوں اور فلسطینیوں پر بدترین مظالم رکوانے کے لیے امریکا نے نہ صرف کوئی کارروائی نہ کی بلکہ فوجی اور سفارتی سطح پر اس کی بھرپور مدد کی اقوام متحدہ کو بھی کسی قسم کی مداخلت نہیں کرنے دی اور غزہ پر اسرائیلی حملے رکوانے سے متعلق قراردادیں منظور نہ ہونے دیں اور اس مقصد کے لیے ایک دو نہیں چھ مرتبہ ویٹو پاور استعمال کیا اب ایران پر امریکی حملے سے تو تمام پردے ہی ہٹ گئے ہیں، ساری دنیا امریکی اخلاقیات کی اصل سے آگاہ ہوگئی ہے۔ حملے سے قبل امریکی صدر ٹرمپ ایران سے مذاکرات کرنے ورنہ تباہ کن نتائج بھگتنے کی دھمکیاں دیتے رہے، ایران نے آمادگی ظاہر کر دی اور مذاکرات شروع ہو گئے، اس دوران امریکا خطے میں اپنی فوجی موجودگی میں اضافہ کرتا رہا، صدر ٹرمپ کے رویے سے لگ رہا تھا کہ وہ ایران پر ہر صورت میں حملہ کرنا چاہتے ہیں، اس لیے مختلف ممالک خصوصاً اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس امریکا اور اسرائیل سے حملہ نہ کرنے کی اپیلیں کرتے رہے لیکن کسی کی نہ سنی گئی، ایران کی جانب سے غیر معمولی لچک دکھانے کے باوجود عین مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کر دیا گیا، دوسرے روز ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے اہل خانہ، وزیر دفاع اور دیگر اہم رہنماؤں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ صدر ٹرمپ نے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ہی ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کا قانون نافذ کر دیا ہے، انہوں نے امریکا کے سوا پوری دنیا کے ساتھ بدترین برتاؤ کیا ہے، بے دردی سے اختیارات استعمال کیے ہیں۔ ’’امریکا فرسٹ‘‘ کا نعرہ لگا کر بیش تر ملکوں حتیٰ کہ اپنے دوست ملکوں پر بھی درآمدی ٹیرف میں غیر معمولی اضافہ کیا، اقوام متحدہ کے متعدد عالمی اداروں کی فنڈنگ روک دی جس سے انتہائی غریب ممالک میں اقوام متحدہ کے امدادی مشنز سخت مالی بحران کا شکار ہو گئے، امریکا میں مقیم تارکین وطن کے لیے سخت ترین قوانین نافذ کر دیے گئے، ان کی توہین کی گئی آزاد و خود مختار ملک کینیڈا سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ امریکا کی ایک ریاست بن جائے، گرین لینڈ ہر صورت میں حاصل کرنے کی باتیں کی گئیں وینزویلا پر حملہ کر کے اس کے صدر کو اغوا کر لیا گیا۔ امریکی صدر غزہ اور وہاں کے عوام سے متعلق انتہائی ظالمانہ یکطرفہ فیصلے کر رہے ہیں۔ غزہ کے حوالے سے انہوں نے اقوام متحدہ کو تو بالکل کارنر کر دیا ہے۔ دوسری جانب خود اپنی سربراہی میں ایک امن بورڈ تشکیل دیا ہے جس میں مختلف ملکوں کو شرکت کی دعوت اور فنڈ دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ان کی اس دعوت اور مطالبے پر خود ان کے اپنے دوست ملکوں نے بھی کان نہیں دھرے، صرف چند ملکوں کے چاپلوس اور غلامانہ ذہنیت رکھنے والے سربراہوں نے امن بورڈ میں شمولیت اختیار کی ہے، خود غزہ کو اس تنظیم میں کوئی نمائندگی نہیں دی گئی، صدر ٹرمپ کے من مانے، یکطرفہ اور جابرانہ فیصلوں نے امریکا کے دوست ممالک کی تعداد بہت کم کر دی ہے جس سے آنے والے دنوں میں دنیا میں اس کا اثر و رسوخ مزید کم ہو جائے گا، دوسری جانب امریکی معیشت پہلے ہی خراب صورتحال کا شکار تھی اسے درست کرنے کے نام پر صدر ٹرمپ کے غیر عاقلانہ فیصلوں نے اسے مزید ابتر کر دیا ہے، ٹیرف میں اندھا دھند اضافہ کی پالیسی بیک فائر کرگئی ہے۔
دنیا میں آج تک جتنی بھی سپر پاورز رہی ہیں مسلم یا غیر مسلم ان میں تین صفات مشترک تھیں، اخلاقی برتری، مضبوط معیشت اور بہترین فوج، امریکا کی اخلاقی برتری کافی عرصے پہلے ہی ختم ہو چکی تھی۔ صدر ٹرمپ کے غیر عاقلانہ اقدامات نے اسے اخلاقی تنزل کی جانب دھکیل دیا ہے۔ امریکی معیشت کی صورتحال خراب نہیں تو قابل رشک بھی نہیں ہے، امریکا اس وقت دنیا کا سب سے زیادہ مقروض ملک ہے، اس پر 24.5 ٹریلین ڈالر کا قرض ہے، اگر صدر ٹرمپ کی انتہا پسندانہ پالیسیاں جاری رہیں تو اس بات کا امکان ہے کہ معیشت کی حالت بھی خراب ہو جائے، امریکا کا فوجی تفوق آج بھی برقرار ہے لیکن یاد رہے کہ سپر پاور ہونے کے لیے صرف فوجی برتری کافی نہیں ہمارا مشاہدہ ہے کہ کسی بھی شہر یا محلے کے غنڈے کا رعب و دبدبہ اس وقت تک ہی برقرار رہتا ہے جب تک وہ اپنی چالاکیوں اور زبانی بڑھکوں سے کام چلاتا ہے، جس دن وہ کسی سے عملاً لڑ پڑتا ہے اس کا بھرم کھل جاتا ہے اور سارا دبدبہ ختم ہو جاتا ہے، ابھی تک کسی ملک نے امریکا کو چیلنج نہیں کیا تھا سب اس کی دھمکیوں سے ہی ڈر جاتے تھے لیکن صدر ٹرمپ نے وہ حالات پیدا کر دیے کہ ایران کو اسے چیلنج کرنا ہی پڑا، اگر ایران امریکا کو تھوڑا سا بھی نقصان پہنچانے میں کامیاب ہو گیا تو امریکی رعب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گا، ویسے بھی امکان یہی ہے کہ ایران امریکا جنگ مختصر نہیں ہوگی ایرانی قوم طویل جنگیں لڑنے کا بہت اچھا تجربہ رکھتی ہے۔(احمد حسن)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Like this:
Like Loading...