Skip to content
افواہوں کا طوفان اور حقیقت کی روشنی!
(مفتی عسجد رضا خان بریلوی کے بارے میں پھیلائی گئی خبروں کی حقیقت)
ازقلم: (حافظ) افتخاراحمد قادری
موجودہ دور کو اگر اطلاعات اور ذرائع ابلاغ کا دور کہا جائے تو یہ مبالغہ نہیں ہوگا۔ آج خبر چند لمحوں میں ایک ملک سے دوسرے ملک اور ایک براعظم سے دوسرے براعظم تک پہنچ جاتی ہے۔ سوشل میڈیا نے جہاں معلومات کی ترسیل کو انتہائی تیز اور آسان بنا دیا ہے وہیں اس نے افواہوں، قیاس آرائیوں اور غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ کو بھی غیر معمولی حد تک بڑھا دیا ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ اکثر لوگ کسی خبر کی تحقیق کیے بغیر ہی اسے آگے بڑھا دیتے ہیں جس کے نتیجے میں معاشرے میں بے چینی، اضطراب اور غلط فہمیاں پیدا ہو جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں ایسا ہی ایک واقعہ اس وقت پیش آیا جب بھارت کے ممتاز دینی رہنما اور قاضی القضات فی الہند حضرت مولانا مفتی عسجد رضا خان قادری بریلوی کے بارے میں سوشل میڈیا پر ایک خبر گردش کرنے لگی جس نے عقیدت مندوں اور عوام میں تشویش کی لہر پیدا کر دی۔
چند دن قبل سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبر تیزی سے پھیلنے لگی کہ بھارت کے مفتی عسجد رضا خان قادری بریلوی قاضی القضات فی الہند کو سعودی عرب میں حراست میں لے لیا گیا ہے۔ یہ خبر دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہوگئی اور ملک کے مختلف حصوں سے لوگ فون اور پیغامات کے ذریعے اس خبر کی تصدیق کرنے لگے۔ چونکہ مفتی عسجد رضا خان قادری بریلوی کا تعلق درگاہ اعلیٰ حضرت بریلی شریف سے ہے اور ان سے عقیدت رکھنے والوں کی تعداد پورے ملک میں پھیلی ہوئی ہے، اس لیے یہ خبر ان کے ماننے والوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گئی۔ کئی لوگوں نے اس خبر کو حقیقت سمجھ لیا اور مختلف انداز میں تبصرے بھی شروع ہوگئے۔ تاہم کچھ ہی دیر بعد تحقیق اور وضاحت کے بعد معلوم ہوا کہ یہ خبر دراصل ایک غلط فہمی اور افواہ کے سوا کچھ نہیں تھی۔ تفصیلات کے مطابق بھارت کے قاضی القضات فی الہند اور ان کے ساتھ متعدد علماء اور زائرین ان دنوں عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب میں موجود ہیں۔ اس روحانی سفر کے دوران افطار کے موقع پر ایک ریسٹورنٹ میں ملاقات اور کھانے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اس تقریب میں ہندوستان کے مختلف شہروں سے آئے ہوئے زائرین اور عقیدت مند بڑی تعداد میں شریک ہوگئے۔ چونکہ اس موقع پر اچانک لوگوں کا ہجوم بڑھ گیا تھا، اس لیے وہاں کی مقامی انتظامیہ اور سیکیورٹی ادارے متحرک ہو گئے۔ سعودی عرب میں اس وقت سیکیورٹی کے حوالے سے خاص احتیاطی تدابیر اختیار کی جا رہی ہیں، اس لیے پولیس موقع پر پہنچی اور معمول کے مطابق حالات کا جائزہ لیا۔ ذرائع کے مطابق یہ واقعہ ریاض کے ایک ریسٹورنٹ میں پیش آیا جہاں افطار کے بعد کھانے کے لیے علماء اور زائرین جمع ہوئے تھے۔ لوگوں کی بڑی تعداد دیکھ کر سیکیورٹی اداروں نے احتیاطی طور پر سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لیا اور وہاں موجود چند افراد سے رسمی نوعیت کی پوچھ گچھ بھی کی۔ سعودی عرب میں اس طرح کے اجتماعات پر نظر رکھنا معمول کی کارروائی کا حصہ ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب پورے خطے میں سیاسی و سیکیورٹی حالات حساس ہوں۔ تاہم اسی معمولی کارروائی کو کچھ لوگوں نے غلط انداز میں پیش کیا اور سوشل میڈیا پر یہ افواہ پھیلا دی کہ مفتی عسجد رضا خان قادری بریلوی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بعد ازاں اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے مذہبی تنظیموں اور متعلقہ افراد نے صاف طور پر کہا کہ حراست کی خبر مکمل طور پر بے بنیاد اور گمراہ کن ہے۔ جماعت رضائے مصطفیٰ کے قومی نائب صدر اور مفتی عسجد رضا خان قادری بریلوی کے داماد سلمان حسن خان، جنہیں عوام سلمان میاں کے نام سے جانتے ہیں، نے واضح بیان جاری کیا کہ علماء صرف افطار کے بعد کھانے کے لیے ایک ریسٹورنٹ میں گئے تھے جہاں عقیدت مندوں کا ہجوم جمع ہو گیا تھا۔ سیکیورٹی کے پیش نظر وہاں موجود کچھ لوگوں سے پوچھ گچھ ضرور کی گئی لیکن کسی بھی ممتاز عالم یا مفتی اعظم کو حراست میں لینے جیسا کوئی واقعہ پیش نہیں آیا۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مفتی اعظم ہند اور ان کے رفقاء اپنے طے شدہ پروگرام کے مطابق عمرہ کی ادائیگی میں مصروف ہیں اور ان کی ریاض سے مدینہ منورہ کے لیے فلائٹ بھی مقرر ہے۔ وہ مدینہ شریف روانہ ہوں گے اور وہاں قیام کے بعد اپنے شیڈول کے مطابق ہندوستان واپس آئیں گے۔ ان کے مطابق تمام علماء بخیر و عافیت ہیں اور افواہوں میں کوئی صداقت نہیں ہے۔
یہ واقعہ اس حقیقت کی ایک تازہ مثال ہے کہ سوشل میڈیا پر پھیلنے والی ہر خبر کو بلا تحقیق قبول کر لینا کس قدر خطرناک ہو سکتا ہے۔ بعض اوقات ایک معمولی واقعہ کو بڑھا چڑھا کر اس طرح پیش کیا جاتا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ خبر کا روپ اختیار کر لیتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ عوام میں بے چینی پھیل جاتی ہے اور غیر ضروری تشویش پیدا ہو جاتی ہے۔ دینی شخصیات کے بارے میں اس طرح کی افواہیں پھیلانا نہ صرف غیر ذمہ دارانہ عمل ہے بلکہ اس سے معاشرتی ہم آہنگی اور اعتماد کو بھی نقصان پہنچتا ہے۔ اسلامی تعلیمات بھی ہمیں یہی درس دیتی ہیں کہ کسی خبر کو سن کر فوراً اس پر یقین نہ کیا جائے بلکہ اس کی تحقیق کی جائے۔ قرآن کریم میں بھی واضح طور پر تاکید کی گئی ہے کہ اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لائے تو اس کی تحقیق کر لیا کرو تاکہ نادانی میں کسی کو نقصان نہ پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر نادم ہونا پڑے۔ یہی اصول آج کے دور میں اور بھی زیادہ اہم ہو جاتا ہے کیونکہ اطلاعات کے بے شمار ذرائع موجود ہیں اور ہر شخص بآسانی خبر نشر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اس واقعے کے بعد مقامی مذہبی تنظیموں اور علماء نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ خبروں سے محتاط رہیں۔ کسی بھی خبر کو آگے بڑھانے سے پہلے اس کی صداقت کی جانچ کر لینا نہایت ضروری ہے۔ اس طرح نہ صرف افواہوں کا سدباب ہو سکتا ہے بلکہ معاشرے میں سکون اور اعتماد کی فضا بھی قائم رہ سکتی ہے۔
بہر حال، مفتی اعظم ہند کے حوالے سے پھیلنے والی افواہیں بالآخر غلط ثابت ہوئیں اور حقیقت سامنے آنے کے بعد عقیدت مندوں نے اطمینان کا سانس لیا۔ اس واقعے نے ایک بار پھر ہمیں یہ سبق دیا ہے کہ اطلاعات کے اس تیز رفتار دور میں ذمہ داری اور احتیاط کا دامن تھامنا نہایت ضروری ہے۔ سچائی کی روشنی آخرکار سامنے آ ہی جاتی ہے، لیکن افواہوں کا طوفان اگر بروقت نہ روکا جائے تو وہ کئی دلوں میں بے چینی پیدا کر سکتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم سب مل کر تحقیق، ذمہ داری اور اعتدال کے اصول کو اپنائیں اور معاشرے کو بے بنیاد خبروں کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی کوشش کریں۔
*کریم گنج،پورن پور، پیلی بھیت یوپی
Like this:
Like Loading...