Skip to content
ایوانِ پارلیمان یا جنگ کا میدان ؟
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
مشرق وسطیٰ میں ایران بیک وقت اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ برسرِ پیکار ہے اور یہاں ہندوستان میں ایوان پارلیمان جنگ کا میدان بنا ہوا ہے ۔ اتفاق سے وہاں اسرائیل کی دھلائی ہورہی ہے اور یہاں اس کے جڑواں بھائی مودی پر چڑھائی ہورہی ہے۔ وطن عزیز میں ایوان زیریں کے صدر اوم برلا کو عدم اعتماد کا بل لاکر تختۂ مشق بنایا جارہا ہے اور ساتھ میں کہہ کر سہلایا بھی جارہا ہے کہ حزب اختلاف کی لڑائی کسی فردِ خاص سے نہیں بلکہ ملک کے سب سے بڑے ادارے کا وقار بحال کرنے کے لیے ہے۔ حزب اختلاف کی جانب سے بحث کی ابتداء کرتے ہوئے گورو گوگوئی نے تو اوم برلا کی تعریف میں کہا کہ وہ انفرادی طور پر بہت بھلے آدمی ہیں ۔ ارکان پارلیمان کے ساتھ ان کے تعلقات دوستانہ ہیں لیکن چونکہ ایوان میں حزب اختلاف کے ساتھ مساویانہ سلوک نہیں ہورہا ہے اس لیے یہ عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی گویا اوم برلا کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی بلا واسطہ نشانہ بنایا گیا جن کے اشارے پر یا خوشنودی کے لیےظلم و زیادتی کی جارہی ہے۔مودی بھی نیتن یاہو (بی بی) کی مانند گم سم ہیں یعنی اسرائیل سے دہلی تک پتلی حالت حالت پر رند لکھنوی کا شعر ترمیم کے ساتھ صادق آتا ہے؎
آ بی بی دونوں مل کے کریں آہ و زاریاں
تو ٹرمپ کو پکار میں چلاؤں رجیجو
کرن رجیجو فی الحال پارلیمانی امور کے وزیر ہیں۔ انہوں اپنی حکومت کی شبیہ سدھارنے کی خاطر حزب اختلاف کےبھائی بہن میں پھوٹ ڈالنے کے لیے بہادر شاہ ظفر کے اشعار تک سنا دئیے ۔ شمال مشرق کے کرن رجیجو ہندی بھی ٹھیک نہیں بول پاتے اس کے باوجود تقریر لکھنے والوں نے شاعری لکھ کر دی تو لامحالہ پڑھنا پڑا۔ اسی علاقے کےگورو گوئی نے جب اس جنگ کو فرد کا مسئلہ بنانے کے بجائے ضابطے کی خلاف ورزی قرار دیا تو رجیجو کو بھی اپنا لب ولہجہ بدلنا پڑا۔ گورو نے یاد دلایا کہ ایوان کا اسپیکر کسی مخصوص جماعت کا پشت پناہ نہیں بلکہ پورے ایوان کا سرپرست ہوتا ہے۔ سبھی کے ساتھ مساویانہ سلوک کرنا اس کی آئینی ذمہ داری ہے اور موصوف اسے ادا کرنے میں ناکام رہےہیں اس لیے ان کے اوپر سے اعتماد اٹھ گیا اور عدم اعتماد کی تحریک لائی گئی ۔ گورو گوگوئی نے اپنے الزام کی تائید میں جنرل نرونے کی کتاب کے تنازع پر راہل گاندھی کو 20؍ مرتبہ روکے جانے کی مثال دی ۔ وہ بولے حزب اختلاف کا رہنما صرف یہ جاننا چاہتا تھا کہ میدانِ جنگ میں چینی فوج کے خلاف اقدام کا حکم پانے کے لیے کئی گھنٹے کیوں لگا؟ اور پھر صرف یہ کہنے پر اکتفاء کیوں کیا گیا کہ جو ٹھیک لگے کرو۔ گورو گوگوئی کو پوچھنا چاہیے تھا کہ اگر خدانخواستہ امریکہ کے ساتھ جنگ چھڑ جاتی اور مودی جی سے پوچھا جاتا کہ کیا کیا جائے تو وہ کیا کرتے ؟ ویسے یہ سوال ہی بے معنیٰ ہے کیونکہ وہ بیچارے ایسی جرأت ہی نہیں کرتے۔
بی جے پی کو چھیڑنے کے لیے راہل گاندھی کا ذکر ہی کافی ہے۔ان کا نام سنتے ہی وہ لوگ اپنا آپہ کھوبیٹھتے ہیں ۔ اس لیے کرن رجیجو نے گورو گوگوئی کا جواب دیتے ہوئے راہل کے خلاف محاذ کھول کر ان پر سارا نزلہ اتا ر تے ہوئے کہا کہ حزب اختلاف کے رہنما کی ذمہ داری صرف اپنی تقریر سنا نے کے لیے آنا اور غیر ملکی دورے پر نکل جانا نہیں ہے۔ انہیں ایوان میں بیٹھ کر دوسروں کی گفتگو بھی سننا چاہیے ۔ کرن رجیجو بھول گئے کہ حزب اختلاف کے علاوہ حزب اقتدار کا بھی ایک رہنما ہوتا ہے جسے وزیر اعظم کہا جاتا ہے۔ اس کی بھی ذمہ داری ایوان کے مباحث کو سن کر ان کا جواب دینا ہوتا ہے لیکن بیچارے نریندر مودی تو صرف اپنے من کی بات سنانے کے قائل ہیں اور اجلاس کے دوران ان کو اگر مالدیپ کی دعوت مل جائے تو بھی وہ بھاگ کھڑے ہوتے ہیں ۔گورو گوگوئی نے چونکہ اوم برلا کی تعریف کردی تھی اس لیے کرن رجیجو نے بڑی چالاکی سے اپنی حکومت کی شبیہ سدھارنے کے لیے پرینکا گاندھی کی توصیف کی ۔ وہ بولے کانگریس کو چاہیے تھا کہ وہ پرینکا کو حزب اختلاف کا رہنما بناتے کیونکہ وہ اجلاس میں موجود رہتی ہیں اور مسکراتی بھی ہیں ۔
کرن رجیجو کے بعد اجلاس کی صدرنشین کرشن پرساد نے ازخود پرینکا سے کہا چونکہ آپ کا ذکر ہوا ہے اور ہنسنے کی تعریف بھی ہوئی ہے اس لیے اگر وہ کچھ کہنا چاہتی ہیں تو اجازت ہے۔ بی جے پی کی اس خودکشی کا پر پرینکا نے کمال حاضر دماغی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا سب سے پہلے میں بتاوں گی کہ مجھے ہنسی کیوں آئی؟ جو سرکار دن رات پنڈت نہرو کو کوستی رہتی ہے اس نے اپنی تائید میں نہرو کا مقولہ استعمال کیا ۔ اس طرح ملک کے تمام مسائل کے لیے پنڈت نہرو کو موردِ الزام ٹھہرا کر اپنی ناکامی چھپانے والی سرکار بے نقاب ہوگئی۔پرینکا گاندھی پہلے تو ہومیوپیتھ کی میٹھی گولی دی مگر پھر ایلو پیتھ کی کڑوی گولی سے بازی الٹ دی۔ وہ بولیں پچھلے بارہ سال میں موجودہ سرکار جس فرد کو ڈرانے میں ناکام رہی اور وہ حزب اختلاف کا رہنما ہےجو بلا خوف و خطر سچ بولتاہے اور موجودہ سرکار کوسچائی کو برداشت نہیں ہے اس لیے وہ لوگ راہل سے چڑھتے ہیں ۔ پرینکا جواب کرشن پرساد نے انہیں روکنے کی خاطر اگلے مقرر کا اعلان کردیا ۔ اس طرح ملمع سازی کی جو قلعی کھُل گئی تو کرن رجیجو نےراہل گاندھی کے لیے یہ اشعار پڑھے ؎
نہ کسی کی آنکھ کا نور ہوں ، نہ کسی کے گھر کا چراغ ہوں
جو بگڑ گیا وہ نصیب ہوں ، جو اجڑ گیا وہ دیار ہوں
وزیر اعظم نریندر مودی بھی اسرائیلی دورے کے بعد خود ساختہ اسیری کا شکار ہیں ۔ اس کی ابتداء آپریشن سیندور کے بعد صدر ٹرمپ کے پے درپے دعووں سے ہوا جس میں بار بار فرماتے تھے کہ ہندو پاک کی جنگ انہوں نے رکوائی ہے۔ وہ دن ہے اور آج کا دن مودی جی ان کا سامنا کرنے سے کتراتے پھر رہے ہیں ۔ اس کے بعد جب سے راہل گاندھی نے جنرل نرونے کی کتاب اٹھائی ہے وہ ان سے بھی ڈرتے پھر رہے ہیں۔ ان کے اندر ایوانِ پارلیمان میں آنے کی ہمت نہیں ہے۔ اسرائیل دورہ کی بڑی بڑی باتیں بھی موصوف کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہیں۔ اس لیے وہ نہ تو آیت اللہ خامنہ ای کے لیے تعزیت کا اظہار کرپارہے ہیں اور نہ ایرانی رہنماوں سے نظر ملانے کی حالت میں ہیں ۔ اس کے علاوہ ایپسٹِن فائل میں نام ، ہردیپ پوری کا ملوث ہونا یا اڈانی کے خلاف امریکی سمن نے وزیر اعظم کا ناطقہ بند کررکھا ہے اور اب وہ نہ تو بی جے پی کی آنکھ کا نور ہیں اور نہ سنگھ کے دل کا قرار ہیں ۔ ان کی حالت آخری مغل کی طرح بگڑے ہوئے نصیب اور اجڑے دیار کی سی ہوگئی ہے۔
مذکورہ بالا بحث میں حصہ لیتے ہوئے کانگریس کے منیش تیواری نے ایک انگریزی مقولہ کہا جس مفہوم ہے جمہوریت میں حکومت اپنی چلاتی ہے مگر حزب اختلاف کو اپنے اظہار خیال کا موقع ہوتا ہے۔ موجودہ خوفزدہ حکومت چونکہ حزب اختلاف کے اس بنیادی حق کو اسپیکر کے ذریعہ پامال کروارہی ہے اس لیے عدم اعتماد کی تحریک لانے کی ضرورت پڑی ہے۔ مودی سرکار کا مسئلہ یہ ہے کہ گوں ناگوں وجوہات کے سبب اس نے اپنے سے طاقتور امریکہ کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں اس لیے وہ اس کے آگے چوں تک نہیں کرتی۔ وہ اپنے سے کمزور حزب اختلاف سے بھی اسی طرح کی بلاشرط اطاعت کی خواہاں ہے اور جب وہ توقع پوری نہیں ہوتی تو وہ بے چین ہوجاتی ہےنیز ڈرانے دھمکانے لگتی ہے۔ مودی سرکار کو معلوم ہونا چاہیے کہ حزب اختلاف کی وہ مجبوریاں نہیں ہے جو اس کی ہیں۔ اس لیے وہ تو سوال پوچھے گا ۔ ایسے میں اس سے بھاگنا کسی کام نہیں آئے گا ۔
اسپیکر کے خؒاف عدم اعتماد کی تحریک کو ناکام ہونا تھا سو ہوگئی مگر اس نے موجودہ سرکار کو پوری طرح برہنہ کردیا۔ اب برلا یا مودی ایوان پارلیمان میں پوری طرح بے وزن ہوچکے ہیں ۔ اس معاملے میں پارلیمانی کامیابی کے باوجود اس کی عزت کا جنازہ نکل چکا ہے۔ یہ معاملہ اختتام کو نہیں پہنچا اسپیکر کے خلاف عدم اعتماد کے بعد الیکشن کمیشن کو اسی طرح گھیرا جائے گا اور یہ سلسلہ جاری رہے گا اور موجودہ سرکار گھٹ گھٹ کر مرتی رہے گی ۔ یہی اس کا مقدر ہے کہ اقتدار میں تو رہے مگر اس کی کوئی عزت و احترام نہ ہو۔ نرگسیت کا شکار بڑ بولے وزیر مودی کی حالتِ زار پر یہ نغمہ صادق آتا ہے؎
ان کو یہ شکایت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے
اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے
کچھ کہنے پہ طوفان اٹھا دیتی ہے دنیا
اب اس پہ شکایت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے
Like this:
Like Loading...