Skip to content
عید کی سچی خوشی
مفاہمت (Reconciliation)، سمجھ بوجھ (Understanding) اور معافی…..
ٹوٹتے گھروں کو جوڑنے کی کوشش
تحریر: عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
مصنف: سکونِ خانہ — فیملی کاؤنسلنگ گائیڈ۔۔۔. ازدواجی تنازعات اور ان کی کاؤنسلنگ۔۔۔۔بند گلی سے نکلنے کا راستہ……..
—————————–
*(1)ہمارا بڑا تہوار*
عیدالفطر مسلمانوں کی اجتماعی زندگی کا ایک عظیم اور روح پرور تہوار ہے۔ یہ صرف خوشی، جشن اور ظاہری مسرت کا نام نہیں بلکہ روحانی تربیت اور اخلاقی تجدید کا دن بھی ہے۔ رمضان المبارک کا مہینہ انسان کو صبر ، برداشت (Tolerance)، مفاہمت (Reconciliation)، رفاقت (Companionship)، تقویٰ، ایثار اور محبت (Love)اور روحانیت کی تعلیم دیتا ہے۔ جب یہ روحانی تربیت اور تعلق با اللہ اپنے عروج کو پہنچتی ہے تو عید کی خوشیاں اس تربیت کا عملی اظہار بن کر سامنے آتی ہیں ۔
عیدالفطر صرف ایک تہوار نہیں بلکہ دلوں کی تطہیر اور رشتوں کی تجدید کا دن ہے۔ رمضان کی روحانی فضا انسان کو یہ سبق دیتی ہے کہ دلوں کی کدورتیں مٹا دیں جائیں ،انا eggo کو فنا کیا جائے اور محبت کے رشتے مضبوط سے مضبوط کیے جائیں۔ اسی لیے مسلمان عید کی نماز ادا کرنے کے بعد ایک دوسرے سے گلے ملتے ہیں، گلے شکوے دور ہوتے ہیں ایک دوسرے کو مبارکباد دیتے ہیں اور باہمی محبت و اخوت کا اظہار کرتے ہیں۔
گلے ملنے سے دلوں کے فاصلے کم ہو گئے
عید آئی تو رنج و الم دھل سے گئے
(2)یہ کیسی عید ہے
لیکن آج کے معاشرتی حالات میں ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ بہت سے گھروں میں عید کی خوشیاں مکمل نہیں ہوتیں ۔
کہیں شوہر اور بیوی کے درمیان ناراضگی ہے ۔
کہیں سسرال کے تنازعات (Family Conflicts) نے گھر کا سکون متاثر کر رکھا ہے ۔
آنا eggo اور ضد نے ہنستے مسکراتے گھروں میں آگ لگادی ہے ۔
مادیت نے روحانیت پر غلبہ پالیا محض دوسروں کی نقالی سے ۔
چھوٹے خانگی جھگڑوں شکررنجیوں نے بڑے تنازعات کو جنم دے یا اور حاسدین اسے ہوا دینے لگے۔
کہیں معمولی اختلافات اس قدر بڑھ جاتے ہیں کہ بات طلاق، علیحدگی اور کورٹ کچہری تک پہنچ جاتی ہے ۔
یہ صورتحال صرف ایک خاندان کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے معاشرے کے لیے ایک سنجیدہ سماجی بحران بنتی جا رہی ہے ۔
—
(3)خاندانی (عائلی) نظام کی اہمیت
اسلامی تہذیب میں خاندان کو بنیادی اکائی کی حیثیت حاصل ہے۔ ایک مضبوط خاندان ہی ایک مضبوط معاشرہ تشکیل دیتا ہے۔ اگر خاندان مستحکم ہو تو معاشرہ بھی مستحکم ہوتا ہے اور گھر سکون کا گہوارہ ۔اور اگر خاندان ٹوٹنے لگیں تو معاشرتی بنیادیں بھی کمزور ہو جاتی ہیں اور سماجی ساکھ بھی متاثر ۔
قرآن مجید میاں بیوی کے رشتے کو سکون اور محبت کا ذریعہ قرار دیتا ہے :
> “اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے سکون حاصل کرو اور اس نے تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کر دی۔”
رسول اللہ ﷺ نے بھی خاندانی تعلقات کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:
> “تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے گھر والوں کے لیے سب سے بہتر ہو۔”
(ترمذی)
یہ حدیث ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل بھلائی اور نیکی کا معیار یہی ہے کہ انسان اپنے گھر والوں کے ساتھ حسنِ سلوک کرے ۔
آؤ تازہ مصالحت کر لیں
پچھلی باتوں پہ ڈال کر مٹی
—
(4)جدید معاشرہ اور خاندانی بحران
آج کی دنیا تیز رفتار زندگی، معاشی دباؤ (Financial Pressure) اور ذہنی تناؤ کا دور ہے۔ سوشل میڈیا (Social Media) کا غیر متوازن استعمال، انا پرستی، ضد اور جذباتی دوری نے میاں بیوی کے تعلقات کو متاثر کیا ہے۔
نتیجتاً معاشرے میں جو مسائل عام ہو رہے ہیں ان میں شامل ہیں:
ازدواجی ناچاقی اور عائلی جھگڑے (Family Conflicts)
– ساس اور بہو کے تنازعات
معاشی مسائل اور مالی دباؤ
سوشل میڈیا کے باعث جذباتی فاصلے
انا، ضد اور ہٹ دھرمی
طلاق اور خلع کے بڑھتے ہوئے واقعات
جب ایک گھر ٹوٹتا ہے تو اس کا اثر صرف میاں بیوی تک محدود نہیں رہتا بلکہ بچوں کی شخصیت اور ذہنی صحت بھی متاثر ہوتی ہے ۔
زندگی میں یہ ہنر بھی آزمانا چاہیے
جنگ کسی اپنے سے ہو تو ہار جانا چاہیے
—
(5)بچوں پر خاندانی انتشار کے اثرات
خاندانی تنازعات کا سب سے زیادہ نقصان بچوں کو اٹھانا پڑتا ہے۔ بچے جب اپنے والدین کو جھگڑتے یا الگ ہوتے دیکھتے ہیں تو ان کے دل و دماغ پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
ایسے بچے اکثر:
احساسِ عدم تحفظ کا
شکار ہو جاتے ہیں
ذہنی دباؤ اور اضطراب میں مبتلا رہتے ہیں
تعلیم اور شخصیت کی نشوونما میں مشکلات کا سامنا کرتے ہیں
اسی لیے ضروری ہے کہ خاندانی اختلافات کو بروقت حل کیا جائے تاکہ بچوں کا مستقبل محفوظ رہ سکے
دلوں میں فاصلے بڑھ جائیں تو مشکل ہو ہی جاتی ہے
ایسا بھی ہوتا ہے مسکراہٹ سے کہانی بن بھی جاتی ہے
—
(6)فیملی کاؤنسلنگ (Family Counseling) کی ضرورت
ان حالات میں فیملی کاؤنسلنگ ایک مؤثر اور مہذب طریقہ بن کر سامنے آئی ہے۔
فیملی کاؤنسلنگ دراصل ایک ثالثی (Mediation) اور مشاورتی عمل ہے جس میں خاندان کے افراد اپنے اختلافات کو سمجھداری، صبر اور گفتگو کے ذریعے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس میں ایک ماہر مشیر یا Family Counsellor فریقین کو ایک دوسرے کے جذبات اور مسائل کو سمجھنے کا موقع دیتا ہے۔
اسلام میں بھی مصالحت اور ثالثی کی بڑی اہمیت بیان کی گئی ہے۔
قرآن کریم میں ارشاد ہے:
> “اور اگر تمہیں میاں بیوی کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہو تو ایک ثالث مرد کے خاندان سے اور ایک عورت کے خاندان سے مقرر کرو۔ اگر وہ اصلاح چاہیں گے تو اللہ ان کے درمیان موافقت پیدا کر دے گا۔”
(سورہ النساء)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “کیا میں تمہیں نماز، روزہ اور صدقہ سے بھی افضل عمل نہ بتاؤں؟ وہ ہے لوگوں کے درمیان صلح کرانا۔(ابوداؤد)
یہ حدیث واضح کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان صلح کرانا ایک عظیم نیکی ہے۔
—
(7)ایک متاثر کن واقعہ
فیملی کاؤنسلنگ کے ایک Counselling Session میں ایک ایسا خاندان سامنے آیا جس میں شوہر اور بیوی معمولی اختلافات کے باعث کئی مہینوں سے الگ رہ رہے تھے۔ انا اور ناراضگی اس حد تک بڑھ چکی تھی کہ بات طلاق تک پہنچ گئی تھی۔
Counselling کے دوران دونوں کو ایک دوسرے کے جذبات سمجھنے کا موقع ملا۔
بیوی نے کہا کہ اسے صرف عزت اور توجہ چاہیے تھی، جبکہ شوہر نے اعتراف کیا کہ مصروفیات اور غصے کی وجہ سے وہ اس کے احساسات کو سمجھ نہیں سکا۔
چند نشستوں کے بعد دونوں کے درمیان مفاہمت (Reconciliation) ہو گئی۔
اتفاق سے عیدالفطر قریب تھی۔ عید سے ایک دن پہلے شوہر اپنی روٹھی بیوی کو لینے گیا اور محبت سے اسے گھر لے آیا۔
جب بچوں نے اپنے والدین کو دوبارہ ایک ساتھ دیکھا تو ان کے چہروں پر جو خوشی تھی وہ کسی بھی عید سے کم نہ تھی۔
وہ کیا گیا کہ رفاقت کے سارے لطف گئے
میں کس سے روٹھ سکوں گی کسے مناؤں گی
یہی دراصل عید کی سچی خوشی تھی۔
—
(8)عیدالفطر: معافی اور مفاہمت کا پیغام
عیدالفطر دراصل معافی اور مفاہمت کا پیغام دیتی ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “جو شخص معاف کر دیتا ہے اللہ اس کی عزت میں اضافہ فرماتا ہے۔”
(مسلم)
ایک شاعر نے عید کے پیغام کو یوں بیان کیا ہے:
کبھی جو دل میں ہو کدورت تو مٹا بھی دینا
یہ عید کا دن ہے کسی کو منا بھی لینا
اگر عید کے دن:
کوئی شوہر اپنی ناراض بیوی کو منانے کے لیے قدم بڑھائے
کوئی بیوی دل کی کدورت ختم کر دے
کوئی خاندان دوبارہ محبت کے ساتھ ایک ہو جائے
تو یہی وہ خوشی ہے جو عید کی مسرت کو کئی گنا بڑھا دیتی ہے۔
—
(9)معاشرے کی اجتماعی ذمہ داری
خاندانی استحکام صرف میاں بیوی کی ذمہ داری نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا اور نہ اسے بے سہارا چھوڑتا ہے۔”
(بخاری)
علماء، دانشور، سماجی کارکن اور تعلیمی اداروں کو چاہیے کہ وہ معاشرے میں Family Counseling اور Mediation کے تصور کو فروغ دیں۔
اس مقصد کے لیے چند عملی اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
مساجد میں خاندانی
سکون کے موضوع پر خطبات
نوجوانوں کے لیے ازدواجی تربیتی پروگرام
فیملی کاؤنسلنگ مراکز کا قیام
عائلی تنازعات کو عدالت کے بجائے پہلے Counselling کے ذریعے حل کرنے کی کوشش
—
(10)عید کی اصل خوشی
عید کی اصل خوشی نئے کپڑوں، دعوتوں اور تقریبات میں نہیں بلکہ اس میں ہے کہ:
کوئی ناراض دل مان جائے
کوئی بکھرا ہوا گھر دوبارہ آباد ہو جائے
کوئی بچہ اپنے والدین کی محبت پا لے
اور کسی خاندان میں سکون اور اعتماد واپس آ جائے
دلوں کی برف پگھل جائے تو گھر آباد ہوتے ہیں
محبت کے چراغوں سے ہی گھر آباد ہوتے ہیں
اگر ہماری کوشش سے ایک گھر بھی ٹوٹنے سے بچ جائے تو یہی ہماری سب سے بڑی کامیابی اور عید کی سچی خوشی ہوگی۔
—
محبت بڑھاؤ…..گھر بچاؤ
آج کی دنیا میں جہاں زندگی کی رفتار تیز ہو چکی ہے اور تعلقات کمزور ہوتے جا رہے ہیں وہاں خاندان کے ادارے کو بچانا پہلے سے زیادہ ضروری ہو گیا ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
> “رشتہ توڑنے والا جنت میں داخل نہیں ہوگا۔”
(بخاری و مسلم)
یاد رکھیے:
گھر،خاندان توڑنا آسان ہے
لیکن گھر بسانا ،بناہ کرنے کے لیے ضروری ہے ۔۔۔۔حکمت ، مصلحت ، مفاہمت،صبر ، برداشت ،درگزر ،معافی، ایثار وقربانی ، اور ذات وعزت نفس ، Respect اورایک آنکھ بند رکھنے کی ترغیب ۔
آئیے اس عید کو محبت ، مفاہمت ، الفت ، برداشت اور خاندانی سکون کی عید بنائیں۔
اگر ہم دلوں کو جوڑنے اور گھروں کو بچانے کا عزم کر لیں تو یقیناً ہماری عیدیں بھی روشن ہوں گی اور ہمارے گھر حقیقی معنوں میں سکونِ خانہ بن جائیں گے۔
—
تحریر:عبدالعظیم رحمانی ملکاپوری
مصنف: سکونِ خانہ — فیملی کاؤنسلنگ گائیڈ
رابطہ: 9224599910
abdulazimmku@gmail.com
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...