Skip to content
ماہِ رمضان کا روحانی منظرنامہ:
ممبئی میں مخدوم شاہ کاصدیوں پرانا قرآنی نسخہ اور علامہ سیماب اکبرآبادی کا منظوم ترجمہ قرآن
ممبئی، 17 مارچ
ماہِ رمضان المبارک کا آغاز ہوتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں کی زندگیوں میں ایک روحانی انقلاب برپا ہو جاتا ہے۔ یہی وہ مقدس مہینہ ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کی ہدایت کے لیے قرآن مجید نازل فرمایا۔ ممبئی جیسے مصروف اور تیز رفتار شہر میں بھی رمضان کا چاند نظر آتے ہی فضا بدل جاتی ہے۔ مساجد آباد ہو جاتی ہیں، اذانوں کی صدائیں گونجتی ہیں، اور ہر طرف عبادت، ذکر اور تلاوتِ قرآن کی ایک نورانی کیفیت محسوس کی جاتی ہے۔
رمضان دراصل قرآن سے تعلق کو مضبوط کرنے کا مہینہ ہے۔ نمازِ تراویح میں قرآن سننے اور دن بھر اس کی تلاوت کرنے کا جو اہتمام کیا جاتا ہے، وہ مسلمانوں کے ایمان کو تازگی بخشتا ہے۔ اسی نسبت سے ممبئی کی سرزمین پر کچھ ایسی نادر اور تاریخی یادگاریں بھی موجود ہیں جو قرآن کریم کے ساتھ اس شہر کے گہرے روحانی تعلق کی عکاسی کرتی ہیں۔
ان میں سب سے نمایاں نام حضرت مخدوم علی ماہمی کا ہے، جو ممبئی کے قدیم علاقے ماہِم میں مدفون ایک عظیم صوفی بزرگ، فقیہ اور عالمِ دین تھے۔ ان کا آستانہ نہ صرف روحانی مرکز ہے بلکہ علم و معرفت کا ایک اہم گہوارہ بھی ہے۔
صدیوں پرانا قرآنی نسخہ: ایک زندہ معجزہ
حضرت مخدوم علی ماہمیؒ کی شخصیت علم و عمل کا حسین امتزاج تھی۔ آپ فقہِ شافعی کے جید عالم، محقق اور صاحبِ تصنیف بزرگ تھے۔ ہندوستان میں فقہِ شافعی کے اصولوں پر مدلل گفتگو کرنے والوں میں آپ کا شمار اولین صف کے علماء میں ہوتا ہے۔ آپ نے دینی علوم پر متعدد اہم کتابیں تصنیف کیں، جن میں سے کئی آج بھی علمی دنیا میں محفوظ ہیں۔
لیکن ان کی سب سے منفرد یادگار وہ قدیم قرآنی نسخہ ہے جو ان کے اپنے دستِ مبارک سے تحریر کردہ بتایا جاتا ہے۔ یہ نسخہ آج بھی ان کی درگاہ کے کتب خانے میں نہایت اہتمام کے ساتھ محفوظ ہے۔ ماہرین کے مطابق اس قرآن مجید کی عمر تقریباً چھ سو سال ہے، جو اسے برصغیر کے نادر ترین مخطوطات میں شامل کرتی ہے۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ صدیوں کا طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس نسخے کے اوراق آج بھی محفوظ اور تازہ دکھائی دیتے ہیں۔ نہ اس کی روشنائی ماند پڑی ہے اور نہ ہی حروف میں کوئی تبدیلی آئی ہے۔ اہلِ عقیدت اسے محض ایک تاریخی دستاویز نہیں بلکہ ایک روحانی کرامت سمجھتے ہیں۔
زیارتِ قرآن: عقیدت اور روحانیت کا اجتماع
رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اس مقدس نسخے کی زیارت کا اہتمام کیا جاتا ہے، جو ممبئی کی ایک اہم روحانی روایت بن چکی ہے۔ درگاہ کے منیجنگ ٹرسٹی سہیل کھنڈوانی کے مطابق ہر سال رمضان کی 29 ویں شب کو یہ بابرکت زیارت کرائی جاتی ہے، جس میں ہزاروں عقیدت مند شرکت کرتے ہیں۔
یہ منظر اپنے آپ میں روحانیت کا ایک جیتا جاگتا مظہر ہوتا ہے۔ لوگ دور دراز علاقوں سے سفر کر کے آتے ہیں، قرآن مجید کے اس قدیم نسخے کی زیارت کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں ایک نئی کیفیت محسوس کرتے ہیں۔ اس موقع پر نہ صرف مذہبی جذبات عروج پر ہوتے ہیں بلکہ قرآن سے محبت اور اس کے احترام کا جذبہ بھی نمایاں ہو کر سامنے آتا ہے۔
امسال بھی 18 مارچ کی شب اس زیارت کا اہتمام کیا جا رہا ہے، جس کے لیے ممبئی اور مہاراشٹر کے مختلف علاقوں سے زائرین کی آمد متوقع ہے۔
قرآن اور ادب کا سنگم: علامہ سیماب کا منظوم ترجمہ
ممبئی کی یہی سرزمین قرآن کریم کے ایک اور منفرد کارنامے کی بھی امین ہے، جو اردو ادب کے ممتاز شاعر علامہ سیماب اکبرآبادی سے وابستہ ہے۔
علامہ سیماب اکبرآبادی نے قرآن مجید کا ایک ایسا منظوم ترجمہ پیش کیا جسے اردو زبان میں ایک غیر معمولی ادبی اور دینی خدمت قرار دیا جاتا ہے۔ ان کے اس ترجمے کا عنوان “وحیِ منظوم” ہے، جو غالباً اردو میں قرآن کا پہلا مکمل منظوم ترجمہ ہے۔
یہ ترجمہ اپنی سادگی، روانی اور ادبی حسن کے باعث خاص اہمیت رکھتا ہے۔ علامہ سیماب نے قرآن کے مفاہیم کو اس انداز میں نظم کیا کہ وہ عام قاری کے لیے بھی قابلِ فہم ہو جائیں، جبکہ اس میں ادبی لطافت بھی برقرار رہے۔
مثلاً بسم اللہ الرحمن الرحیم کا منظوم ترجمہ دیکھیے:
نام سے اللہ کے کرتا ہوں آغازِ بیاں جو بڑا ہی رحم والا ہے نہایت مہرباں
یہ اشعار نہ صرف ترجمہ ہیں بلکہ قرآن کے پیغام کو ایک جمالیاتی انداز میں پیش کرتے ہیں، جو قاری کے دل پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔
نادر نسخے اور ادبی ورثہ
معروف صحافی جاوید جمال الدین کے مطابق انہیں علامہ سیماب کے پوتے مرحوم نعمان امام سے ممبئی میں ملاقات کا موقع ملا تھا، جہاں انہوں نے اس منظوم قرآن کی تین جلدیں دیکھیں۔ یہ نسخے آج بھی مختلف افراد کے پاس محفوظ ہیں، تاہم ماہرین کا خیال ہے کہ اس قیمتی ادبی و دینی ورثے کو کسی باقاعدہ کتب خانے یا ادارے میں محفوظ کیا جانا چاہیے تاکہ آئندہ نسلیں بھی اس سے استفادہ کر سکیں۔
علامہ سیماب کے اس کارنامے کو مختلف مکاتبِ فکر کے علماء اور ادباء نے سراہا۔ اس کی اہمیت کا اعتراف اس وقت بھی ہوا جب 28 رمضان المبارک 1401 ہجری کو محمد ضیاء الحق نے اس ترجمے کو ہجری ایوارڈ سے نوازا۔
علامہ سیماب کا تعلق آگرہ سے تھا، تاہم بعد میں وہ پاکستان منتقل ہو گئے، جبکہ ان کے اہلِ خانہ ممبئی میں آباد رہے۔ انہوں نے ادبی جریدہ “شاعر” بھی جاری کیا، جو اردو ادب میں ایک اہم مقام رکھتا تھا اور تقریباً نوے برس تک شائع ہوتا رہا۔
قرآن: ایک دائمی معجزہ
یہ دونوں مثالیں — حضرت مخدوم علی ماہمیؒ کا قدیم قرآنی نسخہ اور علامہ سیماب اکبرآبادی کا منظوم ترجمہ — اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ قرآن مجید صرف ایک مذہبی کتاب نہیں بلکہ ایک زندہ معجزہ ہے۔
قرآن کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ہر دور میں انسانوں کے لیے یکساں طور پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے الفاظ محفوظ ہیں، اس کا پیغام ابدی ہے اور اس کی تاثیر دلوں کو بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
رمضان المبارک میں جب مسلمان قرآن کی تلاوت کرتے ہیں تو وہ محض الفاظ نہیں پڑھتے بلکہ ایک ایسی ہدایت کو اپنے اندر جذب کرتے ہیں جو ان کی زندگیوں کو سنوارتی ہے۔
اختتامیہ: روایت، روحانیت اور ذمہ داری
ممبئی میں محفوظ یہ نادر قرآنی نسخے اور ادبی کارنامے نہ صرف اس شہر کی تاریخی اور روحانی شناخت کو اجاگر کرتے ہیں بلکہ یہ ایک اہم ذمہ داری کی طرف بھی متوجہ کرتے ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ان قیمتی ورثوں کو محفوظ کرنے، ان کی تحقیق کرنے اور نئی نسل تک منتقل کرنے کے لیے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔ کیونکہ یہ صرف ماضی کی یادگاریں نہیں بلکہ مستقبل کی رہنمائی کا ذریعہ بھی ہیں۔
ماہِ رمضان ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ ہم قرآن سے اپنا تعلق مضبوط کریں، اس کے پیغام کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں میں اس کو نافذ کریں۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو سنوارتا ہے اور معاشرے کو روشنی عطا کرتا ہے۔
جاوید جمال الدین
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...