Skip to content
ظریفانہ: پروقار زندگی ، پراسرار موت
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
الخوبر کے ساحل پر ہیبت زدہ کلن مائیکل نے للن المانی سے پوچھا یار وہ دور روشنی کیسی نظر آرہی ہے؟
للن بولا وہ ٹاور کے اوپر لگا بلب ہے تاکہ ظہران ہوائی اڈے سے اڑنے والے ہوائی جہازوں کو خبردار کرسکے۔
اچھا ! میں تو کچھ اور ہی سمجھا تھا ۔
کیوں تمہیں کیا لگا ؟ جو اتنے زیادہ حیران و پریشان ہوکر پوچھ رہے ہو؟؟
کچھ نہیں وہ کیا ہے کہ دن رات میزائلوں کے حملوں کی ویڈیوز دیکھتا ہوں نا۔ شاید اسی کا اثر ہے۔
للن ہنس کر بولا یار تم بھی نا ۰۰۰۰بلاوجہ فکرمند ہوجاتے ہو ۔
ارے بھیا آج کل پورا مشرق وسطیٰ ایرانی بمباروں کی زد میں ہے۔ وہ جب چاہتے ہیں اور جہاں مرضی ہو بمباری کرکے آجاتے ہیں ۔
اچھا تو کیا تم نے ان کی بمباری سے کسی اسکول میں ہلاک ہونے والے معصوم بچوں کی خبر دیکھی؟
کلن نے کہا مجھے یقین ہے کہ تل ابیب میں ایسا ہوا ہوگا مگر وہ کیا ہے کہ اسرائیلی حکومت اپنے نقصان کو چھپاتی ہے۔
اچھا ؟ یعنی تم گمان کی بنیاد پر یہ کہہ رہے ہو ؟ لیکن وہ تو جمہوری حکومت ہے وہاں ایران کی مانند صحافیوں کو اجازت کیوں نہیں دے دیتی؟
میڈیا کو اجازت ؟کیا بکواس کرتے ہو؟؟ پھر اگروہ سب کچھ سچ سچ دکھا دے تو اسرائیلی جھوٹ کیسے چلے گا؟
ارے بھیا میڈیا کے لیے سچ بتانا ضروری تھوڑی نا ہے؟ اپنے گودی میڈیا کو بلوا لیں تو وہ ایک رات میں ایران کو فتح کروادے ۔
اچھا! وہ جیسے پاکستان شکست کھا گیا تھا ؟ لیکن اس طرح افیون کی گولی کا نشہ ٹرمپ کے ایک حکم سے کیسے اتر گیا ؟ جنگ بند تو جنگ بندی ؟؟
وہ تو ٹھیک ہے لیکن اس کی بدولت ایک رات تو کم ازکم ایک سو چالیس کروڈ لوگوں نے جشن منایا۔ یہی کیا کم ہے؟
لیکن بھیا ایسے جشن کا کیا فائدہ جو جھوٹ پر مبنی ہو۔
یار دیکھو للن میں آنے والے کل کے بارے میں فکرمند ہوں اور تم ماضی کا قصہ چھیڑ بیٹھے۔ مجھے تو وہ بلب دیکھ کر میزائل کا گمان گزرا تھا۔
لیکن میں تو تمہیں بتا چکا ہوں کہ یہاں قرب جوار میں کوئی امریکی فوجی اڈہ نہیں ہے اس لیے وہ اِدھر کیوں آئے گا؟
ارے بھیا میں کہہ چکا ہوں کہ بھول چوک سے آجائے گا مگر تم مانتے ہی نہیں؟
کیسے مان لوں ؟ ان کا نشانہ تو اتنا درست ہے کہ کسی ٹاور کی جس منزل پر امریکی فوجی رکے ہوتے ہیں اسی کھڑکی سے میزائل ٹکراتا ہے۔
یار للن تمہیں ایرانیوں پر تو بہت بھروسا ہے مگر میں نے نیتن یاہو کی جو ویڈیو بھیجی اس کی صداقت کا انکار کرتے ہو۔
ارے بھائی میں پوچھتا ہوں کہ ۸؍ مارچ سے جو سربراہِ مملکت چھپا ہوا ہے وہ باہر کیوں نہیں آتا ؟ اس کی صرف ویڈیو کیوں آتی ہے؟؟
کلن بولا جنگ کا زمانہ ہے۔ اس کی جان کو خطرہ ہے۔
یوم القدس کے دن تو سارے ایرانی رہنما عوام میں آگئے ۔ ان میں ایسے بھی تھے جن کی خبر دینے پر ایک کروڈ ڈالر کے انعام ہےتو وہ خطرہ نہیں ہے؟
دیکھو بھائی اسرائیل ننھا سا ملک ہے وہاں زیادہ احتیاط کرنا پڑتا ہے۔ ایران کا کیا ہے کہ وہ فرانس ، جرمنی اور برطانیہ کو ملا دیں تب بھی اس سے بڑا ہے۔
للن بولا چلو تم نے یہ تو مانا کہ ایران کے سامنے اسرائیل مچھر کی مانند ہے مگر غزہ میں اس ڈینگو کے مچھرکی زہر ناکی دنیا دیکھ چکی ہے ۔
یار تم کبھی ہندوستان چلے جاتے ہو یا غزہ پہنچ جاتے ہو ۔ میں اس ویڈیو کی بات کررہا تھا ۔
اچھا اچھا وہ ۶؍ انگلیوں والی ویڈیو جس میں نیتن یاہو کے سارے دانت غائب ہیں ؟
کلن بگڑ کر بولاتم کہنا کیا چاہتے ہو؟ کیا وہ ویڈیو جعلی ہے؟؟
ارے بھائی ’ہم نہیں کہتے زمانہ کہتا ہے۔ آپ کی انگلی میں کوئی رہتا ہے ‘ ویسے اس ویڈیو کو میرے بجائے خود تم نے جعلی کہہ دیا ۔ ٹھیک ہے؟
یار للن کسی کی موت کا اس طرح مذاق اڑانا درست نہیں ۔انسانیت بھی کوئی چیز ہے۔
جی ہاں کلن مگر تم تو مانتے ہو کہ اگروہ زندہ ہے ایسے میں موت کا مذاق کیسے اڑگیا؟ایسے چھپ چھپ کے جینا بھی کیا جینا۔
بھائی ’جان ہے تو جہان ہے کھلے عام یا چھپ چھپ کے‘۔
چلو مان لیا لیکن یہ بتاو کہ کیا نیتن یاہو انسان کہلانے کے قابل ہے؟؟
اچھا ! انسان نہیں تو کیا درندہ ہے؟تم کہنا کیا چاہتے ہو؟؟
یہ بھی میں نے نہیں خود تم نے کہہ دیا ۔ تمہیں یاد ہے ۔ اس سے قبل علی خامنہ ای ، یحیٰ سنوار اور اسماعیل ہنیہ کی شہادت پر اس نے کیسا جشن منایا تھا ؟
جی ہاں للن مجھے افسوس ہے کہ اس نے درندگی کامظاہرہ کیا تھالیکن اس کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ اس کے ساتھ بھی وہی کیا جائے ؟
تمہاری بات درست ہے کلن لیکن سچ کہوں غزہ کی نسل کشی کے بعد اس پر فخر کرنے والے سے چاہ کر بھی ہمدردی کرنا مشکل ہے۔
میں تم سےا تفاق کرتا ہوں لیکن اب ایک اور ویڈیو نیتن یاہو کے آفیشیل ہینڈل سے اپلوڈ ہوچکی ہے۔
یار دیکھو میرے آفیشیل ہینڈل کا پاس ورڈ اگر تمہارے پاس ہو تو تم جتنی مرضی ہو ویڈیوز اس پرچڑھاتے رہو ۔ روکنے والا کون ہے؟
اس کا مطلب ہے کہ تم مان کر نہیں دوگے ۔
اس ویڈیو میں اسے کافی پیتے ہوئے دِکھایا گیا لیکن پینے کے باوجود کاغذ کے اس کپ کی کافی تو دور جھاگ بھی کم نہیں ہوتا ۔ اب اس کو کیسے سچ مانیں ؟
یار تم کہنا کیا چاہتے ہو۔ دنیا کی سب سے ذہین قوم جعلی ذہانت(آرٹی فیشیل انٹیلی جنس) سے ایک ٹھیک ٹھاک ویڈیو نہیں بنا سکتی ؟ میں تو نہیں مان سکتا۔
مت مانو ۔ میں کون ہوتا ہوں تمہیں منوانے والا؟ لیکن ان لوگوں نے لگاتار تیسری ویڈیو میں بھی ایک چوک کر دی ۔
اچھا ! اس میں کیا ہوگیا؟
اس دو منٹ کی ویڈیو میں نیتن یاہو کے ہاتھ سے اچانک انگوٹھی غائب ہوجاتی ہے۔ اب کچھ بولوں گا توتم ناراض ہوجاوگے ۔
کلن بولا ناراضی کی بات نہیں لیکن تمہارے خیال میں ایسی فاش غلطیاں کیوں سرزد ہورہی ہیں؟
بھائی ادب کی دنیا میں اسے ’جھوٹ کے پاوں نہیں ہوتے‘ کہا جاتا ہے اور ماہرین نفسیات اسے خوف و دہشت سے منسوب کرتے ہیں۔
یاراسرائیل کے خوف ودہشت کا شکار ہونے والی بات خواب و خیال سے بالا تر ہے کیونکہ ساری دنیا ان سے ڈرتی ہے۔
بھائی کلن ایک زمانے تک جو ہواّ انہوں نے کھڑا کیا تھا اس کے سبب بہت سارے لوگ ان سے ڈرتے تھے لیکن ایران اس غبارے کو پھوڑ چکا ہے ۔
اچھا تو کیا اس سے کوئی نہیں ڈرتا؟
جی نہیں ،یہودی بہت زیادہ ڈرے ہوئے ہیں۔ اسی لیے ان سے ڈھنگ کی ایک ویڈیو بھی نہیں بن پارہی ہے اور ہر کوشش مذاق بن جاتی ہے۔
کلن بولا اسی پر تو مجھے اعتراض ہے کہ تم جیسے لوگ کسی کی موت پر انسانیت سوز ہنسی مذاق کررہے ہیں ۔
بھیا اس کا آسان سا علاج ہے کہ وہ ویڈیو کی دنیا سے نکل کر حقیقت کی دنیا میں ظاہر ہو اور اپنے چہیتے نامہ نگاروں سے دس منٹ بات کرلے ۔ بات ختم۔
کلن بولا یہ کہنا تو بہت آسان ہے لیکن تم سمجھتے کیوں نہیں۔ وہ اگر زخمی ہوگیا ہو یا اس کی موت واقع ہوچکی ہو تو پوری قوم مایوسی کا شکار ہوجائے گی ۔
ارے بھائی ایران کے سب سے بڑے رہنما کی شہادت سے تو مایوسی نہیں پھیلی تو نیتن یاہو کی موت سے یہودی مایوسی کا شکار کیوں ہوں گے؟
ہاں یار للن یہی تو میں سمجھنے سے قاصر ہوں ۔ ٹرمپ کی مانند میں بھی سوچتا تھا کہ لوگ اس کی خوشی منانے سڑکوں پر آجائیں گے ۔
لیکن ایسا نہیں ہوا۔ پروقار زندگی گزارنے والے اپنےچہیتے رہنما کی خدمت میں اظہار عقیدت کرنے کے لیے وہ جان کی بازی لگا کر سڑکوں پر آگئے ۔
یار للن سچ بتاوں اگر کوئی مسلمان دہشت گرد پوپ پال کو ہلاک کردیتا تو میں خود بھی حزن و یاس کا شکار ہوجاتا ۔
چلو کم ازکم تم نے خامنہ ای کی شہادت کو پوپ پال کے برابر تو سمجھا اور اس کا ارتکاب کرنے والے کو دہشت گرد تو کہا ۔ یہی بہت ہے۔
وہ تو ٹھیک ہے لیکن تم نے میرے سوال کا جواب نہیں دیا کہ ایرانی بلاخوف و خطر سڑکوں پر کیوں آجاتے ہیں؟
بھائی دیکھو شہادت انسان کے دل سے موت کا ڈر نکال دیتی ہے ۔ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت نے اپنی قوم کو موت سے بے خوف کردیا ہے ۔
لیکن بھائی موت تو موت ہے۔ اس سے ڈرنا انسانی فطرت ہے۔
جی ہاں کلن لیکن شہادت بھی شہادت ہے۔ وہ مجبوری نہیں مطلوب ومقصود ہے ۔اس لیے اہل ایمان شہادت کی موت کو ہنستے ہوئے گلے لگاتے ہیں۔
کلن بولا بھیا تمہاری یہ منطق میرے گلے سے نہیں اتری ۔ذرا آسان کرکے بتاو ۔
میں کیا بتاوں تم علامہ اقبال کے اس شعر پر غور کرو تو ساری بات تمہاری سمجھ میں آجائے گی۔ شاعرِ مشرق کے مطابق؎
کشادِ درِ دل سمجھتے ہیں اس کو اس کو ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
یار یہ مشکل شعر ہے مگر میں اس پر غور کروں گا اور اگر سمجھ میں نہ آئے تو پھر تم سے اس کا مطلب پوچھوں گا۔
للن بولا میں بھی چاہتا ہوں کہ تم خود اسے سمجھنے کی کوشش کرو ممکن تمہارے ہاتھ کوئی ایسا گوہر نایاب آجائے جس تک میری رسائی بھی نہ ہوئی ہو۔
یار یہ تو تمہاری ذرہ نوازی ہے لیکن اب مجھے بھی موت کا ڈر کم ہوتا محسوس ہورہا ہے۔ کافی وقت ہوگیا ہے چلو کل ملتے ہیں ۔
خدا حافظ ۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...