Skip to content
حالاتِ حاضرہ اور عیدالفطر
آزمائشوں کے درمیان امید کی کرن
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
ستیزہ کار رہا ہے ازل سے تا امروز
چراغِ مصطفویؐ سے شرارِ بولہبی
قرآنِ مجید فرماتا ہے: "وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ بِشَيْءٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنفُسِ وَالثَّمَرَاتِ ۗ وَبَشِّرِ الصَّابِرِينَ”۔ یعنی ہم ضرور تمہیں خوف، بھوک، مال و جان کے نقصان اور پیداوار کی کمی سے آزمائیں گے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ (البقرہ: 155)۔ یہ آیت ہمیں اس حقیقت کی یاد دہانی کراتی ہے کہ انسانی زندگی آزمائشوں اور امتحانات سے خالی نہیں ہوتی۔ اہلِ ایمان کی زندگی میں بھی مشکلات اور مصائب آتے ہیں، مگر صبر، استقامت اور اللّٰہ تعالیٰ پر اعتماد کے ذریعے وہ ان آزمائشوں سے سرخرو ہوتے ہیں۔ اسی تناظر میں جب رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنے اختتام کو پہنچتا ہے تو عیدالفطر کی خوشیاں مسلمانوں کے دلوں میں ایک نئی روشنی اور امید پیدا کرتی ہیں۔ یہ دن صرف خوشی و مسرت کا نہیں بلکہ شکر گزاری، اخوت، انسانیت اور اللّٰہ تعالیٰ کی بندگی کا دن ہے۔ درحقیقت عیدالفطر عبادت کی تکمیل پر اظہارِ تشکر کا دن ہے۔ ایک مہینے کی مسلسل عبادت، ضبطِ نفس اور روحانی تربیت کے بعد مسلمان اس بات کا اعلان کرتے ہیں کہ رمضان کی حاصل کردہ تربیت کو وہ اپنی عملی زندگی اور معاشرتی نظام میں جاری رکھنے کا عہد کرتے ہیں۔
اسی مقصد کے پیش نظر اسلام نے عید کے ساتھ زکوٰۃ الفطر کو لازم قرار دیا ہے تاکہ عید کی خوشیاں صرف صاحبِ استطاعت طبقے تک محدود نہ رہیں بلکہ معاشرے کے کمزور اور محروم طبقات بھی اس اجتماعی مسرت میں شریک ہو سکیں۔ گویا اسلام نے عید کو صرف فرد کی خوشی نہیں بلکہ پورے معاشرے کی مشترکہ خوشی بنانے کا اہتمام کیا ہے۔ لیکن جب ہم موجودہ حالاتِ حاضرہ پر نظر ڈالتے ہیں تو دل ایک گہری بے چینی اور درد سے بھر جاتا ہے۔ دنیا کے مختلف حصّوں میں مسلمانوں کو جن مصائب، مشکلات اور آزمائشوں کا سامنا ہے، ان کے پیش نظر یہ سوال بار بار ذہن میں ابھرتا ہے کہ ایسے حالات میں عیدالفطر کی حقیقی خوشیاں کس طرح منائی جا سکتی ہیں؟
ملک میں گزشتہ چند برسوں میں مسلمانوں کے خلاف جو فضا بنی ہے، وہ انتہائی تشویش ناک ہے۔ ماب لنچنگ کے واقعات، معمولی الزامات پر ہجوم کے ہاتھوں بے گناہ افراد کا قتل، اور انصاف کے دروازوں کا بند ہو جانا معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کا ہجومی تشدّد اُس وقت بڑھتا ہے جب قانون کی حکمرانی کمزور پڑ جائے اور نفرت انگیز بیانیہ عام ہو جائے، جس سے افواہیں اور تعصبات لوگوں کو قانون ہاتھ میں لینے پر آمادہ کرتے ہیں۔ یہ صورتِ حال نہ صرف انسانی اقدار کے خلاف ہے بلکہ ملک کی تاریخی اور تہذیبی روایت سے بھی ہم آہنگ نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مسلمانوں نے اس ملک کی تہذیب، ثقافت، ادب اور تعمیر و ترقی میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، اور مشترکہ تہذیب نے ہندوستانی معاشرے کو ایک منفرد شناخت بخشی ہے۔ مسلسل فسادات، گرفتاریوں اور مذہبی شناخت سے جڑی علامتوں کو متنازعہ بنانے کی کوششوں نے خوف اور عدمِ تحفّظ کی فضاء پیدا کر دی ہے، جو کسی بھی صحت مند معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔
شہریت کے قوانین کے نام پر ایسی فضا قائم کی گئی ہے جس میں مسلمانوں کو بار بار اپنے وجود کا جواز پیش کرنا پڑتا ہے۔ ایسے حالات میں اسلام یہ تعلیم دیتا ہے کہ ظلم کے سامنے خاموشی اختیار نہ کی جائے۔ نبی کریمﷺ کا ارشاد کہ "مظلوم کی مدد کرو اور ظالم کو ظلم سے روکو” اس بات کی رہنمائی کرتا ہے کہ ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ایک اخلاقی اور دینی ذمّہ داری ہے، تاکہ معاشرے میں عدل اور انسانی وقار قائم رہ سکے۔ ساتھ ہی، شہروں کے ناموں کی تبدیلی کے ذریعے مسلم تاریخ و تہذیب کو پس منظر میں دھکیلنے کی کوشش بھی محسوس ہوتی ہے، جو محض ناموں کی تبدیلی نہیں بلکہ ایک تہذیبی روایت کو کمزور کرنے کا عمل ہے۔ مزید برآں، معاشی گھیرا بندی کی صورت میں کاروبار اور روزگار کے مواقع محدود کیے جا رہے ہیں، جس سے ایک بڑے طبقے میں عدمِ تحفّظ اور بے یقینی بڑھ رہی ہے۔ اس کے اثرات زندگی کے ہر پہلو پر پڑتے ہیں، یہاں تک کہ عید کی خوشیاں بھی اپنی حقیقی معنویت کھو دیتی ہیں۔
موجودہ صورتِ حال کسی ایک ملک تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر بھی عالمِ اسلام مختلف دباؤ اور چیلنجز سے دوچار ہے۔ بین الاقوامی سیاست میں بعض طاقتور قوتیں اپنے مفادات کے لیے مسلم ممالک کو کبھی دہشت گردی کے الزامات، تو کبھی اقتصادی پابندیوں اور سیاسی دباؤ کے ذریعے نشانہ بناتی ہیں، جس سے عالمی انصاف اور توازن کے اصول متاثر ہوتے ہیں۔ غزہ اس ظلم کی ایک دردناک مثال ہے، جہاں طویل محاصرے اور مسلسل بمباری نے ایک شدید انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔ گنجان آباد یہ علاقہ آج کھنڈرات کا منظر پیش کر رہا ہے، اور اس تباہی کا سب سے المناک پہلو معصوم بچّوں کی قربانی ہے، جن کی زندگی خوف اور محرومی کی تصویر بن چکی ہے۔ ایسے حالات میں ہر دل سے یہی دعا نکلتی ہے کہ اللّٰہ ان بچّوں کو امن، سلامتی اور حقیقی خوشیاں عطاء فرمائے۔
عالمی سیاست میں طاقتور قوتیں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے لیے بعض مسلم ممالک پر اقتصادی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور سیاسی تنہائی کے ذریعے اثرانداز ہوتی رہی ہیں۔ ایران پر عائد پابندیاں اس کی نمایاں مثال ہیں، جنہوں نے نہ صرف اس کی معیشت بلکہ پورے خطے کے استحکام کو متاثر کیا۔ ایسے اقدامات مسائل حل کرنے کے بجائے پیچیدگیوں اور انسانی بحران کو بڑھاتے ہیں، کیونکہ تاریخ بتاتی ہے کہ جبر اور دباؤ کی پالیسیاں دیرپا کامیابی حاصل نہیں کرتیں۔ پائیدار امن کے لیے ضروری ہے کہ عالمی نظام انصاف، مکالمے اور باہمی احترام پر قائم ہو۔
ساتھ ہی، یہ بھی ایک تشویش ناک حقیقت ہے کہ بعض بااثر افراد اپنے اثر و رسوخ کے بل پر سنگین جرائم، خصوصاً معصوم بچّوں کے استحصال، میں ملوث ہو کر بھی قانون سے بچ نکلتے ہیں۔ یہ صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ جب اخلاقی اقدار کمزور پڑ جائیں اور طاقت کو انصاف پر فوقیت مل جائے تو معاشرہ عدم توازن کا شکار ہو جاتا ہے۔ درحقیقت کسی بھی معاشرے کی بنیاد انصاف، اخلاق اور انسانی حرمت پر ہوتی ہے۔ ان اصولوں کے بغیر ترقی کے تمام دعوے بے معنی ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ایسا عالمی نظام قائم ہو جہاں ہر فرد قانون کے سامنے برابر ہو اور ظلم و استحصال کا مؤثر سدباب کیا جا سکے، تاکہ امن، انصاف اور انسانی وقار کو فروغ ملے۔
ان تمام تلخ حقیقتوں اور مشکلات کے باوجود عیدالفطر مایوسی کا نہیں بلکہ امید، حوصلے اور ایمان کا پیغام دیتی ہے۔ رمضانُ المبارک دراصل ایک ایسی روحانی تربیت گاہ ہے جو انسان کو صبر، ضبطِ نفس، ایثار، قربانی اور اللّٰہ تعالیٰ پر کامل اعتماد کی تعلیم دیتی ہے۔ یہی اوصاف انسان کو مشکلات اور آزمائشوں کے مقابلے میں ثابت قدم رہنے کی قوت عطاء کرتے ہیں اور ظلم و ناانصافی کے اندھیروں میں بھی امید کا چراغ روشن رکھتے ہیں۔ عیدالفطر درحقیقت اسی روحانی تربیت کے عملی اظہار کا دن ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ رمضان میں حاصل ہونے والی اخلاقی اور روحانی اقدار کو اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی میں برقرار رکھا جائے۔ اسی تناظر میں عید کا پیغام ہمیں چند بنیادی اصولوں کی طرف متوجہ کرتا ہے:
* انسانیت کی خدمت ہی حقیقی عبادت ہے۔
* مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ایمان کا تقاضا ہے۔
* باہمی اتحاد، اخوت اور باہمی احترام ہی اُمّت کی اصل طاقت ہیں۔
اسلام کی تاریخ اس حقیقت کی گواہ ہے کہ مسلمان جب بھی سخت آزمائشوں اور مشکلات سے گزرے ہیں، انہوں نے صبر، استقامت اور ایمان کی قوت کے ذریعے نہ صرف ان حالات کا مقابلہ کیا بلکہ ایک نئی توانائی اور عزم کے ساتھ آگے بڑھنے کی راہیں بھی تلاش کی ہیں۔
ایسے حالات میں عیدالفطر کی خوشیاں محض ظاہری مسرت اور رسمی جشن کا نام نہیں رہ جاتیں بلکہ یہ ایک گہرا روحانی پیغام اور عہد بن کر سامنے آتی ہیں۔ یہ دن ہمیں اس بات کی یاد دہانی کراتا ہے کہ رمضانُ المبارک کی روحانی تربیت کو صرف عبادات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے اپنی اجتماعی اور سماجی زندگی میں بھی زندہ رکھا جائے۔ اسی احساس کے ساتھ مسلمان یہ عزم تازہ کرتے ہیں کہ وہ ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز بلند کریں گے، مظلوموں کے ساتھ کھڑے رہیں گے اور انسانی وقار و احترام کے تحفّظ کے لیے اپنی ذمّہ داری ادا کرنے کی کوشش کریں گے۔ اسی جذبے کے ساتھ عید کے موقع پر دل دعا کے لیے بھی بے اختیار اٹھتے ہیں۔ ہم اللّٰہ تعالیٰ کے حضور نہایت عاجزی اور امید کے ساتھ دعا کرتے ہیں: اے اللّٰہ! دنیا بھر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد فرما۔ غزہ کے معصوم بچّوں کو امن، سلامتی اور حقیقی خوشیوں والی زندگی عطاء فرما، اور انہیں خوف، جنگ اور محرومی کے اندھیروں سے نکال کر سکون اور امید کی روشنی نصیب فرما۔
اسلامی تاریخ اس حقیقت کی روشن گواہ ہے کہ جب بھی مسلمان باہمی اختلافات سے بالاتر ہو کر اتحاد و یگانگت کا مظاہرہ کرتے رہے ہیں، انہوں نے نہ صرف اپنے داخلی مسائل پر قابو پایا بلکہ دنیا میں انصاف، اعتدال اور امن کے قیام میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ خصوصاً خلافتِ راشدہ اور اس کے بعد کے ادوار میں مسلمانوں کا یہی اتحاد، باہمی تعاون اور مشترکہ مقصد ان کی قوت و استحکام کا اصل سر چشمہ تھا۔ اسی اتحاد نے انہیں مشکلات اور آزمائشوں کے باوجود مضبوط رکھا اور انہیں دنیا کے لیے عدل و انسانیت کا پیغامبر بنایا۔
آج بھی حالات کا تقاضا یہی ہے کہ عالمِ اسلام باہمی اختلافات سے اوپر اٹھ کر اتحاد، حکمت اور باہمی تعاون کی راہ اختیار کرے، تاکہ امت کو درپیش چیلنجز کا مؤثر انداز میں مقابلہ کیا جا سکے۔ اسی احساس کے ساتھ دل اللّٰہ تعالیٰ کے حضور دعا کے لیے جھک جاتا ہے:
اے اللّٰہ! عالمِ اسلام کو اتحاد، امن اور استحکام نصیب فرما۔ ظلم اور ناانصافی کرنے والوں کو کیفرِ کردار تک پہنچا دے، اور ہمیں ایسی عید عطاء فرما جو حقیقی امن، سلامتی اور خوشیوں کی عید بن کر آئے۔ بلاشبہ اللّٰہ سبحانہٗ و تعالیٰ ہی وہ ذات ہے جو دلوں کے زخموں کو مندمل کرنے اور انسانیت کو حقیقی خوشیوں سے نوازنے پر قادر ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ عیدالفطر صرف ایک مذہبی تہوار یا رسمی جشن کا نام نہیں بلکہ اپنے اندر ایک گہرا اخلاقی اور سماجی پیغام بھی رکھتی ہے۔ رمضانُ المبارک کی ایک ماہ کی روحانی تربیت کے بعد یہ دن دراصل اس بات کا اعلان ہوتا ہے کہ انسان نے اپنے اندر صبر، ضبطِ نفس، تقویٰ اور انسان دوستی کی جو صفات پیدا کی ہیں، انہیں اپنی روزمرّہ زندگی اور اجتماعی رویّوں میں برقرار رکھے۔ یہاں ساحر لدھیانوی کا شعر یاد آرہا ہے۔
یہ عید کا دن ہے گلے آج تو مل لے ظالم
رسمِ دنیا بھی ہے موقع بھی ہے دستور بھی ہے
اسی تناظر میں عید ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ظلم، ناانصافی اور نفرت کے اندھیروں کے باوجود امید کا چراغ بجھنے نہیں دینا چاہیے۔ حالات خواہ کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں، ایمان، صبر اور باہمی ہمدردی انسان کو مایوسی سے بچاتے ہیں اور معاشرے میں امید اور حوصلے کی فضاء قائم رکھتے ہیں۔ لہٰذا اگر رمضانُ المبارک کی عبادات اور تربیت نے ہمارے اندر صبر، تقویٰ، ایثار اور انسان دوستی کے جذبات کو بیدار کر دیا ہے اور ہم ان اقدار کو اپنی زندگی میں زندہ رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں تو یہی درحقیقت عیدالفطر کی سب سے بڑی کامیابی اور اس کا حقیقی پیغام ہے۔
عیدالفطر کا اصل پیغام یہی ہے کہ تاریکی کتنی ہی گہری کیوں نہ ہو، ایمان کی روشنی کبھی بجھ نہیں سکتی۔ حالات چاہے کتنے ہی دشوار اور آزمائشیں کتنی ہی سخت کیوں نہ ہوں، اگر دل اللّٰہ تعالیٰ پر کامل یقین اور اعتماد سے روشن ہوں تو مایوسی کے اندھیروں میں بھی امید کے چراغ جلتے رہتے ہیں۔ یہی ایمان اور یقین انسان کو مشکلات کے درمیان حوصلہ، صبر اور استقامت عطاء کرتا ہے۔ اسی یقین کے ساتھ مسلمان عیدالفطر کے موقع پر اللّٰہ تعالیٰ کے حضور دعاگو ہوتے ہیں کہ وہ دنیا کو امن، عدل اور انسانیت کے احترام سے بھر دے۔ اللّٰہ ہمیں ایسی عید عطاء فرمائے جو حقیقی معنوں میں امن، انصاف اور باہمی محبت کی نوید بنے اور پوری انسانیت کے لیے خیر و بھلائی کا پیغام ثابت ہو۔
نہ ہو ناامید، ناامیدی زوالِ علم و عرفاں ہے
امیدِ مردِ مومن ہے خدا کے راز دانوں میں
🗓 (17.03.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...