Skip to content
مودی اور ٹرمپ: اچھا صلہ دیا تونے میرے پیار کا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
گودی میڈیا فی الحال ہندوستانی سکیورٹی ایجنسی (NIA) نے ایک بڑے آپریشن میں کئی جاسوسوں گرفتاری کے باوجود بہت مایوس ہے کیونکہ ان میں نہ تو کوئی مسلمان تھا اور نہ پاکستانی یا اس کے لیے جاسوسی کرنے والے ہندو ۔ اس گروہ کے سرغنہ کی گرفتاری اس کولکاتہ میں ہوئی جہاں پچھلے دنوں وزیر داخلہ امیت شاہ نے ممتا بنرجی پر قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتایا تھا ۔ این آئی کے ذریعہ گرفتار ہونے والے جاسوس اگر بنگلہ دیشی ہوتے تب بھی بی جے پی کے وارے نیارے ہوجاتے مگر ان میں ایک مودی کے چہیتے ٹرمپ کا ہم وطن امریکی شہری میتھیو وین ڈائک نکل گیااور دیگر6 یوکرینی شہری نکلے جہاں ولادیمیرزیلنسکی نامی یہودی وزیر اعظم ہے جس کی پتر بھومی (فادر لینڈ) ہندوستان ہے۔ مودی جی تو یوکرین جنگ بند کروانے گئے تھے لیکن یوکرین نے اساحسانمندی کے عوض یہاں خانہ جنگی کے لیے اپنے جاسوس بھیج دئیے۔یہ حضرات ڈرون جنگ لڑنے کی تربیت دینے کے لیے آئے تھے۔ انہوں نے غیر قانونی طور پر سرحد پار کرکے پاکستان یا بنگلہ دیش جانے کے بجائے میانمار کا سفر کیا جہاں بودھ مت کے ماننے والوں کی اکثریت ہے اور وہی برسرِ اقتدار بھی ہیں ۔ ان کے تعلقات شمال مشرق میں سرگرم مسلح گروہوں سے ہے ۔ اتفاق سے ان میں کوئی بھی مسلمان نہیں ہے اس لیے گودی میڈیا میں یہ معاملہ ٹائیں ٹائیں فش ہوگیا مگر مودی بھگتوں امریکہ و یوکرین کے حوالے یہ نغمہ ضرور یاد آیا ہوگا؎
کیسا صلہ دیا تونے میرے پیار کا
یار نے بھی لوٹ لیا دل یار کا
ہندوستان میں جب بھی ایسی کوئی خبر آتی ہے اس کا ماسٹر مائنڈ تلاش کیا جاتا ہے۔ یہاں پر ماسٹر مائنڈکے طور پر میتھیو وین ڈائک کا نام سامنے آگیا ۔ یہ صاحب اپنے آپ کو حفاظتی تجزیہ کار( سکیورٹی اینالسٹ)، جنگی نامہ نگار(وار کورسپونڈنٹ) اور ڈاکیومنٹری فلم ساز بتاتےہیں مگر اس بدنامِ زمانہ جاسوس کا نام پہلی بار2011 کی لیبیا میں خانہ جنگی کے دوران سامنے آیا۔اس وقت وہ لیبیا کے باغی جنگجوؤں کے ساتھ نہ صرف شامل ہوا بلکہ وہاں قید میں بھی رہا۔ یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ لیبیا میں کرنل قذافی کے خلاف امریکہ نے اس لیے بغاوت کروائی تھی کیونکہ انہوں نے ڈالر کے مقابلے ایک نئی کرنسی جاری کرنے کی تیاری مکمل کرلی تھی۔ لیبیا کی امریکہ نواز حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد تواسے رہائی کے ساتھ انعام و اکرام سے بھی نوازہ ہوگا۔ اس سے حوصلے بلند ہوےتو منظم انداز میں کام کرنے کی خاطر میتھیو نے سنز آف لبرٹی انٹرنیشنل (SOLI) نام کی تنظیم بنائی۔ اس کے تحت وہ دنیا کے مختلف تنازعی علاقوں میں علی الاعلان مقامی مسلح گروہوں کوتربیت اورحربی حکمت عملی وضع کرنے لگا۔
میتھیو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس نے لیبیا کے بعد عراق میں داعش کے خلاف لڑائی لڑی۔ یہ بات ناقابلِ فہم کیونکہ آئی ایس آئی ایس کے خلاف تو بظاہر امریکہ لڑ رہا تھا اور یہ تو باغیوں کو تربیت دینے والا فرد ہے۔ اس لیے داعش کی مدد کرنے کا الزام تو سمجھ میں آتا ہے۔ ویسے بھی اسلامی خلافت کو قائم کرنے کے لیے انگریزوں کا اپنے وطن سے دور کسی غیر ملک میں جہاد کرنا معقول چیز تھا ۔ صدر ٹرمپ نے تواسے ہیلری کلنٹن کا پروجکٹ قرار دے کر اقتدار میں آنے کے بعد ختم کرنے اعلان کیا تھااور پہلی مدتِ کار میں داعش کا کام تمام بھی ہو گیا کیونکہ وہ ’شاخ ہی نہ رہی جس پہ آشیانہ تھا‘۔ میتھیو پر الزام ہے کہ اس نے روس کے خلاف جاری جنگ کے دوران یوکرینی فوجیوں کو بھی تربیت دی۔ یہ دعویٰ بھی عقلِ عام کے خلاف ہے کیونکہ یوکرین کے پاس ایک تربیت یافتہ فوج ہے۔ اس کی تربیتی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ناٹو کے تمام ممالک موجود ہیں ۔ ایسے میں وہ کسی نجی ادارے کے ذریعہ اپنی فوج کی تربیت کیوں کرے گا؟ اس لیے دیومالائی کہانیوں میں لپٹے مشکوک آدمی کا ہندوستان میں بذاتِ خود آجانا بتاتا ہے کہ مودی اور شاہ انتظامیہ سے یہ لوگ کتنے بے خوف ہوگئے ہیں ورنہ وہ اپنے آدمی تو بھیجتا مگر خود آنے کی ہمت کبھی نہ کرتا ۔
میتھیو وین ڈائک کو تو خیر کولکاتہ سے گرفتار کیا گیا مگر اس کے 3 یوکرینی ساتھی یوگی کی ناک کے نیچے لکھنؤ میں پکڑے گئے اور مزید 3 یوکرینیوں کو امیت شاہ کے زیر انتظام دہلی سے گرفتار کیا گیا۔ ان تمام ملزمان کو دہلی کی پٹیالہ ہاؤس کورٹ میں پیش کیا گیا، جہاں عدالت نے 11 دن کی NIA کسٹڈی دے دی اور اب اگلی پیشی 27 مارچ کو ہوگی۔ این آئی اے کے مطابق 14 یوکرینی شہری مختلف تاریخوں میں سیاحتی ویزا پر ہندوستان آئے ا ور مسلمانوں کے سب بڑے دشمن ہیمنتا بسوا سرما کے تحت چلنے والی ریاستِ آسام کی راجدھانی گوہاٹی پہنچ گئے ۔ وزیر اعلیٰ تو فی الحال اپنی کرسی بچانے کے لیے مسلمانوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اس لیے ان لوگوں میزورم جانے کے لیے ضروری اجازت نامہ لینے کی زحمت بھی نہیں کی اور وہاں جا پہنچے ۔ اس کے بعد غیر قانونی طور پر یہ گروہ میانمار میں داخل ہو گیا تاکہ وہاں پر نسلی مسلح گروہ (EAGs) کو ڈرون جنگ کی تربیت دے سکے۔ان کا اصلی کام تو میانمار میں تھا مگر براہِ راست وہاں جانے کے بجائے ہندوستان کا راستہ اختیار کرنا بتاتا ہے ایسے لوگوں کو حکومتِ ہند سے ڈر نہیں لگتا۔
دورانِ تحقیق یہ بات بھی سامنے آئی کہ یورپ سے بڑی تعداد میں ڈرون منگوائے گئے۔ ان ڈرونز کو ہندوستان کے راستے میانمار بھیجا گیا اور ان کا استعمال ٹریننگ کیمپ میں کیا جانا تھا۔ ایسے میں اگر میانمار کی سرکار ہندوستان کی سرزمین کا اس کے خلاف خانہ جنگی کروانے کی خاطر استعمال کا الزام لگا کر آپریشن سیندور جیسا کوئی اقدام شروع کردے توکیا وہ حق بجانب ہوگی؟ یہ عسکریت پسندی کا معاملہ صرف میانمار کے کچھ مسلح گروہوں تک محدود نہیں بلکہ ان کے تعلقات ہندوستان کی ممنوع تنظیموں سے بھی ہیں۔ اس لیے یہ ہندوستان کی سکیورٹی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔ ملزمان کے موبائل فون کی جانچ کے ذریعہ ہندوستان میں ممکنہ روابط تلاش تو جا ری ہے مگر فکر مندی کی بات یہ ہے کہ آخر یہ ڈرون ہندوستان کے ذریعے کیسے بھیجے گئے۔ اس کے معنیٰ یہ ہیں کہ فی الحال ملک سلامتی نااہل لوگوں کے ہاتھوں میں ہے۔ قوم پر ستی کی بڑی بڑی باتیں کرنے والے سنگھ پریوار میں صلاحیت اورقوت کار کا زبردست فقدان ہے۔
میزورم میں فی الحال بی جے پی کی حلیف جماعت برسرِ اقتدار ہے۔ مارچ 2025 میں وہاں کے وزیر اعلیٰ لالدوہوما نے مرکزی حکومت کو خبردار کردیا تھا کہ امریکہ اور برطانیہ سے کرائے کے فوجی اور سابق فوجی میزورم کے راستے میانمار جا رہے ہیں۔ وہاں وہ مقامی گروہوں کو ٹریننگ دینے میں مصروفِ عمل ہیں۔ یہ سنگین معاملہ ہندوستان کی قومی سلامتی سے جڑا ہو ہے۔ اس میں ڈرون کی مدد سے خانہ جنگی کا اندیشہ ہے ۔ بین الاقوامی نیٹ ورک کے ملوث ہونے سے شمال مشرق میں شدت پسند سرگرمیوں کو فروغ ملنے کا خطرہ ہے اس کے باوجود دہلی کی سرکار خوابِ غفلت میں پڑی رہی ۔ اس کا فائدہ اٹھا کر ہتھیار منگوائے گئے اور پھرمیتھیو اپنے گروہ کے ساتھ بھی پہنچ گیا مگر حکومتِ ہند اسے روکنے میں ناکام رہی۔ اس لیے ملک کے عوام کو چاہیے کہ وہ اس نااہل حکومت کو اقتدار سے ہٹاکر قومی سلامتی کی ذمہ داری باصلاحیت لوگوں کے حوالے کریں تاکہ وہ منی پور جیسے علاقوں میں امن و امان بحال کرکے قومی سلامتی کو یقینی بنائے۔ این آئی اے نے ان گرفتار شدگان پر میامنار نہیں بلکہ ہندوستان کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کی سازش رچنے کا الزام لگایا ہے۔ ان غیر ملکی شہریوں کو غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (UAPA) کی دفعہ 18 اور دیگر متعلقہ دفعات کے تحت مربوط کارروائی کےتحت گرفتار کیا گیا۔
میٹھیو اور اس کے ساتھیوں پر لازمی ممنوعہ علاقہ پرمٹ کے بغیر میزورم میں داخل ہونے کا بھی الزام ہے۔ انہوں نےمبینہ طور پر غیر قانونی راستے سے میانمار میں داخل ہونے کے بعد ہندوستان مخالف نسلی گروہوں سے ملاقات کی اور یورپ سے ڈرون کی رسد فراہم کرنے کے لیے میزورم پہنچائی ۔ مظلوم روہنگیا مسلمانوں کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ بتانے والے اندھ بھگتوں کو اپنی آنکھیں کھول کر اپنے اصلی دشمنوں کی پہچان کرلینی چاہیے۔ این آئی اے نے الزام لگایا کہ یہ گروہ دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا تھا، اور ان کی سرگرمیوں سے سرحد پار خطرات کے بارے میں خدشات بڑھ گئے تھے ۔ موجودہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اپنی آنکھوں کے او پر سے فرقہ پرستی کی عینک ہٹائے غریب روہنگیائی مسلمانوں یا اپنی مخالفت کرنے والے عمر خالد، شرجیل امام اور سونم وانگچوک وغیرہ کے پیچھے اپنا وقت اور توانائی ضائع کرنے کے بجائے ملک اصلی دشمنوں مثلاً گرفتار شدہ یوکرینی شہریوں پیٹرو ہوربا، تاراس سلیویاک، ایوان سکمانووسکی، ماریان اسٹیفانکیو، مکسیم ہونچارک ، وکٹر کامنسکی اور میتھیو وین ڈائک پر توجہ فرمائے ورنہ انتخابی کامیابی تو ملتی رہے گی مگر ملک بد امنی اور دہشت گردی کا شکار ہوجائے گا اور اسے ہندو مسلم فرقہ پرستی کا ایجنڈا چلا کر ڈھانپنا کسی کام نہیں آئے گا۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...