Skip to content
جمعہ نامہ: ہے یہی شرط بندگی کے لئے،سرکٹاؤں تیری خوشی کے لئے
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے:’’ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے نصیحت آ گئی ہے‘‘۔ماہِ قرآن الوداع ہوا چاہتاہے۔ اس آیت میں کتاب الٰہی کی نصیحت کو اہل ایمان تک مخصوص نہیں کیا گیا بلکہ عالمِ انسانیت کے لیے ہدایت کا سرچشمہ قرار دیا گیا آگے فرمانِ خداوندنی ہے:’’ یہ دلوں کے امراض کی شفا ہے‘‘۔ ایمان و یقین کے مسکن قلب انسانی کو شیطان لعین شک و تذبذب کا شکار کرکے کفر والحاد کےمرض میں مبتلا کردیتا ہے ۔قرآن کریم کے ذریعہ اپنے دلِ بیمار کو گمراہی کی زحمت سےمحفوظ رکھنے والوں کو خوشخبری دی گئی کہ :’’ جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے‘‘۔ اس آفاقی حقیقت کو بیان کرنے بعد فرمایا:’’ اے نبیؐ، کہو کہ ’’یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں‘‘۔ وحی الٰہی کا لطف کرم چونکہ دیگر ساری نعمتوں سے افضل ہے اس لیے کتاب الٰہی سے خود کو مالا مال کرنا باعثِ مسرت ہے۔ ماہِ رمضان اس جشن مسرت کے اہتمام اور عید سعید کی خوشیاں نقطۂ عروج ہے۔
اسلام دین فطرت ہے اس لیے یہ شکرانِ نعمت کے طور پر اعتدال کی شرط کے ساتھ دینی حد ود و قیود کا پاس و لحاظ کرتے ہوئے خوشی منائیں ۔فرمانِ قرآنی ہے:’اگر تم شکر ادا کروگے تو تمہیں اور عطا کروں گا اوراگر ناشکری کروگے تو یقیناً میرا عذاب بہت سخت ہے۔‘‘ خوشی کے موقع پر لوگ دولت کے نشےمیں احکام الٰہی سے غافل ہوکر فضول خرچی کرنے لگتے ہیں۔ ایسے لوگوں کو خبردار کیا گیا ہے کہ:’’ فضول خرچی نہ کرو، بے شک اللہ اسراف کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘دین اسلام میں سادگی کے ساتھ خوشی کے مواقع پر ضرورت مندوں اور غریبوں کو اپنی خوشیوں میں شامل کرنے کی ترغیب دی گئی ہے۔ عید سعید کی دوگانہ نماز تک صدقۂ فطر کی ادائیگی کے بغیر شرف قبولیت سے محروم رہتی ہے ۔ خوشی کے مواقع پر صدقہ و خیرات سے انسان ایک تو اللہ سے قریب ترہوجاتا ہے اور دوسرے بندگانِ خدا کے ساتھ بھی محبت، اخوت، اور ہمدردی کے احسن جذبات سے سرفراز کردیا جاتا ہے۔ رضائے الٰہی کی خاطر منائی جانے والی یہ باعث ِ برکت خوشی حقیقی معنوں میں دونوں جہانوں کی کامیابی کا ذریعہ بن جاتی ہے۔
اسلامی تصورِ حیات میں خوشی کا دائرہ کار صرف روحانیت اور خدمت تک محدود نہیں بلکہ جہاد تک کا احاطہ کرتا ہے۔ ارشادِ خداوندی ہے :’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنت کے بدلے خرید لیے ہیں ‘‘قرآن مجید کی اس آیت میں خدا اور بندے کے درمیان اس سودے کا ذکر ہے جس میں حق باری تعالیٰ اپنی ہی عطا کردہ نعمتوں کوجنت کے عوض خرید لیتا ہے ۔ اس سودے کا تقاضا یوں بیان کیا گیا ہےکہ: ’’وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں ان سے (جنت کا وعدہ) اللہ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ہے توراۃ اور انجیل اور قرآن میں اور کون ہے جو اللہ سے بڑھ کر اپنے عہد کا پورا کرنے والا ہو؟ ‘‘ یہاں قتالِ فی سبیل اللہ میں مارنے کے ساتھ مرنے کا بھی ذکر کیا گیا ہے یعنی دونوں کااحتمال موجود ہے اور اس کی خاطر اہل ایمان کو ہع وقت تیار رہنا چاہیے۔ اسی وجہ سے مجاہدین اسلام کی شہادت مومنین کو مایوسی کا شکارتو نہیں کرتی الٹا جذبۂ جہاد سے سرشار کردیتی ہے۔ اس کے بعدتو وہ کیفیت پیدا ہوجاتی ہے کہ؎
جان دی ،دی ہوئی اسی کی تھی حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا
دنیا یہ دیکھ کر حیران ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایرانی عوام بمباری کے خطرات کو بالائے طاق رکھ کر سڑکوں پر کیونکرنکل آئے ۔ ان کے لیے تو قرآن حکیم کی یہ موعظت حسنہ ہی کافی تھی ہے کہ :’’ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچا کر دکھایا ہے ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی‘‘۔ رہبر معظم کے بعد علی لاریجانی کی شہادت کو بھی انہوں نے نہیں چھپایا کیونکہ انہوں نے بھی مرنے اور مارنے کی راہوں پر چل کر خود کو جنت الفردوس کا حقدار بنالیا۔ اس لیےحکم دیا گیا ہے کہ: ’’ پس خوشیاں مناؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے خدا سے چکا لیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ‘‘۔ ایران سے یکے بعد دیگرے فوجی کمانڈروں کی شہادت سے مایوس ہونے والوں کو جنگ موتہ کو پیش نظر رکھنا چاہیے جس میں نبی کریم ﷺ نے اپنے چہیتے صحابی حضرت زیدؓ کو سالار لشکر بناکر روانہ کیا تھا۔
نبیٔ پاک ﷺ ؐ نے لشکر کی روانگی کے وقت فرمایا کہ اگر زید ؓ شہید ہوجائیں تو جعفر طیار ؓ کو امیر بنا لینا’ وہ بھی شہید ہو جائیں تو عبداللہ بن رواحہ ؓ کو امیر بنا لینا‘‘- اتفاق کی بات ہے کہ یہ تینوں سپہ سالار اسی ترتیب سے باری باری شہید ہو گئے- اس وقت خالد بن ولید ؓ نے آگے بڑھ کرپرچمِ اسلام کو سنبھالا اور فائز المرام واپس آئےتو حضور اکرم ﷺ نے انہیں ”سیف اللہ” کے خطاب سے نوازہ ۔ یہ ایمان افروز واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اہل ایمان اپنے ساتھیوں کی قیادت میں اللہ تبارک و تعالیٰ کے سہارے لڑتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں نیتن یاہو کی مانند جعلی ویڈیوز جاری کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد مجتبیٰ خامنہ ای کا اس اہم عہدے پر فائز ہونا یاد دلاتا ہے کہ جب دوبارہ رومیوں کے خلاف لشکر کشی کا موقع آیا تو آنحضرت ﷺنے زیدؓ کے بیٹے اسامہ ؓ کو فوج کاسردار مقرر کیا ۔ حضور اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد خلافت ابوبکر ؓ میں لشکراسلام اسامہ بن زیدؓ کی سرکردگی میں فتح و کامرانی سے ہمکنار ہوا۔ حق و باطل کی موجودہ کشمکش میں بھی اہل ایمان اسی طرح کی کامیابی سے نوازے جائیں گے اور دنیا کے سارے انصاف پسند لوگ اس کی خوشی مناتے یہ شعر پڑھیں گے؎
ہم پر کرم کیا ہے خدائے غیور نے
پورے ہوئے جو وعدے کیے تھےحضور نے
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...