Skip to content
عید کی رات تقسیم انعام کی رات
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول حضرت محمد مصطفیؐ کی مبارک ومسعود نسبت سے آپکی امت کو جو کچھ نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے ایک عظیم نعمت ماہ رمضان المبارک ہے ،رمضان المبارک وہ عظیم اور برکتوں سے بھر پور مہینہ ہے جس کا ہر لمحہ مبارک ہے اور اس کے دن ورات میں کی جانے والی عبادتوں پر بہت زیادہ اجر وثواب ہے ، ایک حدیث میں رسول اللہؐ کا ارشاد ہے: من تقرب فیہ بخصلۃ من الخیر کان کمن ادی فریضۃ فیما سواہ ومن ادی فریضۃ فیہ کان کمن ادی سبعین فریضۃ فیما سواہ ( البیہقی فی شعب الایمان: ۳۶۰۸ )’’ جو شخص اس مہینہ میں اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادہ سے کوئی نفل ادا کرے گا تو اس کو دوسرے زمانے کے فرض کے برابر ثواب ملے گا اور جو اس مہینہ میں کوئی فرض ادا کرے گا تو اس کو اس پر ستر فرضوں کے برابر ثواب دیا جائے گا‘‘،اسی طرح اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کے لئے اسی مبارک مہینہ کا انتخاب فرمایااور اسی طرح ’’ شب قدر‘‘ جو ہزار مہینوں سے افضل ہے یعنی اس میں عبادت کا ثواب ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے بڑھ کر ہے اسی مبارک مہینہ رکھی گئی ہے ،ارشاد ربانی ہے: لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَہْرٍ (القدر ۳)’’ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے‘‘، اللہ تعالیٰ کا اس امت پر کس قدر احسان و انعام ہے کہ اس امت کی عمر حیات دوسری امتوں کے مقابلہ میں تھوڑی بلکہ بہت تھوڑی ہے مگر عبادتوں پر ثواب بہت زیادہ ہے ۔
رسول اللہؐ کی نسبت اس امت کے لئے معمولی اور مختصر عبادتوں پر بہت بڑا ثواب مقرر ہے اسی طرح قیامت کے دن بھی ان کے ساتھ غیر معمولی نوازشات کا معاملہ کیا جائے گا ، حدیث میں ہے کہ آخرت کے دن امت محمدیہؐ کے بعض اشخاص وہ ہوں گے کہ جنہیں بلا حساب وکتاب اور بغیر عذاب کے جنت میں داخل کیا جائے گا ،ارشاد نبوی ؐ ہے: وعدنی ربی ان یدخل الجنۃ من امتی سبعین الفا لاحساب علیہم ولا عذاب مع کل الف سبعون الفا وثلث حثیات من حثیات ربی( ترمذی:۲۴۳۷)’’میرے رب نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ میری امت میں سے ستر ہزار کو بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں داخل کیا جائے گا،اور ان میں سے ہر ہزار کے ساتھ ستر ہزار اور ہوں گے ۔۔۔۔۔نیز تین لپ اور میرے رب کے لپ سے (میری امت میں سے بغیر حساب وبغیر عذاب کے جنت میں داخل کئے جائیں گے) ‘‘، پانی جب ایک ہاتھ سے لیا جائے تو وہ چلّو کہلا تا ہے اور جب دونوں ہاتھوں کو ملا کر لیا جائے تو وہ لَپْ کہلا تا ہے،اس حدیث میں اس امت کو کس قدر عظیم الشان خوشخبری دی گئی ہے کہ قیامت میں ستر ہزار ایسے امتی ہوں گے جنہیں بلا حساب وکتاب جنت میں داخل کیا جائے گا اور کرم بالائے کرم کہ ان ستر ہزار میں سے ہر ہزار کے ساتھ دوسرے ستر ہزار جنت میں داخل کئے جائیں گے ، اس سے ہٹ کر بھی بے حساب اور لاتعداد وہ امتی ہوں گے جنہیں اللہ تعالیٰ اپنی خاص رحمت اور نظر عنایت کے ساتھ جنت میں داخل فرمائیں گے ۔
رمضان المبارک کی آخری رات جسے شب ِ عید کہا جاتا ہے ،یہ شب بھی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں اور اس کے بے شمار انعامات میں سے ایک انعام ہے جو خاص طور سے اس امت کو دیا گیا ہے ، سچ یہ ہے کہ عید کی رات صرف عید کی رات ہی نہیں بلکہ یہ تو انعام واکرام اور بندوں کے لئے مغفرت اور معافی کی بھی رات ہے، اللہ تعالیٰ اس رات میں مہینہ بھرروزہ رکھنے والوں ، پابندی سے نماز تراویح پڑھنے والوں ، کثرت سے قرآن کی تلاوت کرنے والوں ، رحمت کی امید کے ساتھ اعتکاف میں بیٹھنے والوں، حکم الٰہی اور تعلیمات نبویؐ پر عمل کرتے ہوئے نفس وشیطان کو شکست دینے والوں ،رمضان کی طرح غیر رمضان میں بھی احکامات ِ الہی کی پابندی کا عہد کرنے والوں ،کثرت سے توبہ واستغفار کرنے والوں،مصیبت زدوں کے ساتھ غمخواری کرنے والوں اور رمضان المبارک کی کماحقہ قدر کرنے والوں کی نہ صرف مغفرت فرماتے ہیں بلکہ انہیں اپنے لامحدود خزانوں سے بے حساب انعامات و اکرامات سے بھی نواز تے ہیں ، یقینا عید کی رات عبادت گزاروں اور قدر دانوں کے لئے مغفرت ومعافی اور انعام واکرام کی رات ہے ، رسول اللہ ؐکا ارشاد ہے : یغفر لا متہ فی اٰخر لیلۃ من رمضان قیل یارسول اللہ اھی لیلۃ القدر قال لا ولٰکن العامل انما یوفی اجرہ اذا قضی عملہ ( مشکوۃ ،کتاب الصوم ،حدیث :۱۹۶۸ )’’ رمضان کی آخری رات میں امت کے لئے مغفرت اور بخشش کا فیصلہ کیا جاتا ہے آپ ؐ سے دریافت کیا گیا : یارسول اللہؐ :کیا وہ شبِ قدر ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا کہ شبِ قدر تو نہیں ہوتی لیکن بات یہ ہے کہ عمل کرنے والا جب اپنا عمل پورا کردے تو اس کو پوری اُجرت دی جاتی ہے ‘‘،حقیقت میں عید کی رات کیا ہے یہ تو بندوں کے لئے رحمت ومغفرت کی سوغات ہے،نہایت خوش نصیب اور قابل تقلید ہیں وہ بندے اور بندیاں جو اس قیمتی رات کی قدر کرتے ہوئے اپنے مہربان اللہ سے اپنی ٹوٹی پھوٹی عبادتوں کا انعام لینے اور اس کی رضامندی اور مغفرت کا پر وانہ حاصل کرنے کیلئے سجود وقیام ،تسبیح وتہلیل اور دعا والتجا ء میں رات گذار تے ہیں، جو بندے اور بندیاں اس کے دروازہ پر دستک دیتے ہوئے اپنے لئے رحمتوں ،عنایتون اور مغفرتوں کی بھیک مانگتے ہیں اللہ تعالیٰ ضرور ان کی مغفرت فرماتے ہیں اور فرشتوں کو گواہ بناکر ان کی بخشش کا اعلان فرماتے ہیں۔
مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اس رات کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس کی قدر دانی کریں ، عید کی ضروری تیاریوں سے جس قدر ہو سکیں جلد فارغ ہوکر رات کا بقیہ حصہ ذکر واذکار اور دعائیں مانگنے میں گزاردیں، بلاوجہ بازاروں میں گھومنے سے اجتناب کریں ، مرد حضرات مسجدوں میں اور عورتیں اپنے گھروں میں عبادتیں لگ جائیں ، یہ عظیم رات ہے اس میں اپنے لئے ،اپنے اہل خانہ کیلئے ،رشتے دار،دوست واقارب کیلئے ،اسلام کی سر بلندی کیلئے اور عالم اسلام کے مسلمانوں کیلئے اور خصوصا وطن عزیز ہندوستان اور اہل غزا کے لئے دعائیں کریں ، خاص کر جب کہ اس رات کو خود خالق نے بخشش کی رات فرمایا ہے ، یقینا و ہ ذات ایسی رحیم اور کریم ہے کہ جب اس سے مانگا جائے تو وہ ضرور دیتا ہے بلکہ مانگنے والوں کے ہاتھ نیچے آنے سے پہلے ہی دے دیتا ہے مگر افسوس کہ مسلمانوں کا اکثر طبقہ اس عظیم رات کی ناقدری کے جرم کا مرتکب ہے ، مسلمان رمضان میں تو جیسے تیسے عبا دت کر لیتے ہیں لیکن ہائے رے بدبختی کہ انعام بٹتے وقت دربار الٰہی سے بھاگ جاتے ہیں جس کے نتیجہ میں ایک عظیم نعمت سے محروم ہوجاتے ہیں ،اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو اس عظیم رات کی ناقدری سے بچائے اور اس رات صحیح قدر دانی کی توفیق عطا کرے آمین۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...