Skip to content
عید الفطر کی سماجی و ثقافتی حرکیات اور خواتین کا کلیدی کردار
(عید کی رونق: خواتین کے سلیقے اور محنت کا عکس)
بقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
عید الفطر اسلامی تہذیب کا ایک مقدس اور خوشیوں سے بھرپور تہوار ہے جو ماہِ صیام کی کٹھن اور بابرکت روحانی مشق کے بعد اللہ کے شکر اور باہمی اخوت کے اظہار کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس تہوار کی حقیقی رونق، دلکشی اور سماجی ہم آہنگی دراصل خواتین کی خاموش محنت، بہترین حکمتِ عملی اور ہنر مندی کے بغیر نامکمل ہے۔ عمرانی اور خاندانی نظام کے تناظر میں دیکھا جائے تو خواتین اس خوشگوار ماحول کی محض تخلیق کار نہیں، بلکہ وہ تہواروں کی اصل روح اور ثقافتی ورثے کو اگلی نسل تک منتقل کرنے کا سب سے موثر اور بنیادی ذریعہ ہیں۔ رمضان المبارک کے آغاز کے ساتھ ہی خواتین کی وہ پوشیدہ محنت شروع ہو جاتی ہے جو عید کے دن اپنے عروج پر پہنچتی ہے۔ گھروں کی صفائی ستھرائی سے لے کر آرائش و زیبائش تک، ہر مرحلے میں ان کی جمالیاتی حس اور سلیقہ مندی نمایاں ہوتی ہے، جس کے باعث گھر کا ہر گوشہ عید کی خوشیوں کا آئینہ دار بن جاتا ہے۔
اس تہوار کی تیاریوں میں خواتین کا معاشی اور انتظامی کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ وہ محض گھریلو امور تک محدود نہیں رہتیں بلکہ بجٹ سازی اور کفایت شعاری کے اصولوں پر عمل پیرا ہوتے ہوئے اہل خانہ کی ضروریات کو متوازن انداز میں پورا کرتی ہیں۔ جدید دور کی معاشی حرکیات میں ملازمت پیشہ اور ہنر مند خواتین اپنی آمدنی کا ایک بڑا حصہ خوش دلی کے ساتھ گھر کی ضروریات اور عید کی تیاریوں پر خرچ کر دیتی ہیں۔ ان کی یہ دانشمندانہ منصوبہ بندی اور خریداری کا منظم طریقہ کار نہ صرف وقت اور سرمائے کی بچت کا باعث بنتا ہے بلکہ اس بات کو بھی یقینی بناتا ہے کہ خاندان کا ہر فرد، بالخصوص بچے، اس تہوار کی خوشیوں سے پوری طرح لطف اندوز ہو سکیں۔ بچوں کے ملبوسات اور دیگر فرمائشوں کو پورا کرتے ہوئے خواتین ان کے اندر خوشی اور اطمینان کا جو احساس پیدا کرتی ہیں، وہ خاندانی رشتوں کی مضبوطی کا باعث بنتا ہے۔
عید الفطر کی ایک انتہائی اہم ثقافتی اور سماجی پہچان اس کی روایتی ضیافتیں ہیں، جہاں خواتین کی فنی مہارت اور مہمان نوازی اپنے کمال کو پہنچتی ہے۔ شیر خرمہ، سویاں اور دیگر لذیذ روایتی پکوانوں کی تیاری محض ایک گھریلو ذمہ داری نہیں بلکہ سماجی تعلقات کو استوار کرنے کا ایک منظم عمل ہے۔ اسلام میں مہمان نوازی کو اعلیٰ اخلاقی قدر کا درجہ دیا گیا ہے، اور خواتین اس ذمہ داری کو ادا کر کے رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوست احباب کے درمیان محبت، مساوات اور بھائی چارے کی فضا قائم کرتی ہیں۔ ان کی خوش مزاجی اور خلوص معاشرے میں پائیدار تعلقات اور سماجی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
تہوار کے ان مادی اور سماجی پہلوؤں کے ساتھ ساتھ، خواتین کا روحانی اور اخلاقی کردار بھی انتہائی وقیع ہے۔ چونکہ ماں کی گود بچے کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے، اس لیے خواتین عید کے موقع پر بچوں کی اخلاقی تربیت کا فریضہ بخوبی انجام دیتی ہیں۔ وہ بچوں کو سکھاتی ہیں کہ عید محض نئے کپڑے پہننے اور خوشی منانے کا نام نہیں، بلکہ یہ اللہ کی نعمتوں پر شکر گزاری، تقویٰ اور دوسروں کے ساتھ حسنِ سلوک کا عملی مظاہرہ ہے۔ اسی طرح معاشرے کے نادار اور ضرورت مند افراد تک خوشیاں پہنچانے کے لیے خواتین زکوٰۃ، صدقہ فطر اور دیگر عطیات کی ادائیگی میں نہایت ذمہ داری کا مظاہرہ کرتی ہیں۔ اپنے ہاتھوں سے مستحقین کے لیے راشن اور کپڑوں کے پیکٹ تیار کر کے وہ ہمدردی اور ایثار کے جس جذبے کو پروان چڑھاتی ہیں، وہ اسلامی فلاحی معاشرے کی بنیاد ہے۔
رمضان المبارک کے دوران عبادات اور شب بیداری کا جو سلسلہ خواتین شروع کرتی ہیں، اس کا روحانی تسلسل عید کے دن بھی برقرار رہتا ہے۔ نمازِ عید کے ساتھ ساتھ گھروں میں شکرانے کے نوافل اور دعاؤں کا اہتمام کر کے وہ گھر کے ماحول کو ایک خاص تقدس بخشتی ہیں۔ ان تمام کثیر الجہتی اور تھکا دینے والی مصروفیات کے بعد، خواتین اپنے لیے بھی وقت نکالتی ہیں اور مہندی، چوڑیوں اور دیدہ زیب ملبوسات سے آراستہ ہو کر عید کی خوشیوں کو ایک مکمل اور حسین رنگ دیتی ہیں۔ مختصر یہ کہ عید الفطر کو بامعنی، پررونق اور منظم بنانے میں خواتین کا کردار ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کی ایثار، محبت اور بے لوث قربانیوں کے بغیر عید کی حقیقی روح، سماجی رواداری اور ثقافتی اقدار کی بقا کا تصور نامکمل ہے۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...