Skip to content
عید الفطر کا عمرانی مطالعہ: انفرادی تشکر سے اجتماعی انقلاب تک
(فلسفہِ صیام و عید: انسانی نفسیات اور روحانی بالیدگی کا سنگِ میل)
بقلم: ڈاکٹر صدیقی نسرین فرحت
عید الفطر اسلامی کیلنڈر کا وہ درخشاں باب ہے جو ماہِ صیام کی کٹھن مگر روحانی طمانیت سے بھرپور عبادات کے اختتام پر ملتِ اسلامیہ کے افق پر طلوع ہوتا ہے۔ شوال کا ہلال نمودار ہوتے ہی دنیا بھر کے مسلمانوں میں مسرت اور شکر گزاری کی ایک لہر دوڑ جاتی ہے جو محض ایک جذباتی ردعمل نہیں بلکہ ایک گہرے ایمانی شعور کا نتیجہ ہے۔ یہ تہوار دراصل اللہ تعالیٰ کی جانب سے انعامِ ربانی ہے جس کا بنیادی فلسفہ تشکرِ الٰہی پر مبنی ہے کیونکہ بندہِ مومن نے اللہ کی رضا کے لیے ایک ماہ تک اپنے نفس پر پہرے بٹھائے ہوتے ہیں۔ قرآن مجید کی سورۃ البقرہ کی آیت 185 میں ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ "اور تاکہ تم گنتی پوری کرو اور تاکہ تم اللہ کی بڑائی بیان کرو اس پر کہ اس نے تمہیں ہدایت دی اور تاکہ تم شکر گزار بنو۔” اس قرآنی ہدایت کی روشنی میں عید الفطر محض ایک روایتی خوشی کا دن نہیں بلکہ خالقِ کائنات کی عطا کردہ توفیقِ عبادت پر اظہارِ تشکر کا عظیم الشان مظہر ہے جس میں بندہ اپنی بندگی کا اعتراف کرتے ہوئے رب کی کبریائی کا اعلان کرتا ہے۔ رمضان المبارک دراصل صبر، تقویٰ، قربانی اور ہمدردی کی ایک عملی تربیت گاہ ہے اور جب یہ مقدس مہینہ اختتام پذیر ہوتا ہے تو عید الفطر ان تمام روحانی محنتوں کے صلے اور انعام کے طور پر جلوہ گر ہوتی ہے جس سے انسانی شخصیت کی تطہیر کا عمل مکمل ہو جاتا ہے۔
عید الفطر کی تاریخی جڑیں ہجرتِ مدینہ کے فوراً بعد سے جڑی ہوئی ہیں جب رسول اللہ ﷺ نے اہل مدینہ کو ان کے قدیم تہواروں کے متبادل کے طور پر دو پاکیزہ خوشیوں کے دن عطا فرمائے۔ یہ تہوار اپنی ساخت میں قدیم رومی یا فارسی جشنوں سے بالکل مختلف ہے کیونکہ اس کی بنیاد کسی بادشاہ کی فتح یا موسمی تبدیلی پر نہیں بلکہ ایک عظیم روحانی فریضے کی تکمیل پر رکھی گئی ہے۔ شکر گزاری کا یہ انفرادی جذبہ جب اجتماعی شکل اختیار کرتا ہے تو امتِ مسلمہ کے عظیم اتحاد، اخوت اور مساوات کی ایک بے مثال اور دلکش تصویر ابھر کر سامنے آتی ہے۔ دنیا کے طول و عرض بشمول بھارت میں جہاں مسلمانوں کی ایک کثیر آبادی بستی ہے، کروڑوں مسلمان ایک ہی دن اور ایک ہی وقت میں عید گاہوں اور مساجد کا رخ کرتے ہیں اور تکبیرات کی گونج میں بارگاہِ الٰہی میں سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ نمازِ عید کے اس عظیم الشان اجتماع میں امیر اور غریب یا ادنیٰ اور اعلیٰ کا ہر فرق مٹ جاتا ہے اور ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر باجماعت شکرانے کی نماز ادا کرنا اسلام کے اس ابدی اصول کی عملی تفسیر بن جاتا ہے کہ تمام انسان برابر ہیں اور کسی کو کسی پر کوئی نسلی یا طبقاتی برتری حاصل نہیں۔ سنن ابی داؤد کی ایک مستند حدیث کے مطابق رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ہر قوم کے لیے ایک عید خوشی کا دن ہوتی ہے اور یہ ہماری عید ہے۔ یہ دن درحقیقت اسی منفرد اور عالمگیر اسلامی تشخص کا آئینہ دار ہے جو رنگ، نسل اور زبان کی سرحدوں کو عبور کر کے مسلمانوں کو ایک ہی لڑی میں پرو دیتا ہے۔
روحانی بالیدگی اور مساوات کا یہ تصور صرف مساجد کے احاطے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اسلام کے معاشی اور فلاحی نظام کے ذریعے معاشرے کے کمزور اور نادار طبقات تک بھی پوری آب و تاب کے ساتھ پہنچتا ہے۔ شریعتِ مطہرہ نے نمازِ عید سے قبل صدقہ فطر کی ادائیگی کو واجب قرار دیا ہے جو دراصل دولت کی منصفانہ تقسیم اور معاشی گردش کا ایک انتہائی موثر ذریعہ ہے تاکہ معاشرے کا نادار طبقہ بھی خوشیوں میں شریک ہو سکے۔ صحیح مسلم میں حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صدقہ فطر کو فرض قرار دیا تاکہ روزے داروں کی لغزشوں کا کفارہ ہو سکے اور محتاجوں کے لیے کھانے کا انتظام ہو۔ اس معاشی انتظام کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ معاشرے کا کوئی بھی محتاج یا غریب فرد معاشی کمزوری کے باعث عید کی خوشیوں سے محروم نہ رہے۔ یوں عید کا تہوار ذاتی مسرتوں کے خول سے نکل کر اجتماعی ہمدردی اور فلاحِ انسانیت کا روپ دھار لیتا ہے اور معاشرے کے ہر طبقے کو اس جشن میں مساوی طور پر شریک کرتا ہے۔ اگر ہم موجودہ دور کے معاشی بحرانوں کا تجزیہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ صدقہ فطر کا یہ نظام آج بھی غربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے لاکھوں خاندانوں کے لیے ایک سہارا ہے اور یہ عمل اس بات کی ضمانت دیتا ہے کہ اسلام کا معاشی نظام صرف کاغذات تک محدود نہیں بلکہ اس کی عملی تصویر گلی کوچوں میں عید کے روز دکھائی دیتی ہے۔
معاشی ہمدردی کے ساتھ ساتھ عید الفطر کا تہوار سماجی تعلقات کے استحکام، یکجہتی اور بین النسلی تعلقات کے فروغ کا بھی ایک طاقتور ذریعہ ثابت ہوتا ہے۔ اس دن مسلمان نئے اور دیدہ زیب ملبوسات زیبِ تن کرتے ہیں اور عطر و خوشبو لگا کر ایک دوسرے سے بغل گیر ہوتے ہیں جس سے دلوں کی دوریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ باہمی ملاقاتوں کا یہ سلسلہ پرانی رنجشوں، شکووں اور کدورتوں کو بھلا کر معاشرے میں امن، رواداری اور محبت کی فضا کو فروغ دیتا ہے اور یہ وہ عمل ہے جسے ماہرینِ عمرانیات سماجی سرمائے کی تعمیر سے تعبیر کرتے ہیں۔ اسی سماجی سرمائے کو پروان چڑھانے میں روایتی ضیافتوں اور مہمان نوازی کا کردار بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے کیونکہ دسترخوان پر ہونے والی گفتگو رشتوں میں گرم جوشی پیدا کرتی ہے۔ گھروں میں شیر خرمہ، سویاں، بریانی اور دیگر لذیذ پکوانوں کا اہتمام محض ایک رسم نہیں بلکہ رشتہ داروں، پڑوسیوں اور دوست احباب کے درمیان محبت و خلوص کے تبادلے کا مستحکم ذریعہ ہے۔ صحیح بخاری کی ایک حدیث کے مطابق نبی کریم ﷺ نے عید کے دن خوشی ظاہر کرنے اور اہل خانہ کے ساتھ وسعت و حسنِ سلوک کی ترغیب دی ہے تاکہ گھر کا ماحول بھی مسرتوں کا گہوارہ بن سکے۔ اسی طرح عیدی کا رواج جو بزرگوں کی طرف سے چھوٹوں کو دیا جانے والا تحفہ ہے محض رقم کی منتقلی نہیں بلکہ شفقت، سخاوت اور اگلی نسل میں تہوار کی خوشیوں کو منتقل کرنے کا ایک خوبصورت ثقافتی عمل ہے جو خاندانی نظام کو استحکام بخشتا ہے۔
عید الفطر کی حرکیات کا ایک اہم پہلو اس کا بین الاقوامی اور سیاسی اثر بھی ہے کیونکہ یہ دن پوری دنیا کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر کھڑا کر دیتا ہے۔ آج کے دور میں جب عالمِ اسلام کو مختلف چیلنجز کا سامنا ہے عید کا دن ایک یاد دہانی کے طور پر آتا ہے کہ ہماری جڑیں ایک ہی ہیں اور ہمارا مرکز و محور ایک ہی ذاتِ واحد ہے۔ بھارت جیسے کثیر المذہبی معاشرے میں عید الفطر بین المذاہب ہم آہنگی کا بھی ایک ذریعہ بنتی ہے جہاں مختلف مذاہب کے لوگ اپنے مسلمان بھائیوں کی خوشیوں میں شریک ہوتے ہیں اور یوں یہ تہوار ایک سماجی پل کا کام کرتا ہے۔ تحقیقی نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو عید کے اجتماعات میں پڑھی جانے والی دعائیں اور خطبات مسلمانوں کے اجتماعی شعور کو بیدار کرنے اور انہیں مظلوم بھائیوں کی یاد دلانے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ اس دن مسلمان اپنی ذاتی خوشیوں کے ساتھ ساتھ عالمِ اسلام کی سربلندی اور انسانیت کی فلاح کے لیے بھی دعاگو ہوتے ہیں جو اس تہوار کی آفاقیت کی دلیل ہے۔
مزید برآں عید الفطر انسانی نفسیات پر بھی گہرے اثرات مرتب کرتی ہے کیونکہ یہ دن انضباطِ نفس کی کامیابی کا جشن ہے۔ ماہرینِ نفسیات کا ماننا ہے کہ اجتماعی خوشیاں ذہنی تناؤ کو کم کرنے اور انسان کے اندر امید کی کرن پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عید کے روز کی چہل پہل، بچوں کی مسکراہٹیں اور بزرگوں کی دعائیں ایک ایسا مثبت ماحول پیدا کرتی ہیں جو معاشرے کے ہر فرد کو نفسیاتی آسودگی فراہم کرتا ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ خوشی کا تعلق مادی اشیاء کی کثرت سے زیادہ دوسروں کے ساتھ بانٹنے میں ہے اور یہی وہ نفسیاتی نکتہ ہے جو اسلامی تہواروں کو دیگر ثقافتی جشنوں سے ممتاز کرتا ہے۔
حاصلِ کلام یہ ہے کہ عید الفطر امتِ مسلمہ کے لیے محض ایک روایتی جشن یا موسمی تہوار نہیں بلکہ یہ ایک جامع اور ہمہ گیر اسلامی نظریہِ حیات کا عملی مظاہرہ ہے۔ یہ دن ہمیں سکھاتا ہے کہ ماہِ رمضان میں حاصل کردہ تقویٰ، صبر اور ایثار کو سال بھر اپنی زندگی کا حصہ کیسے بنایا جائے تاکہ ہم ایک بہتر انسان بن سکیں۔ عید کی حقیقی خوشی اپنی ذات تک محدود رہنے میں نہیں بلکہ اپنے وسائل، محبتوں اور مسرتوں میں دوسروں کو شریک کرنے میں پنہاں ہے کیونکہ اسلام فرد کے بجائے اجتماعیت پر زور دیتا ہے۔ یہ تہوار عالمِ اسلام کو ایک لڑی میں پرونے، مظلوموں کے دکھ درد میں شریک ہونے اور خالقِ کائنات کی عطا کردہ نعمتوں پر سراپا شکر بننے کا ابدی پیغام دیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ امتِ مسلمہ کو ہمیشہ احکاماتِ الٰہی پر عمل پیرا ہونے، باہمی محبتوں و اخوت کو فروغ دینے اور سچے دل سے شکر ادا کرنے کی توفیق و ہدایت عطا فرمائے تاکہ ہم عید کے حقیقی فلسفے کو اپنی زندگیوں میں نافذ کر سکیں۔ آمین
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...