Skip to content
ظریفانہ: عیدی کی کوٹھی
—————————–
ازقلم :ڈاکٹر سلیم خان
—————————–
للن چودھری کو چمچماتی ٹویوٹا سے اترتے دیکھ کلن شاہ کی بانچھیں کھلِ گئیں۔ وہ کھڑکی سے ہٹ کر دروازے تک آیا اور بولا آئیے سیٹھ تشریف لائیے۔
طویل عرصے کے بعد آنے والے گاہک کے پرتپاک خیر مقدم نے للن کو خوش کردیا ۔ وہ شکریہ ادا کرکے بولا آپ کی بلڈنگ تو بہت خوبصورت ہے۔
شکریہ جناب یہ تو آپ کا حسن نظر ہے ۔ اچھا یہ بتائیے کہ کیا آپ ہمارے نمونے کے فلیٹ دیکھنا پسند کریں گے یا ڈرائنگ ہی کافی ہے؟
للن بولا بھائی نقشہ تو ہم اپنے ہوٹل میں بیٹھ کر دیکھ سکتے تھے بلکہ آپ سے آن لائن زوم میٹنگ میں اس پر گفتگو بھی ہوسکتی تھی ۔
جی ہاں چودھری صاحب اب آپ نے یہاں آنے کی زحمت کر دی ہے تو آپ کو دیکھ لینا چاہیے ۔ مجھے یقین ہے کہ آپ اسے پسند فرمائیں گے ۔
درست فرمایا ۔ اسی لیے تو ہم آئے ہیں ۔
کلن نے کہابہتر جناب پہلے چائے پانی ہوجائے اس کے بعد چلتے ہیں ۔
للن اختلاف کرتے ہوئے بولا میرا خیال ہے پہلے دیکھ لیتے ہیں واپس آکر چائے شائے پی لیں گے ۔
جی ہاں وقت کا یہ استعمال بھی اچھا آئیڈیا ہے۔ یہ بتائیے کہ آپ کیسی چائے پینا پسند کریں گے۔ ہری ، کالی ، سفید اور شکر وغیرہ
للن بولا مجھے بغیر شکر کے سلیمانی چائے پسند ہے ویسے سبھی چل جاتی ہیں ۔
اوہو جناب آپ کی پسند کا لحاظ کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔ اس نے وہاں موجود ملازم کو چائے وائے سے متعلق ہدایت دی اور لفٹ کی جانب چل دیا۔
شاہ ٹاورس کی چالیسویں منزل پرکھڑکی سےللن نے باہر دیکھا تو اس کا دل خوش ہوگیا۔ وہ بولا آپ نے تو ہمیں آسمان کی سیر کرادی ۔
کلن بولا زہے نصیب یہ سب سے اوپری منزل پر ہمارا بہترین فلیٹ آپ ہی کے لیے ہے۔
للن نے نیچے دیکھ کر کہا لیکن وہ کشادہ آنگن کے ساتھ پہلی منزل کا فلیٹ بک گیا ہے کیا ؟
جی نہیں وہ اب بھی برائے فروخت ہے ۔ کیا آپ کو اس میں دلچسپی ہے؟ چلیے اس کو بھی دیکھ لیتے ہیں ۔
للن نے سوال کیا مگر اس میں کتنے بیڈروم ہیں؟
وہ ڈبل بیڈ ہے مگر بغل میں تین خواب گاہوں والے فلیٹ کے ساتھ بھی کھلی جگہ ہے اور پیچھے کی طرف ہونے کی وجہ سےسڑک کا شور بھی نہیں ہوگا۔
للن کو مکان پسند آگیا دفتر کے اندر چائے کے ساتھ بھاو مول بھی ہوگیا ۔ اب وہ بولا میں ایک ہفتے میں عید سے قبل منتقل ہوجانا چاہتا ہوں تو کیا کرنا ہوگا؟
کلن خوش تھا کہ اس کی امید کے خلاف بڑی اچھی قیمت پر بہت جلد نہایت مہنگے فلیٹ کا سودہ ہوگیا لیکن عید کے حوالے سے چونک کر اس نے پوچھا عید؟
جی ہاں شاہ صاحب عید؟ میں اپنے بھانجے کے ساتھ یہاں آکر عید مناوں گا اور اسے عیدی کا تحفہ دے کر لندن لوٹ جاوں گا ۔
شاہ نے پریشان ہوکر کہا لیکن چودھری صاحب ہم لوگ تو مسلمانوں کو اپنی بلڈنگ میں مکان نہیں دیتے ۔اس لیے معافی چاہتا ہوں ۔
للن چودھری بولا کمال کرتے ہیں مسلمان ہوکر مسلمانوں سے دوری ؟ ناقابلِ فہم ہے۔
کلن بولا جی نہیں جناب آپ کو غلط فہمی ہوگئی میرا پورا نام کلن بنکم چند شاہ ہے۔
اوہو تب تو اچھا ہوا کہ یہ غلط فہمی دور ہوگئی ورنہ ۰۰۰۰۰۰
ورنہ؟ ورنہ کیا ؟؟
بھئی پیشگی رقم دینے کے بعد اگر مجھے یہ پتہ چلتا تو کیا آپ اسے واپس کرتے؟
جی نہیں ۔ ہرگز نہیں ۔ ہم آئی ہوئی لکشمی کو نہیں لوٹاتے۔ آپ کا روپیہ ڈوب جاتا ۔
اسی لیے میں صرف مسلمانوں سے ہی مکان دوکان کا سودہ کرتا ہوں کیونکہ وہ دولت کو لکشمی نہیں مانتے ۔ میری تو پیشگی رقم ہی ڈوب جاتی ۔
لیکن آپ غیر مسلمین سے مکان کیوں نہیں خریدتے؟ اس میں کیا خرابی ہے؟؟آپ نے تو ہماری عمارت کی خوب تعریف کررہے تھے ۔
ہاں لیکن سودہ تو انسان سے ہوتا ہے۔مجھے جب پتہ چلا کہ ایودھیا کے مندر کی خاطر حاصل کی جانے والی زمین میں بدعنوانی ہوئی تو میر ااعتماد اٹھ گیا۔
کلن دانت نکال کر بولاآپ تو بھوپال سے سیدھے ایودھیا پہنچ گئے ؟
میں ہی کیوں اپنے شہر کا مودانی بلڈر بھی تو وہاں پہنچ چکا ہے۔ آپ بھی کوشش کریں لیکن سنبھال کر کہیں ’پوتر بھومی ‘ پرآپ کو بھی نہ ٹھگ دیا جائے ۔
کلن نے کو گاہک کے چلے جانے سے زیادہ دُکھ اس طنز کے تیر سے ہوا تھا ۔ وہ بولا دیکھیے چودھری صاحب سبھی ہندو بے ایمان نہیں ہوتے ۔
جی ہاں للن بولا لیکن سبھی مسلمان ہوتے ہیں اس لیے آپ کسی مسلم کو فلیٹ نہیں بیچتے ۔
کلن لاجواب ہوگیا ۔ وہ بولا جی نہیں آپ برا نہ مانیں مجھے تو نہیں ہمارے ہندو گاہکوں کو اعتراض ہوتا ۔ وہ جو آپ لوگ گوشت وغیرہ کھاتے ہیں نا؟
اچھا تو کیا زوماٹو پر ہندوستان کا سب سے مقبول پکوان چکن بریانی صرف مسلمانوں کی وجہ سے ہوگیا وہ تو کم ہیں اور گھر کی بریانی کو ترجیح دیتے ہیں ؟
میں آپ کی بات سمجھتا ہوں ۔ گھر سے باہر سب کھاتے ہیں اور باہر منگوا کر بھی کھا لیتے ہیں مگر وہ جو بناتے وقت بو ُ وغیر آتی ہے ۔
للن قہقہہ لگا کر بولا بھیا آج کل باورچی خانے میں لگا پنکھا ساری بوُ اوپر چھت پر لے جاکر پھینک دیتا ہے۔ آپ کس دنیا میں رہتے ہیں؟
کلن پھنستا جارہا تھا ۔ وہ بولا آپ کی بات درست ہے زمانہ بدل گیا لیکن وہ جو انسانی نفسیات ہےنا،مسلمانوں کا مویشیوں کو ذبح کرنا لوگوں کو کھلتا ہے۔
اچھا اب ہندوستان بیف برآمد میں پہلے نمبر پر آگیا اور اس کاروبار میں زیادہ تر جین ہیں تو کیا آپ انہیں بھی مکان نہیں بیچیں گے ؟
دیکھیے چودھری صاحب گائے کو ہم ماں کا درجہ دیتے ہیں اور مسلمان اسی کا گوشت کھاتے ہیں ۔ اس لیے تھوڑا مسئلہ تو ہوگا نا؟
بھیا شنکر اچاریہ کے مطابق بھینس کے گوشت میں گائے کا گوشت ملا کر برآمد کیا جارہا ہے۔ کیا اتنے بڑے دھرم گرو کا بیان جھوٹ پر مبنی ہے۔
جی نہیں وہ کبھی جھوٹ نہیں بول سکتے مگر کیا ہے کہ گئو ماتا کے ساتھ جو جذبات وابستہ ہیں ۔ اس کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔
دیکھیے چودھری صاحب میں زبردستی تو نہیں کرسکتا لیکن آپ سے بات کرکے بڑا اچھا لگا ۔ یہ بتائیے کہ میں آپ کے لیے کیا کرسکتا ہوں ؟
آپ مجھے اگر اپنے کسی قابلِ اعتمادمسلمان بلڈر ملا دیں جس کا فلیٹ تیار ہو تو میرے لیے آسانی ہوگی۔
کلن بولا جی ہاں میرے دوست جمن پٹیل نے توایک پوری کالونی ڈیولیپ کی ہے جس میں کئی ٹاورس اور کوٹھیاں ہیں میں اس کو فون لگاتا ہوں ۔
للن نے کہا بڑی مہربانی کلن شاہ صاحب ۔
کلن فون پر بولا جمن سیٹھ میرے پاس للن چودھری بیٹھے ہیں۔ بہت ذہین اور بھلے آدمی ہیں ۔آپ انہیں فلیٹ تو کیا کوٹھی بھی بیچ سکتے ہیں ۔
آشیانہ ریزیڈنسی کے وسیع دفتر میں کوٹھی کا سودہ کرتے ہوئے للن چودھری نے کہا جمن صاحب مجھے ایک ہفتے بعد آپ کی کوٹھی میں عید منانی ہے۔
ایک ہفتے کے اندر کوٹھی کی داخلی آرائش و زیبائش کا کام کروانا ناممکن تھا ۔ جمن بولا کاش کے میرے پاس جِن ہوتےان کی مدد سے میں یہ کام کروادیتا۔
للن نے کچھ سوچ کر کہا اچھا یہ جو سیمپل کوٹھی جوآپ نے مجھے دکھائی ہے یا کیا اس کا سودہ ہوچکا ہے؟
جمن بولا بہت خوب ۔ یہ کوٹھی تو میں نے اپنے لیے رکھی ہوئی تھی کہ جب سب بک جائیں گی تو اس میں منتقل ہوجاوں گا لیکن ۰۰۰۰۰
لیکن کیا؟ للن نے سوال کیا ۔
لیکن یہ کہ آپ اس میں آجائیں میں دوسری کوٹھی تیارکر لوں گا جو پہلے نمونے کے طور پر استعمال ہوگی اور بعد میں میرے لیے۔ مجھے جلدی نہیں ہے۔
للن ہنس کر بولا آپ نے تو چٹکیوں میں مسئلہ حل کردیا۔
بھائی آئیڈیا تو آپ نے ہی دیا خیر یہ بتائیے کہ کب منتقل ہورہے ہیں؟
ارے بھائی جائیداد کے کاغذات تو بن جائیں اور ادائیگی وغیر تو ہوجائے ۔
وہ سب ہوتا رہے گا ۔ آپ تیاری کریں اور ہاں میرے عزیز دوست کلن شاہ کا شکریہ تو بنتا ہی ہے جس نے آپ کو مجھ سے ملوایا۔
جی ہاں میں بھی ان کا شکریہ ادا کروں گا۔
جمن نے کلن کا شکریہ ادا کرنے کے بعد فون للن کی طرف بڑھا دیا۔
للن بولا بہت بہت شکریہ۔ آپ نے میرا مسئلہ ہی حل کروا دیا۔
کلن نے جواب دیا ۔ یہ سب اوپر والے کا کرم ہے ۔ آپ کو نئی کوٹھی اور عید کی پیشگی مبارکباد ۔ میں عید کے دن شیر خورمہ پینے آوں گا ۔
للن نے کہا آپ کی آمد کے بغیر میری عید کی خوشی ادھوری رہے گی۔ آپ کا شدت سے انتظار رہے گا ۔
جمن ہنس کر بولا کیا ہمیں دعوت نہیں دیں گے ؟
للن نے کہا گھر آپ ہی کا ہے۔ آپ نے اپنے لیے بناکر ہمیں دے دیا ۔ اپنے گھر میں آنے کے لیے دعوت کیا کیا ضرورت ؟ چلیے خدا حافظ ۔
Post Views: 1
Like this:
Like Loading...