Skip to content
عید کے موقع پر اپنی عورتوں کا ضرور شکریہ ادا کریں
از قلم: مفتی محمد عبدالحمید شاکر قاسمی
عید خوشیوں، محبتوں، شکر گزاری اور باہمی تعلقات کو مضبوط بنانے کا دن ہے۔ یہ صرف نئے کپڑے پہننے، اچھا کھانا کھانے اور مبارک باد دینے کا موقع نہیں بلکہ یہ اس بات کا بھی دن ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ان لوگوں کی قدر کریں جو ہماری خوشیوں کو حقیقت کا رنگ دیتے ہیں۔ گھر کے ماحول میں اگر غور کیا جائے تو عید کی تیاریوں سے لے کر مہمان نوازی تک، بچوں کی خوشیوں سے لے کر گھر کی صفائی تک، پکوانوں سے لے کر لباس کی ترتیب تک، ایک بہت بڑا حصہ گھر کی عورتوں کے کندھوں پر ہوتا ہے۔ ماں ہو، بیوی ہو، بہن ہو، بیٹی ہو یا دادی و نانی—عید کی رونق کے پیچھے اکثر انہی کی محنت، محبت، قربانی اور خاموش خدمت ہوتی ہے۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں اکثر گھر کی عورتوں کی خدمات کو معمولی سمجھ لیا جاتا ہے۔ عید کے دن سب لوگ خوشی مناتے ہیں، مہمانوں سے ملتے ہیں، بازار جاتے ہیں، دوستوں سے ملاقات کرتے ہیں، لیکن جو عورتیں صبح سے شام تک گھر کو سنبھالتی ہیں، ان کی تھکن، ان کی محنت اور ان کے جذبات کو بہت کم محسوس کیا جاتا ہے۔ بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ جن عورتوں نے پوری رات جاگ کر بچوں کے کپڑے تیار کیے، سحری و افطاری کے بعد عید کی تیاری مکمل کی، کھانا بنایا، صفائی کی، مہمانوں کی خدمت کی، انہی کے لیے عید کا دن سب سے زیادہ مشقت والا بن جاتا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ عید کے موقع پر خاص طور پر اپنے گھر کی عورتوں کا شکریہ ادا کیا جائے، ان کی قدر کی جائے، ان کے کام کو تسلیم کیا جائے اور ان کے لیے بھی عید کو خوشی اور راحت کا دن بنایا جائے۔
عید: خوشی کے ساتھ شکر گزاری کا دن
اسلام میں عید محض ایک تہوار نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرنے کا دن ہے۔ رمضان کے روزوں کے بعد عید الفطر ہو یا قربانی کے ایام کے بعد عید الاضحی، دونوں میں ایک اہم پیغام یہ ہے کہ بندہ اللہ کا شکر گزار بنے۔ شکر صرف زبان سے “الحمد للہ” کہنے کا نام نہیں بلکہ ان لوگوں کی قدر کرنا بھی شکر ہی کا حصہ ہے جنہیں اللہ تعالیٰ نے ہماری زندگی میں ہمارے لیے سہارا، سکون اور رحمت بنایا۔
گھر کی عورتیں اللہ تعالیٰ کی ایک بڑی نعمت ہیں۔ وہ صرف گھر کے کام کرنے والی نہیں بلکہ گھر کے نظام کا دل ہوتی ہیں۔ ان کے وجود سے گھر میں محبت، تربیت، نرمی، تہذیب اور سکون پیدا ہوتا ہے۔ عید کے دن جب ہم اللہ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتے ہیں تو ان نعمتوں میں گھر کی عورتوں کی محنت اور محبت کا اعتراف بھی شامل ہونا چاہیے۔ جو شخص اپنے قریب ترین لوگوں کی قدر نہیں کرتا، وہ حقیقی شکر کے مفہوم کو مکمل طور پر نہیں سمجھ سکتا۔
شکر گزاری کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ انسان دوسروں کے احسان اور خدمت کو پہچانے۔ عید کے موقع پر جب ہر طرف خوشی کا ماحول ہو تو ایسے وقت میں اگر ہم اپنے گھر کی عورتوں کے لیے محبت بھرے الفاظ کہیں، ان کی محنت کو سراہیں، ان کے لیے آسانی پیدا کریں اور ان کی خوشی کا سامان کریں تو یہ نہ صرف اخلاقی حسن ہے بلکہ عید کی روح کے بھی عین مطابق ہے۔
گھر کی عورتیں: عید کی اصل معمار
عید کی خوشی خود بخود پیدا نہیں ہو جاتی۔ اس کے لیے گھروں میں بہت سی تیاری ہوتی ہے۔ نئے کپڑوں کی ترتیب، بچوں کی ضروریات، گھر کی صفائی، باورچی خانے کی تیاری، مہمانوں کے استقبال کا اہتمام، روایتی کھانوں کی تیاری، برتنوں کی ترتیب، تحائف کی تیاری—یہ سب کام اکثر گھر کی عورتیں انجام دیتی ہیں۔ گھر کے مردوں کو شاید ان میں سے کچھ کاموں کا علم ہو، مگر ان کے پیچھے لگنے والے وقت، مشقت اور ذہنی دباؤ کا مکمل اندازہ اکثر نہیں ہوتا۔
بہت سی مائیں عید سے کئی دن پہلے بچوں کے کپڑے، جوتے، چوڑیاں، دوپٹے، ٹوپیاں اور دوسری چیزیں سنبھالتی ہیں۔ بہنیں گھر کی آرائش اور صفائی میں حصہ لیتی ہیں۔ بیویاں مہمانوں کی آمد کے پیش نظر کھانے اور دیگر انتظامات میں مصروف رہتی ہیں۔ دادی اور نانی اپنے تجربے سے گھر کی بچیوں اور بہوؤں کی رہنمائی کرتی ہیں۔ گویا عید کی خوبصورتی اور نظام کا ایک بڑا حصہ عورتوں کی محنت پر قائم ہوتا ہے۔
عجیب بات یہ ہے کہ یہی عورتیں عید کے دن سب سے آخر میں تیار ہوتی ہیں، سب سے کم آرام کرتی ہیں، اور اکثر ان کی خوشی دوسروں کی خوشی میں گم ہو جاتی ہے۔ جب بچے خوش ہوں، مرد سکون سے عید گاہ جائیں، مہمان مطمئن ہوں، گھر صاف ہو، دسترخوان سجا ہو، تب کہیں جا کر ان کی محنت کا نتیجہ سامنے آتا ہے۔ اس لیے انصاف اور شرافت کا تقاضا یہی ہے کہ عید کے موقع پر سب سے پہلے انہی خواتین کی قدر کی جائے جنہوں نے اس خوشی کو ممکن بنایا۔
عورتوں کی محنت کیوں نظر انداز ہو جاتی ہے؟
اس سوال پر غور کرنا بہت ضروری ہے کہ آخر گھر کی عورتوں کی محنت کو اکثر معمولی کیوں سمجھا جاتا ہے؟ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ گھریلو کام کو بعض لوگ “کام” ہی نہیں سمجھتے۔ چونکہ اس کے بدلے میں تنخواہ نہیں ملتی، اس لیے اس کی اہمیت کو کم کر دیا جاتا ہے۔ حالانکہ اگر انہی کاموں کے لیے باہر سے لوگ رکھے جائیں تو صفائی کے لیے الگ مزدور، کھانا بنانے کے لیے الگ باورچی، بچوں کی دیکھ بھال کے لیے الگ ملازم، انتظام کے لیے الگ شخص درکار ہوگا۔ مگر گھر کی عورت یہ سب ذمہ داریاں ایک ساتھ محبت اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ نبھاتی ہے۔
دوسری وجہ معاشرتی عادت ہے۔ بعض گھروں میں عورتوں کی خدمت کو “فرض” سمجھ لیا جاتا ہے اور مردوں کی سہولت کو “حق”۔ اس غلط سوچ کی وجہ سے عورتوں کی محنت پر شکریہ ادا کرنا ضروری نہیں سمجھا جاتا۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ہر خدمت، ہر قربانی اور ہر محبت کا اعتراف ہونا چاہیے۔ اسلام نے بھی حسنِ سلوک، قدردانی اور احسان شناسی کی تعلیم دی ہے۔
تیسری وجہ یہ ہے کہ لوگ جذبات کے اظہار میں بخل سے کام لیتے ہیں۔ دل میں محبت ہوتی ہے لیکن زبان سے تعریف اور شکریہ ادا کرنے میں کوتاہی کی جاتی ہے۔ حالانکہ بعض اوقات ایک نرم جملہ، ایک خلوص بھرا شکریہ، ایک چھوٹا سا تحفہ، یا تھوڑی سی مدد عورت کے دل کو خوشی سے بھر سکتی ہے۔ عید کے دن اگر ہم یہ معمولی سی توجہ بھی نہ دیں تو یہ ہماری بے حسی کی علامت ہے۔
شکریہ ادا کرنا: اسلامی اور اخلاقی تعلیم
اسلام ایک ایسا دین ہے جو انسان کے تعلقات کو حسنِ اخلاق سے آراستہ کرتا ہے۔ شکر گزاری، قدردانی، رحم دلی، نرمی اور حسنِ سلوک اسلام کے بنیادی اخلاقی اوصاف میں شامل ہیں۔ جو شخص لوگوں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرتا ہے اور ان کی خدمت و احسان کو تسلیم کرتا ہے، وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی پسندیدہ ہے۔ گھر کے اندر یہ اخلاقی حسن سب سے زیادہ ضروری ہے، کیونکہ باہر کے لوگوں سے خوش اخلاقی دکھانا آسان ہوتا ہے، اصل امتحان اپنے گھر والوں کے ساتھ ہوتا ہے۔
عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک، ان کی عزت، ان کی محنت کا اعتراف اور ان کے حقوق کی ادائیگی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کا حصہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھریلو زندگی میں حسنِ اخلاق، خدمت، نرمی اور محبت کی جو مثال قائم فرمائی وہ قیامت تک امت کے لیے نمونہ ہے۔ آپ اپنے گھر والوں کے ساتھ محبت سے پیش آتے، ان کی دل جوئی کرتے، ان کے جذبات کا خیال رکھتے اور گھریلو معاملات میں نرمی اور رحمت کا برتاؤ فرماتے تھے۔
چنانچہ عید کے موقع پر گھر کی عورتوں کا شکریہ ادا کرنا کوئی صرف جذباتی یا سماجی بات نہیں بلکہ اسلامی اخلاق کے عین مطابق عمل ہے۔ یہ عمل اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی زندگی میں دین کے حسن کو اپنانا چاہتے ہیں۔ شکریہ ادا کرنا تکبر کے خلاف اور عاجزی کی علامت ہے۔ جو مرد اپنی ماں، بیوی، بہن اور بیٹی کی محنت کو تسلیم کرتا ہے وہ دراصل اپنے اخلاق کا اعلیٰ معیار ظاہر کرتا ہے۔
ماں کا شکریہ: عید کی سب سے پہلی مستحق
اگر گھر کی کسی عورت کا سب سے زیادہ شکریہ ادا کیا جانا چاہیے تو وہ ماں ہے۔ ماں کی محبت، قربانی، فکر اور خدمت کا بدل کسی کے پاس نہیں۔ بچپن سے جوانی تک، بیماری سے صحت تک، تعلیم سے تربیت تک، ہر قدم پر ماں انسان کے ساتھ کھڑی رہتی ہے۔ عید کے موقع پر بھی ماں کی ذمہ داریاں سب سے بڑھ جاتی ہیں۔ وہ بچوں کے کپڑے سنبھالتی ہے، گھر کی تیاری کرتی ہے، مہمانوں کا خیال رکھتی ہے، کھانے پینے کا انتظام کرتی ہے، اور اپنے آرام و سکون کو دوسروں کی خوشی پر قربان کر دیتی ہے۔
بہت سے گھروں میں دیکھا جاتا ہے کہ ماں سب کو عید کی خوشی دیتی ہے، مگر خود اس کے حصے میں تھکن آتی ہے۔ سب نئے کپڑے پہن لیتے ہیں مگر ماں کے بارے میں آخر میں سوچا جاتا ہے۔ سب دسترخوان پر بیٹھ کر کھاتے ہیں مگر ماں اکثر کھانے کی خدمت میں مصروف رہتی ہے۔ سب لوگ مبارک باد دیتے ہیں مگر ماں کو شکریہ کم ہی ملتا ہے۔ یہ رویہ درست نہیں۔
عید کے دن ماں کے لیے سب سے خوبصورت تحفہ یہ ہے کہ اس کی خدمت کو تسلیم کیا جائے، اس کے ہاتھ چومے جائیں، اس کے لیے دعا کی جائے، اسے آرام دیا جائے، اس کے ساتھ عزت اور محبت سے بات کی جائے، اور اس سے کہا جائے: “امّی! ہماری عید آپ کی وجہ سے ہے۔ اللہ آپ کو جزائے خیر دے۔” یہ چند الفاظ ماں کے دل کو خوشی سے بھر سکتے ہیں۔ عید کی اصل برکت بھی یہی ہے کہ گھر کے بڑے دل خوش ہوں۔
بیوی کا شکریہ: زندگی کی شریک اور گھر کی نگہبان
ازدواجی زندگی صرف حقوق و فرائض کا نام نہیں بلکہ محبت، احترام، تعاون اور شکر گزاری کا رشتہ ہے۔ بیوی گھر کے نظام میں ایک مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ وہ بچوں کی تربیت، کھانے پینے، صفائی، مہمان نوازی، شوہر کی راحت، اور گھر کے مجموعی ماحول کو سنبھالنے میں اپنا اہم حصہ ادا کرتی ہے۔ عید کے دن اس کی ذمہ داریاں اور بڑھ جاتی ہیں۔ نئے کپڑوں کی ترتیب، بچوں کی تیاری، ناشتے یا کھانے کا انتظام، مہمانوں کی خاطر داری، گھر کی سجاوٹ—یہ سب کام اکثر بیوی خاموشی سے انجام دیتی ہے۔
کئی مرد عید کے دن خوب تیار ہو کر عید گاہ چلے جاتے ہیں، دوستوں سے ملتے ہیں، رشتہ داروں کے ہاں جاتے ہیں، لیکن ان کی بیوی گھر میں کاموں کے دباؤ میں رہتی ہے۔ اگر شوہر واقعی عید کی خوشی کو سمجھتا ہے تو اسے چاہیے کہ بیوی کو محض خدمت گزار نہ سمجھے بلکہ اپنی شریکِ حیات اور زندگی کی مددگار سمجھے۔ اس کا شکریہ ادا کرے، اس کے لیے تحفہ لائے، اس کا بوجھ کم کرے، بچوں کو سنبھالنے میں مدد دے، اور کم از کم زبان سے خلوص کے ساتھ اس کی قدر کرے۔
شوہر کی طرف سے ایک سچا جملہ—“تم نے بہت محنت کی، اللہ تمہیں خوش رکھے”—بیوی کے لیے بڑی خوشی کا سبب بن سکتا ہے۔ اس سے محبت بڑھتی ہے، دلوں میں قربت آتی ہے، اور گھر میں رحمت کا ماحول پیدا ہوتا ہے۔ عید کے دن بیوی کی محنت کو نظر انداز کرنا دراصل اپنے ہی گھر کی بنیادوں کو کمزور کرنا ہے، جبکہ اس کی قدر کرنا گھر کو مضبوط، پرامن اور خوشگوار بناتا ہے۔
بہنوں اور بیٹیوں کا شکریہ: گھر کی رونق اور محبت کا چراغ
گھر کی بہنیں اور بیٹیاں بھی عید کی تیاریوں میں بڑا کردار ادا کرتی ہیں۔ وہ گھر کی صفائی، آرائش، بچوں کی تیاری، پکوانوں میں مدد، سامان کی ترتیب اور خوشگوار ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ کئی بار ان کی محنت کو سنجیدگی سے لیا ہی نہیں جاتا، کیونکہ انہیں “چھوٹی” یا “صرف مددگار” سمجھ کر ان کے کام کی اہمیت کم کر دی جاتی ہے۔ حالانکہ گھر کے مجموعی نظام میں ان کی محبت اور شرکت بڑی قیمتی ہوتی ہے۔
بہنیں اپنے بھائیوں، والدین اور گھر والوں کے لیے کئی چھوٹے بڑے کام کرتی ہیں۔ بیٹیاں گھر میں نرمی، محبت اور مسکراہٹ لاتی ہیں۔ ان کی موجودگی سے گھر میں زندگی کا احساس ہوتا ہے۔ عید کے دن اگر ان کے جذبات، ان کی خواہشات اور ان کی محنت کا احترام کیا جائے، انہیں شکریہ کہا جائے، ان کے لیے دعا کی جائے، ان کی پسند کا خیال رکھا جائے، تو اس سے ان کے دلوں میں اعتماد اور محبت بڑھتی ہے۔
خاص طور پر بیٹیوں کے ساتھ حسنِ سلوک اسلام کی عظیم تعلیم ہے۔ بیٹی کو رحمت کہا گیا ہے۔ عید کے دن اگر ہم اپنی بیٹیوں کو صرف نئے کپڑے دے دیں لیکن عزت، توجہ اور محبت نہ دیں تو یہ خوشی ادھوری رہ جاتی ہے۔ ان کے لیے وقت نکالنا، ان کی تعریف کرنا، ان کے کام کی قدر کرنا اور ان سے نرمی سے پیش آنا بھی شکریے کی صورت ہے۔
عید کی تیاریوں میں عورتوں کا ذہنی دباؤ
عید کے موقع پر عورتوں کی صرف جسمانی مشقت نہیں بڑھتی بلکہ ذہنی دباؤ بھی بہت زیادہ ہوتا ہے۔ گھر کی عورت کو بیک وقت بہت سی چیزوں کا خیال رکھنا پڑتا ہے: کس کا کپڑا آیا یا نہیں، بچوں کے جوتے درست ہیں یا نہیں، مہمان کب آئیں گے، کھانے کی کیا ترتیب ہوگی، گھر کی صفائی مکمل ہے یا نہیں، کون سی چیز ختم ہو گئی، کون سی چیز رہ گئی، کس رشتہ دار کو کیا جواب دینا ہے، کس بچے کی کیا ضد ہے۔ یہ سب بظاہر چھوٹی چیزیں ہیں مگر ان کا مجموعہ عورت کو تھکا دیتا ہے۔
مرد اکثر صرف تیار شدہ صورت دیکھتے ہیں، یعنی سجا ہوا گھر، بنا ہوا کھانا، تیار بچے، خوشگوار ماحول۔ مگر اس کے پیچھے کتنی فکر، منصوبہ بندی، بھاگ دوڑ اور ذہنی مشقت لگی ہوتی ہے، اس کا اندازہ کم ہی کیا جاتا ہے۔ عید کے دن عورتوں کے لیے حقیقی خوشی اسی وقت ممکن ہے جب ان پر صرف ذمہ داریوں کا بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ انہیں جذباتی سہارا بھی دیا جائے۔
اس لیے گھر کے مردوں، بچوں اور دوسرے افراد کو چاہیے کہ عورتوں کی اس ذہنی کیفیت کو سمجھیں۔ صرف “کام” میں ہاتھ بٹانا کافی نہیں بلکہ “قدردانی” کا اظہار بھی ضروری ہے۔ جب عورت محسوس کرے گی کہ میری محنت دیکھی جا رہی ہے، میری قربانی سمجھی جا رہی ہے اور میری خدمت کو سراہا جا رہا ہے تو اس کی تھکن بھی کم محسوس ہوگی اور اس کے دل میں خوشی بھی بڑھے گی۔
صرف زبان سے نہیں، عمل سے بھی شکریہ ادا کرو
شکریہ ادا کرنا صرف الفاظ تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔ الفاظ اپنی جگہ اہم ہیں، لیکن سچے شکریے کی اصل پہچان عمل ہے۔ عید کے دن اگر گھر کے مرد یا بچے واقعی گھر کی عورتوں کا شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے چند عملی کام بہت معنی رکھتے ہیں۔
مثلاً گھر کے کچھ کام خود سنبھال لینا، کھانے کی تیاری یا برتنوں میں مدد دینا، بچوں کو تیار کرنے یا سنبھالنے میں ہاتھ بٹانا، مہمانوں کی خدمت میں حصہ لینا، عورتوں کو جلدی اٹھنے پر مجبور نہ کرنا، ان کے لیے خاص تحفہ یا عیدی رکھنا، اور ان کے آرام کا خیال رکھنا—یہ سب عملی شکریے کی صورتیں ہیں۔ بعض اوقات ایک گلاس پانی پیش کر دینا، ایک کرسی لا دینا، یا یہ کہنا کہ “آپ بیٹھ جائیں، باقی ہم کر لیتے ہیں” بہت بڑا تحفہ ہوتا ہے۔
اسی طرح عید کے دن عورتوں کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی شکریے کا حصہ ہے۔ ان پر بے جا تنقید نہ کی جائے، کھانے میں کمی بیشی پر ناراضی نہ دکھائی جائے، بچوں کے شور شرابے کا الزام ان پر نہ ڈالا جائے، اور ان کی تیاری میں تاخیر پر طنز نہ کیا جائے۔ عید کے دن ایک خوشگوار اور مہربان ماحول بنانا مردوں کی ذمہ داری بھی ہے۔
شکریہ ادا کرنے کے خوبصورت طریقے
عید کے موقع پر گھر کی عورتوں کا شکریہ مختلف خوبصورت طریقوں سے ادا کیا جا سکتا ہے۔ سب سے پہلی صورت یہ ہے کہ خلوص کے ساتھ ان کی تعریف کی جائے۔ تعریف جھوٹی یا رسمی نہ ہو بلکہ سچی ہو۔ جیسے: “امی! آپ کے بغیر گھر میں عید نہیں ہو سکتی”، “آپ نے بہت محنت کی ہے”، “اللہ آپ کو خوش رکھے”، “ہم آپ کے شکر گزار ہیں”۔ ایسے الفاظ دلوں میں اتر جاتے ہیں۔
دوسرا طریقہ تحفہ ہے۔ تحفہ چھوٹا ہو یا بڑا، اس کی اصل قیمت اس کے خلوص میں ہے۔ ایک دوپٹہ، ایک جوڑا، چوڑیاں، عطر، کتاب، یا ان کی پسند کی کوئی چیز بطورِ عیدی پیش کرنا ان کے لیے خوشی کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
تیسرا طریقہ خدمت ہے۔ عید کے دن عورتوں کو آرام دینا، ان کے کام کم کرنا، بچوں کو سنبھالنا، دسترخوان لگانے یا اٹھانے میں مدد کرنا، چائے یا پانی خود لے آنا—یہ سب حقیقی شکریے کی صورتیں ہیں۔
چوتھا طریقہ دعا ہے۔ ان کے لیے دل سے دعا کرنا کہ اللہ انہیں صحت، عزت، سکون اور خوشی عطا فرمائے۔ ماں کے لیے دعا، بیوی کے لیے دعا، بہنوں اور بیٹیوں کے لیے دعا—یہ گھر کے ماحول کو نور سے بھر دیتی ہے۔
پانچواں طریقہ عزت و احترام ہے۔ ان کی بات توجہ سے سننا، ان کے جذبات کو سمجھنا، ان کے آرام کا خیال رکھنا، اور ان کے سامنے سخت یا تلخ لہجہ استعمال نہ کرنا—یہ سب ان کی قدر کا عملی اظہار ہے۔
ہمارے معاشرے کی ایک اصلاح طلب عادت
ہمارے معاشرے میں ایک بڑی خرابی یہ ہے کہ عورت جتنا زیادہ کام کرتی ہے، اتنا ہی اس سے مزید توقعات باندھ لی جاتی ہیں۔ اور اگر کبھی وہ تھکن یا کمزوری کی وجہ سے کسی کام میں کمی کر دے تو فوراً شکایت شروع ہو جاتی ہے۔ عید کے موقع پر یہ خرابی اور زیادہ نمایاں ہو جاتی ہے۔ بعض مرد صرف اپنی تیاری، اپنی ملاقاتوں اور اپنی خوشیوں میں مصروف رہتے ہیں، جبکہ عورتیں باورچی خانے اور گھریلو ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دبی رہتی ہیں۔
اس عادت کی اصلاح بہت ضروری ہے۔ عید کا دن صرف مردوں، بچوں یا مہمانوں کی خوشی کے لیے نہیں بلکہ گھر کی عورتوں کی خوشی کے لیے بھی ہے۔ اگر گھر کی عورتیں ہی تھکی ہوئی، دکھی، ناراض یا نظر انداز محسوس کر رہی ہوں تو ایسی عید کے ظاہری رنگ تو ہو سکتے ہیں مگر اس کی حقیقی برکت کم ہو جاتی ہے۔
اس لیے معاشرے میں یہ شعور پیدا ہونا چاہیے کہ عورت کی خدمت کو حقیر نہ سمجھا جائے۔ گھر کے نظام کو چلانا کوئی معمولی کام نہیں۔ جو عورت گھر کو سنبھالتی ہے، وہ دراصل نسلیں سنوارتی ہے، خاندان جوڑتی ہے اور سکون پیدا کرتی ہے۔ عید کے دن اس کے احترام اور شکریے کا خاص اہتمام ہونا چاہیے۔
بچوں کو بھی یہ ادب سکھانا چاہیے
گھر کی عورتوں کا شکریہ ادا کرنے کی تعلیم صرف بڑوں تک محدود نہیں رہنی چاہیے بلکہ بچوں کو بھی یہ ادب سکھانا چاہیے۔ بچوں کو بچپن سے بتایا جائے کہ امی کی محنت کو محسوس کریں، بہنوں کے کام کو سراہیں، دادی اور نانی کا ادب کریں، اور عید کے دن ان کے ہاتھ چوم کر دعا لیں۔ جب بچے یہ دیکھیں گے کہ ان کے والد اپنی والدہ یا بیوی کا احترام کر رہے ہیں، ان کا شکریہ ادا کر رہے ہیں، تو وہ بھی یہی سیکھیں گے۔
بچوں کو یہ سکھانا چاہیے کہ گھر کی عورتیں صرف خدمت کے لیے نہیں بلکہ عزت اور محبت کے لیے ہیں۔ ان کے ساتھ نرمی سے بات کرنی چاہیے، ان کے کام میں ہاتھ بٹانا چاہیے، اور ان کی خوشی کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ تربیت آئندہ نسلوں کے لیے ایک بہترین سرمایہ ہے۔ اگر آج کے بچے اپنی ماؤں اور بہنوں کی قدر کرنا سیکھ گئے تو کل وہ بہتر شوہر، بہتر باپ اور بہتر انسان بنیں گے۔
عید جیسے مواقع اس تربیت کے لیے بہت موزوں ہوتے ہیں۔ بچوں سے کہا جا سکتا ہے کہ وہ اپنی امی کے لیے کارڈ بنائیں، دادی کو مبارک باد دیں، بہنوں کو شکریہ کہیں، اور گھر کے کچھ کاموں میں حصہ لیں۔ اس طرح ایک خوبصورت خاندانی ماحول پیدا ہوگا جس میں محبت، ادب اور شکر گزاری پروان چڑھے گی۔
عورتوں کو بھی خوشی کا حق ہے
بعض لوگ یہ بھول جاتے ہیں کہ عورتیں بھی انسان ہیں، ان کے بھی جذبات ہیں، انہیں بھی خوشی، آرام، تعریف، عزت اور توجہ کی ضرورت ہے۔ عید کے دن اگر سب کو نئے کپڑے، عیدی، باہر جانا، مہمانی اور خوشی ملے مگر گھر کی عورت کو صرف کام اور ذمہ داری ملے تو یہ انصاف نہیں۔ عورتوں کو بھی حق ہے کہ وہ عید منائیں، اچھا پہنیں، خوش ہوں، آرام کریں، اپنی سہیلیوں اور رشتہ داروں سے ملیں، اور ان کے دل کو بھی خوشی نصیب ہو۔
عید کا کامل حسن یہی ہے کہ گھر کے ہر فرد کو اس کی خوشی ملے۔ جو عورت دوسروں کی خوشی کے لیے اپنا سکون قربان کرتی ہے، وہ اس بات کی زیادہ مستحق ہے کہ اسے عزت، محبت اور خوشی دی جائے۔ اس لیے مردوں کو چاہیے کہ عید کے دن عورتوں پر صرف ذمہ داریاں نہ ڈالیں بلکہ ان کے لیے آسانی پیدا کریں۔ بچوں کو بھی چاہیے کہ اپنی ماں کو تنگ نہ کریں بلکہ اس دن ان کا کام آسان بنائیں۔
یہ سوچ بدلنے کی ضرورت ہے کہ “عورت تو گھر کے کام کے لیے ہے”۔ نہیں، عورت گھر کی رحمت، عزت اور سکون ہے۔ وہ خوش ہوگی تو گھر خوش ہوگا۔ وہ مسکرائے گی تو عید کی رونق بڑھے گی۔ وہ قدر پائے گی تو گھر میں محبت بڑھے گی۔
خاموش محنت کی زبان پہچانو
گھر کی عورتوں کی ایک بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ اکثر اپنی محبت اور خدمت کا شور نہیں مچاتیں۔ وہ خاموشی سے کام کرتی ہیں، خاموشی سے تھکتی ہیں، خاموشی سے برداشت کرتی ہیں، اور خاموشی سے دوسروں کی خوشی میں اپنی خوشی ڈھونڈ لیتی ہیں۔ مگر یہ خاموشی اس بات کی دلیل نہیں کہ انہیں احساس نہیں، یا انہیں شکریے کی ضرورت نہیں۔ خاموش محنت سب سے زیادہ قدردانی کی مستحق ہوتی ہے۔
بعض عورتیں زبان سے کبھی شکوہ نہیں کرتیں، مگر دل میں یہ خواہش ضرور رکھتی ہیں کہ ان کی محنت کو محسوس کیا جائے۔ وہ یہ چاہتی ہیں کہ کوئی تو ہو جو ان سے کہے کہ “ہم جانتے ہیں تم نے بہت محنت کی ہے۔” یہی ایک جملہ انہیں نئی طاقت دے سکتا ہے۔ اس لیے ہمیں عورتوں کے خاموش کردار کو سمجھنا چاہیے اور ان کے جذبے کی عزت کرنی چاہیے۔
عید کے دن خاص طور پر یہ ضروری ہے کہ ہم ظاہری ہنگاموں اور رسمی مبارک بادوں سے آگے بڑھیں اور گھر کے اندر اس خاموش خدمت کی قدر کریں جو ہمیں ہر خوشی مہیا کرتی ہے۔
اگر شکریہ ادا نہ کیا جائے تو کیا نقصان ہے؟
بظاہر لگتا ہے کہ شکریہ ادا نہ کرنے سے کیا فرق پڑتا ہے؟ مگر حقیقت میں اس کے نقصانات گہرے ہوتے ہیں۔ جب عورت کی محنت کو مسلسل نظر انداز کیا جاتا ہے تو اس کے دل میں تھکن کے ساتھ مایوسی بھی پیدا ہوتی ہے۔ وہ محسوس کرتی ہے کہ میری قربانیوں کی کوئی قیمت نہیں، میری خدمت کو کوئی نہیں دیکھتا، میری خوشی کسی کے لیے اہم نہیں۔ یہ احساس آہستہ آہستہ دلوں میں فاصلے پیدا کرتا ہے۔
گھر کے ماحول میں کشیدگی، بے برکتی، ناراضی، بے دلی اور جذباتی دوری انہی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں سے پیدا ہوتی ہے۔ بعض مرد مالی خرچ کو کافی سمجھتے ہیں مگر جذباتی قدردانی نہیں کرتے۔ حالانکہ عورت کو صرف چیزیں نہیں، احساس بھی چاہیے۔ اگر اسے یہ احساس نہ ملے تو وہ اندر سے ٹوٹنے لگتی ہے۔
اس کے برعکس جب عورت کی تعریف ہوتی ہے، اسے عزت ملتی ہے، اس کی محنت کو سراہا جاتا ہے، تو وہ پہلے سے بڑھ کر محبت اور خلوص کے ساتھ گھر کو سنبھالتی ہے۔ گھر میں برکت آتی ہے، رشتوں میں گرمی آتی ہے، اور عید جیسی خوشیاں حقیقی معنی میں خوشیاں بن جاتی ہیں۔
عید کا پیغام: محبت، رحمت اور قدردانی
عید کا ایک بڑا پیغام باہمی محبت ہے۔ مسلمان ایک دوسرے سے ملتے ہیں، گلے ملتے ہیں، معاف کرتے ہیں، دعائیں دیتے ہیں، غریبوں کا خیال رکھتے ہیں، اور خوشی بانٹتے ہیں۔ اس سارے پیغام کا آغاز اپنے گھر سے ہونا چاہیے۔ اگر ہم باہر والوں سے ہنس کر ملیں مگر اپنے گھر کی عورتوں کو نظر انداز کر دیں تو یہ عید کے پیغام کی روح کریں گے، ان کے لیے آسانی پیدا کریں گے، اور اپنی عید کو حقیقی معنوں میں محبت، رحمت اور شکر گزاری کی عید بنائیں گے۔
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...