Skip to content
جنگی جنون : وینزویلا کے بعد ایران اور اب کیوبا
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ایران کی جنگ کے شعلے ابھی بجھے بھی نہیں تھے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کیوبا کے حوالے سے ایک متنازعہ منصوبے کا عندیہ دیتے ہوئے کہہ دیا کہ وہ جزیرے کے بارے میں جو چاہیں کر سکتے ہیں۔ یہ تو جیسے ’باپ کا راج ہے‘ کسی کے ساتھ کچھ بھی کرسکتے ہیں یعنی ٹرمپ کے الفاظ میں ’’ میں کیوبا کو آزاد بھی کرا سکتا ہوں اور اس پر قبضہ بھی کر سکتا ہوں۔ میں اس کے ساتھ جو چاہوں وہ کر سکتا ہوں‘‘۔ ایسا کرنے کی کوئی معقول وجہ بتانے کی بھی ضرورت نہیں محسوس کی گئی مثلا وہ جوہری ہتھیار بنارہا ہے یا اس کے میزائل سے یوروپ کو بھی خطرہ ہے وغیر ہ بلکہ جواز یہ ہے کہ ’’ کیوبا اس وقت بہت کمزور حالت میں ہے۔‘‘ یعنی جو بھی کمزور ہے اسے اپنا تر نوالہ بنا لیا جائے۔ ٹرمپ نے اعتراف کیا کہ کیوبا تیل کی دولت سے مالامال نہیں ہے لیکن وہ زمین کا ایک حسین ٹکڑا ہے جسے سیاحتی نقطۂ نظر سے تعمیر کیا جاسکتا ہے۔ یہی بات غزہ کے تعلق سے بھی کہی گئی تھی کہ امریکہ یعنی خود ٹرمپ اور ان کے داماد کا تعمیری ادارہ وہاں کے لوگوں کو نکال کر سمندری ساحل پر پرتعیش مکانات تعمیرکرکے امیر کبیر لوگوں کی سیر و تفریح کا سامان کرنا چاہتے ہیں ۔یہ ایک حقیقت ہے کہ تمام تر تباہی و بربادی کے باوجود غزہ کے غیور مسلمانوں نے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملا دیا لیکن ٹرمپ نے اس رسوائی سے سبق سیکھنے کے بجائے کیوبا پر اپنی نیت خراب کرلی ۔
دیکھنا یہ ہے کہ جب یہی افتاد کیوبا والوں پر آن پڑی ہے تو وہ اس کا ایرانیوں کی طرح ڈٹ کر مقابلہ کرتے ہیں یا وینزویلا کی مانند ہتھیارڈال دیتے ہیں ۔ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا تعلق کیوبا سے ہے بدقسمتی سے انہیں کی رہنمائی میں کیوبا کی قیادت پر دباو بڑھا یا جا رہا ہے۔ کیوبا کے لیے زیادہ تر ایندھن وینزویلا سے برآمد کیا جاتا تھا۔ وہ بھی اپنے ہم سایہ کو کم نرخ پر تیل دیا کرتا تھا مگر امریکہ نے ان وسائل پر ناجائز قبضہ کرکے جنوری سے ایندھن کی فراہمی روک دی ۔ اس کی وجہ سے کیوبا شدید توانائی کے بحران کا شکار ہوگیا اور وہاں مسلسل بلیک آؤٹ ہونے لگے۔ اس مصیبت نے لاکھوں شہریوں کو متاثر کیا ۔ اس بحران کا فائدہ اٹھاتے ہوئے امریکی حکام نے کیوبا کے صدر میگوئل ڈیاز کینیلکو کے استعفے کو توانائی پابندیوں کے خاتمے کے لیے ایک بنیادی شرط قرار دے دیا یعنی اس بار جنگ یا اغوا کے بغیر ہی بلیک میل کرکے ’رجیم‘( سرکار) بدلنے کا ارادہ ہے۔ اس سے بڑی بے حیائی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اپنے آپ کو انسانی حقوق اور جمہوریت کا علمبردار کہنے والے امریکہ نے ازخود اپنے چہرے سے خوشنما پر فریب نقاب نوچ کر پھینک دی ہے۔ علامہ اقبال کا یہی انکشاف جب لوگوں کے سامنے پیش کیا جاتا ہے تو جمہوریت نوازوں کو بہت مرچی لگتی ہے؎
ہے وہی سازِ کُہن مغرب کا جمہوری نظام جس کے پردوں میں نہیں غیر از نوائے قیصری
دیو استبداد جمہوری قبا میں پاے کوب تُو سمجھتا ہے یہ آزادی کی ہے نیلم پری
اس عالمی دہشت گردی پر شرمندہ ہونے کے بجائے قصرِ ابیض میں صدر ٹرمپ بڑے فخر سے فرماتے ہیں، "مجھے یقین ہے کہ مجھے کیوبا سنبھالنے کا اعزاز حاصل ہوگا۔ چاہے میں اسے آزاد کروں یا اپنے قبضے میں لوں، میں اس کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہوں۔” وہ بڑے یقین کے ساتھ اپنی بات کواس طرح دوہراتے ہیں کہ ’’میرا ماننا ہے کہ کیوبا پر قبضے کا اعزاز میں ہی حاصل کروں گا اور کیوبا پر قبضہ کرنا یا اسے آزاد کرانا یہ ایک بڑا اعزاز ہوگا۔‘‘ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی انتظامیہ کیوبا کی موجودہ قیادت کی تبدیلی کو مذاکرات میں ایک اہم ہدف سمجھتی ہے اور اس سلسلے میں مختلف امکانات زیرِ غور ہیں۔ اس کے برعکس کیوبا کی قیادت نے صدر ٹرمپ کے بیانات کومسترد کرکے سخت ردعمل ظاہر کیا اور اس زیادتی کو ملکی خودمختاری میں مداخلت قرار دیا ہے۔ عالمی سطح پر بھی ان متنازعہ تبصروں پر تشویش کا اظہارتو کیا گیا مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے؟ مغرب کی نام نہاد مہذب دنیا میں تو ’جس کی لاٹھی اس کی بھینس ‘ کا بول بالا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے وینزویلا سے تیل کی سپلائی منقطع کروانے کے بعد کیوبا پر ایندھن کی پابندیاں مزید سخت کر دیں اور اس کے نتیجے میں جو شدید توانائی کا بحران برپا کرکے اس میں ٹرمپ انتظامیہ اپنے لیے امید کی ایک کرن تلاش کر رہا ہے۔
کیوبا کا بحران گواہی دے رہا ہے کہ وینزویلا پر حملہ کرکے اس کے صدر کو اغوا کرنے اور ایران کے خلاف جنگ چھیڑنے کے بعد بھی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کا جنگی جنون ختم ہونے کے بجائے بڑھتا جار ہا ہے۔ کیوبا چوتھی صدی قبل مسیح سے آباد ہے۔ 15ویں صدی میں اسے کولمبس نے دریافت کرکے ہسپانوی نوآبادیات میں شامل کرلیا ۔ سنہ 1886ء میں اسے اسپین کی غلامی سےآزادی ملی مگر سنہ 1898ء کی ہسپانوی-امریکی جنگ کے بعد کیوبا پر ریاستہائے متحدہ نے قبضہ کر لیا اور سن 1902 ء میں کیوبا نے ریاستہائے متحدہ سے بھی آزادی حاصل کرلی ۔ اس کے بعد نیا آئین تونافذ کیاگیا لیکن حکمراں امریکہ کے باجگذار تھے۔ سنہ 1952ء میں فیڈل کاسترو کی قیادت میں فلجیسیو بتستاکی آمریت کے خلاف اشتراکی انقلاب کی جدوجہد کا آغاز ہوا جس نے جنوری 1959ء میں حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ فیڈل کاسترو نے امریکی ساحل سے محض 90میل دور ایک اشتراکی حکومت قائم کرلی تو سرد جنگ کے زمانے میں یہ ملک سوویت یونین اور ریاستہائے متحدہ کے درمیان دوران تنازعات کا ایک نقطہ اشتعال بن گیا ۔ سنہ 1962ء کے کیوبا میزائل بحران کے دوران قریب قریب ایک جوہری جنگ چھڑ گئی تھی لیکن سوویت یونین کے خاتمے نے اس ملک کو شدید اقتصادی بدحالی کا شکار کردیا۔
امریکی مقتدرہ کے نزدیک فیڈل کاسترو بہت بڑا دشمن تھا۔ ان کو ہلاک کرنے کے لیے سی آئی اے نے کم از کم 638 قاتلانہ حملے کیے مگر وہ ہمیشہ بچ گئے۔انہیں اقتدار سے ہٹانے کی خاطر سی آئی اے نے کیوبا کے جلاوطن مخالفین کی مدد سے 1961 میں کیوبا کے بے آف پگز پر حملہ کیالیکن وہ ناکام رہا۔ اس ناکامی کے امریکہ نے "آپریشن مونگوئس” کے ذریعہ کیوبا میں حکومت کو عدم استحکام کا شکار کرنے کی خاطر مختلف سازشیں مثلاً اقتصادی پابندیاں، تخریب کاری اور پروپیگنڈا وغیرہ کی مدد لی گئی مگر سب بے سود رہیں۔ سنہ 2008ء میں، 49 سالہ قیادت کے بعد جب فیڈل کاسترو سبکدوش ہوئے تو ان کے بھائی راؤل کاسترو نے اقتدار سنبھالا ۔ انہوں نے اپریل 2018ء میں پارلیمانی انتخابات کے بعد صدر کے عہدے سے سبکدوش ہوکر موجودہ صدر میگوئل ڈیاز کینیل کو اقتدار سونپ دیا۔ موصوف نے اپریل 2021ء میں کمیونسٹ پارٹی کے فرسٹ سیکریٹری کا عہدہ بھی سنبھال لیا اس طرح پارٹی اور سرکار دونوں کے سارے اختیارات ان کے ہاتھوں میں آگئے۔
راؤل کاسترو کےدور سے کیوبا منصوبہ بند(کنٹرولڈ) معیشت کے بجائے کھلی منڈی کی جانب راغب ہوا یعنی امریکی سامراج کی جانب جھکاو شروع ہوگیا۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ سابق صدر اوباما کے ہاتھوں کیوبا میں امریکی سفارت خانے کا افتتاح بھی عمل میں آیا۔ اس کے باوجود امریکی حکام کی حرص و ہوس بڑھتی ہی چلی گئی اور اب تو ٹرمپ اسے پوری طرح نگلنے پر تُل گئے ۔ کیوبا سے ٹرمپ کی ناراضی اس لیے بھی ہے کہ وہاں کی حکومت نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجی کارروائیوں پر سخت تنقید کی اور ایران کے تئیں اپنی حمایت کا اظہار بھی کیا ۔ اس کی وجہ سے ہوانا اور واشنگٹن کے درمیان تعلقات مزید کشیدہ ہوگئے اورکیوبا پر دباو بڑھا دیا گیا اور نتیجہ یہ نکلا کہ کیوبا کی سرکاری بجلی کمپنی یونین ناسیونال الیکٹریکا کو قومی گرڈ مکمل طور پر بند کرنے کا اعلان کرنا پڑا۔ اس کے بعد بجلی کی فراہمی صرف دارالحکومت ہوانا کے تقریباً 5 فیصد علاقوں تک محدود ہوکر رہ گئی ۔
گزشتہ 4 ماہ میں یہ تیسرا بڑا بلیک آؤٹ تھا۔ جس نے عوام کے حوصلوں کو پست کردیا ۔ کیوبا اپنی ضرورت کا تقریباً 40 فیصد تیل خود پیدا کرتا ہے، مگر یہ مجموعی ضروریات کے لیے کافی نہیں۔کیوبا کو 9 جنوری کے بعد سے تیل کی کوئی بڑی سپلائی نہیں ملی کیونکہ امریکہ نے ان تمام ممالک کو بھی دھمکی دے رکھی ہے جو کیوبا کو تیل فراہم کرتے ہیں۔کیوبا اور ایران دونوں نے امریکہ سے نظریاتی جنگ لڑی لیکن ایک انقلاب وقت کے ساتھ پست ہوگیا جبکہ دوسرا ڈٹ کر کھڑا ہے۔ اس فرق کے پیچھے سب سے پہلی وجہ اسلام کی حقانیت ہے ۔ اس نے تمام تر مخالفت کے باوجود ایران کی ملت اسلامیہ کو بے مثال صبرو استقلال سے نوازہ ۔ دوسری چیز قیادت اور عوام کے اندر پایا جانے والا جذبۂ شہادت ہے جو خدائے برحق کے سوا کسی کے سامنے جھکنا نہیں جانتا۔ اسی کے ساتھ وہ تیاری بھی اہم ہے کہ جس نے خود انحصاری کی بنیاد پرایران کو ایک ناقابلِ تسخیر قوت بنا دیا ۔ ایرانی ڈرونس اور میزائلوں نے نہ صرف کئی امریکی جنگی جہاز گرادئیے بلکہ بحری بیڑے کو بھی ڈھکیل کر میدان جنگ سے دور پھینک دیا۔ آخری اور سب سے اہم شئے اللہ تبارک و تعالیٰ کی مددد نصرت ہے جس نے جنگ کا نقشہ بدل دیا۔
(۰۰۰۰۰۰جاری)
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...