Skip to content
افواہوں کے دور میں نیتن یاہو کی ویڈیو سیاست
ترتیب: عبدالعزیز
عصرِ حاضر کی سیاست میں حقیقت اور افواہ کے درمیان فاصلہ پہلے کبھی اتنا مبہم نہیں رہا جتنا ڈیجیٹل عہد میں دکھائی دیتا ہے۔ جدید ذرائع ابلاغ، سوشل میڈیا کے تیز رفتار بہاؤ اور مصنوعی ذہانت کی حیران کن صلاحیتوں نے معلومات کے پھیلاؤ کو اس قدر برق رفتار بنا دیا ہے کہ کبھی کبھی خبر اور قیاس آرائی کے درمیان حد ِ فاصل مٹتی ہوئی محسوس ہوتی ہے۔ حالیہ دنوں اسرائیلی وزیر اعظم کے حوالے سے گردش کرنے والی افواہیں اسی بدلتی ہوئی اطلاعاتی دنیا کی ایک نمایاں مثال ہیں، جہاں ایک مختصر ویڈیو بیان نے محض افواہ کی تردید ہی نہیں کی بلکہ نئی بحثوں کو بھی جنم دے دیا۔ یہ واقعہ محض ایک سیاسی رہنما کے بارے میں پھیلنے والی افواہ تک محدود نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں کئی پیچیدہ عوامل کارفرما ہیں۔ ایک طرف مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور جنگی فضا ہے، دوسری جانب اطلاعاتی جنگ کا وہ محاذ ہے جو آج کے دور میں میدانِ جنگ سے کم اہم نہیں سمجھا جاتا۔ جب کسی ریاست کے سربراہ کے بارے میں اس نوعیت کی خبریں گردش کرنے لگیں کہ وہ شاید زندہ بھی ہیں یا نہیں، تو یہ صرف ایک شخصیت کا مسئلہ نہیں رہتا بلکہ ریاستی استحکام، سیاسی اعتماد اور عوامی نفسیات سے جڑا ہوا معاملہ بن جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر پھیلنے والی قیاس آرائیوں کا مرکز وہ ٹیلی ویژن خطاب بنا جس میں بعض ناظرین نے دعویٰ کیا کہ ویڈیو میں ایک لمحے کے لیے وزیر اعظم کے ہاتھ میں چھے انگلیاں دکھائی دیں، اور یہی نکتہ اس بات کی بنیاد بن گیا کہ شاید یہ خطاب مصنوعی ذہانت کی مدد سے تیار کیا گیا ہو۔ ڈیجیٹل دور کی یہ ایک عجیب مگر معنی خیز علامت ہے کہ اب سیاسی شخصیات کے بیانات صرف الفاظ کی بنیاد پر نہیں پرکھے جاتے بلکہ ان کی ویڈیوز کے فریم تک کو باریک بینی سے جانچا جاتا ہے۔ تصویر کے ایک چھوٹے سے جزو نے ایسی افواہوں کو جنم دیا جنہوں نے عالمی میڈیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرلی۔ اس صورتحال میں نیتن یاہو نے ایک مختصر ویڈیو جاری کر کے ان افواہوں کا طنزیہ انداز میں جواب دینے کی کوشش کی۔ کیفے میں کافی وصول کرتے ہوئے ان کا جملہ ’’میں کافی کے لیے مرا جا رہا ہوں‘‘ بظاہر ایک مزاحیہ محاورہ تھا، مگر اس کے پس منظر میں موجود طنز اس امر کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ وہ خود بھی ان افواہوں کو سنجیدگی سے لینے کے بجائے ان کا مذاق اْڑانا چاہتے تھے۔ انہوں نے کیمرے کے سامنے ہاتھ لہرا کر انگلیاں گننے کا اشارہ بھی دیا، جو سوشل میڈیا پر ہونے والی قیاس آرائیوں کی طرف براہِ راست اشارہ تھا۔ تاہم دلچسپ پہلو یہ ہے کہ اس ویڈیو کے باوجود بعض حلقوں میں شکوک کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ گئے۔ وجہ یہ بتائی جاتی ہے کہ انہوں نے عوامی سطح پر کسی جلسے، پریس کانفرنس یا براہِ راست عوامی رابطے کے ذریعے اپنی موجودگی ظاہر کرنے کے بجائے صرف ایک محدود ویڈیو پیغام جاری کیا۔ سیاسی نفسیات کے ماہرین کے مطابق جب کوئی رہنما بحران کے زمانے میں عوام کے سامنے آنے سے گریز کرتا ہے تو اس سے افواہوں کے فروغ کے امکانات بڑھ جاتے ہیں، کیونکہ معلومات کے خلا کو ہمیشہ قیاس آرائیاں پ?ر کرتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پہلے ہی پیچیدہ تضادات اور شدید عدم اعتماد کا شکار رہی ہے۔ ایسے ماحول میں جب اطلاعاتی خلا پیدا ہوتا ہے تو مختلف قوتیں اسے اپنے بیانیے کے فروغ کے لیے استعمال کرنے لگتی ہیں۔ اسی تناظر میں ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری ہونے والے سخت بیانات نے اس صورتحال کو مزید حساس بنا دیا۔ ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق ایک بیان میں اسرائیلی وزیر اعظم کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے گئے اور انہیں نشانہ بنانے کا عندیہ دیا گیا۔ اس طرح کے بیانات مشرقِ وسطیٰ کی جاری کشیدگی کو ایک نئی سطح پر لے جاتے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان دشمنی کئی دہائیوں پر محیط ہے اور حالیہ برسوں میں یہ کشیدگی براہِ راست اور بالواسطہ تصادم کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ اس ماحول میں کسی بھی افواہ یا غیر مصدقہ اطلاع کا اثر محض میڈیا تک محدود نہیں رہتا بلکہ سفارتی اور عسکری سطح پر بھی اس کے مضمرات سامنے آسکتے ہیں۔
یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسی افواہیں اتنی تیزی سے کیوں پھیلتی ہیں۔ اس کا جواب موجودہ اطلاعاتی ڈھانچے میں پوشیدہ ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نے خبر کے پھیلاؤ کو جمہوری تو بنا دیا ہے مگر اس کے ساتھ ساتھ اس کی تصدیق کا عمل کمزور بھی ہو گیا ہے۔ اب کوئی بھی تصویر، ویڈیو یا دعویٰ چند لمحوں میں دنیا بھر میں گردش کرنے لگتا ہے۔ ایسے میں اگر کسی ویڈیو کے ایک فریم میں کوئی تکنیکی خامی نظر آ جائے تو وہ بآسانی ایک عالمی سازشی نظریے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ مزید برآں مصنوعی ذہانت کی ترقی نے اس مسئلے کو اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ آج کل ’’ڈیپ فیک‘‘ ویڈیوز اس قدر حقیقت کے قریب ہوتی ہیں کہ عام ناظر کے لیے اصل اور جعلی میں فرق کرنا دشوار ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی کسی سیاسی شخصیت کی ویڈیو سامنے آتی ہے تو اس کی صداقت پر سوال اٹھنا ایک عام بات بنتی جا رہی ہے۔ اس پورے واقعے کا ایک نفسیاتی پہلو بھی ہے۔ جنگی حالات میں عوامی ذہن پہلے ہی اضطراب اور بے یقینی کا شکار ہوتا ہے۔ ایسے میں اگر ریاستی قیادت کے بارے میں غیر یقینی خبریں سامنے آئیں تو وہ خوف اور شکوک کو مزید بڑھا دیتی ہیں۔ اسی لیے سیاسی قیادت کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے کہ وہ نہ صرف عملی طور پر موجود ہو بلکہ عوامی اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل رابطے میں بھی رہے۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ اس واقعے نے صرف ایک افواہ یا ایک ویڈیو کی بحث کو جنم نہیں دیا بلکہ اس نے جدید سیاست میں شفافیت، اطلاعاتی ذمے داری اور ٹیکنالوجی کے اثرات کے بارے میں ایک وسیع تر مکالمے کو بھی جنم دیا ہے۔ آج کا سیاسی منظرنامہ اس حقیقت کا تقاضا کرتا ہے کہ ریاستی ادارے اور سیاسی رہنما نہ صرف روایتی سفارت کاری اور حکمت عملی پر توجہ دیں بلکہ اطلاعاتی جنگ کے محاذ پر بھی پوری تیاری کے ساتھ موجود ہوں۔ بالآخر یہ واقعہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ڈیجیٹل دور میں سچائی صرف بیان دینے سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس کے لیے مسلسل شفافیت اور عوامی اعتماد کی ضرورت ہوتی ہے۔ جب تک اطلاعات کے بہاو? میں وضاحت اور تسلسل موجود نہ ہو، تب تک افواہوں کا سایہ حقیقت کے ساتھ ساتھ چلتا رہتا ہے۔ اور یہی اس زمانے کی سب سے بڑی سیاسی آزمائش ہے کہ قیادت صرف میدانِ جنگ میں نہیں بلکہ اطلاعات کے میدان میں بھی اپنی ساکھ برقرار رکھ سکے۔(محمد مطاہر خان)
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...