Skip to content
_ زہر آلود بیانیہ اور زندہ ضمیر _
(دہلی) اُتم نگر کا سبق
✍️(حافظ)افتخاراحمدقادری
آج کا زمانہ عجیب تضادات کا زمانہ ہے ایک طرف ترقی، جمہوریت اور انسانی حقوق کے بلند بانگ دعوے ہیں تو دوسری طرف نفرت و تعصب اور اشتعال انگیزی کی وہ تاریک لہریں ہیں جو معاشروں کی جڑوں کو کھوکھلا کر رہی ہیں۔ اطلاعات کا سیلاب ہے مگر سچائی پیاس سے تڑپ رہی ہے، زبانیں آزاد ہیں مگر ضمیر قید ہوتے جا رہے ہیں اور سیاست بظاہر عوامی خدمت کا نام ہے مگر عملاً جذبات کی سوداگری کا ہنر بن چکی ہے۔ ایسے نازک ماحول میں کوئی بھی واقعہ ایک وقتی خبر نہیں رہتا بلکہ وہ پورے سماج کے باطن کی عکاسی کرنے لگتا ہے۔ دہلی کے اُتم نگر میں پیش آنے والا حالیہ واقعہ بھی اسی نوعیت کا ایک آئینہ ہے جس میں ہم اپنے عہد کی تلخ حقیقتوں کو صاف دیکھ سکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں جس بے باکی کے ساتھ کچھ شرپسند عناصر نے مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیے، عید الفطر جیسے مقدس اور پُرامن تہوار کو خونریزی سے جوڑنے کی دھمکیاں دیں وہ کسی ایک فرد کی لغزشِ زبان نہیں بلکہ ایک منظم ذہنیت کی ترجمانی ہے۔ یہ وہ سوچ ہے جو معاشرے کو تقسیم در تقسیم کرنے پر یقین رکھتی ہے، جو مذہب کو روحانیت کے بجائے سیاست کا ایندھن بناتی ہے اور جو اختلافِ رائے کو برداشت کرنے کے بجائے اسے کچلنے میں اپنی کامیابی سمجھتی ہے۔ ایسے بیانات نہ صرف آئین کی روح کے منافی ہیں بلکہ اس تہذیبی ورثے کے بھی خلاف ہیں جس نے اس ملک کو صدیوں سے مختلف مذاہب اور ثقافتوں کا گہوارہ بنائے رکھا۔
دورِ حاضر کی سیاست کا سب سے بڑا المیہ یہی ہے کہ اس میں اصولوں کی جگہ مفادات نے لے لی ہے۔ اب سیاست نظریات کی جنگ نہیں رہی بلکہ بیانیوں کی بازی گری بن چکی ہے۔ جذبات کو بھڑکانا، خوف کو ہوا دینا اور عوام کو مذہب و ذات کی بنیاد پر تقسیم کرنا ایک آزمودہ ہتھکنڈہ بن چکا ہے۔ اس سیاست میں عوام کا اصل مسئلہ تعلیم، صحت، روزگار پس منظر میں چلا جاتا ہے جبکہ مذہبی شناخت کو سامنے لا کر ایک ایسا ماحول پیدا کیا جاتا ہے جس میں لوگ اصل سوالات پوچھنا ہی بھول جاتے ہیں۔ اُتم نگر کا واقعہ اسی زہر آلود فضا کا ایک شاخسانہ ہے جہاں چند لوگوں کی اشتعال انگیزی پورے معاشرے کے امن کو داؤ پر لگا دیتی ہے۔ یہ صحیح ہے کہ نفرت کی سیاست کبھی یک طرفہ نہیں رہتی۔ جب ایک جانب سے اشتعال انگیزی ہوتی ہے تو دوسری جانب ردعمل پیدا ہوتا ہے اور یوں ایک ایسا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جو قابو سے باہر ہو سکتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب معاشرے کے سنجیدہ اور باشعور طبقے کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا ہوتا ہے تاکہ حالات کو مزید بگڑنے سے بچایا جا سکے۔ خوش آئند بات یہ ہے کہ اس بار بھی مکمل اندھیرا نہیں چھایا بلکہ امید کی چند روشن کرنیں سامنے آئیں۔ عدالت کا سخت لب و لہجہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ابھی نظام مکمل طور پر مفلوج نہیں ہوا۔ جب عدالت انتظامیہ کو یہ باور کراتی ہے کہ دارالحکومت کی فضا کو زہر آلود ہونے سے بچانا اس کی ذمہ داری ہے تو یہ ایک حکم نہیں بلکہ آئین کی بالادستی کا اعلان ہوتا ہے۔ یہ پیغام ہوتا ہے کہ قانون کی نظر میں سب برابر ہیں اور کسی کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اپنے الفاظ یا عمل سے امن عامہ کو خطرے میں ڈالے۔ اگر ایسے احکامات پر پوری سنجیدگی سے عمل کیا جائے تو یقیناً بہت سی خرابیاں جنم لینے سے پہلے ہی ختم ہو سکتی ہیں۔ لیکن اس منظرنامے میں سب سے زیادہ دل کو چھو لینے والا پہلو سکھ برادری کا وہ قابلِ تحسین اقدام ہے جس کے تحت انہوں نے عید کی نماز کے موقع پر مسلمانوں کی حفاظت کا فیصلہ کیا۔ یہ عمل ایک وقتی ہمدردی نہیں بلکہ ایک عظیم تہذیبی روایت کا تسلسل ہے۔ سکھ تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں انہوں نے مظلوموں کا ساتھ دیا، ناانصافی کے خلاف کھڑے ہوئے اور انسانیت کی حفاظت کو اپنا فرض سمجھا۔ آج کے اس پُر آشوب دور میں جب انہوں نے اپنے عمل سے یہ ثابت کیا کہ انسانیت مذہب سے بالاتر ہے تو یہ ایک ایسا پیغام ہے جو نفرت پھیلانے والوں کے منہ پر طمانچہ ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتا ہے کہ اصل طاقت کیا ہے؟ کیا وہ جو نفرت پھیلا کر لوگوں کو تقسیم کر دے یا وہ جو محبت بانٹ کر دلوں کو جوڑ دے؟ حقیقت یہی ہے کہ نفرت وقتی طور پر شور تو پیدا کر سکتی ہے مگر وہ دیرپا اثرات نہیں چھوڑ سکتی۔ اس کے برعکس محبت، رواداری اور باہمی احترام وہ قدریں ہیں جو صدیوں تک زندہ رہتی ہیں اور معاشروں کی بنیادوں کو مضبوط بناتی ہیں۔ آج سوشل میڈیا کے اس دور میں ہر شخص ایک نشر کنندہ بن چکا ہے۔ ایک جھوٹ، افواہ، اشتعال انگیز ویڈیو لمحوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے اور دلوں میں زہر گھول دیتی ہے۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ ہم ہر خبر کو تحقیق کے بغیر قبول نہ کریں، ہر بیان کو سچ نہ سمجھیں اور ہر اس کوشش کو ناکام بنائیں جو ہمیں ایک دوسرے کے خلاف کھڑا کرتی ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے اپنی عقل اور شعور کا استعمال نہ کیا تو ہم بھی نادانستہ طور پر اسی نفرت کے کھیل کا حصہ بن جائیں گے جس کا خمیازہ پورا معاشرہ بھگتتا ہے۔ یہ ضروری ہے کہ ہم اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ کیا ہم واقعی اس ملک کے اُس تصور پر یقین رکھتے ہیں جہاں سب کو برابر کا حق حاصل ہو؟ کیا ہم واقعی اس بات پر آمادہ ہیں کہ دوسرے کے مذہب، ثقافت اور عقیدے کا احترام کریں؟ اگر جواب ہاں میں ہے تو پھر ہمیں محض الفاظ سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے یہ ثابت کرنا ہوگا۔ ہمیں اپنے گھروں، محلوں اور اپنے حلقہ احباب میں محبت، برداشت اور ہم آہنگی کو فروغ دینا ہوگا۔ اتم نگر کا یہ واقعہ اگرچہ ایک خطرناک رجحان کی نشاندہی کرتا ہے مگر اسی کے ساتھ یہ امید کی ایک روشن مثال بھی پیش کرتا ہے۔ عدالت کا بروقت کردار اور سکھ برادری کا انسان دوست اقدام ہمیں یہ یقین دلاتا ہے کہ ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا ابھی بھی اس معاشرے میں وہ قوت موجود ہے جو نفرت کے طوفان کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ یہ وقت فیصلہ کن ہے۔ ہمیں طے کرنا ہوگا کہ ہم کس راستے کا انتخاب کرتے ہیں۔ کیا ہم نفرت کے اُس اندھیرے میں گم ہو جائیں گے جہاں صرف تقسیم اور تباہی ہے یا ہم محبت اور رواداری کی اس روشنی کو اپنائیں گے جو ہمیں ایک بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتی ہے؟ یاد رکھئے! قوموں کی تقدیر محض حکمران نہیں بلکہ عوام بھی طے کرتے ہیں۔ اگر عوام بیدار ہو جائیں، اگر وہ نفرت کے بیانیے کو مسترد کر دیں تو کوئی طاقت انہیں تقسیم نہیں کر سکتی۔ آخرکار یہی کہا جا سکتا ہے کہ اس ملک کی اصل پہچان اس کی گنگا جمنی تہذیب، کثرت میں وحدت اور اس کی باہمی ہم آہنگی ہے۔ اگر ہم نے اس پہچان کو کھو دیا تو ہمارے پاس کچھ بھی نہیں بچے گا۔ لیکن اگر ہم نے اسے سنبھال لیا، اسے مضبوط کیا تو کوئی طوفان ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ سکھ برادری کے اس جذبے کو سلام اور ہر اس شخص کو خراجِ تحسین جو نفرت کے اس دور میں محبت کا چراغ جلانے کی ہمت رکھتا ہے۔ کیوں کہ کسی بھی معاشرے کی اصل طاقت اس کے ہتھیاروں، نعروں یا وقتی جوش میں نہیں بلکہ اس کے شعور، اتحاد اور اخلاقی بصیرت میں مضمر ہوتی ہے۔ آج جب نفرت کے سوداگر پوری چالاکی کے ساتھ اپنے بیانیے کو عام کرنے میں مصروف ہیں تو اس کا توڑ بھی وقتی ردعمل میں نہیں بلکہ ایک مستقل فکری اور عملی حکمتِ عملی میں پوشیدہ ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ شرپسند عناصر کا سب سے بڑا ہتھیار عوام کی لاعلمی، جذباتی کمزوری اور باہمی عدم اعتماد ہے۔ اگر ہم نے ان تینوں پہلوؤں پر قابو پا لیا تو نفرت کی یہ ساری عمارت خود بخود زمین بوس ہو سکتی ہے۔ سب سے پہلے ہمیں اپنے اندر یہ عزم پیدا کرنا ہوگا کہ ہم کسی بھی اشتعال انگیز بیان یا افواہ کا حصہ نہیں بنیں گے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں خاموشی بھی ایک ذمہ داری ہے اور ردعمل بھی۔ ہر پیغام کو آگے بڑھانا گویا اس آگ میں ایندھن ڈالنے کے مترادف ہے جو معاشرے کو جلا کر راکھ کر سکتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم تحقیق، صبر اور حکمت کو اپنا شعار بنائیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو یہ سکھانا ہوگا کہ اصل بہادری لڑائی میں نہیں بلکہ لڑائی کو روکنے میں ہے، اصل جیت مخالف کو نیچا دکھانے میں نہیں بلکہ اسے ساتھ لے کر چلنے میں ہے۔ اسی کے ساتھ ساتھ مختلف مذاہب اور طبقات کے درمیان مکالمے کو فروغ دینا بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ جب لوگ ایک دوسرے کو قریب سے جانتے ہیں، ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھتے ہیں تو نفرت کے بیج پنپ نہیں پاتے۔ ہمیں اپنے محلوں، بستیوں اور شہروں میں ایسے مواقع پیدا کرنے ہوں گے جہاں مختلف برادریاں ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ سکیں، بات کر سکیں اور اپنے خدشات کو دور کر سکیں۔ کیونکہ فاصلے ہمیشہ غلط فہمیوں کو جنم دیتے ہیں اور قربتیں ہمیشہ دلوں کو جوڑتی ہیں۔ ریاستی اداروں کی ذمہ داری بھی اس حوالے سے نہایت اہم ہے۔ قانون کا یکساں اور بے لاگ اطلاق ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک پر امن معاشرہ قائم ہو سکتا ہے۔ اگر کسی کو یہ یقین ہو جائے کہ قانون اس کے ساتھ انصاف کرے گا تو وہ خود قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش نہیں کرے گا۔ اس لیے ضروری ہے کہ اشتعال انگیزی کرنے والوں کے خلاف فوری اور مؤثر کارروائی ہو تاکہ ایک واضح پیغام جائے کہ اس ملک میں نفرت کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ تعلیم کا کردار بھی اس پورے عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی آنے والی نسلوں کو صرف کتابی علم نہیں بلکہ برداشت، رواداری اور انسانیت کا سبق بھی دینا ہوگا۔ جب ایک بچہ یہ سیکھے گا کہ دوسروں کا احترام کرنا اس کی اپنی عزت کا حصہ ہے تو وہ کبھی نفرت کے راستے پر نہیں چلے گا۔ اسی طرح مذہبی رہنماؤں اور سماجی شخصیات کو بھی چاہیے کہ وہ اپنے خطابات اور بیانات کے ذریعے محبت، امن اور بھائی چارے کا پیغام عام کریں کیونکہ ان کی بات لوگوں کے دلوں تک براہِ راست پہنچتی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ شرپسند عناصر ہمیشہ کمزور لمحوں کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ کوئی چھوٹا سا واقعہ ہو اور وہ اسے بڑھا چڑھا کر ایک بڑے فساد میں تبدیل کر دیں۔ ایسے میں ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔ وقتی اشتعال ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا سکتا ہے جہاں سے واپسی ممکن نہیں ہوتی۔ اس لیے دانشمندی اسی میں ہے کہ ہم ہر قدم سوچ سمجھ کر اٹھائیں اور کسی کے بہکاوے میں نہ آئیں۔ اگرچہ نفرت کی یہ آندھیاں وقتی طور پر فضا کو مکدر کر سکتی ہیں مگر وہ اس سر زمین کی گہری جڑوں کو کبھی اکھاڑ نہیں سکتیں جہاں محبت، رواداری اور باہمی احترام صدیوں سے پروان چڑھتے آئے ہیں۔ ہمیں بس اپنے اس ورثے کو پہچاننے اور اسے مضبوطی سے تھامے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم نے ہوش مندی، اتحاد اور شعور کے ساتھ آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا تو یقیناً وہ تمام سازشیں جو ہمیں تقسیم کرنے کے لیے رچی جاتی ہیں، ناکامی سے دوچار ہوں گی۔ یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں ایک محفوظ، پُرامن اور باوقار مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ایسا مستقبل جہاں عید کی خوشیاں خوف کے سائے میں نہیں بلکہ بھائی چارے اور محبت کی روشنی میں منائی جائیں اور جہاں ہر فرد بلا خوف و خطر اپنی شناخت کے ساتھ جینے کا حق رکھتا ہو۔
*کریم گنج،پورن پور،پیلی بھیت یوپی
(مضمون نگار معروف صحافی و تجزیہ نگار ہیں)
iftikharahmadquadri@gmail.com
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...