Skip to content
فلسطین کا المیہ؛
عالم ِ اسلام کا مسئلہ
ترتیب: عبدالعزیز
زمانہ اب بھی نہیں جس کے سوز سے فارغ
میں جانتا ہوں وہ آتش ترے وجود میں ہے
تری دَوا نہ جنیوا میں ہے، نہ لندن میں
فرنگ کی رگِ جاں پنجۂ یَہود میں ہے
سہنا ہے مَیں نے، غلامی سے اُمتوں کی نجات
خودی کی پرورش و لذّتِ نمود میں ہے!
رمضان المبارک کے آخری عشرے کے آخری جمعے کو عالم ِ اسلام میں یومِ القدس کے طور پر منایا جاتا ہے۔ اس دن دنیا بھر میں مظلوم فلسطینی عوام کے حق میں ریلیاں نکالی جاتی ہیں، اجتماعات منعقد کیے جاتے ہیں اور فلسطینیوں کے ساتھ بھرپور اظہارِ یکجہتی کیا جاتا ہے۔ اس موقع پر مسلم دنیا اس عزم کا اعادہ بھی کرتی ہے کہ فلسطین کی مکمل آزادی تک فلسطینی عوام کی سیاسی، اخلاقی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ دنیا کے مختلف ممالک میں عوام اور مذہبی و سماجی تنظیمیں اس دن کو خصوصی اہمیت دیتی ہیں اور فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی ہمدردی اور وابستگی کا اظہار کرتی ہیں۔
فلسطین کا مسئلہ درحقیقت محض ایک خطے کا سیاسی تنازع نہیں بلکہ انسانی حقوق، انصاف اور عالمی ضمیر کا امتحان بن چکا ہے۔ 1948ء میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے فلسطینی عوام مسلسل ظلم و جبر کا شکار ہیں۔ لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے دخل کیے گئے، ہزاروں دیہات اور بستیاں مٹا دی گئیں اور نسل در نسل جاری رہنے والی ایک ایسی جدوجہد شروع ہوئی جس میں فلسطینی عوام کو اپنی سرزمین اور شناخت کے تحفظ کے لیے مسلسل قربانیاں دینا پڑ رہی ہیں۔
اقوام متحدہ اور مختلف عالمی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے جاری حالیہ جنگ میں تقریباً 58573 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں جبکہ 139607 سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں۔ شہداء میں بڑی تعداد معصوم بچوں اور خواتین کی ہے۔ اندازوں کے مطابق 17921 بچے (تقریباً 31 فی صد) اور 5497 خواتین (تقریباً 16 فی صد) اس جنگ کا نشانہ بن چکی ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں بزرگ افراد بھی اس ظلم و ستم کا شکار ہوئے ہیں۔ یہ اعداد و شمار صرف حالیہ تنازعے کے ہیں۔ اگر 1948ء سے اب تک کے حالات کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ایک صدی کے قریب عرصے میں ایک لاکھ سے زائد فلسطینی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں اور لاکھوں افراد زخمی، بے گھر یا قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عالمی برادری، خصوصاً مغربی ممالک، جو انسانی حقوق اور جمہوریت کے سب سے بڑے داعی ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، فلسطین کے معاملے میں دوہرے معیار کا مظاہرہ کرتے نظر آتے ہیں۔ جہاں دنیا کے دیگر تنازعات میں انسانی حقوق کی بات کی جاتی ہے، وہیں فلسطین کے معاملے میں اکثر خاموشی اختیار کر لی جاتی ہے یا اسرائیل کے اقدامات کو مختلف جواز فراہم کیے جاتے ہیں۔ فلسطینی مزاحمتی تحریکوں کو دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے، حالانکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق کسی بھی قوم کو اپنی سرزمین کے دفاع اور آزادی کی جدوجہد کا بنیادی حق حاصل ہوتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اگر دنیا واقعی انصاف اور انسانی حقوق کی پاسداری چاہتی ہے تو اسے فلسطین کے مسئلے پر بھی غیر جانبدار اور منصفانہ موقف اختیار کرنا ہوگا۔ اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کی ذمے داری ہے کہ وہ نہ صرف جنگ بندی کو یقینی بنائیں بلکہ ایک ایسا سیاسی حل تلاش کریں جس سے فلسطینی عوام کو ان کا جائز حق مل سکے اور خطے میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔
اس تمام صورتحال میں ایک اور افسوسناک حقیقت یہ بھی ہے کہ فلسطینی عوام کو مسلم دنیا کی جانب سے وہ عملی حمایت کم ہی نظر آتی ہے جس کی انہیں توقع تھی۔ اگرچہ بیانات اور قراردادوں کی کمی نہیں، مگر عملی اقدامات اکثر محدود ہی رہتے ہیں۔ فلسطینی مزاحمتی تحریک کے سابق رہنما یحییٰ سنوار نے ایک موقع پر کہا تھا کہ ’’ہمیں اسرائیلی مظالم سے جتنا دکھ نہیں پہنچتا، اس سے زیادہ دکھ مسلم دنیا کی کمزور حمایت سے ہوتا ہے‘‘۔ یہ الفاظ دراصل پوری امت مسلمہ کے لیے ایک لمحۂ فکر ہیں۔
علامہ محمد اقبالؒ نے بھی اپنی شاعری میں مسلمانوں کو اتحاد اور یکجہتی کا درس دیتے ہوئے واضح طور پر کہا تھا:
ایک ہوں مسلم حرم کی پاسبانی کے لیے
نیل کے ساحل سے لے کر تا بہ خاکِ کاشغر
اسی طرح انہوں نے مسلمانوں کو باہمی اتحاد کی اہمیت یاد دلاتے ہوئے فرمایا:
منفعت ایک ہے اس قوم کی، نقصان بھی ایک
ایک ہی سب کا نبی، دین بھی ایمان بھی ایک
اقبال کے یہ اشعار آج بھی امت ِ مسلمہ کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ جب تک مسلمان باہمی اختلافات، فرقہ واریت اور سیاسی تنازعات سے اوپر اٹھ کر متحد نہیں ہوں گے تب تک وہ عالمی سطح پر مؤثر کردار ادا نہیں کر سکیں گے۔
آج کا تقاضا یہی ہے کہ عالم ِ اسلام اپنے اختلافات کو پس ِ پشت ڈال کر فلسطین کے مسئلے پر ایک مشترکہ اور مضبوط حکمت ِ عملی اختیار کرے۔ اگر مسلمان ممالک سیاسی، سفارتی اور معاشی سطح پر متحد ہو جائیں تو نہ صرف فلسطین کے مظلوم عوام کی مدد ممکن ہو سکتی ہے بلکہ عالمی سیاست میں بھی ایک متوازن اور منصفانہ نظام قائم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فلسطین کا مسئلہ دراصل پوری انسانیت کا مسئلہ ہے۔ یہ صرف زمین کے ایک ٹکڑے کی جنگ نہیں بلکہ انصاف، آزادی اور انسانی وقار کی جدوجہد ہے۔ اگر آج دنیا نے اس ظلم کے خلاف آواز بلند نہ کی تو تاریخ اسے کبھی معاف نہیں کرے گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ عالم ِ اسلام اور عالمی برادری مل کر ایسے اقدامات کریں جن سے فلسطینی عوام کو آزادی، امن اور باعزت زندگی میسر آ سکے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...