Skip to content
جبر وظلم کو ختم کرنے کے لئے ہندو مسلمان اتحاد ضروری ہے
ظالموں کی ہر طرف سے حوصلہ افزائی ہورہی ہے
ازقلم:عبدالعزیز
2014ء سے جب سے بھاجپا ملک میں برسراقتدار آئی ہے مسلمانوں کو ہر طرح سے دبایا اور ستایا جارہا ہے۔ آہستہ آہستہ روز و شب ظلم و ستم میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ ظالموں کو زعفرانی حکومت مرکزی اور ریاستی سطح پر حمایت اور سرپرستی حاصل ہے۔ سنگھ پریوار کے لیڈران ہندو بھائیوں کو غنڈہ اور بدمعاش بنانے میں مصروف عمل ہیں لیکن وہ بھول گئے ہیں کہ جن کو آج وہ خونخوار بنا رہے ہیں ایک دن یہی خونخوار جانور ان کے گلے پڑیں گے اور ان کے لئے بہت بڑی آزمائش اور مصیبت ہوگی۔ ایسی مصیبت ہوگی کہ جس کا وہ تصور نہیں کرسکتے۔ ظالم ظالم ہوتا ہے، ظلم کرنے والا ایک کرنے والا ایک وقت آتا تو اپنے اور بیگانے کو پہچانتا نہیں ہے۔
آر ایس ایس کا ایجنڈا 1925ء سے کانگریس کو بھی اور مسلمانوں کو بھی بہت حد تک معلوم ہے، لیکن نہ تو کانگریس نے اس کی توڑ کے لئے کوئی لائحہ عمل بنایا اور نہ مسلم قیادت نے بھی اس کی طرف خصوصی توجہ دی۔ پہلے تو ہندو مسلمان ایک ساتھ مل کر ہندستان کو آزاد کرانے کے لئے کوشاں رہے، بعد میں کانگریسی قیادت سے بدظن ہوکر کانگریس کے اندر سے نکل کر اور باہر سے کچھ لوگوں نے ’مسلم لیگ‘ کی تشکیل کی۔ مسلم لیگ کی سیاست سے پہلے ہی آر ایس اور ہندو مہاسبھا اسلام اور مسلم دشمنی میں فرقہ پرستی کو فروغ دیتے رہے۔ مسلم لیگ نے مسلمانوں کے لئے ایک نیا ملک حاصل کرنے کا جب اعلان کیا تو ہندو فرقہ پرستی کو حد سے زیادہ تقویت حاصل ہوئی۔
آر ایس ایس کا ایجنڈا تھا اور ہے کہ ہندستان میں مسلمانوں کی شہریت اور ووٹ دینے کا حق ختم کر دیا جائے تاکہ ہندو راشٹر قائم کرنے کی راہ ہموار ہو۔ آزادی کے بعد بھی آر ایس ایس کا ایجنڈا یہی رہا۔ اس میں ایک نئی سیاسی جماعت ’جَن سنگھ‘ کے نام سے بنائی تاکہ آر ایس ایس کو سیاسی طاقت حاصل ہو اور جمہوریت کے چور دروازے سے اقتدار حاصل کرسکے۔ سو سال کے اندر ہی اقتدار حاصل کرنے کا منصوبہ پایۂ تکمیل کو پہنچا۔ اس کی سیاسی شاخ جو پہلے جن سنگھ کے نام سے جانی جاتی تھی اب اسے ’بھارتیہ جنتا پارٹی‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔آر ایس ایس نے 2014ء میں بی جے پی کے اس شخص کو وزیر اعظم کا امیدوار نامزد کیا جو اسلام دشمنی اور فرقہ پرستی میں سنگھ پریوار میں سب سے آگے تھا۔ وہ شخص وزیر اعلیٰ رہتے ہوئے گجرات میں مسلمانوں کو ہر طرح سے ستایا، پریشان کیا اور اس نے قتل عام کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھی۔ مسلمانوں سے اس قدر پیش آیا کہ اس وقت کے وزیر اعظم اٹل بہاری واجپئی کو بھی کہنا پڑا کہ ’’راج دھرم کا پالن (حکمرانی کے مذہب کا احترام) کرنا چاہئے‘‘۔ اس نے جواب میں کہاکہ ’’ وہی کرتا ہوں‘‘۔ اٹل بہاری واجپئی نے اسے ہٹانے کی بھی کوشش کی لیکن ایل کے اڈوانی اور ارون جیٹلی آڑے آئے جس کی وجہ سے اٹل بہاری واجپئی کامیاب نہیں ہوسکے۔ نریندر مودی جو کچھ گجرات میں کر رہے تھے ہندستان کا وزیر اعظم بننے کے بعد وہی سب کچھ بڑے پیمانے پر کرنے لگے اور ایسی قانون سازی بھی کرنے لگے کہ جس سے ان کی پکڑ مضبوط سے مضبوط تر ہوتی گئی۔ تمام سرکاری ایجنسیوں مثلاًای ڈی، سی بی آئی، انکم ٹیکس سب کو اپنے من مطابق استعمال کرنے لگے۔ نہ صرف مسلمانوں کوزیر کرنے میں پیش پیش رہے بلکہ ’اپوزیشن مکت بھارت‘ بنانے میں بھی کامیاب ہونے لگے۔
مسلمانوں کو کبھی گئو کشی کے نام پر، کبھی لو جہاد کے نام پر ، کبھی تبدیلی مذہب کی بنیاد پر ہر طرح سے جبر و ظلم کرنے لگے۔ سنگھ پریوار کے اندر تمام چھوٹی بڑی ہندو جماعتوں کو کھلی چھوٹ مل گئی کہ مسلمانوں کے ساتھ جس طرح چاہیں نا انصافی اور زیادتی کو روا رکھیں۔ یوگی آدتیہ ناتھ، ہمنتا بسواس کی آمریت مودی کو خوش کرنے کے لئے حد سے زیادہ بڑھ گئی۔ اس قدر بڑھ گئی کہ عدالت بھی کسی قسم کا نوٹس لینے سے قاصر ہے۔
ایسی صورت حال میں مسلمانوں کے اندر جو انتشار ہے، نااتفاقی ہے اگر وہ اتحاد میں بد ل بھی جائے جب بھی مسلمان آسانی سے آر ایس ایس یا بھارتیہ جنتا پارٹی کے جبر و ظلم کا مقابلہ نہیں کرسکتے۔ ایسے نفرت انگیز ماحول کو یا ظلم و زیادتی کو ختم کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہندو مسلم اتحاد ہو۔ ڈھیلے ڈھالے اتحاد سے بھی بہت بڑا کام نہیں لیا جاسکتا ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ صرف ایک منظم ، مستحکم اور مضبوط جماعت ہی نہیں ہے بلکہ ہندستان کی سب سے خطرناک، دہشت گرد تنظیم ہے۔ ’آر ایس ایس سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم‘ کے عنوان سے مہاراشٹر پولس کے آئی جی ایس ایم مشرف نے ایک کتاب لکھی ہے جس میں انھوں نے ثبوت اور دلائل کے ساتھ یہ باتیں پیش کی ہیں کہ کیوں آر ایس ایس ہندستان کی سب سے خطرناک دہشت گرد تنظیم ہے؟ کتاب میں انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ آر ایس ایس کے لوگوں نے 17 مقامات پر بم بلاسٹ کئے ہیں۔ سترہ عدالتوں میں بم دھماکے مقدمات زیر سماعت ہیں۔ عدالتیں بھی کسی بنا پر فیصلے کرنے سے معذور اور مجبور نظر آرہی ہیں۔
کسی دہشت گرد تنظیم کو حکومت کی سرپرستی بھی حاصل ہو تو اس کا مقابلہ آسانی سے نہیں کیا جاسکتا۔ ہندو مسلم اتحاد کی بات ہم اس لئے کر رہے ہیں کہ سنگھ پریوار کو جو تقویت مل رہی ہے وہ ہندو اکثریت آبادی کی وجہ سے۔ اکثریت کے لوگوں کو گمراہ کرنے میں آر ایس ایس یا بی جے پی ایک حد تک کامیاب ہے۔ آبادی کا چالیس فیصد حصہ نفرت اور فرقہ پرستی کی طرف مائل ہوچکا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ آبادی کا 60 فیصد نفرت اور دہشت گرد تنظیم سے متاثر نہیں ہے۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ ملک کی اپوزیشن پارٹیاں بھی متحد اور منظم نہیں ہیں جس کی وجہ سے اپوزیشن پارٹیوں میں بھی جن جن پارٹیوں نے اس کا ساتھ دیا اس کے وجود کو بھی ختم کرنے یا کمزور کرنے میں بھی بی جے پی کامیاب ہے۔ ووٹوں کی چوری، الیکشن میں ہر طرح کی بے ایمانی اور دھاندلی ، الیکشن کمیشن کی طرفداری یہ سب مل کر الیکشن یا جمہوریت کو بے معنی کر دیا ہے۔ ملک میں جمہوریت برائے نام ہے۔ عدالتیں بھی تماشائی بنی ہوئی ہیں۔ ایسی صورت میں اپوزیشن پارٹیوں میں کانگریس یا راہل گاندھی نے نفرت کی توڑ کے لئے محبت کی دکان کھول رکھی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان پر بیسوں مقدمات قائم کئے گئے ہیں اور ان کو پارلیمنٹ میں مشکل سے منہ کھولنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ اگر اپوزیشن کی سب پارٹیاں ان کے پیچھے کھڑی ہوجاتیں تو اپوزیشن کے اتحاد سے زعفرانی اتحاد کا مقابلہ کرنا آسان ہوجاتا۔
پانچ ریاستوں میں الیکشن ہونے والا ہے۔ اگر اس الیکشن میں ہریانہ، مہاراشٹر اور بہار کے اسمبلی الیکشن میں جس طرح کی چوری اور دھاندلی ہوئی اسی طرح کی دھاندلی اور چوری ہوتی ہے تو کیرالہ کے علاوہ بی جے پی کو مذکورہ ریاستوں میں بھی پیر جمانے کا موقع مل سکتا ہے۔ مغربی بنگال میں مسلم جماعتوں کے نام سے بہت سی جماعتیں انتخابی میدان میں نظر آنے لگی ہیں ۔ ان مسلم جماعتوں سے بھی بی جے پی کو ووٹوں کی تقسیم کی وجہ سے فائدہ ہوسکتا ہے۔ سیاسی سطح پر بھی ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت ہے اور سماجی سطح پر بھی یہ از حد ضروری ہے۔ یہ کام مسلم جماعتوں اور تنظیموں کو کرنا ہوگا۔
اچھی چیز یہ ہے کہ میڈیا کا ایک حصہ نفرت کے متوالوں سے لڑ رہا ہے۔ ہندوؤں میں بھی ایسے لوگ ہیں جو نفرت کی سیاست کو اور نفرت کے ماحول کو ختم کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔ دوسری اچھی بات یہ ہے کہ دلت اور پسماندہ طبقوں میں بھی بیداری ایک حد تک آئی ہے۔ ان کے اندر بھی ایسے لوگ اور ایسے نوجوان مہم چلا رہے ہیں جس سے یہ بات سمجھ میں آرہی ہے کہ وہ بھی آر ایس ایس اور بی جے پی کو ملک و قوم کے لئے خطرہ سمجھ رہے ہیں۔ ان تمام مثبت طاقتوں میں اگر اتحاد ہوجائے اور سب مل جل کر نفرت کے پہاڑ کے خلاف دھاوا بول دیں تو منفی اور نفرت انگیز طاقتوں کے خلاف آج نہیں تو کل کامیابی ممکن ہوسکتی ہے۔
E-mail:azizabdul03@gmail.com
Mob:9831439068
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...