Skip to content
ظریفانہ: اتم نگر سے فرسا بابا تک
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
کلن شاہ نے للن چودھری استقبال کرتے ہوئے کہا عید مبارک اور دونوں دوست گلے مل گئے ۔
للن بولا آپ کو بھی مبارک ہو چودھری صاحب ۔ آنے میں خاصی تاخیر ہوگئی ۔ خیریت تو ہے؟
دیکھو بھائی لندن کی زندگی نے ہمیں وقت کا پابند تو بنا ہی دیا مگر اس کھدی ہوئی سڑک اور ٹرافک میں کافی وقت ضائع ہوگیا ۔
کلن جھینپ کر بولا سڑک کو چوڑا کرنے کا کام بہت تیزی سے ہورہا ہے۔ فکر نہ کریں، بہت جلد سب ٹھیک ہوجائے گا ۔
چلو وہ تو ٹھیک ہے مگر پھر پارکنگ کی تلاش میں بھی کافی مشکل ہوئی ۔
اوہو چودھری صاحب ہماری بلڈنگ کے نیچے انڈر گراونڈ پارکنگ کا ہے ۔آپ فون کرتے تو چوکیدار سے کہہ کرگاڑی وہیں لگوا دیتا ۔
اچھا بھیا ٹرافک اور پارکنگ سےپریشان ہو کرمیں تو لوٹنے کی سوچ رہا تھا ۔
آپ لندن میں رہتے رہتے نازک مزاج ہوگئے ہو ۔ ہمیں تو بھائی اس کی عادت ہوگئی ہے اس لیے ہم لوگ پریشان نہیں ہوتے ۔
ویسے اس مکان کے آس پاس پیڑ پودے خوب ہیں قسم سے مزہ آگیا ۔ پچھلی بار آیا تھا تو ایسی ہریالی نہیں تھی ۔
بھیا کئی سالوں کے بعد آوگے تو فرق دکھائی دے گا نہ ؟ وقت کس تیزی سے گزررہا ہے دیکھتے دیکھتےمیرے سارے بال سفید ہوگئے ۔
للن قہقہہ لگا کر بولا ارے بھیا تمہارے تو صر ف سفید ہوئے ۔ ہمارے تو غائب ہی ہوگئے۔
جی ہاں میں ان کے بارے میں پوچھنے ہی والا تھا کہ نائی نے اُسترا کیوں چلولیا خیر ۔ آپ نےتو میرا ذہن پڑھ لیا۔
یہ تو آپ کی ذرہ نوازی ہے۔ ویسے وقت نے سب کچھ بدل دیا مگر بھابی کے شیرخورمہ کا ذائقہ بالکل نہیں بدلا۔
جی شکریہ یہ بتاو کہ اس بار ہندوستان کا رمضان اور پھر عید کیسی لگی؟
یار اپنی تو ٹھیک رہی مگر میڈیا کی خبروں نے دل برداشتہ کردیا۔
بھیا اس کا تو کام ہی ٹی آر پی کے لیے سنسنی پھیلانا ہے ۔ آپ اسے سنجیدگی سے نہ لیا کریں ۔
کوشش تو کرتا ہوں کہ نہ لوں لیکن اُتم نگر کے واقعہ نے سارا مزہ کرِکرا کردیا ۔
جی ہاں ہولی کے موقع پر معمولی تنازع کو لے کر ایک نوجوان کی موت بہت افسوسناک تھی ۔
مجھے بھی اس کا افسوس لیکن اس پر گرفتاری، بلڈوزر اور عید نہ منانے دینے کی دھمکی یار کیا چند لوگوں کے جرم سزا پوری بستی کو دینا درست ہے؟
بھائی اس طرح کے گھناونے جرم روکنے کے لیے یہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔
اچھا اگر ایسا ہے تو محمداخلاق اور پہلو خان جیسے سو سے زیادہ افراد کے قاتلوں کو بچانے کی کوشش کیوں کی گئی؟ کیا وہ ہجومی تشدد اس سے مختلف تھا؟
بھیا اس سرکار کے ڈی این اے میں نا انصافی ہے ۔ یہ لوگ جب تک برسرِ اقتدار ہیں یہی سب ہوگا۔
یہ بات درست ہے ورنہ گنگا میں افطار پر اتنا ہنگامہ کیا معنیٰ؟
بھائی کیا کریں یہ لوگ گنگا مقدس ماں مانتے ہیں۔ اس لیے تھوڑا بہت خیال رکھنا چاہیے۔
اچھا اسے دنیا کی بدترین آلودہ ندی کس نے بنایا۔ اس میں ہر روز لاکھوں لیٹر گنداپانی ڈالتے وقت ماں کا تقدس کہاں چلا جاتا ہے؟
ارے بھائی یہ ہندوستان ہے یہاں سیاست کی آلودگی اور رشوت ستانی نے ہوا اورپانی کو بھی مسموم کردیا ہے۔ اس کو چھوڑو اوریہ کباب کھاو۔
گوگل کے مطابق ہر سال گنگا میں چالیس ہزار لاشیں بہائی جاتی ہیں ۔ اپنی ندیوں کے ساتھ ایسا سلوک کون کرتا ہے۔ ماں کہہ دینے سے کیا ہوتا ہے؟
دیکھو بھائی اس ملک میں مذہبی تقدس کا معاملہ گوگل کی سمجھ سے پرے ہے ۔ اس لیے آپ اس کاحوالہ نہ دیں ؟
اچھا تو پھر یہ سب کون طے کرے گا ؟ کیا یوگی بابا اس کا فیصلہ کریں گے جن کی سرکار صنعتی و شہری آلودہ پانی کو گنگا میں بہنے سے نہیں روک پارہی ہے؟
جی ہاں یوگی بابا ہی طے کریں گے ۔ وہ گورکھ ناتھ مٹھ کے سربراہ ہیں اور انہیں عوام نے ووٹ دے کر اقتدار پر فائز کیا ہے۔
اچھا تو وہ کورونا کے زمانے میں کہاں دبک کر بیٹھ گئے تھے جب گنگا میں لاشیں بہہ رہی تھیں ؟
ارے بھائی اس آسمانی سلطانی نے تو سب کو بے بس کردیا تھا۔ ایسے میں بیچارے یوگی بابا کیا کرتے؟
چلو مان لیا مگرپھر کمبھ میلے میں بھگدڑ سے مرنے والوں کی لاشوں کو گنگا میں بہانے کا کام کس نے کیا ؟ بلاوجہ کی صفائی نہ دو۔
یار سمجھتے کیوں نہیں سیاستدانوں کو اپنی کوتاہی چھپانے کے لیے یہ سب کرنا پڑتا ہے ۔ آپ تو لوگوں کی مجبوری کا لحاظ بھی نہیں کرتے۔
بھیا ریاست کے سربراہ کو بھی عوام کی کاپاس و لحاظ کرنا چاہیے ۔ گنگا کے کروزمیں ناچ رنگ اورشراب کباب سب ہوتا ہے مگر افطار پر ہنگامہ ہوجاتا ہے؟
کلن بات بدلنے کے لیے بولا ایران جنگ کے بعد مسلمانوں کو بھی نہ جانے کیا ہوگیا پہلے اُتم نگر میں ہجومی تشدد اورپھر متھرا میں گاڑی سے کچل کر قتل ؟
اچھا ! وہ کیا چکر ہے؟ میری نظر سے ایسی کوئی خبر نہیں گزری ؟
یہ بہت تازہ واقعہ ہے متھرا کے مشہورگئو رکشک سنت چندر شیکھرعرف ’’فرسا والے بابا‘‘ کو گاڑی سے کچل کر ہلاک کردیا گیا۔
اچھا یہ کیسے ہوگیا ؟ کہیں کوئی حادثہ تونہیں تھا؟
جی نہیں فرسا والے بابا کو اطلاع ملی تھی کہ علاقے میں گئو اسمگلر سرگرم ہیں۔اس لیےوہ اپنی موٹر سائیکل پر مشتبہ افراد کا پیچھا کرنے نکل پڑے۔
اچھا تو کیا ان کی موٹر سائیکل کسی کھڈ میں گر گئی ؟یا گاڑی سے ٹکرا گئی؟؟
جی نہیں اسمگلروں نے نوی پور گاؤں کے پاس رکنے کے بجائے ان کی بائیک کو ٹکر مارکر انہیں کچل دیا۔اس سے ان کی موقعہ واردات پر موت ہو گئی۔
یار یہ بتاو کہ اگر وہ مبینہ اسمگلرس رک جاتے تو کیا ہوتا ؟
فرسا بابا اپنی کلہاڑی سے انہیں موت کے گھاٹ اتار دیتے ۔
مطلب اپنی جان بچانے کے لیے انہوں نے فرسا بابا کو مارڈالا لیکن وہ گئو اسمگلر ہی تھے یہ کیسے پتہ چلا؟ ہوسکتا ہے کہ نہ ہوں؟
اگر گئو اسمگلر نہ ہوتے تو بھاگتے کیوں ؟ فرسا بابا سے اپنی گاڑی کی جانچ کروا لیتے۔
یہ بھی صحیح ہے لیکن فرسا بابا کو گاڑیوں کی جانچ کرنے کا اختیار کس نے دے دیا؟ اور انہوں نے پولیس کو اطلاع دینے کے بجائے خود کوچ کیوں کیا؟
بھیا یہ لندن نہیں یوپی ہے ۔ یہاں پولیس ان اسمگلرس کو پکڑنے کے بجائے کچھ لے دے کر چھوڑ دیتی ۔اس لیے فرسا بابا کو خودجانا پڑا۔
یار کلن کہیں فرسا بابا خود تو کچھ لینے دینے کے لیے نہیں چلے گئے تھے ؟
یہ کیسی باتیں کررہے ہو للن ؟ فرسا بابا جیسا گئو رکشک ایسا کیسے کرسکتا ہے؟
آپ کے اس سوال کا جواب نرنجن ٹکلے نامی بیباک صحافی رپورٹ میں چھپا ہوا ہے۔ انہوں نے خود دو ماہ تک اسمگلرس کے ساتھ گھوم کر مشاہدہ کیا ہے؟
اچھا تو نرنجن نے کیا دیکھا؟
وہی کہ یہ نام نہاد گئو رکشک ہفتہ وصولی کرکے گائے کی ٹرک چھوڑ دیتے ہیں ۔
میرے لیے اس پر یقین کرنا مشکل ہےللن!
لیکن پردھان جی کو تو تم مانتے ہو۔ انہوں نے بھی کہا تھا گئو سیوک اور گئو رکشک میں فرق ہے۔ ان میں بیشتر جرائم پیشہ لوگ ہیں ۔
اچھا تو یہ بات ہے۔ وہی تو میں سوچ رہا تھا کہ یوپی کی پولیس تو یوگی بابا کے تحت کام کرتی ہے۔ مہا گئو بھگت کی پولیس پر بھی فرسا بابا کو اعتمادکیوں نہیں تھا ؟
خیر اب تو سمجھ گئے نا لیکن یاد رکھو اگر وہ ٹرک والے اسمگلر نہ بھی ہوتے تو فرسا بابا کی کلہاڑی سے ہلاک ہونے کے بعد میڈیا انہیں گئو بھکشک ہی کہتا ۔
میڈیا بھی کیا کرے ؟ گئو ماتا کے ساتھ عوام کے جو جذبات وابستہ ہیں ۔ اس کا لحاظ کرنا پڑتا ہے۔
للن ہنس کر بولا یار لندن منتقل ہونے سے قبل میں نے اسی گئو ماتا کےچکر میں نے اپنا فلیٹ اونے پونے دام میں بیچ دیا تھا ۔
اچھا تو کیا وہ تمہارے فلیٹ یا بلڈنگ میں آجاتی تھی؟
جی نہیں ۔ وہ تو نہیں آتی تھی مگر اس کا گوبر آجاتا تھا ۔ جب بھی کوئی مقدس تہوار آتا ہمارے پڑوسی میرے فلیٹ کے باہر بھی گائے کا گوبر پوت دیتے ۔
ارے چودھری صاحب آپ انہیں سمجھا بھی تو سکتے تھے ؟
بھیا میں نے ایک بار گوبر پوتنے والی نوکرانی کو منع کیا تو اس نے کہا یہ باہر کی جگہ مشترکہ ہے اس پرسبھی کا حق ہے۔
فلیٹ کے مالکان سے بات کرنےکے بجائےآپ نوکرانی کے منہ لگ گئے ۔
نہیں میں نے اسے اپنے مالک کو بلوانے کے لیے کہا تو مالکن آئی اور اس نے آتے ہی گائے کے پیشاب کا چھڑکاو شروع کردیا ۔
اچھا تو پھر آپ نے کیا کیا؟
میں کیا کرتا ؟ بدبو کی وجہ سے گھر کے اندر گیا اور مکان بیچنے کے لیے گاہک کی تلاش شروع کردی ۔ اسی دوران لندن میں ملازمت مل گئی تو وہاں نکل گیا۔
یار اچھا ہی ہوا جو آپ اس جنجال سے نکل گئے ۔ بریانی کی خوشبو آرہی ہے۔ لگتا ہے کھانا بن گیا ہے۔
جی ہاں ۔ میری بھی بھوک چمک اٹھی ہے چلو کھائیں پئیں عید منائیں ۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...