Skip to content
وینزویلا اورکیوبا:
ہے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
بندروں کی لڑائی میں بلی کا فائدہ ضرور ہوتا ہے لیکن ہاتھیوں کی لڑائی میں کتے کا نقصان ہو جاتا ہے۔ اس لیے کہ وہ تماش بین بنا دور کھڑا رہتا ہے اور اس دوران جب کوئی ہاتھی اس پرآکر گرجائے تو وہ اسے زخمی کردیتا ہے بلکہ کبھی کبھار ہلاکت بھی ہوجاتی ہے۔ جنگ کی زبان میں غیر متعلق لوگوں کے متاثر ہوجانے کے لیے’کراس فائر‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ۔ مشرق وسطیٰ سے دور کھڑا ہندوستان فی الحال اس کیفیت سے گزر رہا ہے۔ مودی سرکار کے اوپر امریکہ کا دباو نیا نہیں ہے۔ آپریشن سیندور کے دوران جب گودی میڈیا فتوحات کی دلپذیر کہانیاں نشر کررہا تھا تو اچانک امریکہ سے فرمان جاری ہوا جنگ بند اور دیکھتے دیکھتے جنگ بندی نافذ ہوگئی ۔ اسی طرح حکم آیا چا بہار سے نکلو حکومتِ ہند نے بلا چوں چرا بوریا بستر لپیٹ کر تعمیلِ ارشاد کیا ۔ روس سے تیل کی خریداری پر ہڑکایا گیا کہ اسے روکو تو مودی سرکار نے بھیگی بلی بن کر درآمدات روک دیں ۔ معاشی معاہدے پر غیر عقلی ٹیرف لگایا یعنی امریکی برآمدات پر پچاس سے دو سو فیصد محصول کو گھٹا کر صفر کردیا گیا اور ہندوستانی برآمدات پر دو فیصد سے بڑھا کرپندرہ فیصد کردیا گیا ۔ ہندوستانی صنعت کاروں اورکسانوں کے مفادات پر بلڈوزر چل گیا مگر مودی سرکار دُم ہلاتی رہی ۔ اس طرح مودی سرکار نے ثابت کردیا کہ گوں ناگوں وجوہات کی بنیاد پر وہ امریکہ بہادر کے ہر حکم کی بلاچوں چرا تعمیل میں عافیت بلکہ اپنے لیے سعادت سمجھتی ہے۔
اسرائیل کے لوگ نہ جانے کیوں اپنے وزیر اعظم کو بی بی کہہ کر پکارتے ہیں لیکن موجودہ عالمی صورتحال میں جبکہ ان کے آگے ٹرمپ اور پیچھے مودی ہیں تو بے ساختہ گرودت کی مشہور فلم ’’صاحب ، بی بی اور غلام ‘‘ کی یاد دآتی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی ہندوستان کو وشو گرو (عالمی قائد) بنانے کا خواب بیچتے ہیں لیکن انہوں نے اپنی بزدلی سے ملک کو وشو چیلا( عالمی شاگرد) بنادیا ۔ ان کا کام فی الحال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جی حضوری بن کر رہ گیا ہے۔ وہ موصوف کا نام اپنی زبان پر لانے کی جرأت نہیں کرتے۔ہندوستانی موقف کے برخلاف ٹرمپ نے جب سے آپریشن سیندور کے رکوانے کا دعویٰ کرنا شروع کر رکھا وہ ان سے آنکھ نہیں ملاتے۔ کسی ایسی مجلس میں شرکت نہیں کرتے جس میں صاحب موجود ہوں کیونکہ اگر انہوں نے بھری محفل میں سوال کردیا کہ میں نے جنگ رکوائی یا نہیں تو یہ بیچارے ان کی ناراضی کے خوف سے نہ کہہ سکتے ہیں اور نہ اپنا سرکاری موقف بیان کیا جاسکتا ہے۔ یہ ایک ایسا سنجیدہ مسئلہ ہے کہ محض زور دار قہقہہ لگا کر بھی بات بنانا مشکل ہے۔ اس لیے صاحب اور بی بی کے مقابلے ہندوستانی وزیر اعظم کی حیثیت ایک زر خرید غلام کی سی ہوکر رہ گئی۔
صدر ٹرمپ کو وینزویلا کو اپنے زیر اثر لینے کی خاطر وہاں کے صدر مدورو کو اغوا کرنا پڑا اور بات بن گئی ۔ ایران کے رہبر معظم کو شہید کرنا پڑا مگر بات بگڑ گئی ، کیوبا کو قبضے میں لینے کی خاطر وہاں ایندھن کی فراہمی بند کرنی پڑی لیکن ہندوستان کے لیے تو ایک فائل کی جھلک ہی کافی ہے۔ ایران میں امریکہ اپنی جنگ ہار چکا اور اس کی جانب سے توجہ ہٹانے کی خاطر وہ کیوبا کا محاذ کھولنے کے فراق میں ہے۔ یہ نہایت شرمناک صورتحال ہے کہ کیوبا نژاد امریکی سیاست دان مارکو روبیو ٹرمپ انتظامیہ میں وزیر خارجہ کے عہدے پر فائز ہیں مگر وہ طویل عرصے سے کیوبا کی حکومت کے خلاف سخت رویہ اپنانے کی وکالت کرتےرہے ہیں۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ناپاک ارادوں کا اظہار6 مارچ (2026) کو ہی کردیا تھا ۔انہوں نے اعلان کیا تھا کہ ایران کے بعد کیوبا کی باری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کیوبا کے ساتھ جو ہو رہا ہے وہ حیران کن ہے۔ ایران جنگ کو ختم کرنے کے بعد وہ اس جانب متوجہ ہوں گے۔خوش فہمیوں کا شکار امریکی صدر نے کہا تھاکہ وینزویلا بہت اچھا کر رہا ہے، اسے مستحکم کر دیا گیا ہے، وینزویلا کو اب پہلے سے بہت زیاد تیل کی کمائی آرہی ہے، ڈیلسی روڈ ریگز صدارت کیلئے ایک شاندار شخصیت ہیں۔صدر ٹرمپ کے مطابق کیوبا کے ساتھ بھی واشنگٹن کسی ایسے معاہدے تک پہنچنے میں دلچسپی رکھتا ہے تاکہ باہمی تعلقات بہتر ہوں اور بہت سارے کیوبائی امریکی آخرکار واپس اپنے وطن جا سکیں۔
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایران کی جنگ کے خاتمہ کا انتظار کرنے والے ٹرمپ نے درمیان میں ہی یہ بکھیڑا کیوں کھڑا کردیا؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ ٹرمپ اب ایران کی جنگ جاری رکھنا نہیں چاہتے اس لیے دعویٰ کررہے ہیں کہ انہوں نے جنگ جیت لی جبکہ ساری دنیا دیکھ رہی ہے کہ وہ شکست کھا چکے ہیں۔ ٹرمپی دعویٰ کی بلا واسطہ تردید کسی اور نے نہیں بلکہ خود ان کے وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کردی کیونکہ ان کے مطابق وہ ایران پر مزید بڑے حملے کریں گے۔ سوال یہ ہے کہ جنگ میں اگر فتح ہوچکی تو مزید حملوں کی کیا ضرورت؟ وزیر دفاع نے جیتنے کا اعلان کرنے کے بجائے کہا امریکہ جنگ جیت رہا ہے۔ ایران کی جنگ ماضی کی جنگوں سے مختلف ہے، جنگ میں ہلاک امریکی فوجیوں کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔اس طرح انہوں نے امریکی فوجیوں کی ہلاکت کا اعتراف کرلیا۔ امریکی وزیر دفاع نے یہ دعویٰ تو کردیا کہ امریکی فورسز نے ایران کی دفاعی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کر دیا ہے لیکن اگر یہ سچ ہے تو آئے دن تل ابیب سمیت اسرائیل کے کئی ٹھکانوں پر حملے کیوں ہورہے ہیں؟ ایران میں 7 ہزار فوجی اہداف کو نشانہ بنا کر دشمن کی 11 آبدوزیں تباہ کرکے نیوی کے 120 جہازوں کو ڈبونے کا دعویٰ کرنے والوں کو یہ بتانا چاہیے کہ ہنوز آبنائے ہر مز ایران کے قبضے میں کیوں ہے؟ ایران کے ریڈار اور دفاعی سسٹم کو تباہ کرنے والوں کو بتانا چاہیے کہ اس کے بعد بھی وہ چن چن کر اپنے نشانوں پر حملہ کیسے کررہا ہے؟
امریکی وزیر دفاع کو یورپی اتحادیوں سے شکایت ہے کہ میڈیا ایران جنگ پر غلط اندازے پیش کررہا ہے اور جھوٹی خبریں چلارہا ہےحالانکہ وہ تلخ حقائق ٹرمپ اور پیٹ کی کذب گوئی کو بے نقاب کرتے ہیں ۔کیوبا کا یہ تنازع امریکہ کی اسی ناکامی کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ امریکی حکام اور عوام ہنوز خود کوسُپر پاور سمجھتے ہیں لیکن ایران نے اس کی قلعی کھول دی ہے۔ امریکی صدرایک شکست خوردہ رہنما کے طور پر عوام میں نہیں جاسکتا اسی لیے ایسی صورتحال میں وہ نرم چارہ تلاش کرکے میڈیا کو اس میں الجھا دینا چاہتا ہے۔ اس کی ایک مثال افغانستان ہے۔ نیویارک میں ورلڈ ٹریڈ سینٹر کی مسماری کے بعد جارج ڈبلیو بش نے نیٹو کو ساتھ لے کر جنگ میں تباہ شدہ افغانستان پر چڑھائی کردی تھی ۔ وہ اس خوش فہمی کا شکار تھا کہ طالبان جھک جائیں گے مگر وہ ڈٹ گئے۔ بش کو دوبارہ الیکشن لڑنا تھا اور ایک ناکام صدر کے طور پر اس کا جیتنا ناممکن تھا اس لیے عراق کی صورت میں نرم چارہ تلاش کیا گیا۔ عمومی تباہی کے ہتھیار کا جھوٹا الزام لگا کر صدام حسین کو اقتدار سے بے دخل کرکےبالآخر انہیں پھانسی چڑھا دیا گیا۔اس طرح خود کو فاتح کی حیثیت سے پیش کرکے بش نے انتخاب جیت لیا۔ ٹرمپ نے پھر سے ایران میں افغانستان والی غلطی دوہرا دی اب وہ کیوبا میں فتح کا پرچم لہرا کر اپنی ناکامی چھپانا چاہتا ہے۔
اس تنازع کا ایک بین الاقوامی پہلو بھی ہے ۔ کیوبا میں سوویت یونین کی موجودگی پر اعتراض کرکے امریکہ نے جنگ چھیڑ دی تھی مگر ناکام رہا۔ اسی منطق کی بنیاد پر یوکرین میں ناٹو کی مخالفت کرکے روس نے جنگ شروع کردی اور اب ایران مشرق وسطیٰ سے امریکہ کا انخلاء کروا رہا ہے۔ اس طرح کا اقدام صرف سُپر پاور کرتے ہیں اور اس جنگ نے ثابت کردیا کہ ایران کا شمار اب دنیا کی سُپر پاورس میں ہوگیا ہے۔ یہ کام محض خواہشات کی بنیاد پر نہیں ہوا بلکہ شدید ترین نامساعد حالات میں ایران نے حربی میدان میں غیر معمولی ترقی کی۔ اس نے دوسروں پر انحصار کرنے کے بجائے خود اپنے کارخانوں میں نہایت کم قیمت پر میزائل اور ڈرون تیار کیے۔ تکنیکی صلاحیت کے ساتھ ساتھ شہادت کے جذبے سے سرشار ایران کی بے مثال قیادت اور دلیر عوام نے اس جنگ میں امریکہ سے سُپرپاور کا خطاب چھین لیا۔کوئی مانے یا نہ مانےایران اب دنیا ایک سُپر پاور بن چکاہے اورہمارے خود ساختہ وشو گرو ’ٹک ٹک دم دم ‘دیکھتے کے دیکھتے رہ گئے ۔ اس طرح یہ ثابت ہوگیا کسی کی دم پکڑ کر کوئی دنیا میں عزت و وقار حاصل نہیں کرسکتا ہے۔ ایران کی طاقت کے ساتھ اگر وینزویلا یاکیوبا کی کمزوری کا موازنہ کیا جائے تو وہ فرق نظر آتا ہے جس کی جانب علامہ اقبال کےیہ اشعار اشارہ کرتے ہیں؎
افسوس، صد افسوس کہ شاہیں نہ بنا تُو
دیکھے نہ تری آنکھ نے فطرت کے اشارات
تقدیر کے قاضی کا یہ فتویٰ ہے ازل سے
ے جُرمِ ضعیفی کی سزا مرگِ مفاجات!
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...