Skip to content
انفراسٹرکچر وارفیئر و خلیجی عدمِ استحکام
ایران کی اسٹرٹیجک میسجنگ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═─┄
حالیہ عالمی حالات میں مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کے دہانے پر کھڑا دکھائی دیتا ہے۔ ایران کی جانب سے اُن اہم تنصیبات کی فہرست جاری کرنا، جنہیں ممکنہ طور پر نشانہ بنایا جا سکتا ہے، محض عسکری حکمتِ عملی کا اظہار نہیں بلکہ ایک وسیع تر جیوپولیٹیکل پیغام بھی ہے۔ یہ پیغام روایتی جنگی بیانیے سے ہٹ کر "سافٹ ٹارگٹس” یعنی شہری بنیادی ڈھانچے کو ہدف بنانے کی ایک نئی جہت کو واضح کرتا ہے۔ اہداف کی نوعیت کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ پہلو غیر معمولی اہمیت اختیار کر لیتا ہے کہ فہرست میں کسی بھی فوجی اڈے یا دفاعی تنصیب کا ذکر موجود نہیں، بلکہ تمام تر توجہ اُن بنیادی شہری ڈھانچوں پر مرکوز ہے جو روزمرّہ زندگی کے تسلسل کے لیے ناگزیر حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ ڈی سیلینیشن پلانٹس، جو پینے کے پانی کا بنیادی ذریعہ ہیں، اور پاور پلانٹس، جو بجلی کی فراہمی کا مرکزی ستون ہیں، اس فہرست کا حصہ بنائے گئے ہیں۔
یہ انتخاب محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک سوچے سمجھے اسٹریٹجک زاویے کی عکاسی کرتا ہے۔ درحقیقت، جدید ریاست کی اصل قوت صرف اس کی عسکری صلاحیت میں نہیں بلکہ اس کے سماجی و معاشی نظام کے استحکام میں مضمر ہوتی ہے۔ جب پانی اور بجلی جیسے بنیادی وسائل متاثر ہوتے ہیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہری کی زندگی پر مرتب ہوتے ہیں، اور یوں ریاست کے اندرونی نظم و نسق، عوامی اعتماد اور مجموعی استحکام پر دباؤ بڑھنے لگتا ہے۔ اسی تناظر میں یہ کہنا بجا ہوگا کہ ممکنہ ردّعمل کا ہدف روایتی معنوں میں "ریاستی طاقت” کو کمزور کرنا نہیں، بلکہ "سماجی استحکام” کو متزلزل کرنا ہے۔ گویا جنگ کا دائرہ میدانِ جنگ سے نکل کر معاشرتی ڈھانچے کے قلب تک پہنچ جاتا ہے، جہاں کسی ایک بنیادی سہولت کی معطلی پورے نظام کو عدم توازن کا شکار بنا سکتی ہے۔
خلیج کے خطے میں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی کوئی نئی بات نہیں، بلکہ اس کی جڑیں ماضی کے مختلف تنازعات میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ جب براہِ راست عسکری برتری حاصل کرنا مشکل ہو تو فریقین اکثر ایسے اہداف کا انتخاب کرتے ہیں جو معاشی اور توانائی کے نظام کو متاثر کر سکیں۔ اسی سلسلے کی ایک نمایاں مثال ایران-عراق جنگ (1980ء–88ء) کے دوران سامنے آتی ہے، جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی معیشت کو نقصان پہنچانے کے لیے خلیج میں تیل بردار جہازوں (Oil Tankers) کو نشانہ بنایا۔ اس دور کو عموماً "ٹینکر وار” (Tanker War) کہا جاتا ہے، جس میں توانائی کی ترسیل کو متاثر کر کے نہ صرف حریف کو کمزور کرنے کی کوشش کی گئی بلکہ عالمی منڈیوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔
اسی نوعیت کی ایک جدید مثال 2019ء میں سعودی عرب کی آرامکو تنصیبات پر ہونے والا حملہ ہے، جس نے یہ واضح کر دیا کہ جدید دور میں توانائی کے مراکز کس قدر حساس اور غیر محفوظ ہو سکتے ہیں۔ اس حملے کے نتیجے میں وقتی طور پر سعودی تیل کی پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہوئی، جس کے اثرات فوری طور پر عالمی تیل کی منڈی میں بھی محسوس کیے گئے۔ ان مثالوں سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ خلیجی خطہ نہ صرف جغرافیائی بلکہ توانائی کے اعتبار سے بھی ایک نہایت حساس علاقہ ہے، جہاں انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی حکمتِ عملی ماضی میں بھی استعمال ہوتی رہی ہے اور موجودہ حالات میں بھی اس کے امکانات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ یوں ماضی کے یہ واقعات حالیہ کشیدگی کو سمجھنے کے لیے ایک اہم پس منظر فراہم کرتے ہیں اور اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ انفراسٹرکچر وارفیئر درحقیقت ایک تسلسل کا حصّہ ہے، نہ کہ کوئی بالکل نئی حکمتِ عملی۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں جدید جنگی حکمتِ عملی اپنی نئی صورت میں سامنے آتی ہے، جسے بعض ماہرین "انفراسٹرکچر وارفیئر” سے تعبیر کرتے ہیں۔ اس طرزِ عمل میں براہِ راست فوجی تصادم کے بجائے ایسے مراکز کو نشانہ بنایا جاتا ہے جو بظاہر غیر عسکری ہوتے ہیں، مگر درحقیقت ریاست کے بقاء و استحکام کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ چنانچہ پانی کی فراہمی میں تعطل صرف پیاس کا مسئلہ نہیں رہتا، بلکہ صحتِ عامہ، خوراک کی دستیابی اور شہری نظم و ضبط سبھی اس سے متاثر ہوتے ہیں؛ اسی طرح بجلی کی بندش محض اندھیرے تک محدود نہیں رہتی بلکہ صنعتی پیداوار، مواصلاتی نظام، طبی سہولیات اور سلامتی کے ادارے سب اس کے اثرات کی زد میں آ جاتے ہیں۔
ایسے اقدامات کا ایک گہرا نفسیاتی پہلو بھی ہوتا ہے۔ جب عام شہری یہ محسوس کرنے لگے کہ اس کی بنیادی ضروریات بھی محفوظ نہیں رہیں، تو خوف، بے یقینی اور اضطراب کی فضاء جنم لیتی ہے۔ یہ کیفیت نہ صرف ریاست اور عوام کے درمیان اعتماد کو کمزور کرتی ہے بلکہ داخلی سطح پر بے چینی اور عدم استحکام کو بھی بڑھاتی ہے۔ یوں بغیر کسی روایتی جنگی محاذ کے، ایک پورا معاشرہ دباؤ کا شکار ہو جاتا ہے۔ یہ صورتِ حال اس حقیقت کی طرف رہنمائی کرتی ہے کہ اکیسویں صدی کی جنگیں محض سرحدوں یا عسکری قوتوں کے درمیان نہیں رہیں، بلکہ وہ انسانی زندگی کے بنیادی ڈھانچوں تک پھیل چکی ہیں۔ اس میں فتح و شکست کا پیمانہ بھی بدل جاتا ہے۔ جہاں کسی شہر پر قبضہ کرنا ضروری نہیں رہتا، بلکہ اس کے پانی اور بجلی کے نظام کو مفلوج کر دینا ہی اسے غیر مؤثر بنانے کے لیے کافی سمجھا جاتا ہے۔
جدید جنگی حکمتِ عملی کو سمجھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ اسے محض روایتی عسکری تصادم تک محدود نہ رکھا جائے، بلکہ اس کے وسیع تر نظریاتی فریم ورک کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے۔ اسی تناظر میں "Hybrid Warfare”، "Critical Infrastructure Protection (CIP)” اور "Asymmetric Warfare” جیسے تصورات نہایت اہمیت اختیار کر لیتے ہیں، جو موجودہ صورتِ حال کی بہتر تفہیم میں مدد دیتے ہیں۔ درحقیقت، "Hybrid Warfare” ایک ایسا جامع تصور ہے جس میں روایتی جنگ، سائبر حملے، نفسیاتی دباؤ، اور اطلاعاتی جنگ (Information Warfare) سب کو یکجا کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرزِ جنگ میں مقصد براہِ راست محاذ آرائی کے بجائے مخالف ریاست کو مختلف سطحوں پر بیک وقت دباؤ میں لانا ہوتا ہے۔ ایران کی جانب سے شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی نشاندہی اسی ہائبرڈ حکمتِ عملی کا ایک نمایاں پہلو قرار دی جا سکتی ہے۔ اسی کے ساتھ "Asymmetric Warfare” کا تصور بھی یہاں پوری طرح منطبق ہوتا ہے، جہاں ایک نسبتاً کمزور فریق، براہِ راست عسکری برتری رکھنے والے حریف کا مقابلہ روایتی میدانِ جنگ میں کرنے کے بجائے غیر روایتی ذرائع اختیار کرتا ہے۔ اس میں ایسے اہداف کو چنا جاتا ہے جو دشمن کے لیے زیادہ حساس اور کمزور ہوں، تاکہ کم وسائل کے باوجود زیادہ سے زیادہ اثر پیدا کیا جا سکے۔
ان دونوں تصورات کے بالمقابل "Critical Infrastructure Protection (CIP)” ایک دفاعی حکمتِ عملی کے طور پر سامنے آتا ہے، جس کا مقصد ریاست کے ان بنیادی ڈھانچوں جیسے پانی، بجلی، مواصلات اور توانائی کو محفوظ بنانا ہے جو قومی سلامتی اور عوامی زندگی کے لیے ناگزیر ہوتے ہیں۔ موجودہ حالات اس بات کی واضح نشاندہی کرتے ہیں کہ جہاں ایک طرف انفراسٹرکچر کو ہدف بنانے کی حکمتِ عملی فروغ پا رہی ہے، وہیں دوسری طرف ان ہی تنصیبات کے تحفظ کو ریاستی پالیسی کا مرکزی ستون بنایا جا رہا ہے۔ یوں یہ تینوں تصورات باہم مربوط ہو کر ایک مکمل تصویر پیش کرتے ہیں: ایک جانب ہائبرڈ اور اسیمیٹرک جنگی حکمتِ عملیاں ہیں جو کمزور نکات کو نشانہ بناتی ہیں، اور دوسری جانب ان ہی نکات کے تحفّظ کے لیے دفاعی حکمتِ عملی یعنی CIP موجود ہے۔ یہی باہمی تعامل جدید جنگ کی پیچیدگی اور اس کے بدلتے ہوئے خدوخال کو واضح کرتا ہے۔
خلیجی ممالک کے تناظر میں یہ حقیقت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے کہ ان کی بقاء اور روزمرّہ زندگی کا دارومدار قدرتی وسائل کی روایتی دستیابی پر نہیں بلکہ جدید ٹیکنالوجی پر قائم ایک حساس نظام پر ہے۔ چنانچہ صاف پانی کی فراہمی کے لیے ان کی بڑی آبادی ڈی سیلینیشن پلانٹس پر منحصر ہے، جب کہ بجلی کا نظام بھی چند بڑے مراکز میں مرتکز دکھائی دیتا ہے۔ مزید برآں، ان ممالک کا گرڈ سسٹم (Grid System) عموماً مرکزی نوعیت کا ہوتا ہے، جس کے باعث کسی ایک اہم نکتے پر خلل پورے نظام کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی پس منظر میں یہ بات مزید واضح ہو جاتی ہے کہ سعودی عرب، امارات، قطر اور کویت جیسے ممالک اپنی پانی کی ضروریات کا تقریباً 70 سے 90 فیصد حصّہ سمندری پانی کو صاف کرنے والے منصوبوں سے حاصل کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ان منصوبوں میں سے کسی ایک بڑے یونٹ کو بھی نقصان پہنچے تو اس کے اثرات فوری اور وسیع پیمانے پر ظاہر ہو سکتے ہیں۔
یہی صورت حال بجلی کے شعبے میں بھی دیکھی جا سکتی ہے، جہاں کسی ایک بڑے پاور پلانٹ کی معطلی نہ صرف صنعتی و تجارتی سرگرمیوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ گھریلو زندگی، طبی سہولیات اور مواصلاتی نظام کو بھی شدید دباؤ میں لے آتی ہے۔ گویا یہ تمام عوامل مل کر ایک ایسا ڈھانچہ تشکیل دیتے ہیں جو بظاہر مضبوط نظر آتا ہے، مگر اندرونی طور پر چند کلیدی نقاط پر حد درجہ انحصار کی وجہ سے حساس اور کمزور بھی ہے۔ یہی وہ بنیادی کمزوریاں ہیں جنہیں اس فہرست میں نمایاں کیا گیا ہے، اور جو اس امر کی طرف اشارہ کرتی ہیں کہ جدید دور میں کسی ریاست کو غیر مستحکم کرنے کے لیے ہمیشہ روایتی عسکری قوت کا استعمال ضروری نہیں رہتا، بلکہ اس کے حیاتیاتی و معاشی نظام کے بنیادی ستونوں کو نشانہ بنانا بھی اتنا ہی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے اس نوعیت کی "واضح اور نامزد” فہرست کا اجراء محض عسکری تیاری کا اظہار نہیں بلکہ ایک گہری نفسیاتی جنگ (Psychological Warfare) اور نفسیاتی حکمتِ عملی کی عکاسی بھی کرتا ہے۔ عام طور پر ریاستیں اپنے ممکنہ ردعمل کو مبہم رکھتی ہیں تاکہ غیر یقینی کی فضا قائم رہے، لیکن یہاں صورتِ حال اس کے برعکس ہے، غیر یقینی کو ختم کر کے ایک "یقینی خوف” (Certain Fear) کو جنم دیا گیا ہے۔ جب اہداف کے نام، مقامات اور نوعیت کھلے طور پر بیان کر دیے جائیں تو خطرہ محض امکان نہیں رہتا بلکہ ایک محسوس حقیقت بن جاتا ہے۔ اسی حکمتِ عملی کے تحت دشمن کو ذہنی طور پر دباؤ میں لانا مقصود ہوتا ہے، تاکہ وہ کسی بھی اقدام سے پہلے اس کے ممکنہ نتائج کا واضح تصور اپنے ذہن میں لے آئے۔
اس طرح کی تفصیلات عوامی سطح پر بھی بے چینی اور اضطراب کو جنم دیتی ہیں، کیونکہ جب بنیادی سہولیات پانی اور بجلی کے متاثر ہونے کا خدشہ سامنے آئے تو عام شہری خود کو براہِ راست خطرے میں محسوس کرنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت داخلی سطح پر حکومتوں کے لیے ایک نئے چیلنج کو جنم دیتی ہے، جہاں انہیں نہ صرف بیرونی خطرات کا سامنا ہوتا ہے بلکہ اپنی عوام کو مطمئن اور پُرامن رکھنے کی ذمّہ داری بھی بڑھ جاتی ہے۔ یوں یہ حکمتِ عملی بیک وقت کئی سطحوں پر اثر انداز ہوتی ہے: دشمن کی فیصلہ سازی کو متاثر کرنا، عوامی رائے کو بے چین کرنا، اور حکومتوں پر داخلی دباؤ میں اضافہ کرنا۔ اسی تناظر میں اسے "deterrence by disclosure” یعنی تفصیلات کو ظاہر کر کے روکنے کی کوشش قرار دیا جا سکتا ہے، جہاں اصل مقصد براہِ راست جنگ چھیڑنا نہیں بلکہ مخالف کو اس کے ممکنہ انجام سے اس قدر آگاہ کر دینا ہے کہ وہ خود ہی پسپائی اختیار کرنے پر مجبور ہو جائے۔
بین الاقوامی قانون اور انسانی اقدار کے تناظر میں اس نوعیت کی حکمتِ عملی نہایت سنگین مضمرات کی حامل ہے۔ بین الاقوامی انسانی قانون (International Humanitarian Law) واضح طور پر اس امر کی نشاندہی کرتا ہے کہ شہری آبادی اور اس سے وابستہ بنیادی ڈھانچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانا جنگی جرائم کے زمرے میں آ سکتا ہے۔ خصوصاً پانی اور بجلی جیسے وسائل، جو انسانی بقاء کے لیے ناگزیر ہیں، انہیں ہدف بنانا محض عسکری اقدام نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر انسانی بحران کو جنم دینے کے مترادف ہے۔ اسی اصولی پس منظر میں اگر اس نوعیت کا کوئی حملہ عملی شکل اختیار کرتا ہے تو اس کے اثرات فوری اور دور رس دونوں ہوں گے۔ لاکھوں افراد یکایک پانی اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات سے محروم ہو سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں روزمرّہ زندگی کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔
اسپتال، جو بجلی اور پانی پر براہِ راست انحصار کرتے ہیں، اپنی خدمات جاری رکھنے سے قاصر ہو سکتے ہیں؛ ٹرانسپورٹ کا نظام متاثر ہوگا، جب کہ مواصلاتی ڈھانچہ (Communication Infrastructure) بھی شدید خلل کا شکار ہو جائے گا۔ اس کے اثرات صرف انسانی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ماحولیاتی توازن بھی متاثر ہو سکتا ہے۔ پانی کی قلت، فضلے کے نظام کی خرابی، اور توانائی کے بحران کے باعث ایک ایسا سلسلہ وار بحران جنم لے سکتا ہے جو صحتِ عامہ، خوراک کی فراہمی اور سماجی استحکام سب کو اپنی لپیٹ میں لے لے۔ یوں یہ واضح ہوتا ہے کہ شہری انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی کوئی بھی کوشش محض ایک جنگی حکمتِ عملی نہیں بلکہ ایک وسیع انسانی المیے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے۔
اگر ایران اس نوعیت کی حکمتِ عملی کو عملی جامہ پہنانے کی طرف بڑھتا ہے تو اس کے اثرات صرف بیرونی محاذ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ خود ایران کے لیے بھی نہایت گہرے اور ہمہ جہت نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔ بظاہر یہ اقدام ایک مضبوط ردعمل کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے، لیکن اس کے مضمرات ایران کی "عسکری، سفارتی، اقتصادی اور داخلی ساخت” چاروں سطحوں پر نمایاں طور پر محسوس ہوں گے۔ سب سے پہلے عسکری پہلو کو دیکھا جائے تو اس بات کا قوی امکان ہے کہ امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کی جانب سے شدید جوابی کارروائی سامنے آئے۔ یہ ردّعمل محض علامتی نہ ہو کر ایران کے اندر اہم فوجی اور اقتصادی اہداف کو نشانہ بنا سکتا ہے، جس سے نہ صرف دفاعی صلاحیت متاثر ہوگی بلکہ ملک کے بنیادی اقتصادی ڈھانچے پر بھی ضرب پڑ سکتی ہے۔
اسی کے ساتھ سفارتی سطح پر ایران کو مزید تنہائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ عالمی برادری، جو پہلے ہی مختلف تنازعات کے باعث ایران کے حوالے سے حساس رویہ رکھتی ہے، اس اقدام کو ایک خطرناک پیش رفت کے طور پر لے سکتی ہے۔ نتیجتاً مزید اقتصادی پابندیاں عائد ہونے کا امکان بڑھ جائے گا، جب کہ چین اور روس جیسے قریبی اتحادی بھی کھل کر حمایت کرنے کے بجائے محتاط اور محدود کردار اختیار کر سکتے ہیں۔ اقتصادی اعتبار سے یہ صورتحال ایران کے لیے مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے۔ تیل کی برآمدات، جو ایرانی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھی جاتی ہیں، بین الاقوامی دباؤ اور ممکنہ پابندیوں کے باعث متاثر ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں داخلی معیشت مزید کمزور ہوگی، مہنگائی اور بے روزگاری میں اضافہ ہو سکتا ہے، اور عام شہری کی زندگی مزید دشوار ہو جائے گی۔
ان تمام عوامل کا اثر ایران کے داخلی استحکام پر بھی مرتب ہوگا۔ جب معاشی مشکلات بڑھتی ہیں اور عالمی دباؤ میں اضافہ ہوتا ہے تو عوامی سطح پر عدم اطمینان جنم لیتا ہے۔ یہ کیفیت سیاسی دباؤ میں اضافے کا باعث بنتی ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو نہ صرف بیرونی محاذ بلکہ اندرونی سطح پر بھی متعدد چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یوں یہ واضح ہوتا ہے کہ اس طرح کی حکمتِ عملی، اگرچہ فوری طور پر طاقت کے اظہار کا ذریعہ بن سکتی ہے، لیکن طویل المدت میں خود ایران کے لیے پیچیدہ اور خطرناک نتائج کو جنم دے سکتی ہے۔
یہ کشیدگی اپنی نوعیت کے اعتبار سے محض دو ریاستوں "ایران اور امریکہ” کے درمیان محدود تنازع نہیں رہے گی، بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں پھیلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ خلیجی خطہ، جو پہلے ہی جغرافیائی و سیاسی حساسیت کا حامل ہے، ایسی کسی بھی محاذ آرائی کے نتیجے میں عدم استحکام کا شکار ہو سکتا ہے۔ جب بنیادی انفراسٹرکچر خطرے میں ہو اور ریاستیں دفاعی و جوابی اقدامات کی طرف بڑھیں تو خطے میں مجموعی سلامتی کی فضاء متاثر ہونا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ مزید برآں، اس صورتحال کے اثرات صرف علاقائی حدود تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جائیں گے۔
خلیجی ممالک عالمی توانائی کی فراہمی میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے کسی بھی قسم کی رکاوٹ یا خطرہ عالمی توانائی کی منڈی کو براہِ راست متاثر کرے گا۔ اس کا فوری نتیجہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آ سکتا ہے، جو نہ صرف درآمد کنندہ ممالک بلکہ عالمی معیشت کے مجموعی توازن کو بھی متاثر کرے گا۔ یوں توانائی کی قیمتوں میں اضافہ صنعتی پیداوار، ٹرانسپورٹ کے اخراجات اور روزمرّہ اشیاء کی قیمتوں پر اثر انداز ہوگا، جس کے نتیجے میں مہنگائی میں اضافہ اور اقتصادی سست روی کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔ اس طرح ایک علاقائی کشیدگی بتدریج عالمی اقتصادی چیلنج میں تبدیل ہو سکتی ہے، جس کے اثرات ترقی یافتہ اور ترقی پذیر دونوں طرح کی معیشتوں پر یکساں طور پر مرتب ہوں گے۔
ایران کی جانب سے اس نوعیت کی تفصیلی فہرست کا اجرا بلاشبہ ایک غیر معمولی پیش رفت ہے، جو روایتی عسکری دھمکیوں کے دائرے سے نکل کر ایک جامع "اسٹرٹیجک میسجنگ” میں ڈھل چکی ہے۔ اس میں جہاں عسکری طاقت کا اظہار موجود ہے، وہیں نفسیاتی دباؤ، اقتصادی کمزوریوں کی نشاندہی اور سماجی انحصار کے حساس پہلوؤں کو بھی ہدف بنایا گیا ہے، جو اس حکمتِ عملی کو کثیرالجہتی بنا دیتا ہے۔ اس تمام تر تجزیے کا سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اس حکمتِ عملی کا اصل بوجھ براہِ راست عام شہریوں پر پڑتا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ کسی بھی تنازع میں سب سے زیادہ نقصان وہی طبقات اٹھاتے ہیں جو نہ فیصلہ سازی کا حصّہ ہوتے ہیں اور نہ ہی جنگی عمل کے ذمّہ دار۔
پانی اور بجلی جیسے بنیادی وسائل کو نشانہ بنانا دراصل انسانی زندگی کے بنیادی حق کو خطرے میں ڈالنے کے مترادف ہے، جس کے اثرات فوری ہونے کے ساتھ ساتھ طویل المدت بھی ہو سکتے ہیں۔ اسی لیے اگر یہ کشیدگی عملی تصادم میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے نتائج محض علاقائی سطح تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سطح پر ایک ہمہ گیر بحران کی شکل اختیار کر سکتے ہیں۔ توانائی کی منڈی، عالمی معیشت، اور بین الاقوامی امن و استحکام سب اس کی زد میں آ سکتے ہیں۔ یوں یہ صورتِ حال اس حقیقت کی جانب اشارہ کرتی ہے کہ جدید دنیا میں جنگ کا دائرہ جتنا وسیع ہو چکا ہے، اس کے اثرات بھی اتنے ہی ہمہ گیر اور دور رس ہو چکے ہیں، جن سے بچاؤ کے لیے دانشمندی، تحمل اور سفارتی بصیرت پہلے سے کہیں زیادہ ناگزیر ہو گئی ہے۔
🗓 (24.03.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...