Skip to content
موجِ بلا میں یادِ خدا
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
انسان کی زندگی میں بعض لمحات ایسے آتے ہیں جب اسے اپنی حقیقت اور اپنے خالق کی عظمت کا اچانک اور گہرا احساس ہو جاتا ہے۔ روزمرّہ کی مصروفیات اور ظاہری اسباب پر اعتماد اکثر انسان کو اس حقیقت سے غافل کر دیتا ہے کہ اصل طاقت اور اختیار صرف اللّٰہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے۔ لیکن جب حالات غیر معمولی ہو جائیں، خطرہ سامنے کھڑا ہو اور ظاہری سہارے کمزور دکھائی دینے لگیں تو انسانی فطرت فوراً اپنے حقیقی ربّ کی طرف رجوع کرتی ہے۔ قرآنِ مجید نے انسانی نفسیات کے اس پہلو کو نہایت حکیمانہ انداز میں بیان کیا ہے۔ سمندر کی مثال دے کر بتایا گیا ہے کہ جب انسان موجوں کے درمیان گھِر جاتا ہے اور طوفانی لہریں اسے ہر طرف سے ڈھانپ لیتی ہیں تو وہ بے اختیار اللّٰہ ہی کو پکارتا ہے۔ اس وقت نہ مال و دولت یاد رہتا ہے، نہ منصب و طاقت اور نہ ہی انسان کے بنائے ہوئے دوسرے سہارے۔ دل کی گہرائیوں سے بس ایک ہی صدا بلند ہوتی ہے کہ اے ربّ کائنات! ہمیں بچا لے۔
درحقیقت یہی وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کی فطرت اپنی اصل حالت میں ظاہر ہوتی ہے۔ قرآنِ کریم انسان کو اسی حقیقت کی طرف بار بار متوجہ کرتا ہے کہ زندگی کے ہر حال میں اپنے ربّ کو یاد رکھو، کیونکہ وہی حقیقی کارساز، وہی مشکل کشا اور وہی پناہ دینے والا ہے۔ خطرات اور آزمائشیں دراصل انسان کے لیے بیداری کے مواقع ہوتے ہیں، جو اسے اپنی بے بسی اور اللّٰہ تعالیٰ کی بے پایاں قدرت کا احساس دلاتے ہیں۔ زیرِ نظر واقعہ بھی اسی حقیقت کی ایک عملی جھلک پیش کرتا ہے۔ سمندر کی موجوں کے درمیان پیش آنے والا یہ منظر محض ایک سفر کی داستان نہیں بلکہ ایک ایسا تجربہ ہے جس نے قرآن کی آیات کو گویا زندہ حقیقت کی صورت میں ہمارے سامنے نمایاں کر دیا۔ اس واقعے میں انسان کی فطری بے بسی، اللّٰہ تعالیٰ کی طرف رجوع، اور ہدایت کی روشنی سے بدل جانے والی انسانی زندگی سب کچھ ایک ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔
اسی پس منظر میں یہ مختصر تحریر "موجِ بلا میں یادِ خدا” کے عنوان سے پیش کرنے کی کوشش کروں گا، جو اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ انسان کی اصل پناہ گاہ صرف اور صرف اللّٰہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جب زندگی کی موجیں تیز ہو جائیں اور حالات طوفان کا روپ دھار لیں تو مومن کا دل اسی ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو زمین و آسمان کا مالک اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ یہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب انسان کو اپنی بے بسی اور ربّ کی قدرت کا حقیقی احساس ہوتا ہے۔ دنیا کے تمام سہارے کمزور نظر آنے لگتے ہیں اور دل بے اختیار اسی در پر جھک جاتا ہے جہاں سے حقیقی سکون اور اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ دراصل آزمائشوں اور مصیبتوں کے یہی لمحات انسان کو اس حقیقت سے آشنا کرتے ہیں کہ زندگی کی کشتی خواہ کتنی ہی طوفانی لہروں میں گھِر جائے، اس کا اصل سہارا صرف اللّٰہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی عنایت ہے۔ چنانچہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے ربّ کو یاد رکھے، چاہے حالات سازگار ہوں یا ناموافق۔ کیونکہ یادِ خدا ہی وہ چراغ ہے جو اندھیروں میں روشنی دیتا ہے اور وہ سہارا ہے جو موجِ بلا میں بھی دل کو ڈوبنے نہیں دیتا۔
سمندر کی وسعت میں ایک عجیب ہیبت اور ایک عجیب کشش ہوتی ہے۔ اس کی موجیں کبھی دل کو مسحور کرتی ہیں اور کبھی انسان کو اس کی اپنی بے بسی کا احساس دلا دیتی ہیں۔ شاید 1991ء کے قریب ایسا ہی ایک واقعہ اُس وقت پیش آیا جب ہم چند ساتھی ارنالہ قلعہ سے واپس لوٹ رہے تھے۔ شام ڈھل چکی تھی، آسمان کے کناروں پر سرخی بکھر رہی تھی اور سمندر کی سطح پر ہلکی سی بے قراری محسوس ہونے لگی تھی۔ واپسی کے لیے ہمیں کشتی ہی کا سہارا تھا۔
جب ہم کشتی میں سوار ہونے لگے تو ناخدا (ملاح) نے ذرا توقف کے ساتھ کہا:
"समुद्रात भरती आणि लाटांची तीव्रता वाढताना दिसत आहे; जर आपण आत्ता निघालो नाही, तर मग पहाटेपर्यंत थांबावे लागेल.”
(سمندر میں طغیانی کے آثار دکھائی دے رہے ہیں، اگر ابھی روانہ نہ ہوئے تو پھر صبح سویرے تک انتظار کرنا پڑے گا)۔
یہ سن کر ہم سب ایک لمحے کے لیے خاموش ہو گئے۔ ایک طرف واپسی کی جلدی تھی اور دوسری طرف سمندر کی بڑھتی ہوئی بے قراری کا اندیشہ۔ شام کا سایہ گہرا ہوتا جا رہا تھا اور قلعے کے گرد پھیلی ہوئی خاموشی گویا ہمیں کسی فیصلے کی طرف دھکیل رہی تھی۔ کچھ دیر آپس میں مشورہ ہوا۔ کسی نے احتیاط کا مشورہ دیا اور کسی نے کہا کہ اگر ابھی روانہ نہ ہوئے تو رات بھر وہیں ٹھہرنا پڑے گا۔ بالآخر یہ طے پایا کہ کشتی کا سفر شروع کر دیا جائے۔ ناخدا نے بھی سمندر کی کیفیت کا اندازہ لگاتے ہوئے احتیاط برتنے کی یقین دہانی کرائی۔ ہم سب نے دل میں اللّٰہ کا نام لیا اور کشتی میں اپنی اپنی جگہ سنبھال لی۔
یہ ایک لمحۂ تردد تھا۔ مگر آخر کار طے پایا کہ سفر جاری رکھا جائے۔ کشتی نے آہستہ آہستہ ساحل سے رشتہ توڑا اور سمندر کی وسعت میں داخل ہونے لگی۔ ابتداء میں موجیں معمولی تھیں، مگر کچھ ہی دیر بعد کشتی گویا سمندر کی لہروں سے باتیں کرنے لگی۔ ایک لہر کشتی کو اوپر اٹھاتی تو دوسری نیچے لے آتی۔ اس لمحے انسان کو اپنی کم مائیگی اور قدرتِ الٰہی کی عظمت دونوں کا بیک وقت احساس ہوتا ہے۔ انہی لمحوں میں قرآنِ کریم کی ایک آیت بے اختیار ذہن میں ابھر آئی، جو انسان کی اسی نفسیاتی کیفیت کو نہایت بلیغ انداز میں بیان کرتی ہے۔ اللّٰہ تعالیٰ فرماتے ہیں: وَإِذَا غَشِيَهُم مَّوْجٌ كَالظُّلَلِ دَعَوُا اللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ۔ "اور جب انہیں موجیں سائبانوں کی طرح ڈھانپ لیتی ہیں تو وہ خالص ہو کر اللّٰہ ہی کو پکارتے ہیں”۔ (سورۂ لقمان: 32)
سمندر کی گہرائیوں میں یہ آیت صرف ایک قرآنی بیان نہیں رہتی، بلکہ ایک زندہ حقیقت بن کر سامنے آتی ہے۔ جب چاروں طرف پانی کی وسعت ہو، زمین کا سہارا نظروں سے اوجھل ہو اور کشتی لہروں کے رحم و کرم پر ہو، تو انسان کے دل میں موجود تمام مصنوعی سہارے یکایک بے معنی ہو جاتے ہیں۔ اس وقت دل بے اختیار اسی ذات کی طرف متوجہ ہوتا ہے جو زمین و آسمان کی مالک ہے۔ کشتی کے مسافر بھی اسی کیفیت سے گزر رہے تھے۔ کچھ خاموشی سے افق کو دیکھ رہے تھے، کچھ زیرِ لب دعا میں مشغول تھے، اور کچھ کی آنکھوں میں سمندر کی وسعت کے ساتھ ساتھ اپنے رب کی عظمت کا احساس جھلک رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے اس مختصر سے سفر نے انسان کو اس کی اصل حقیقت یاد دلا دی ہو کہ وہ کتنا کمزور ہے اور اس کا ربّ کتنا عظیم اور قادرِ مطلق۔
واقعی اس وقت محسوس ہوا کہ قرآن کا بیان کس قدر حقیقت سے قریب ہے۔ جب انسان سمندر میں ہوتا ہے اور چاروں طرف سے بلند و بالا لہریں اسے گھیر لیتی ہیں تو اس کی ساری ظاہری قوتیں اور سہارے بے معنی ہو جاتے ہیں۔ وہ سب کچھ بھول کر صرف اپنے ربّ کی طرف متوجہ ہوتا ہے، اور اس کی زبان سے بے ساختہ دعا نکلتی ہے۔ اسی مفہوم کو قرآنِ مجید نے ایک اور مقام پر یوں بیان کیا ہے: وَإِذَا مَسَّكُمُ الضُّرُّ فِي الْبَحْرِ ضَلَّ مَن تَدْعُونَ إِلَّا إِيَّاهُ۔ "اور جب تمہیں سمندر میں تکلیف پہنچتی ہے تو اللّٰہ کے سوا جن کو تم پکارتے ہو سب گم ہو جاتے ہیں”۔ (سورۂ الإسراء: 67)
یہ آیات گویا اس منظر کی زندہ تفسیر بن گئی تھیں۔ ہمارے دل اللّٰہ تعالیٰ کی طرف پوری یکسوئی کے ساتھ متوجہ تھے۔ اس اضطراب کے عالم میں ہمیں ایک اور منظر بھی دیکھنے کو ملا۔ کشتی میں سوار کچھ غیر مسلم حضرات بھی تھے۔ طوفانی لہروں نے ان کے چہروں کا رنگ بدل دیا تھا، پسینے ان کی پیشانیوں سے ٹپک رہے تھے۔ ہر شخص اپنے عقیدے کے مطابق اپنے خدا کو پکار رہا تھا۔ اس لمحے انسانی فطرت کی وہ سچائی سامنے آ گئی جسے قرآن نے بیان کیا ہے کہ خطرے کے وقت انسان فطری طور پر کسی بالاتر ہستی کی طرف رجوع کرتا ہے۔
اسی موقع کو تذکیری انداز میں استعمال کرتے ہوئے قرآنِ کریم کی مذکورہ آیت کو عنوان بنا کر چند مختصر مگر دل نشیں کلمات عرض کیے گئے۔ دراصل بات ایسی تھی جو براہِ راست دلوں تک پہنچ رہی تھی، کیونکہ حالات خود اس حقیقت کی گواہی دے رہے تھے۔ سمندر کی بے قرار موجیں، کشتی کی ہلچل اور چاروں طرف پھیلی ہوئی خاموشی گویا انسان کو اس کی بے بسی اور اپنے ربّ کی قدرت یاد دلا رہی تھی۔ چنانچہ اسی کیفیت میں ہمارے ایک ساتھی نے نہایت رقت آمیز آواز میں ایک حمد پڑھنا شروع کی۔ اُس کی آواز میں عجز و نیاز کی ایسی تاثیر تھی کہ فضاء مزید پر اثر ہو گئی:
تو ہی مالک ہمارا ہے
تو ہی خالق ہمارا ہے
ان سادہ مگر پُراثر الفاظ نے دلوں کو عجیب طرح سے چھو لیا۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے سمندر کی موجوں کے درمیان یہ صدا براہِ راست ربِّ کائنات کی بارگاہ میں پہنچ رہی ہو اور ہر دل بے اختیار اسی حقیقت کا اقرار کر رہا ہو کہ انسان کے تمام سہارے عارضی ہیں، اصل سہارا صرف اسی ربّ کی ذات ہے جو زمین و آسمان کا مالک اور تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔
برادرِ محترم کی آواز میں عجب درد اور تاثیر تھی۔ آنکھیں نم تھیں اور لہجہ ایسا کہ گویا دل کی گہرائیوں سے دعا بن کر نکل رہا ہو۔ کشتی کے مسافر خاموشی سے سن رہے تھے۔ سمندر کی لہریں اپنی روانی میں تھیں اور فضاء میں ایک روحانی سکون سا اتر آیا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وقت کی رفتار تھم سی گئی ہو اور ہر دل کسی انجانی کیفیت میں ڈوب گیا ہو۔ الفاظ کم تھے مگر ان میں ایسی صداقت اور سوز تھا کہ سننے والوں کے دلوں پر براہِ راست اثر ہو رہا تھا۔ بعض مسافروں کی نگاہیں جھک گئیں، کچھ کے لبوں پر بے ساختہ "آمین” جاری تھی، اور کچھ خاموشی کے عالم میں اپنے ربّ سے ہم کلام دکھائی دیتے تھے۔ کشتی اپنی منزل کی طرف بڑھ رہی تھی، مگر اس لمحے میں سب کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی اور ہی سفر پر نکل پڑے ہوں۔ ایک ایسا سفر جو سمندر کی وسعتوں سے گزر کر دل کی گہرائیوں تک پہنچتا ہے، جہاں انسان اپنے خالق کے حضور خود کو بے بس، محتاج اور سراپا دعا محسوس کرتا ہے۔
اس ساتھی کی زندگی کی داستان بھی بڑی معنی خیز تھی۔ ہدایت پانے سے پہلے وہ ممبئی کے ایک بڑے اور معروف کالج کے طالب علم تھے۔ اس زمانے میں وہ گٹار (میوزیکل انسٹرومنٹ) لے کر کالج جاتے، موسیقی بجاتے اور گانے گایا کرتے تھے۔ لیکن جب اللّٰہ تعالیٰ نے اس کے دل کو ہدایت کی روشنی سے منور کیا اور اسے اپنے دین کی خدمت کے لیے منتخب کیا تو وہی آواز، جو کبھی محض تفریح کا ذریعہ تھی، اب ذکرِ الٰہی اور دعوتِ حق کا وسیلہ بن گئی۔ اس شام سمندر کے بیچوں بیچ وہ منظر ہمارے لیے ایک زندہ سبق بن گیا۔ ہمیں شدّت سے احساس ہوا کہ انسان خواہ کتنی ہی ترقی کر لے، اس کی اصل پناہ گاہ وہی ذات ہے جو زمین و آسمان کی مالک ہے۔ جب موجیں سائبانوں کی طرح چھا جاتی ہیں تو انسان کے تمام مصنوعی سہارے ٹوٹ جاتے ہیں اور اس کے دل سے بس ایک ہی صدا نکلتی ہے: اے ربِّ کائنات! تو ہی ہمارا مالک ہے، اور تو ہی ہمارا حقیقی سہارا۔
سمندر کے بیچ پیش آنے والا یہ واقعہ محض ایک یادگار سفر کی داستان نہیں، بلکہ انسان کی فطرت اور اس کے خالق کے ساتھ اس کے تعلق کی ایک زندہ مثال ہے۔ قرآنِ مجید نے جس حقیقت کو الفاظ کی صورت میں بیان کیا ہے، وہ اس لمحے ہمارے سامنے ایک واضح اور محسوس تجربہ بن کر ظاہر ہو گئی۔ انسان جب اپنی بے بسی کو محسوس کرتا ہے تو اس کے دل کی گہرائیوں سے جو صدا بلند ہوتی ہے، وہ دراصل اس کی فطرتِ سلیم کی آواز ہوتی ہے۔ اور وہ آواز اپنے ربّ ہی کو پکارتی ہے۔ درحقیقت قرآن کا پیغام یہی ہے کہ انسان کو صرف مصیبت اور خطرے کے وقت ہی نہیں بلکہ زندگی کے ہر حال میں اپنے ربّ کو یاد رکھنا چاہیے۔ افسوس یہ ہے کہ اکثر انسان امن و عافیت کے زمانے میں اپنے ربّ کو بھول جاتا ہے اور صرف مصیبت کے وقت اسے یاد کرتا ہے۔ حالانکہ مومن کی شان یہ ہے کہ وہ خوشی میں بھی اللّٰہ کو یاد رکھے اور آزمائش میں بھی اسی کے سامنے جھکے۔
یہ واقعہ ہمیں یہ سبق بھی دیتا ہے کہ دعوتِ دین کے مواقع کبھی کبھی غیر متوقع حالات میں پیدا ہو جاتے ہیں۔ اگر دل میں اخلاص ہو اور زبان میں سچائی ہو تو چند سادہ کلمات بھی لوگوں کے دلوں کو چھو سکتے ہیں۔ اس کشتی میں پیش آنے والا مختصر سا تذکیری لمحہ اسی حقیقت کی ایک مثال تھا کہ اللّٰہ تعالیٰ جب چاہتا ہے تو عام سے حالات کو بھی ہدایت اور نصیحت کا ذریعہ بنا دیتا ہے۔ اسی طرح اس ساتھی کی زندگی کی تبدیلی بھی ایک روشن مثال ہے کہ ہدایت اللّٰہ تعالیٰ کا سب سے بڑا انعام ہے۔ جب اللّٰہ کسی بندے کو اپنے دین کے لیے منتخب کر لیتا ہے تو اس کی صلاحیتیں اور اس کی آواز تک ایک نئی معنویت اختیار کر لیتی ہیں۔ جو چیز کبھی صرف تفریح کا ذریعہ تھی، وہی بعد میں ذکرِ الٰہی اور دلوں کی تسکین کا وسیلہ بن جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ زندگی کی موجیں صرف سمندر میں ہی نہیں اٹھتیں، بلکہ انسان کی زندگی میں بھی کبھی نہ کبھی طوفان آتے ہیں۔ آزمائشیں، مشکلات اور غیر یقینی حالات انسان کو گھیر لیتے ہیں۔ ایسے تمام مواقع پر ایک مومن کے دل کو اسی ربّ کی طرف متوجہ ہونا چاہیے جو زمین و آسمان کا مالک ہے اور جو اپنے بندوں کی پکار کو سنتا اور قبول کرتا ہے۔ یہ واقعہ ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ ہم اپنی زندگیوں میں اللّٰہ تعالیٰ کی یاد کو محض اضطرار کے لمحات تک محدود نہ رکھیں، بلکہ اسے اپنی زندگی کا مستقل حصّہ بنا لیں۔ جب بندہ اپنے ربّ سے سچا تعلق قائم کر لیتا ہے تو پھر زندگی کے طوفان بھی اس کے ایمان کو متزلزل نہیں کر سکتے۔
اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اس حقیقت کو سمجھنے، اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے اور ہر حال میں اسی پر بھروسہ کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ اور ہمارے دلوں میں ہمیشہ یہی یقین زندہ رکھے کہ:
وہی ہمارا مالک ہے،
وہی ہمارا خالق ہے،
اور وہی ہماری حقیقی پناہ گاہ ہے۔
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...