Skip to content
ٹرمپ کی دھمکی کے جواب میں ایران کا دھماکہ
ازقلم: ڈاکٹر سلیم خان
ایران نے پھر ایک بار ثابت کردیا کہ ’جھکتی ہے دنیا جھکانے والا چاہیے‘۔ آبنائے ہر مز کو دو دن کے اندر کھولنے کی دھمکی اور پھر اسے پانچ دن کے ملتوی کرنا ایک مشہور لطیفہ یاد دلاتا ہے ۔ شادی سےقبل ایک آدمی کو قبل دوست نے مشورہ دیا کہ بیوی کو ڈرا دھمکا کر قابو میں رکھنا ورنہ سر چڑھ جائے گی۔اس لیے خاونداپنے ہر حکم کے اختتام پر دھمکاتے ہوئے ’ورنہ‘ کہنے لگا ۔ زوجہ جب پک گئی تو اس نے جواب دینے کا ارادہ کیا اور جب شوہر نے کہا فوراً غسل کے لیے پانی گرم کرو ورنہ؟ تو بیوی بولی ورنہ کیا کرلوگے؟ شوہر اس جواب کے لیے تیار نہیں تھا اس لیے کھسیا کے بولا ’ورنہ ٹھنڈے پانی سے نہا لوں گا‘ ۔ ٹرمپ نے بھی اڑتالیس گھنٹے کے اندر آبنائے ہرمز کھولنے کی دھمکی دے کر کہا اگر ایسا نہیں ہوا تو ایران کے بجلی گھروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ ایران بولا ایسا ہوا تو وہ بارودی سرنگیں بچھا کر یہ راستہ مسدود کردے گا اور بجلی گھر دوبارہ تعمیر ہونے تک ہرمز بند رہے گی ۔ بس پھر کیا تھا ساری ہیکڑی نکل گئی اور منوج تیواری کا یہ بھوجپوری نغمہ یاد آگیا؎
چٹ دینی مار دیلی کھینچ کے طمانچہ
ہی ہی ہنس دیلے مودیا کے پاپا
اسرائیل نےجب امریکہ کی سرپرستی میں حملہ کیا تو ایران نے کرارہ جواب دینے کے ساتھ ساتھ آبنائے ہر مز بند کردی ۔ اس فیصلے نے مودی جیسے ٹرمپ بھگت کے بھی ہوش اڑا دئیے۔ ہرمز کو کھولنے ابراہم لنکن نامی بحری بیڑے نےحرکت کی تواس پر حملے ہونے لگے اور اس’ کاغذ کی کشتی‘ کو میدان جنگ سے دور لے جایا گیا تاکہ مستقبل میں اس کھلونے سے کیوباجیسے ممالک کو ڈرایا جاسکے ۔ اس کے بعد ٹرمپ نے یوروپ سے لے کر جاپان اور آسٹریلیا سے چین تک سارے دوستوں سے گہار لگائی کہ ہرمز کو کھولنے میں میری مدد کرو ۔ دوسروں کے آگے ہاتھ پسارنا بجائے خود اپنی کمزوری کا اعتراف تھا اور سب کےپیٹھ پھیر لینے سے ثابت ہوگیا کہ اب لوگ امریکہ سے بے خوف ہیں ورنہ شرما حضوری میں سہی کوئی تو مدد کے لیے آتا؟ ٹرمپ نے اپنی عالمی تنہائی و رسوائی سے پریشان ہوکر ناٹو ممالک کو سخت سست کہا لیکن بات نہیں بنی تو ایران کو دھمکی دے دی کہ اگر48 گھنٹوں میں آبنائے ہرمزنہ کھولی گئی تو وہ پاورپلانٹس پر حملے کردے گا۔
ایرانی پاسداران انقلاب نے جواباً کہا کہ اگر بجلی کے نظام کو نشانہ بنایا گیا تو اسرائیلی بجلی گھرسمیت امریکی اڈوں کوبجلی فراہم کرنے والے پاور پلانٹس کونشانہ بنائیں گے ۔ ایرانی ساحل یا جزائر پر حملہ ہوا تو خلیج فارس میں تمام مواصلاتی راستوں کو بارودی سرنگوں سے بھر دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ ہر حملے کا فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، ایران کو نقشے سے مٹانے کا وہم دشمن کی مایوسی کا ثبوت ہے، دھمکیاں اور دہشت گردی کے حربے ایرانی قوم کو کمزور نہیں مزید مضبوط کررہے ہیں، آبنائے ہرمز ہماری خود مختاری کا احترام کرنے والے تمام ملکوں کیلئے کھلی ہے۔ کاش کے چین کی مانند ہندوستان بھی ایران کی خود مختاری کا احترام کرنے والے ممالک میں شامل ہوتا تو یہاں بھی ایندھن کی فراہمی بلا روک ٹوک جاری رہتی لیکن مودی جی تو اسرائیل جاکر نیتن یاہو کی گود میں بیٹھ گئے ۔ اس حماقت کی قیمت پورے ملک کی عوام چکا رہی ہے۔
جنگی جنون میں مبتلا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے بجلی گھروں پر حملوں کو 5 روز کے لیے ملتوی کرنے کا یہ جواز پیش کیا کہ ایران کے ساتھ ہونے والی بات چیت مثبت اور نتیجہ خیز رہی۔اپنے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم سوشل ٹروتھ پر جاری ایک بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے بتاتے ہوئے خوشی ہورہی ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان گزشتہ دو دنوں کے دوران نہایت مثبت اور نتیجہ خیز بات چیت ہوئی ہے۔اس کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کا مکمل اور حتمی حل تلاش کرنا ہے۔یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بات چیت تو پہلے بھی ہورہی تھی۔ اس کو سبوتاژ کرکے حملہ کس نے کیا؟ اس جنگ کے نتیجے میں پیدا ہونے والی کشیدگی کے لیے کون ذمہ دار ہے؟ امریکی صدر کا مزید کہنا ہے کہ ان گہرے، تفصیلی اور تعمیری مذاکرات کو مدنظر رکھتے ہوئے میں نے محکمہ جنگ کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے بجلی گھروں اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کے خلاف کسی بھی فوجی کارروائی کو 5 دن کے لیے مؤخر کر دیا جائے۔ آیت اللہ خامنہ ای کو شہید کرنے کے بجائے ابتدا میں ایسی دانشمندی کا مظاہرہ کیا جاتا تو یہ رسوائی کیوں جھیلنی پڑتی؟ لیکن لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے۔ ایران نے اپنے لات اور گھونسوں سے امریکہ بہادر کا دماغ درست کردیا۔
ٹرمپ صاحب کی عقل ٹھکانے آئی تو بیچاری بی بی اور غلام کی بساط ؟ سب ٹھیک ہوگئے ۔ مودی جی کو ایوان پارلیمان میں جنگ کے حوالے سے بیان دینے کی اجازت دے دی گئی ۔ بعد از خرابیٔ بسیار انہوں نے ہکلاتے ہوئے کاغذ پر دیکھ دیکھ کر اپنا بیان پڑھا کہ کہیں کوئی ایسا لفظ زبان سے نہ نکل جائے جو آقا کو گراں گزرے ۔ اس خطاب کا اعلان بھی اچانک کیا گیا تاکہ راہل گاندھی گجرات کا اپنا دورہ ملتوی کرکے ایوان میں نہ آسکیں اور کوئی ایسا ہنگامہ نہ کردیں جو امریکہ بہادر کی ناراضی کا سبب بن جائے۔مودی نے کہا کہ ’’پوری دنیا تمام فریقوں سے اس بحران کے جلد از جلد ممکنہ حل کے لیے زور دے رہی ہے ‘‘ لیکن وہ خود تو موجودہ بحران پر ایران کے علاوہ سبھی سے بات کرتے رہے ۔ ایران کے ساتھ گفتگو ایندھن کی فراہمی تک محدود تھی۔ وزیر اعظم نے تسلیم کیا کہ’’ توانائی جدید معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے اور مغربی ایشیا عالمی توانائی کی ضروریات کا ایک بڑا ذریعہ ہے ، جس سے موجودہ بحران دنیا بھر کی معیشتوں کے لیے ایک چیلنج بن گیا ہے ‘‘۔یہ بات درست ہے مگر انہوں نے سفارتی معاملات میں تیل فراہم کرنے والے مشرق وسطیٰ کے ممالک اور روس کو چھوڑ کر اسرائیل اور امریکہ کا دامن تھام لیا جس سے خود ان کے ریڑھ کی ہڈی کھوکھلی ہوگئی۔
وزیر اعظم نے اپنے پروچن میں انسانیت اور امن کے تئیں ہندوستان کے عزم مصمم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ’’ بات چیت اور سفارت کاری کے ذریعے حل ہی واحد راستہ ہے ۔ اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ہندوستان کی ہر کوشش کشیدگی کو کم کرنے اور دشمنی کے خاتمے پر مرکوز ہے ، وہ بولے ’’ اس جنگ میں کسی بھی جان کو خطرے میں ڈالنا انسانیت کے مفادات کے منافی ہے ۔ہندوستان کی کوشش تمام فریقوں کو جلد از جلد پرامن حل پر پہنچنے کی ترغیب دینا ہے‘‘۔ یہ بات اگر ایران و اسرائیل کے لیے درست ہے تو ہندو پاک کے لیے کیوں نہیں ہے؟ وزیر اعظم کا پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنے کے بجائے گولی کا جواب گولے سے دینے کی دھمکی ، کبھی سرجیکل اسٹرائیک کی مدد سے قومی انتخاب جیتنے کی کوشش اور کبھی بہار الیکشن میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے آپریشن سندور کی ضرورت کیوں پیش آتی ہے؟ پہلگام دہشت گردی کے بعد پاکستان نے اس سے پلہ جھاڑتے ہوئے مشترکہ تحقیق کی پیشکش کی تھی مگر اس کو ٹھکرا کر تفتیش کی تکمیل سے قبل حملہ کردینا اور دورانِ جنگ اچانک ٹرمپ کے آگے سرنڈر ہونے سے قبل بات چیت کے ذریعہ پر امن حل کا اصول کیوں یاد نہیں آیا؟
اسرائیل نے امریکہ و یوروپ کی سرپرستی میں فلسطینیوں کے ملک پر غاصبانہ قبضہ کررکھا ہے۔ وہ ان پر آئے دن مظالم توڑتا رہتا ہے ۔ ہندوستان سمیت دنیا بھر کے انصاف پسند ممالک مظلوم فلسطین کے ساتھ تھے مگر وزیر اعظم نریندر مودی کو مسلم دشمنی اسرائیل سے قریب لے گئی ۔ پچھلی بار وہ اسرائیل گئے تو فلسطین کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کرکے توازن قائم رکھنے کی کوشش کی مگر اس مرتبہ تو ’ٹوٹل سرینڈر‘ ہو گئے۔ انہوں نے ۷؍اکتوبر کے دن اسرائیلی فوجی کیمپ پر حماس کے حملے کوتو دہشت گردی قرار دے دیا مگر غزہ میں ہونے والی بدترین نسل کشی پر ایک حرف نہیں بولے ۔ اڈانی کو بچانے اور ایپسٹِن فائلس سے بچنے کی خاطر اس قدر جھکاو حیرت انگیز تھا لیکن کسے خبر تھی کہ واپسی کے بعد ایران کی جنگ میں اسرائیل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی جائے گی ۔ مشرق وسطیٰ سے امریکہ کے قدم اکھاڑ دئیے جائیں گے ۔آبنائے ہر مز کے بند ہونے سے ہندوستان میں کورونا کے وبا جیسی صورتحال پیدا ہوجائے گی جس کااعتراف خود مودی جی نے ایوانِ پارلیمان میں کردیا۔ امریکہ کے سامنے سرینڈر مودی نے سوچا بھی نہیں ہوگاکہ امریکہ ایران کی دھمکی کے سامنے جھک جائے گا ۔ قدرت کی اس لاٹھی میں آوازتو نہیں ہوتی مگر ضرب بہت کاری لگتی ہے۔ موجودہ جنگ پرہری ونش رائے بچن کی وہ بھوجپوری نظم یاد آتی ہے جس میں ایر(ٹرمپ) ،بیر(نیتن یاہو) اور فتےّ(مودی) تو راجہ( صہیونی مقتدرہ )کو سلام کرتے ہیں مگر ہم یعنی ایران اسے ٹھینگا دکھا دیتا ہے ؎
ایر کہن چلو راجہ کے سلام کری آئی
بیر کہن چلو راجہ کے سلام کری آئی
فتےّ کہن چلو راجہ کے سلام کری آئی
ہم کہا ہم ہو چلو راجہ کے سلام کری آئی
ایر کہن ایر سلام ،بیر کہن بیر سلام
فتےّ کہن تین سلام ، اور ہم ٹھینگوا دکھائے
Post Views: 2
Like this:
Like Loading...