Skip to content
عالمی سفارتی کی جنگ میں پاکستان نے پھر بازی مارلی
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
دھُرندر جیسی فلم بناکر خود وشو گرو(عالمی قائد) سمجھنا اور حقیقت میں عالمی قیادت کرنادو مختلف چیزیں ہیں ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے بھگت حقیقی دنیا میں کے بجائے خیالی دنیا میں رہتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ آپریشن سیندور کے دوران گودی میڈیا کراچی سے لے کر اسلام آباد تک پورا پاکستان ٹیلی ویژن کے پردے پر فتح کرلیتا ہے اور یہ جھوٹ پھیلانے یا نشہ پلانے کے لیے اس کو کوئی سزا نہیں ملتی بلکہ انعام و اکرام سے نوازہ جاتا ہے۔ گودی میڈیا کا یہ حال ہے کہ وہ ایندھن کی عدم موجودگی کا صدمہ کم کرنے کے لیے پاکستانی عوام کے مسائل نشر کرکے یہ بتانے کی کوشش کرتا ہے کہ پاکستان کا حال بہت برا ہے اور وہاں بہت جلد پٹرول و گیس ختم ہوجائے گا حالانکہ ہماری طرح پاکستان کے لیے آبنائے ہر مز کی گزرگاہ بندنہیں ہے ۔ مودی جی جب مسلم ممالک کو اکساکر ایران پر حملہ کروانے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو کہا جاتا ہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ کیا جانے والا فوجی معاہدہ توڑ دیا حالانکہ وہ آپسی لڑائی کے لیے تھا ہی نہیں ۔ کوئی گودی میڈیاتو یہ خبربھی اڑا دیتا ہے کہ بہت جلدپاکستان کے راستے سے امریکی فوجی ایران پر چڑھائی کردیں گے۔ سوچنے والی بات ہے کہ کیا ِ پاکستان کی حکومت سری لنکا سے بھی کم عقل ہےکہ جس نے امریکی جہازوں کو اپنی سرزمین پر اترنے کی اجا زت نہیں دی ۔ ایسی غلطی تو مودی جی کے سوا کوئی نہیں کرسکتا کیونکہ وہ امریکہ کا حکم سنتے ہی اپنی عقل طاق پر رکھ کر بجا آوری میں لگ جاتے ہیں۔
وشو گرو امریکہ کے سب سے وفاشعار اور سعادتمند وشوچیلا(عالمی شاگرد) نریندر مودی ہیں۔ موصوف اپنے آقا کا اس قدر تعظیم و احترام کرتے ہیں کہ کسی تجویز ٹھکرانا تو دور معمولی اختلاف بھی نہیں کرتے ۔ مودی جی کا تو یہ حال ہے کہ وہ کسی ایسی مجلس میں شریک ہی نہیں ہوتے جہاں ٹرمپ سے ملاقات کا اندیشہ ہو ۔ اس فرمانبرداری کے باوجود صدرٹرمپ پاکستان کے جنرل عاصم منیر کو وزیر اعظم نریندر مودی پر ترجیح دے کران کے زخموں پر نمک چھڑکتے رہتے ہیں ۔ جنرل عاصم منیر کو نہ صرف قصرِ ابیض میں بلا کر طعام کا منفرد شرف بخشا جاتا ہے بلکہ یوم آزادی کی پریڈ میں مہمان خصوصی کے طور پر شرکت کی دعوت بھی دی جاتی ہے۔ یہی نارواسلوک چین بھی کرتا ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی کو شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں شرکت کے لیےبلایا تو جاتاہے مگر دو دن بعد والی وکٹری پریڈ کے لیے نہیں روکا جاتاجبکہ روس اور شمالی کوریا کے ساتھ پاکستان کے وزیر اعظم اور جنرل عاصم منیر کو بلایا جاتاہے ۔عالمی سفارتکاری کے حوالے سے مودی جی کی ناقدری ایک سنجیدہ موضوع ہے۔یہ سوال توجہ طلب ہے کہ امریکہ کی اطاعت و خدمت میں سب پر سبقت لے جانے والے مودی جی کے بجائے عاصم منیر کو انعام و اکرام سے کیوں نوازہ جاتا ہے؟
آپریشن سیندور کے بعد شروع ہونے والا یہ سلسلہ ایران اور امریکہ کی جنگ پر بھی محیط ہوگیا ہے۔ یہ کسی چنڈوخانے یعنی واٹس یونیورسٹی کی خبر نہیں ہے بلکہ برطانیہ کے معتبر اخبار فنانشل ٹائمز نے اس کے اشارے کیے ہیں۔ ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ جنرل مارشل عاصم منیر نے گزشتہ دنوں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر بات چیت کے دوران اسلام آباد کو ایران، اسرائیل اور امریکہ کے مابین مذاکرات کے لیے ایک ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیاحالانکہ گفتگو تو وزیر اعظم مودی نے بھی کی تھی لیکن وہ ایسی پیشکش کی جرأت نہیں کرسکے کیونکہ کسی ایک جانبدار ملک بھلا ثالث کا کردار کیسےادا کرسکتاہے؟ اس ذمہ داری کی ادائیگی کے لیے دونوں فریقوں کا اعتماد ضروری ہے ۔ ایسے میں ایران بھلا اسرائیل نواز مودی پر کیسے بھروسا کرے گا؟ سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پرایرانی مسعود پزشکیان نےدنیا کے جن ممالک میں عوام کی بیداری کے مشاہدے کا ذکر کیا ان میں پاکستان ، ترکیہ،عراق،لبنان اور مصرتو شامل ہیں مگر ہندوستان موجود نہیں ہے کیونکہ یہاں اسرائیل کی حمایت میں جلوس نکلتے ہیں اور ٹرمپ کی کامیابی کے لیے ہون کیا جاتاہے۔ ایرانی صدر کے مطابق دنیا کے آزاد لوگوں کے دل صیہونیوں کےساتھ نہیں ہیں یعنی ہندوستان کو وہ امریکہ و اسرائیل کے اثرو رسوخ سے آزاد ملک نہیں مانتے ۔
ایپسٹِن فائلس کے منظر عام پر آنے سے قبل مودی جی نے یوکرین اور روس کی جنگ رکوانے کی ناکام کوشش کی تھی ۔ بھگتوں نے اس کا زبردست جشن بھی منایا تھا مگر وہ لڑائی اب بھی جاری ہے۔ یوکرین نے حال میں اس بندرگاہ پر دھماکہ کردیا جہاں سے ہندوستان کے لیے خام تیل ٹینکر میں بھرا جاتا تھا۔ اڈانی کے خلاف امریکہ میں سمن اور ایپسٹِن فائلس میں پوری اور مودی کا ذکر نے سب کچھ بدل دیاہے ۔ اس کے برعکس پاکستانی فوجی سربراہ نے ٹرمپ سے تینوں ممالک کے حکام کے لیے اسلام آباد میں ”امن بات چیت‘‘ کی میزبانی کی پیشکش کی اور پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اس معاملے پر ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے گفتگو کرکے ان کو اعتماد میں لیا۔ مجوزہ امن مذاکرات میں ٹرمپ انتظامیہ کے نمائندے اور سینئر ایرانی حکومتی شخصیات کی شمولیت کا امکان ہے ۔ سوال یہ ہے برکس کا صدر اور خود ساختہ ’وشوگرو‘ اس اعزاز سے کیوں محروم رہ گیا ؟ اس سوال کی روشنی میں اگر خارجہ پالیسی کی نہج کو درست نہیں کیا گیا تو مستقبل میں بھی ایسی ہی ہزیمت اٹھانی پڑسکتی ہے کیونکہ سفارتی معاملات چاپلوسی کے بجائے دور اندیشی کے متقاضی ہوتے ہیں۔
وزیر اعظم نریندر مودی اگر جنگ سے قبل اسرائیل کا دورہ کرکے بہکی بہکی باتیں نہ کرتے یا اسرائیل کے علاوہ کم ازکم فلسطین کے مظلومین کو بھی قابلِ اعتناء سمجھتے تو آج یہ نوبت نہ آتی۔ موصوف کے پاس آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد حملےکی مذمت کرکے ایران سے تعلقات سدھارنے کا ایک موقع تھا مگر انہوں نے اسے بھی گنوا دیا۔ وہ بے قصور طالبات سے ہمدردی کا اظہار کرکے ایران سے اپنا فاصلہ گھٹاسکتے تھے مگر امریکہ کی ناراضی کے خوف سے ایسا بھی نہیں کرسکے ۔ پوری طرح امریکہ کی گود میں بیٹھنےوالاازخود ثالثی کا حق کھو بیٹھتا ہے۔ پاکستانی حکام نے ایسی فاش غلطیوں سے گریز کرتے ہوئے اپنا وقار بحال رکھا۔ عالمی سطح پر سفارت کاری میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار کی خبروں کے بعد کانگریس کے رہنما راہل گاندھی نے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کومذاق قرار دیا۔راہل گاندھی نے کہا،”ہماری خارجہ پالیسی دراصل وزیرِ اعظم مودی کی ذاتی خارجہ پالیسی ہے۔ آپ اس کا نتیجہ دیکھ سکتے ہیں۔ یہ عالمی میدان میں ایک مذاق بن چکی ہے۔ ہر کوئی اسے مذاق سمجھتا ہے۔”
مذکورہ بالا موقف کسی ایک رہنما کی ذاتی رائے نہیں ہے بلکہ کانگریس کے ترجمان اوررہنما پون کھیرا نے اعتراف کیا کہ جب مودی اندرونِ ملک خود اپنی تعریفوں میں مصروف تھے، "پاکستان ایک نہایت اہم اور سنگین عالمی مسئلے پر سفارتی میز پر اپنی جگہ بنا رہا تھا۔” اسی طرح کانگریسی رکنِ پارلیمنٹ جے رام رمیش نے بھی مودی کی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے ایکس پر لکھا کہ’’آپریشن سیندور میں ہماری فوجی کامیابیوں کے باوجود افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اس کے بعد پاکستان کی سفارتی سرگرمیاں مودی حکومت کے مقابلے میں نمایاں طور پر بہتر رہی ہیں۔”وزیر اعظم نریندر مودی نے ایوانِ پارلیمان کے اندر اپنے خطاب میں کہا کہ نئی دہلی ایران، اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے لیکن ایسے رابطوں کا کیا فائدہ جو نتیجہ خیز نہ ہوں ؟اس کے بالمقابل پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ ’امریکہ اور ایران کی رضامندی کی صورت میں پاکستان اس تنازع کے اختتام کے لیے نتیجہ خیز مذاکرات کی میزبانی کرنے کے لیے تیار ہے اور اسے اپنے لیے ایک اعزاز سمجھے گا۔‘
پاکستان کا دعویٰ ہوا ہوائی نہیں ہے کیونکہ وائٹ ہاؤس نے بی بی سے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر سے فون پر گفتگو کی تصدیق کی اور اسلام آبادکی میزبانی کو ممکنہ مقام بتایا۔ایک سینئر ایرانی عہدیدار نے بھی کہا کہ ’ امریکہ کی جانب سے ثالثوں کے ذریعے موصول نکات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔‘ وائٹ ہاؤس سے بی بی سی کے نامہ نگار برنڈ ڈیبسمان جونیئر کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد پیدا ہونے والے تنازع کو ختم کرنے کے لیے ممکنہ مذاکرات میں پاکستان کا نام ایک مجوزہ ثالث کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار ڈینیئل بش بھی لکھ چکے ہیں کہ ’ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات پاکستان میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس شرکت کرسکتے ہیں ۔‘بی بی سی کے نامہ نگار برائے سکیورٹی فرینک گارڈنر کے مطابق مذاکرات میں ثالث کے طور پر مصر، ترکی اور پاکستان شامل تھے۔ ایران کے رہبرِ اعلیٰ مجتبیٰ خامنہ ای کانوروز کے موقع پریہ بیان کہ ’پاکستان اُن کے والد (علی خامنہ ای) کا ‘خاص پسندیدہ’ ملک تھا‘پوری کہانی بیان کردیتا ہے۔اس بیانیہ سے ظاہر ہےکہ مودی جی اپنی قائدانہ ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام رہے اور پاکستان نے ان پر بازی مارلی ۔
Post Views: 6
Like this:
Like Loading...