Skip to content
مومن کی زندگی پر رمضان کی تربیت کا اثر !
ازقلم: مفتی عبدالمنعم فاروقی
9849270160
اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے ماہ مبارک رمضان ایک مہینہ تک اہل ایمان کو رحمت الٰہی میں نہلاکر، مغفرت کے سمندر میں غوطے لگواکر ،جہنم سے آزادی کے پروانے دلواکر، نیکیوں کے مواقع فراہم کرواکر اور عبادت گزاروں کو عید سعید کی خوشیاں عطا کرواکر رخصت ہو چکا ہے، ماہ مبارک میں کی گئی عبادتوں پر اللہ تعالیٰ نے اپنے لا محدود خزانوں سے اپنے بندوں کو بے حد وحساب انعامات وتحائف سے نوازا ہے اور عید کے دن فرشتوں کو گواہ بناکر اپنی طرف سے بخشش ومغفرت کا مژدہ سنا یا ہے،عید کا چاند نظر آتے ہی مزدوروں کو وعدہ کے مطابق پوری پوری مزدوری دے دی گئی اور انہیں رضامندی کا پروانہ عطا کردیا گیا اور عبادت گزار بندوں کو بتادیا گیا کہ صرف ایک مہینہ کی عبادتوں پر مہربان اللہ کی طرف سے عید کی مسرتیں عطا ہوئیں ہیں تو زندگی بھر کی عبادتوں پر اپنے بندوں سے بے حد محبت کرنے والے اللہ کی طرف سے ایسی خوشیاں عطا ہوں گی جس کا بندے اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں ،بندے اگر عید جیسی خوشیاں حاصل کرنا چاہتے ہیں تو انہیں چاہئے کہ وہ اپنے شب وروز بھی رمضان جیسے گزاریں ،احادیث مبارکہ کو سامنے رکھتے ہوئے اہل علم فرماتے ہیں کہ عید کے دن اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے لئے مغفرت کا اعلان فرماتے ہیں اور اسی پر بس نہیں بلکہ اپنے بندوں سے مخاطب ہوکر ارشاد فرماتے ہیں ! اے میرے بندو! جب تک تم میرے عبادت واطاعت کرتے رہو گے اور میرے احکامات کا لحاظ کرتے رہو گے اور میری نافرمانی سے خود کو بچاتے رہو گے تو تب تک میں تمہارے ساتھ ستاری اور غفاری کا معاملہ کرتا رہوں گا اور تمہیں اپنی رحمتوں سے نوازتا رہوں گا ،گویا اللہ تعالیٰ چاہتے ہیں کہ اس کے بندے رمضان المبارک کی تربیت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بعد رمضان اپنی زندگی کے صبح وشام ، لیل ونہار اور اس کے لمحات اُسی طرح سے گزاریں جس طرح رمضان المبارک کے صبح وشام گزارتے تھے ،جس طرح روزہ کی حالت میں اللہ تعالیٰ کو موجود جانتے ہوئے حلال و طیب چیزوں سے اپنے آپ کو بچایا کرتے تھے اسی طرح بعد رمضان حرام وناجائز بلکہ مشتبہ چیزوں سے بچنے کی بھر پور کوشش کرتے رہیں ، جس طرح رمضان میں مؤذن کی آواز پر لبیک کہہ کر لپکتے ہوئے مسجد پہنچ جاتےتھےاسی طرح رمضان کے بعد بھی اسے برقرار رکھنے کی کوشش کرتے رہیں ،جس طرح رمضان میں بڑے شوق سے نماز سنت تراویح کا اہتمام کیا کرتے تھے اسی طرح بعد رمضان فرض اور سنت نمازوں کا اہتمام کرتے رہیں ،جس طرح رمضان میں وقت افطار اور سحری کا لحاظ کرتے تھے اسی طرح دیگر دنوں میں بھی وقت کی قدردانی کرتے رہیں اور زندگی کے ایک ایک لمحے کی حفاظت کر تے رہیں ، اہل علم فرماتے ہیں کہ تربیت آدمی کو پابند اور اس کی شخصیت کو کامل ومکمل بنادیتی ہے، جب کسی چیز کی تربیت کروائی جاتی ہے اور تربیت کے ذریعہ کسی چیز کا پابند بنایا جاتا ہے تو اس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ آگے چل کر وہ چیز اس کی عادت کا حصہ بن جاتی ہے جس کے نتیجہ میں اس کا ہر عمل تربیت کے مطابق انجام پاتا ہے ، چونکہ رمضان المبارک بندہ ٔ مومن کے لئے ربانی تربیت اور اصلاح عمل کا مہینہ تھا، اس مہینہ میں بندوں کے مزاجوں کو شریعت کے حکم پر ڈھالنے کی مشق کروائی گئی تھی تا کہ اس ایک مہینہ کی تربیت کا اثر گیارہ مہینوں تک ان کی زندگیوں میں باقی رہے اور جس طرح سے وہ رمضان میں پابند شریعت ہوکر زندگی گزار رہے تھے رمضان کے بعد بھی شریعت کے پابند ہوکر زندگی گزارنا سہل وآسان ہوجائے ، جو بندے رمضان المبارک کے بعد اپنی زندگی رمضان جیسی گزارتے ہیں تو سمجھ لیجئے کہ انہوں نے تربیت کا اثر قبول کیا ہے کیونکہ رمضان المبارک کا مقصد ہی مومن کی اصلاح وتربیت اور انہیں حقیقی طور پر فرماں برداری کی راہ پر گامزن کرنا ہے،اہل علم فرماتے ہیں جو بندہ رمضانی تربیت کا اثر قبول کرتے ہوئے اپنی زندگی رمضان جیسی بنالیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہر دن عید جیسا بنا دیتے ہیں یعنی اس سے خوش ہوتے ہیں اور اس پر ہر آن رحمتوں کی بارش برساتے رہتے ہیں ۔
ماہ مبارک رمضان کی مخصوص عبادتوں ،ریاضتوں اور اس کے خاص اعمال پر نظر ڈالنے اور اس کا باریک بینی کے ساتھ جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ یہ عبادتیں یونہی مقرر نہیں کئے گئے تھے بلکہ ان کا ایک اہم اور خاص مقصد و منشا تھا جس کے لئے بندوں کا اس کا پابند بنایا گیا تھا ، در اصل ماہ مبارک رمضان کی عبادتیں صرف عبادتیں نہیں تھیں بلکہ یہ عبادتوں کے ساتھ بندوں کے لئے ایک خاص انداز کے مجاہدے بھی تھے جہاں ایک طرف ان عبادتوں کے ذریعہ بندوں کو ڈھیر سارا اجر وثواب دیا گیا وہیں ان عبادتوں کے ذریعہ انہیں شریعت کے تقاضوں پر چلنے کی تربیت دی گئی تھی تا کہ اس کے مطابق زندگی بھر چلنا ان کے لئے آسان ہو جائے ، مجاہدات کا اصل مقصد خوہشات نفس کی مخالفت اور شریعت کی مطابعت ہوتا ہے، رمضان کی مخصوص عبادتوں اور مجاہدوں کے ذریعہ جب وہ نکھر کر کندن بن جاتا ہے تو پھر دیگر مہینوں میں اس کے لئے شریعت کی اتباع کرنا بہت آسان ہوجاتا ہے،حقیقت یہ ہے کہ مسلسل مجاہدوں سے بندہ کا نفس مغلوب ہو جاتا ہے اور شرعی حکم کے تابع ہوکر اس کا مطیع وفرمابردار ہوجاتا ہے ، روزہ میں یہ صلاحیت رکھی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ نفس اور خواہشات نفس کو قابو میں کرنا سہل ہوجاتا ہے کیونکہ اس میں خوہشات نفس کو دبانے اور اُسے کمزور کرنے کی بھر پور صلاحیت موجود ہے یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ؐ نے ان نوجوانوں کو روزہ رکھنے کی صلاح دی جو نکاح کے بعد کی ذمہ داریوں کو اٹھانے کی طاقت نہیں رکھتے ہیں اور آگے روزوں کا فائدہ بتاتے ہوئے آپؐ نے ارشاد فرمایا کہ: روزہ شہوت کو توڑنے میں مدد گار ثابت ہوتا ہے،روزہ کے ذریعہ بندہ کو ایک مقررہ وقت تک حلال چیزوں سے بچنے کا پابند بنایا جاتا ہے جب وہ حلال چیزوں سے بچنے کا خود کو پابند بنالیتاہے تو پھر حرام چیزوں سے بچنا اس کے لئے نہایت آسان ہوجاتا ہے جس کے نتیجہ میں پوری زندگی حرام اور مشتبہ چیزوں سے وہ ایسے ہی بچتا رہتا ہے جس طرح رمضان میں حالت روزہ میں حلال چیزوں سے بچاکرتا تھا اور روزہ کا حقیقی مقصد بھی یہی ہے کہ بندہ پوری زندگی اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند بن کر گزارے ، ر روزہ کی تربیت کا دوسرا فائدہ غربا ومساکین سے ہمدری اور ان کی خیر خواہی ہے ،روزہ کے ذریعہ روزہ داروں کے اندر غربا ومساکین کی بھوک پیاس کا احساس جگایا جاتا ہے تاکہ اس احساس کے پیدا ہونے کے بعد وہ غریبوں ،مسکینوں اور محتاجوں کی مدد کے لئے ہمہ وقت اپنا دست تعاون دراز کرسکیں اور ان سے ہمدردی وخیر خواہی کرتے رہیں ،یقینا غربا ومساکین کے ساتھ ہمدری کا جذبہ رکھنے اور ان پر مال ودولت کو خرچ کرنے سے انسانیت سے محبت اور ان کی خدمت کا جذبہ پروان چڑھتا ہے تو وہیں یہ عمل اللہ تعالیٰ کی قربت ،حصول نعمت اور دخول جنت کا بھی ذریعہ ہے۔
ماہ مبارک رمضان میں نماز تراویح کی پابندی کے ذریعہ نمازوں کی طرف رغبت ،تلاوت قرآن ،سماعت قرآن سے شغف ،سجود وقعود کی حلاوت اور بارگاہ الٰہی میں بار بار اور طویل ترین حاضری کا شوق پیدا کیا جاتا ہے ،نماز مہتم بالشان عبادت بلکہ تقرب الٰہی کی علامت ہے ، تکبیر تحریمہ کے وقت ہاتھ آٹھاکر بندہ دنیا کی تمام چیزوں سے بیزارگی اور رب کے حضور حاضری کا اظہار کرتا ہے، حالت قیام میں وہ اپنے رب کے سامنے ہوتا ہے تو رکوع میں سر جھاکر اپنی غلامی کا اظہار کرتا ہے ،سجدہ میں اپنی جبین اس کے جناب میں رکھ کر اس کے رب ہونے اور اپنے مربوب ہونے کا اقرار کرتا ہے،اہل علم فرماتے ہیں نوافل کی پابندی آدمی کو سنتوں کی پابند بنادیتی ہے،سنتوں کی پابندی آدمی کو فرائض کی پابند بنادیتی ہے اور فرائض کا پابند شخص اللہ اور اس کے رسول ؐ کے احکام کا پابند اور شریعت وسنت کا اسیر بن جاتا ہے ، یقینا نماز تراویح بندہ کو رب سے جوڑ تی ہے ، قرآن مجید سے شغف پیدا کرتی ہے اور دربار الٰہی میں حاضری کا پابند بناتی ہے،نماز تراویح کی پابندی کرنے والے پر اس تربیت کا یہ اثر ہوتا ہے کہ وہ نہ صرف پنجوقتہ نمازوں کو پابندی سے ادا کرتا ہے بلکہ راتوں میں اُٹھ کر نماز تہجد پڑھنا اس کے لئے سہل ہوجاتا ہے، ماہ مبارک رمضان کی ایک خاص عبادت اعتکاف ہے ، معتکف رمضان کے اخیر عشرہ میں اپنا گھر چھوڑ کر رب کے گھر میں اپنا بستر بچھا دیتا ہے اور سب سے الگ تھلگ ہوکر اور دنیا سے منہ موڑ کر مسجد میں دس دن کے لئے رب سے لَو لگا لیتا ہے اور اس عمل کے ذریعہ یہ بتانا چاہتا ہے کہ رب کی محبت حقیقی ،اس کا رشتہ دائمی اور باقی سب کی محبتیں فانی اور سب کے رشتے عارضی اور وقتی ہیں ، اللہ تعالیٰ کے سوا باقی سب سے تعلق صرف سانس رہنے تک ہے ، معتکف دربار عالی میں مقید ہوکر محبت الٰہی میں گم ہوکر اور دنیا سے بے رغبت ہوکر یہ بتانا چاہتا ہے کہ وہ آخری سانس تک اس در سے وابستہ رہے گا ، اس کی خاطر گھر بار،دوست احباب ،رشتے ناطے اور مال ودولت سب کچھ قربان کرتا رہے گا اور اس کی محبت ومعرفت ،خوشی و خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتا رہے گا کیونکہ وہ اچھی طرح سے جانتا ہے کہ رب راضی تو سب راضی اگر سب راضی ہیں اور خدانخواستہ رب ناراض ہے تو یہ سارے رشتے مل کر اسے آخرت میں کامیابی نہیں دلا سکتے ہیں اور نہ ہی جہنم کی آگ سے بچا سکتے ہیں اس لئے رب کی رضامندی اصل ہے اس کے بغیر سارے رشتے اور ان کی رضامندیاں بے فیض ہیں۔
ماہ مبارک رمضان کی ایک اہم عبادت صدقہ ٔ فطر ہے ، صدقہ فطر عبادت کے ساتھ غربا ء ومساکین کے ساتھ ہمدردی وخیر خواہی کا ایک بہترین ذریعہ بھی ہے ، صدقہ فطر کا مقصد خوشی ومسرت کے موقع پر غریبوں ومسکینوں کو اپنے ساتھ خوشی میں شامل کرنا ہے تاکہ وہ عید جیسی عظیم الشان خوشی کے موقع پر خوشی سے محروم نہ رہیں ،سچ یہ ہے کہ دوسروں کو خوشیاں فراہم کرنا ہی حقیقی خوشی و شادمانی ہے ،اہل ایمان کی خوبی یہ ہے کہ وہ دوسرے مسلمان کی مدد ونصرت کرتے ہیں اور اپنی خوشیوں میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور اس کے ذریعہ اپنے دینی وایمانی بھائیوں سے ہمدردی،محبت اور تعلق کا اظہار کرتے ہیں ،اہل ایمان کا یہی عمل انہیں اللہ تعالیٰ کی نظر میں انہیں محبوب بنادیتا ہے ، جس وقت اہل ایمان کی عادت صدقہ و خیرات کی بن جاتی ہے تو پھر وہ غیر رمضان میں بھی بلکہ ہر ضرورت پر اپنے بھائیوں کے لئے اپنے ہاتھوں کو دراز کرتے ہیں اور اس عمل کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پانے کی کوشش کر تے ہیں ،اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کی شان وعظمت میں اضافہ ہی ہوتا رہتا ہے ، سچ یہ ہے کہ مومن کا ہاتھ ضرورت مندوں پر خرچ کر نے کے لئے ہمیشہ دراز رہتا ہے اور انفاق ان کی پہچان ہے ،وہ خوشی ہو یا غم ہر موقع پر اپنے بھائیوں کے شانہ بشانہ کھڑے رہتے ہیں اور کبھی بھی انہیں تنہا نہیں چھوڑ تے ہیں ۔
ماہ مبارک رمضان کی مخصوص عبادتوں اور بالخصوص روزوں کا مقصد تقویٰ اور للہیت پیدا کرنا اور اسے پروان چڑھانا ہے کیونکہ جب بندہ کے اندر تقویٰ اور خوف الٰہی پیدا ہوتا ہے تو پھر اس کے لئے گناہوں سے بچنا اور احکامات الٰہی پر عمل کرنا نہایت آسان ہوجاتا ہے اورجو شخص تقویٰ سے مزین ہوکر زندگی گزارتا ہے تو اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کا شمار متقین میں ہوتا ہے اور متقین اللہ تعالیٰ کے مقربین ہوتے ہیں اور انہیں دنیا میں دلی سکون اور زندگی کا امن نصیب ہوتا ہے اور آخرت میں جنت اور اس کی نعمتیں حاصل ہوتی ہیں ،ماہ مبارک رمضان اپنے اندر تقویٰ اور خوف خدا پیدا کرنے کا حسین موقع ہوتا ہے جس نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا تو گویا اس نے بہت بڑی چیز حاصل کرلی ،تقویٰ ایسی چیز ہے جو بندہ کی زندگی کو بندگی بنادیتی ہے اور جس بندہ کی زندگی میں بندگی آجا تی ہے تو کامیابی اس کا مقدر بن جاتی ہے،اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کوماہ مبارک رمضان کی عباداتوں اور مجاہدوں کے ذریعہ اپنی زندگی کو سنوار کر استقامت کی راہ پر گامزن کرتے ہوئے زندگی کو بندگی بنانے اور دنیا وآخرت کی کا میا بی حاصل کرنے کا زرین موقع عنایت فرمایا تھا اور یہی رمضان کی آمد کا حقیقی مقصد ومنشا بھی تھا ، ماہ مبارک رمضان آیا بھی اور تربیت کرواکر رخصت بھی ہوگیا ، اب یہاں سے اہل ایمان کا امتحان ہے کہ ماہ مبارک کی تربیت کے بعد اس کی زندگی میں کتنا انقلاب آیا ہے اور اعمال صالحہ کی طرف کس قدر اس کی رغبت میں اضافہ ہواہے ،ماہ مبارک کے بعد اعمال صالحہ میں تیزی سے اضافہ ہونا اور گناہوں بچنا اور دوری اختیار کرنا کامیاب تربیت کی پہنچان اور علامت ہے ، اسی سے پتہ چلے گا کہ ماہ مبارک کی عباداتوں وریاضتوں کا رنگ اس پر کس قدر چڑھا ہے ،اگر اس کی زندگی میں صالح انقلاب برپا ہوتا ہے تو یہ اس کے لئے بڑی خوشی ومسرت کی بات ، اگر خدانخواستہ اس کی زندگی میں صالح انقلاب برپا نہیں ہوا اور وہ رمضان سے قبل جیسا تھا ویسا ہی رہا تو اس کے لئے بڑے افسوس اور بد بختی کی بات ہوگی ، معلوم ہوتا ہے کہ اس نے رمضان کو رسم کے طور پر گزارا ہے ،ایسے شخص کو ہوش کے ناخن لینے کی ضرورت ہے اور توبہ واستغفار کرنے کی ضرورت ہے ،اگر اس نے پھر بھی توجہ نہ دی تو ڈر ہے کہ آگے چل کر اس کی لاپرواہی دین سے دوری ، سکون زندگی سے محرومی اور اخروی بد نصیبی کا سبب نہ بن جائے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...