Skip to content
پنجۂ صہیون کی شکست؟
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے تناظر میں
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─┄
عصرِ حاضر کی عالمی سیاست ایک ایسے نازک موڑ پر کھڑی ہے جہاں طاقت، نظریہ، معیشت اور عسکری حکمتِ عملی کے تمام زاویے ازسرِنو تشکیل پا رہے ہیں۔ یہ محض وقتی تغیر نہیں بلکہ ایک گہرا اور تدریجی عمل ہے، جس کے اثرات عالمی نظام کے ہر پہلو پر مرتب ہو رہے ہیں۔ اسی تناظر میں مشرقِ وسطیٰ، جو طویل عرصے سے عالمی طاقتوں کی کشمکش کا مرکز رہا ہے، ایک بار پھر ایک ممکنہ تاریخی تبدیلی کی آماجگاہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ خصوصاً ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی نے نہ صرف اس خطے کی سیاسی حرکیات کو متاثر کیا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھی توجہ کا مرکز بنا دیا ہے۔ اس کشمکش کے مختلف پہلو سفارتی بیانات، عسکری نقل و حرکت، اور معاشی دباؤ مل کر ایک ایسا پیچیدہ منظرنامہ تشکیل دیتے ہیں جسے سادہ انداز میں سمجھنا ممکن نہیں۔
اسی پس منظر میں یہ تاثر کہ "پنجۂ یہود شکست سے دوچار ہو رہا ہے”، بعض حلقوں میں زور پکڑتا نظر آتا ہے۔ یہ محض ایک جذباتی نعرہ نہیں بلکہ ان کے نزدیک حالیہ جغرافیائی، سیاسی اور عسکری پیش رفتوں کی روشنی میں ایک ابھرتی ہوئی حقیقت کا اظہار ہے۔ ایک سنجیدہ اور علمی تجزیہ اس بات کا متقاضی ہے کہ ایسے دعوؤں کو محض تاثر یا جزوی شواہد کی بنیاد پر قبول نہ کیا جائے، بلکہ ان کا ہمہ جہتی جائزہ لیا جائے۔ کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں حقیقت اور تاثر کے درمیان فرق ہمیشہ واضح نہیں ہوتا، اور اکثر اوقات اصل صورتِ حال ان دونوں کے درمیان کہیں پوشیدہ ہوتی ہے۔
جدید دور کی جنگیں اب محض میدانِ کارزار تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان کا ایک نہایت اہم محاذ اطلاعات، بیانیے اور میڈیا پر بھی قائم ہو چکا ہے۔ درحقیقت، اکثر اوقات فیصلہ کن برتری اسی محاذ پر حاصل ہوتی ہے، جہاں رائے عامہ کو ہموار کیا جاتا ہے اور عالمی ذہن سازی کی جاتی ہے۔ اسی پس منظر میں اگر کسی ریاست کی جانب سے اپنے نقصانات یا کمزوریوں کو نمایاں کرتے ہوئے عالمی برادری سے مدد کی اپیل کی جائے تو اسے محض کمزوری کا اظہار سمجھنا درست نہیں ہوگا۔ بسا اوقات یہ ایک سوچی سمجھی سفارتی حکمتِ عملی ہوتی ہے، جس کا مقصد عالمی ہمدردی حاصل کرنا، مخالف فریق پر دباؤ بڑھانا اور اپنے موقف کو اخلاقی و قانونی جواز فراہم کرنا ہوتا ہے۔
چنانچہ اقوامِ متحدہ کے ہنگامی اجلاس کی درخواستیں بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا سکتی ہیں۔ یہ محض رسمی کارروائیاں نہیں ہوتیں بلکہ ان کے ذریعے عالمی سطح پر ایک مخصوص بیانیہ تشکیل دیا جاتا ہے، جس سے نہ صرف سفارتی حمایت حاصل کی جاتی ہے بلکہ بین الاقوامی رائے عامہ کو بھی متاثر کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں یہ کہنا کہ کسی ایک واقعے نے جنگ کے نتائج کو مکمل طور پر "واضح” کر دیا ہے، ایک قبل از وقت اور جزوی تجزیہ معلوم ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ عالمی سیاست اور جنگی تنازعات کے نتائج ہمیشہ تدریجی انداز میں، اور متعدد سیاسی، عسکری، معاشی اور سفارتی عوامل کے باہمی تعامل سے سامنے آتے ہیں۔
امریکہ طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ میں ایک کلیدی اور فیصلہ کن طاقت کے طور پر اپنا کردار ادا کرتا رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں اس کی ترجیحات اور حکمتِ عملی میں ایک نمایاں تبدیلی محسوس کی جا رہی ہے۔ یہ تبدیلی محض وقتی نہیں بلکہ کئی داخلی و خارجی عوامل کے باہمی اثر کا نتیجہ ہے۔ درحقیقت، داخلی سیاسی کشمکش، بڑھتے ہوئے معاشی دباؤ، اور عالمی سطح پر نئی طاقتوں کے ابھار نے امریکی خارجہ پالیسی کی سمت کو ازسرِنو متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ، طویل جنگوں کے تجربات اور ان کے محدود نتائج نے بھی امریکہ کو اپنی حکمتِ عملی پر نظرِ ثانی پر مجبور کیا ہے۔ ایسے حالات میں اگر کسی سیاسی رہنما کی جانب سے وقتی پسپائی، حکمتِ عملی میں وقفہ، یا ترجیحات کی ازسرِ ترتیب کا تاثر سامنے آتا ہے، تو اسے فوری طور پر کمزوری، مکمل انخلاء یا شکست سے تعبیر کرنا ایک سادہ کاری ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ بڑی طاقتیں اکثر براہِ راست تصادم کے بجائے بالواسطہ، تدریجی اور کثیر الجہتی حکمتِ عملیوں کو اختیار کرتی ہیں، جن کے اثرات وقت کے ساتھ زیادہ واضح ہوتے ہیں۔
"آبنائے ہرمز” عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک نہایت اہم اور حساس راستہ ہے، جس کے ذریعے دنیا کے ایک بڑے حصّے تک تیل اور گیس کی رسد ممکن بنتی ہے۔ اسی وجہ سے یہ محض ایک جغرافیائی گزرگاہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس تناظر میں اگر ایران اس اہم آبی گذرگاہ پر کسی نئے انتظامی یا مالیاتی نظام کو متعارف کروانے کی کوشش کرتا ہے، تو اسے صرف ایک معاشی اقدام کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔
بلکہ یہ اس کی علاقائی خودمختاری کے اظہار، اسٹریٹجک اثر و رسوخ کے استحکام، اور عالمی طاقتوں کے ساتھ تعلقات میں اپنی حیثیت منوانے کی ایک سنجیدہ کوشش بھی ہو سکتی ہے۔ تاہم اس اقدام کے ممکنہ اثرات کو یک رُخی انداز میں دیکھنا مناسب نہیں ہوگا۔ اس کے عالمی معاشی مضمرات، بین الاقوامی قوانین کے تناظر میں اس کی حیثیت، اور دیگر علاقائی و عالمی طاقتوں کا ممکنہ ردِّعمل یہ تمام عوامل نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔ چنانچہ اس نوعیت کے کسی بھی اقدام کا حقیقی اثر اسی وقت واضح ہو سکتا ہے جب اسے وسیع تر عالمی، قانونی اور معاشی تناظر میں پرکھا جائے۔
ایران ایک ایسا ملک ہے جس نے طویل عرصے تک جاری رہنے والی پابندیوں، سفارتی دباؤ اور علاقائی کشمکش کے باوجود اپنے ریاستی ڈھانچے کو نہ صرف برقرار رکھا بلکہ ایک حد تک اسے منظم اور فعال بھی رکھا ہے۔ یہ پہلو اسے خطے کے دیگر ممالک کے مقابلے میں ایک منفرد حیثیت عطاء کرتا ہے۔ اس کا دفاعی نظام، نظریاتی وحدت، اور مختلف علاقائی نیٹ ورکس کے ساتھ اس کے تعلقات، اس کی اسٹریٹجک گہرائی اور اثر و رسوخ کو بڑھاتے ہیں۔ یہی عناصر اسے بیرونی دباؤ کے مقابلے میں ایک خاص حد تک مزاحمت کی صلاحیت فراہم کرتے ہیں اور اس کے استحکام کے تاثر کو تقویت دیتے ہیں۔ اس تمام تر منظرنامے کے باوجود "مزید مستحکم” ہونے کا دعویٰ اسی وقت مکمل طور پر قابلِ قبول قرار دیا جا سکتا ہے جب اس کے داخلی حالات خصوصاً معاشی کارکردگی، عوامی فلاح و بہبود، اور سماجی ہم آہنگی بھی اسی استحکام کی عکاسی کریں۔ اس لیے ایک جامع اور متوازن تجزیہ کے لیے ضروری ہے کہ ریاستی طاقت کے ظاہری مظاہر کے ساتھ ساتھ داخلی اشاریوں کو بھی برابر اہمیت دی جائے۔
یہ کہنا کہ عالمی نظام ایک تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے، کسی حد تک درست اور قابلِ فہم تجزیہ ہے۔ تاہم اس تبدیلی کو کسی فوری یا اچانک انقلاب کے طور پر دیکھنے کے بجائے ایک تدریجی اور مسلسل عمل کے طور پر سمجھنا زیادہ مناسب ہوگا۔ درحقیقت، چین، روس اور دیگر ابھرتی ہوئی طاقتیں عالمی توازنِ قوت کو نئے سانچے میں ڈھال رہی ہیں۔ یہ ممالک نہ صرف معاشی بلکہ عسکری اور سفارتی میدانوں میں بھی اپنی موجودگی کو مؤثر بنا رہے ہیں، جس کے نتیجے میں عالمی سطح پر طاقت کا ارتکاز بتدریج تبدیل ہو رہا ہے۔
اسی تناظر میں یک قطبی دنیا سے کثیر قطبی نظام کی طرف پیش رفت ایک واضح رجحان کے طور پر سامنے آ رہی ہے۔ تاہم یہ عمل نہ تو سادہ ہے اور نہ ہی فوری؛ بلکہ اس میں مختلف علاقائی تنازعات، معاشی مفادات، اور سفارتی کشمکش شامل ہیں، جو اسے مزید پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ قرینِ حقیقت ہوگا کہ عالمی نظام کی یہ تبدیلی ایک طویل المدت اور کثیر الجہتی عمل ہے، جس کی تکمیل میں ممکنہ طور پر کئی دہائیاں درکار ہوں گی، اور جس کے اثرات بتدریج عالمی سیاست اور معیشت پر مرتب ہوتے رہیں گے۔
یہ نظریہ کہ "دو بڑی طاقتوں کی شکست مستقبل کے امن کی ضمانت ہے”، بظاہر ایک پرکشش اخلاقی و نظریاتی موقف معلوم ہوتا ہے، لیکن اس کی عملی تعبیر ہمیشہ اتنی سادہ نہیں ہوتی۔ تاریخ کے مطالعے سے واضح ہوتا ہے کہ محض طاقت کے توازن کو توڑ دینا یا کسی بڑی قوت کو کمزور کر دینا لازماً پائیدار امن کا پیش خیمہ نہیں بنتا۔ درحقیقت، جب کسی خطے یا عالمی سطح پر طاقت کا خلا پیدا ہوتا ہے تو اکثر یہ خلا نئی کشمکش، غیر یقینی صورتِ حال، اور باہمی تصادم کے امکانات کو جنم دیتا ہے۔ مختلف قوتیں اس خلا کو پُر کرنے کے لیے سرگرم ہو جاتی ہیں، جس کے نتیجے میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔ اسی لیے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ حقیقی اور دیرپا امن کا انحصار صرف عسکری برتری یا کسی فریق کی شکست پر نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے انصاف پر مبنی نظام، مؤثر مکالمہ، باہمی احترام، اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری ناگزیر عناصر ہیں۔ جب تک یہ بنیادیں مضبوط نہیں ہوں گی، امن محض ایک عارضی وقفہ ثابت ہو سکتا ہے، نہ کہ ایک پائیدار حقیقت۔
قوموں کی ترقی اور عروج میں جدوجہد کا کردار ایک مسلمہ حقیقت ہے، اور تاریخ اس امر کی گواہ ہے کہ وہی اقوام آگے بڑھتی ہیں جو مسلسل محنت، استقامت اور مقصدیت کو اپنا شعار بناتی ہیں۔ اس تناظر میں اسلامی فکر "جہاد” کے تصور کو ایک ہمہ گیر اور بامعنی جہت عطاء کرتی ہے۔ درحقیقت، اسلامی تعلیمات میں "جہاد” کو محض عسکری جدوجہد تک محدود نہیں رکھا گیا، بلکہ اسے ایک وسیع تر اخلاقی، فکری اور سماجی اصلاح کے عمل کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یہ تصور انسان کی داخلی تربیت سے لے کر معاشرتی انصاف کے قیام تک پھیلا ہوا ہے، جہاں ہر سطح پر مثبت تبدیلی اور بہتری کی کوشش کو اہمیت دی جاتی ہے۔
اسی لیے جب یہ اصول توازن، حکمت اور اعلیٰ اخلاقی اقدار کے ساتھ اپنایا جاتا ہے تو یہ قوموں کی تعمیر، استحکام اور فلاح کا مؤثر ذریعہ بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، اگر اس تصور کو اس کے اصل تناظر سے ہٹا کر یا افراط و تفریط کے ساتھ اختیار کیا جائے تو یہی قوت تخریب اور تباہی کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ لہٰذا ایک متوازن نقطۂ نظر یہی ہے کہ "جہاد” کو اس کی جامع اور اصلاحی روح کے ساتھ سمجھا جائے، تاکہ یہ فرد اور معاشرے دونوں کے لیے خیر و فلاح کا ذریعہ بن سکے۔
ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی کو کسی ایک سادہ اور یک رُخی بیانیے میں سمیٹنا ممکن نہیں، کیونکہ یہ ایک کثیر الجہتی اور پیچیدہ مسئلہ ہے جس میں طاقت کی سیاست، نظریاتی تصادم، معاشی مفادات اور سفارتی حکمتِ عملیاں باہم پیوست ہیں۔ اسی لیے اس پورے منظرنامے کو سمجھنے کے لیے جذباتی ردِّعمل کے بجائے گہرے اور متوازن تجزیے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ چنانچہ "پنجۂ یہود کی شکست” جیسے تصورات اگرچہ بعض حلقوں کے جذبات اور امیدوں کی ترجمانی کرتے ہیں، تاہم ایک سنجیدہ علمی نقطۂ نظر ہمیں اس بات کا پابند بناتا ہے کہ ہم حالات کا جائزہ احتیاط، توازن اور حقیقت پسندی کے ساتھ لیں۔
کیونکہ بین الاقوامی سیاست میں ظاہری واقعات کے پسِ پردہ کئی پوشیدہ عوامل بھی کارفرما ہوتے ہیں، جو کسی بھی حتمی نتیجے تک پہنچنے کو پیچیدہ بنا دیتے ہیں۔
مزید برآں، موجودہ حالات اس امر کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں کہ دنیا ایک نئے دور کی طرف بڑھ رہی ہے، مگر اس دور کی تشکیل محض جنگوں، تصادم یا عسکری برتری کے ذریعے نہیں ہوگی۔ بلکہ اس کے لیے دانش، تدبر، انصاف اور باہمی احترام جیسے اصولوں کا فروغ ناگزیر ہوگا۔ لہٰذا امید کی جا سکتی ہے کہ آنے والا عالمی منظرنامہ محض طاقت کے توازن پر نہیں بلکہ اخلاقی و انسانی اقدار کی بنیاد پر استوار ہوگا۔ (ان شاء اللّٰہ)۔
🗓 (25.03.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...