Skip to content
جب زبان بگڑ جائے
تہذیب کا خاموش جنازہ
✍۔مسعود محبوب خان (ممبئی)
09422724040
┄─═✧═✧═✧═✧═─
ممبرا جیسے مسلم اکثریتی علاقے میں جب آپ قدم رکھتے ہیں تو بظاہر سب کچھ مانوس سا لگتا ہے مساجد کی اذانیں، دکانوں کے نام، لوگوں کی وضع قطع مگر جونہی کسی محفل، گلی یا نکڑ پر چند لمحے ٹھہریے، تو محسوس ہوتا ہے کہ یہاں الفاظ کا ایک عجیب بازار گرم ہے؛ ایسا بازار جہاں "گفتگو” کم اور "گالیاں” زیادہ فروخت ہوتی ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے زبان کو شائستگی سے کوئی پرانی دشمنی ہو گئی ہو، اور الفاظ نے تہذیب سے بغاوت کا اعلان کر دیا ہو۔
زبان ایسی چلی کہ ہوش ہی باقی نہ رہا
ہم نے سمجھا تھا کہ انسان ہے، نکلا کچھ اور!
یہ بغاوت بھی کوئی وقتی یا اتفاقی نہیں، بلکہ رفتہ رفتہ پروان چڑھنے والی وہ عادت ہے جس نے اب ایک باقاعدہ "ثقافت” کی شکل اختیار کر لی ہے۔ ابتداء میں شاید یہ محض چند افراد کی بے احتیاطی تھی، پھر یہ محفلوں کی بے تکلفی بنی، اور آج یہ گلی کوچوں کی پہچان بنتی جا رہی ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اس بازار میں خریدار بھی وہی ہیں اور بیچنے والے بھی وہی یعنی ہم خود۔ کوئی لفظ زبان سے نکلنے سے پہلے شرماتا نہیں، اور کوئی کان اسے سن کر چونکتا نہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے سماعت اور شائستگی دونوں نے خاموشی سے کنارہ کشی اختیار کر لی ہو۔ اور جب برائی پر حیرت باقی نہ رہے، تو سمجھ لیجیے کہ وہ دلوں میں جگہ بنا چکی ہے۔
اسی تسلسل میں سب سے زیادہ افسوس ناک منظر وہ ہے جب یہی لب و لہجہ نئی نسل کی زبان پر منتقل ہوتا دکھائی دیتا ہے۔ ننھے بچّے، جو ابھی لفظوں کے انتخاب کی نزاکت سے واقف بھی نہیں، وہ ایسی گفتگو کرتے سنائی دیتے ہیں جو ان کی معصومیت سے میل نہیں کھاتی۔ یوں لگتا ہے جیسے بچپن نے کھیل کے میدان سے نکل کر لفظوں کی آلودگی میں قدم رکھ دیا ہو۔ یہاں سوال صرف الفاظ کا نہیں، بلکہ اس ماحول کا ہے جو ان الفاظ کو جنم دیتا ہے، پروان چڑھاتا ہے، اور پھر معمول بنا دیتا ہے۔ یوں یہ سارا منظر ایک زنجیر کی مانند جڑا ہوا ہے بڑوں کی بے احتیاطی، ماحول کی بے حسی، اور بچّوں کی نادان تقلید اور اسی ربط و تسلسل نے اس مسئلے کو ایک عارضی خرابی سے نکال کر ایک اجتماعی رویہ بنا دیا ہے۔
سب سے زیادہ تشویش ناک پہلو یہ ہے کہ یہ "ادبی انقلاب” صرف بڑوں تک محدود نہیں رہا، بلکہ ننھے منے بچّے جو ابھی الف، ب، ت سیکھنے کی عمر میں ہیں؛ وہ ایسی ایسی "لغات” استعمال کرتے نظر آتے ہیں کہ بڑے بھی شرما جائیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے بچپن، جو کبھی معصومیت، سادگی اور شائستگی کا استعارہ ہوا کرتا تھا، اب دھیرے دھیرے ایک ایسے مرحلے میں تبدیل ہو رہا ہے جہاں "مہذب گالیوں کی ابتدائی تعلیم” غیر محسوس طریقے سے پروان چڑھ رہی ہے۔ یہ صورتِ حال محض الفاظ کے بگاڑ تک محدود نہیں، بلکہ یہ ہمارے اجتماعی مزاج، تربیت اور معاشرتی اقدار کے بدلتے ہوئے رخ کی عکاسی کرتی ہے۔
بچپن میں جو سیکھا تھا وہی لب پہ آیا
افسوس! کتابوں سے زیادہ گلیاں پڑھیں!
گھروں کی فضا، گلی محلوں کی صحبت، اور سوشل میڈیا کے اثرات نے مل کر ایک ایسا ماحول تشکیل دے دیا ہے جہاں زبان کی پاکیزگی ایک نایاب وصف بنتی جا رہی ہے۔ بچّے، جو اپنے گرد و پیش سے سیکھتے ہیں، وہی دہرا رہے ہیں جو وہ سنتے ہیں۔ بغیر اس شعور کے کہ الفاظ صرف آوازیں نہیں بلکہ شخصیت کا آئینہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ اگر کوئی اجنبی اس ماحول کو دیکھے یا سنے، تو اسے یہ سمجھنے میں دیر نہ لگے گی کہ یہ وہی قوم ہے جس کے بارے میں کہا جاتا تھا: "زبان سے پہچانے جاتے ہیں انسان”۔ مگر افسوس کہ اب یہی پہچان ایک نئے اور افسوسناک رخ اختیار کر چکی ہے۔ جہاں زبان نہ تہذیب کی ترجمان رہی ہے، نہ کردار کی عکاس، بلکہ محض بے احتیاطی، بے حسی اور بگڑتی ہوئی معاشرت کا ایک نمایاں مظہر بن کر رہ گئی ہے۔
مزاح کی بات یہ ہے کہ جب یہی افراد نماز میں کھڑے ہوتے ہیں تو نہایت خشوع و خضوع کے ساتھ کہتے ہیں: "اہدنَا الصراط المستقیم” یعنی ہمیں سیدھا راستہ دکھا! الفاظ میں عاجزی، لہجے میں انکسار، اور پیشانی سجدے میں جھکی ہوئی؛ گویا بندگی کی ایک مکمل تصویر سامنے آ جاتی ہے۔ مگر جونہی سلام پھیرا جاتا ہے، زبان جیسے فوراً اپنا "اصلی راستہ” اختیار کر لیتی ہے، اور وہی بے احتیاطی، وہی تلخی اور وہی غیر مہذب انداز گفتگو پھر لوٹ آتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ عبادت اور معمولِ زندگی کے درمیان ایک غیر مرئی دیوار کھڑی ہو چکی ہے۔ ایک طرف نماز میں مانگی جانے والی ہدایت، اور دوسری طرف روزمرّہ زندگی میں اختیار کی جانے والی روش۔
یہ تضاد محض ایک فرد کا نہیں، بلکہ ایک اجتماعی رویے کی نشاندہی کرتا ہے جہاں الفاظ اور اعمال کے درمیان ہم آہنگی مفقود ہوتی جا رہی ہے۔ یہ صورتحال بظاہر ہنسی کا پہلو ضرور رکھتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک گہری فکری اور اخلاقی المیے کی علامت ہے۔ اس لیے یہ صرف مسکرانے کا نہیں، بلکہ سنجیدگی سے اپنے طرزِ عمل پر غور کرنے اور اپنی زبان و کردار کے درمیان اس فاصلے کو کم کرنے کا تقاضا کرتی ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ ہم دعا میں جس راستے کی طلب کر رہے ہوں، عملی زندگی میں اسی سے دور ہوتے چلے جائیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ یہ بیماری آئی کہاں سے؟ اور جب ہم اس کا سنجیدگی سے جائزہ لیتے ہیں تو جواب کسی پیچیدہ فلسفے میں نہیں، بلکہ ہماری روزمرّہ زندگی کے سادہ مگر نظر انداز کیے گئے دائروں میں ملتا ہے: گھر، ماحول اور ہماری مجموعی بے حسی۔ بچّے وہی سیکھتے ہیں جو وہ سنتے اور دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے والدین کی گفتگو، بڑوں کا اندازِ بیان، اور اردگرد کا ماحول ہی پہلا مکتب ہوتا ہے۔ اگر گھر کے اندر زبان کا معیار پست ہو، اگر شائستگی کو اہمیت نہ دی جائے، اور اگر گفتگو میں بے احتیاطی معمول بن جائے، تو پھر یہی رویہ لاشعوری طور پر نئی نسل کے اندر منتقل ہو جاتا ہے۔ گلی کوچوں، دوستوں کی محفلوں اور سوشل میڈیا نے اس اثر کو مزید گہرا کر دیا ہے، یہاں تک کہ یہ طرزِ گفتگو ایک "کلچر” کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔
اب تو گالی بھی تہذیب کا حصہ ٹھہری
لوگ کہتے ہیں کہ یہ وقت کی مجبوری ہے!
ایسے میں بچّوں سے معصومیت، شائستگی اور تہذیب کی توقع رکھنا واقعی ایسا ہی ہے جیسے کانٹوں کے درمیان پھول اگانے کی خواہش کرنا۔ خواہش خوبصورت ضرور ہے، مگر اس کے لیے زمین، فضا اور نگہداشت سب کچھ بدلنا پڑتا ہے۔ لہٰذا مسئلہ صرف بچّوں کا نہیں، بلکہ ان بنیادوں کا ہے جن پر ان کی شخصیت تعمیر ہو رہی ہے۔ جب تک ہم گھر کے ماحول کو سنوارنے، اپنی زبان کی اصلاح کرنے اور معاشرتی رویوں پر سنجیدگی سے نظرثانی کرنے کا عزم نہیں کرتے، تب تک یہ شکوہ برقرار رہے گا اور وہ معصوم زبانیں، جو کبھی دعا اور محبت کے لیے تھیں، وہی بے ساختہ طور پر اس بگاڑ کا آئینہ بنتی رہیں گی۔
اب اصلاح کی بات کریں تو یہ کوئی جادو کی چھڑی کا کام نہیں، بلکہ ایک تدریجی، صبر آزما اور مسلسل عمل ہے۔ یہ وہ راستہ ہے جس میں جلد بازی نہیں، بلکہ مستقل مزاجی اور شعوری کوشش درکار ہوتی ہے۔
اوّل: گھر سے آغاز
گھر کو واقعی ایک تربیت گاہ بنایا جائے! ایسی تربیت گاہ جہاں الفاظ بھی سنوریں اور رویے بھی۔ والدین اپنی زبان درست کریں، اپنے لہجے میں نرمی اور شائستگی پیدا کریں، کیونکہ بچّے نصیحت سے کم اور مثال سے زیادہ سیکھتے ہیں۔ جو وہ روز سنتے ہیں، وہی ان کی زبان کا حصّہ بن جاتا ہے، اور جو وہ بار بار دیکھتے ہیں، وہی ان کی عادت بن جاتا ہے۔ جب گھر کے اندر گفتگو میں احترام، محبت اور تہذیب شامل ہوگی، تو یہی رنگ بچّوں کی شخصیت میں بھی اترے گا۔ اس کے برعکس اگر گھر میں سختی، تلخی یا غیر مہذب زبان عام ہو، تو پھر بچّوں سے اس کے برعکس توقع رکھنا محض خود فریبی ہوگی۔
لہٰذا اصلاح کا پہلا قدم یہی ہے کہ ہم دوسروں کو بدلنے سے پہلے اپنے گھروں کے ماحول کو بدلیں۔ اپنی زبان کو سنواریں، اپنے لب و لہجے کو مہذب بنائیں، اور ایسا عملی نمونہ پیش کریں جو بچّوں کے لیے خاموش مگر مؤثر درس بن جائے۔ یہی چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں آگے چل کر بڑے نتائج کی بنیاد بنتی ہیں۔
دوم: مثبت متبادل فراہم کریں
بچّوں کو صرف یہ نہ بتایا جائے کہ کیا نہیں کہنا، بلکہ یہ بھی سکھایا جائے کہ کیا کہنا ہے اور کیسے کہنا ہے۔ خوبصورت الفاظ، شائستہ جملے اور مہذب اندازِ گفتگو کو روزمرہ کا حصّہ بنایا جائے۔ اگر زبان کو اچھا متبادل مل جائے تو وہ خود بخود برائی چھوڑ دیتی ہے، کیونکہ فطرتِ انسانی میں حسن کو اختیار کرنے کا میلان موجود ہوتا ہے۔ بس اسے راستہ دکھانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گھر میں ایسے الفاظ کا استعمال عام کیا جائے جو محبت، احترام اور نرمی کو ظاہر کریں۔ بچّوں کی حوصلہ افزائی کی جائے کہ وہ اختلاف بھی ادب کے ساتھ بیان کریں، غصّہ بھی مہذب انداز میں ظاہر کریں، اور مزاح بھی ایسا ہو جس میں کسی کی تذلیل نہ ہو۔ اس طرح آہستہ آہستہ ان کی زبان میں شائستگی ایک عادت بن جائے گی، نہ کہ کوئی بوجھ۔ یوں اصلاح کا یہ دوسرا مرحلہ پہلے مرحلے کی تکمیل کرتا ہے، جہاں گھر کی فضا سنورتی ہے، وہیں زبان کو ایک نیا رخ بھی ملتا ہے۔ نتیجتاً وہی زبان، جو کبھی بے احتیاطی کا ذریعہ تھی، اب حسنِ اخلاق اور تہذیب کی نمائندہ بننے لگتی ہے۔
سوم: سماجی دباؤ (Social Accountability)
محلے اور معاشرے کی سطح پر اس رویے کو ہرگز "عام” نہ سمجھا جائے۔ کیونکہ جب برائی کو برا کہنا چھوڑ دیا جائے تو وہ آہستہ آہستہ کلچر بن جاتی ہے، اور پھر اسے بدلنا کہیں زیادہ مشکل ہو جاتا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اجتماعی طور پر ایک حساسیت پیدا کی جائے، ایسی حساسیت جو غلط کو غلط کہنے کا حوصلہ بھی رکھتی ہو اور اسے درست کرنے کی حکمت بھی۔ اگر کسی بچّے یا بڑے کی زبان میں بے احتیاطی نظر آئے تو اسے طنز یا تحقیر کا نشانہ بنانے کے بجائے، ایک خیر خواہانہ انداز میں توجہ دلائی جائے۔ محلے کے بزرگ، اساتذہ اور بااثر افراد اپنی ذمّہ داری محسوس کریں اور اپنے عمل سے یہ پیغام دیں کہ شائستگی ہی اصل معیار ہے۔ جب معاشرہ مجموعی طور پر ایک معیار قائم کر لیتا ہے، تو افراد خود بخود اس کے مطابق ڈھلنے لگتے ہیں۔ یوں اصلاح کا یہ مرحلہ گھر اور فرد سے آگے بڑھ کر ایک اجتماعی تحریک کی صورت اختیار کرتا ہے۔ جہاں ہر شخص نہ صرف اپنی زبان کا محافظ بنتا ہے بلکہ دوسروں کے لیے بھی ایک مثبت مثال بننے کی کوشش کرتا ہے۔ یہی سماجی دباؤ دراصل وہ قوت ہے جو کسی بھی برائی کو پنپنے سے روک سکتی ہے اور بھلائی کو فروغ دے سکتی ہے۔
چہارم: دینی و اخلاقی شعور
یہ نہایت ضروری ہے کہ اس مسئلے کو صرف معاشرتی خرابی کے طور پر نہ دیکھا جائے، بلکہ اسے دینی اور اخلاقی ذمّہ داری کے تناظر میں بھی سمجھا جائے۔ مساجد، مدارس اور تعلیمی ادارے اس پہلو پر خصوصی توجہ دیں کہ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ عبادت کا بھی ایک اہم حصّہ ہے۔ جس طرح نماز، روزہ اور دیگر عبادات میں اخلاص اور احتیاط مطلوب ہے، اسی طرح گفتگو میں بھی پاکیزگی اور ذمّہ داری درکار ہے۔ حدیثِ نبویؐ کا مفہوم ہے: "جو اللّٰہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتا ہے، وہ یا تو بھلائی کی بات کرے یا خاموش رہے”۔ یہ صرف ایک نصیحت نہیں، بلکہ ایک جامع اصول ہے جو انسان کی پوری گفتگو کو ایک اخلاقی دائرے میں لے آتا ہے۔ اگر اس شعور کو دلوں میں زندہ کر دیا جائے تو زبان خود بخود قابو میں آنے لگتی ہے، اور انسان ہر لفظ ادا کرنے سے پہلے اس کے اثرات پر غور کرتا ہے۔ یوں اصلاح کا یہ مرحلہ انسان کے باطن کو جگاتا ہے؛ جہاں خوفِ خدا، احساسِ جوابدہی اور اخلاقی ذمّہ داری ایک ساتھ مل کر زبان کو سنوارتے ہیں۔ نتیجتاً گفتگو محض عادت نہیں رہتی، بلکہ شعور، عبادت اور کردار کا حسین امتزاج بن جاتی ہے۔
پنجم: مزاح کے ذریعے اصلاح
کبھی کبھی اصلاح کا دروازہ سنجیدگی سے نہیں، بلکہ مسکراہٹ سے کھلتا ہے۔ سخت نصیحت جہاں دل پر بوجھ ڈال دیتی ہے، وہیں ہلکا سا طنز و مزاح انسان کو اپنی غلطی کا احساس بھی دلا دیتا ہے اور اس کی عزتِ نفس کو بھی مجروح نہیں ہونے دیتا۔
مثلاً اگر کوئی شخص ہر جملے میں گالی شامل کر دے، تو براہِ راست ٹوکنے کے بجائے مسکرا کر یہ کہہ دینا:
"بھائی! آپ کی گفتگو میں الفاظ کم اور بارود زیادہ ہے!”
یہ ایک ایسا جملہ ہے جو ہنسی بھی پیدا کرتا ہے اور سوچنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔ اسی طرح خوشگوار انداز میں دی گئی اصلاح دل میں اتر جاتی ہے، کیونکہ اس میں تلخی نہیں بلکہ خیر خواہی چھپی ہوتی ہے۔ مزاح اگر شائستہ ہو اور نیت اصلاح کی ہو، تو وہ ایک نرم مگر مؤثر ہتھیار بن جاتا ہے جو بغیر شور کے تبدیلی کی راہ ہموار کرتا ہے۔ یوں اصلاح کے اس مرحلے میں سختی کی جگہ حکمت، اور ڈانٹ کی جگہ مسکراہٹ لے لیتی ہے۔ نتیجتاً نہ صرف پیغام پہنچتا ہے بلکہ تعلقات بھی محفوظ رہتے ہیں، اور یہی کسی بھی پائیدار تبدیلی کی اصل بنیاد ہے۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ زبان صرف اظہار کا ذریعہ نہیں، بلکہ شخصیت کا آئینہ ہے۔ اگر آئینہ ہی دھندلا ہو جائے تو چہرہ کتنا ہی خوبصورت کیوں نہ ہو، پہچان کھو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گفتگو کی شائستگی محض ایک سماجی خوبی نہیں، بلکہ ایک اخلاقی ضرورت اور تہذیبی شناخت ہے۔ لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی زبان کو پاک کریں، اپنے گھروں کو تربیت گاہ بنائیں، اپنے ماحول کو مہذب بنائیں، اور اپنی آنے والی نسلوں کو وہ تہذیب منتقل کریں جس پر ہمیں فخر ہو نہ کہ وہ جس پر ہمیں صفائیاں دینی پڑیں۔ یہ کام ایک دن میں نہیں ہوگا، مگر اگر شعور بیدار ہو جائے اور نیت درست ہو، تو ہر چھوٹا قدم ایک بڑی تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔
کیونکہ آخرکار قوموں کی پہچان ان کے کردار سے ہوتی ہے، اور کردار کی جھلک سب سے پہلے زبان ہی سے ظاہر ہوتی ہے۔ اگر زبان سنور جائے تو فکر بھی سنورتی ہے، رویے بھی نکھرتے ہیں اور معاشرہ بھی مہذب بنتا ہے۔
ورنہ اندیشہ یہی ہے کہ آنے والی نسلیں ہمیں کسی روشن روایت کے امین کے طور پر نہیں، بلکہ ایک ایسے دور کے نمائندہ کے طور پر یاد کریں جس میں گفتگو کا وقار کھو گیا تھا اور وہ افسوس سے کہیں:
"یہ وہ لوگ تھے جو بات کم اور گالیاں زیادہ کیا کرتے تھے!”
اس تمام گفتگو کا حاصل اگر دینی نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو معاملہ اور بھی زیادہ سنجیدہ ہو جاتا ہے۔ اسلام نے جہاں انسان کے اعمال کی اصلاح پر زور دیا ہے، وہیں اس کی زبان کو بھی خاص طور پر قابو میں رکھنے کی تلقین کی ہے۔ کیونکہ یہی زبان ہے جو دل کی کیفیت کو ظاہر کرتی ہے اور یہی انسان کے انجام کا سبب بھی بن سکتی ہے۔ قرآنِ کریم میں بار بار پاکیزہ گفتگو، نرم کلامی اور خیر کی بات کرنے کی تعلیم دی گئی ہے۔ ایک مومن کی پہچان یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ لغویات اور بے ہودہ باتوں سے کنارہ کشی اختیار کرتا ہے۔ اسی طرح نبی کریمﷺ نے زبان کی حفاظت کو ایمان کی تکمیل کے ساتھ جوڑا ہے، اور یہ واضح فرما دیا کہ انسان کے اکثر گناہ اسی زبان کے ذریعے صادر ہوتے ہیں۔
یہ محض اتفاق نہیں کہ قیامت کے دن انسان کے اعضاء اس کے خلاف گواہی دیں گے اور زبان ان میں سرفہرست ہوگی۔ جو الفاظ ہم آج بے دھیانی میں ادا کر دیتے ہیں، وہی کل ہمارے حق یا ہمارے خلاف دلیل بن سکتے ہیں۔ اس لیے ایک مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ ہر لفظ کو تول کر ادا کرے، ہر جملے سے پہلے یہ سوچے کہ آیا یہ اللّٰہ کی رضا کے مطابق ہے یا نہیں۔ لہٰذا یہ مسئلہ صرف تہذیب یا سماج کا نہیں، بلکہ آخرت کی کامیابی کا بھی ہے۔ اگر ہم واقعی اپنی نسلوں کو ایک بہتر وراثت دینا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی زبانوں کی اصلاح کو ایک دینی فریضہ سمجھنا ہوگا۔ گھروں میں، محفلوں میں، اور ہر سطح پر اس شعور کو زندہ کرنا ہوگا کہ پاکیزہ کلام بھی عبادت ہے اور بدکلامی بھی گناہ۔
بولنے سے پہلے ذرا سوچ لیا کرو
لفظ بھی کبھی لوٹ کے آتے نہیں!
اللّٰہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنی زبانوں کی حفاظت کی توفیق عطاء فرمائے، ہمارے دلوں کو پاکیزہ بنائے اور ہماری گفتگو کو خیر، حکمت اور شائستگی کا ذریعہ بنا دے۔ آمین۔
🗓 (26.03.2026)
✒️ Masood M. Khan (Mumbai)
📧masood.media4040@gmail.com
○○○○○○○○○
Post Views: 4
Like this:
Like Loading...