Skip to content
لفظوں کی طاقت — جملوں کے اثرات اور معاشرتی شعور کی تشکیل
ازقلم:محسن خان،حیدرآباد
9397994441
انسان کو دیگر مخلوقات سے ممتاز کرنے والی سب سے بڑی نعمت زبان ہے، اور زبان کی اصل قوت الفاظ اور جملوں میں پوشیدہ ہے۔ یہی الفاظ کبھی مرہم بنتے ہیں تو کبھی زخم، کبھی امید جگاتے ہیں تو کبھی خوف و ہراس پیدا کر دیتے ہیں۔ کہاوت ہے: "زبان کی چوٹ تلوار سے زیادہ گہری ہوتی ہے” — یہ محض ایک جملہ نہیں بلکہ ایک اٹل حقیقت ہے۔ انسان کے بولے گئے چند الفاظ کسی کے دل میں روشنی بھی بھر سکتے ہیں اور اندھیرا بھی پھیلا سکتے ہیں۔
ادب و تاریخ اس بات کے گواہ ہیں کہ جملوں نے قوموں کی تقدیر بدلی ہے۔ ایک ولولہ انگیز تقریر لوگوں کو میدانِ عمل میں لے آتی ہے، اور ایک مایوس کن جملہ پوری قوم کو سست اور بے حس بنا دیتا ہے۔ شاعر نے کیا خوب کہا ہے:
الفاظ کے تیروں کا ہنر دیکھ رہا ہوں
دل جیت بھی لیتے ہیں، جلا بھی دیتے ہیں
یہی وجہ ہے کہ گفتگو میں جملوں کا انتخاب نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ جب کوئی شخص کسی حادثہ یا مصیبت کا شکار ہوتا ہے تو اسے حوصلہ دینے کے لیے امید افزا جملے کہے جاتے ہیں، جیسے "حوصلہ رکھو، سب ٹھیک ہو جائے گا”۔ یہ چھوٹے جملے اس کے اندر نئی زندگی بھر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، ایک منفی جملہ انسان کو اندر سے توڑ سکتا ہے اور رشتوں میں دراڑ ڈال سکتا ہے۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ لوگ ایک معمولی بات پر برسوں ناراض رہتے ہیں۔ ایک تلخ جملہ دلوں میں ایسی گرہ ڈال دیتا ہے جو بآسانی نہیں کھلتی۔ اسی لیے کہا جاتا ہے: "پہلے تولو پھر بولو”۔ زبان سے نکلا ہوا لفظ واپس نہیں آتا، اس لیے احتیاط ضروری ہے۔
حالیہ حالات اس حقیقت کی واضح مثال پیش کرتے ہیں کہ کس طرح ایک جملہ پورے معاشرے میں خوف و ہراس پیدا کر سکتا ہے۔ جب وزیر اعظم نے پارلیمنٹ میں یہ کہا کہ جنگی صورتحال کے باعث لاک ڈاؤن جیسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں، تو اس ایک جملے نے عوام میں بے چینی کی لہر دوڑا دی۔ لوگوں نے اس بات کو مکمل طور پر سمجھے بغیر محض "لاک ڈاؤن” کے لفظ کو پکڑ لیا اور خوف کا شکار ہو گئے۔
نتیجتاً، پٹرول پمپس پر ہجوم لگ گیا، لوگ ذخیرہ اندوزی کی طرف مائل ہو گئے، اور افواہوں نے آگ میں گھی کا کام کیا۔ حالانکہ حکومت، پٹرولیم ڈیلرس ایسوسی ایشن اور پولیس کی جانب سے بارہا وضاحت کی گئی کہ ملک میں پٹرول و ڈیزل کا وافر ذخیرہ موجود ہے، لیکن عوام کا ذہن اس ایک جملے کے زیرِ اثر رہا۔
سوشل میڈیا نے اس صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا۔ بعض غیر ذمہ دار عناصر نے آدھی بات کو مکمل سچ بنا کر پیش کیا اور یہ خبر پھیلائی کہ "لاک ڈاؤن لگنے والا ہے”۔ یوں ایک جملہ، جو محض امکان ظاہر کر رہا تھا، حقیقت کے طور پر پیش کر دیا گیا۔ یہ وہی کیفیت ہے جسے ہم افواہ کا طوفان کہتے ہیں۔
اسی تناظر میں ایک اور معروف جملہ بھی یاد آتا ہے جس نے عوام میں بڑی امیدیں جگائیں۔ انتخابات کے دوران یہ کہا گیا کہ ہر شہری کے اکاؤنٹ میں پندرہ لاکھ روپے آئیں گے۔ اس ایک جملے نے کروڑوں لوگوں کے دلوں میں خوشحالی کے خواب جگا دیے۔ عوام نے اسے حقیقت سمجھ کر اپنی توقعات وابستہ کر لیں، مگر بعد میں جب یہ بات پوری نہ ہوئی تو مایوسی نے جنم لیا۔ بعد ازاں یہ وضاحت دی گئی کہ یہ ایک انتخابی جملہ تھا۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ جملے نہ صرف خوف بلکہ امید اور پھر مایوسی بھی پیدا کر سکتے ہیں۔
شاعر نے اسی کیفیت کو یوں بیان کیا ہے:
وعدوں کے سہارے جو جیتے رہے ہم
وہی وعدے آخر دل توڑ گئے
اس ضمن میں ایک پرانا واقعہ بھی سبق آموز ہے کہ لوگ بھاگ رہے تھے، کسی نے پوچھا کیوں؟ جواب ملا: "حسین ساگر کا بند ٹوٹ گیا ہے!” حالانکہ حقیقت میں ایسا کچھ نہیں تھا، مگر لوگ بغیر تحقیق کے ایک دوسرے کی نقل کرتے ہوئے بھاگ رہے تھے۔ آج کے دور میں بھی یہی منظر دیکھنے کو ملا—لوگوں نے بغیر تحقیق کے سنی سنائی باتوں پر یقین کر لیا اور خوف کا شکار ہو گئے۔
سنی سنائی پہ یقین کر لیا سب نے
کسی نے سچ کو پرکھنے کی زحمت نہ کی
یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ سیاست میں جملوں کا استعمال ایک ہتھیار کے طور پر کیا جاتا ہے۔ دلکش اور پرکشش جملے عوام کو متاثر کرنے کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔ مگر جب وہ جملے حقیقت کا روپ نہیں دھارتے تو عوام میں مایوسی، بے چینی اور بداعتمادی پیدا ہوتی ہے۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم بطور عوام ہر جملے کو اس کے مکمل سیاق و سباق میں سمجھیں۔ کسی بھی بات کو بغیر تحقیق کے قبول نہ کریں۔ بھیڑ کا حصہ بننے کے بجائے اپنے شعور اور عقل کا استعمال کریں۔
آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ الفاظ محض آوازوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ انسان کی سوچ، معاشرے کے مزاج اور قوموں کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں۔ ایک ذمہ دار عہدے پر فائز شخص کا ایک جملہ لاکھوں لوگوں کی زندگیوں پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ اس لیے بولنے والوں کو بھی احتیاط کرنی چاہیے اور سننے والوں کو بھی فہم و تدبر سے کام لینا چاہیے۔
بول کہ لب آزاد ہیں تیرے،
بول زباں اب تک تیری ہے
اگر الفاظ کو حکمت اور دانائی کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہی الفاظ معاشرے میں امن، اعتماد اور استحکام کا ذریعہ بن سکتے ہیں، ورنہ یہی الفاظ خوف، انتشار اور بدامنی کو جنم دیتے رہیں گے۔
Post Views: 0
Like this:
Like Loading...