مخصوص حالیہ تناظر میں
ماہر ؔنرملی
معلوم ان کو کچھ نہیں نصرت خدا کی ہے
ڈرنا نہیں کبھی بھی حفاظت خدا کی ہے
’ انعام‘ سے ہیں الفتیں انسان سے نہیں
ہرگز نہیں ہے تنہا رفاقت خدا کی ہے
اس نے حصار ان کا کیا ہے نہ ہوگا کچھ
مقبول ہے سفر یہ تو نسبت خدا کی ہے
ڈرتا ہوا یہ بھاگ ہی جاتا ہے دیکھنا
چہروں پہ ان کے رہتی ہے ہیبت خدا کی ہے
خالق ہمارا ہے وہی ،رازق بھی ہے وہی
ایماں یقیں ہمارا یہ رفعت خدا کی ہے
تم اشتعال ہم کو دلاؤ نہ کچھ یہاں
حبِّ رسول دل میں ہے الفت خدا کی ہے
معصوم کو جو دیکھا تو تیور چڑھا دیا
اعلاں ہمارا ہر جگہ طاقت خدا کی ہے
مہلت کا فائدہ کہ اٹھانا ہے چار دن
اِترا رہے ہو جو بھی وہ رحمت خدا کی ہے
اواز اس کی لاٹھی میں سنتے نہیں ہیں کچھ
علمی سفر میں رہتے ہیں چاہت خدا کی ہے
بزدل نہ سمجھو ہم کو کہ شاہد زمانہ ہے
جو صبر کر رہے ہیں عنایت خدا کی ہے
ماہرؔ زمانے کو یہ بتاؤ بھی برملا
پیش نظر ہمارے اطاعت خدا کی ہے
