Skip to content
جمعہ نامہ :
شریعتِ اسلامی اور یکساں سول کوڈ
ازقلم:ڈاکٹر سلیم خان
ارشادِ ربانی ہے :’’ اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔عمدہ سامان زیست سے نوازا، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی اور دین کے معاملہ میں اُنہیں واضح ہدایات دے دیں پھر علم آ جانے کے بعد اس بنا پران میں اختلاف ہواکیونکہ وہ ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے‘‘۔یعنی مبنی بر انصاف شریعت کے باوجود اس سےاختلاف کی وجہ زیادتی ہے۔ مسلمانانِ ہند اگر شرح صدر سے شریعت پر عمل کریں تو یکساں سول کوڈ ان کی راہوں میں حائل نہیں ہوسکتا لیکن اگر وہ زیادتی کی خاطر عدالت سے رجوع کریں گے دشمنان اسلام کو مداخلت کا موقع مل جائے گا اور:’’ اللہ قیامت کے روز اُن معاملات کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں ‘‘۔ فرمانِ قرآنی ہے:’’ اے نبیؐ، ہم نےآپ کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت) پر قائم کیا ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے ‘‘۔ اس آیت میں نہ صرف شریعت اسلامی کے مطابق زندگی گزارنے کی تلقین کی گئی بلکہ یکساں سول کوڈ کی آڑ میں مسلمانوں کو شرعی احکامات سے برگشتہ کرنے والے جاہلوں کی پیروی سے منع کیا گیا کیونکہ :’’ اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آ سکتے ظالم لوگ ایک دوسرے کے ساتھی ہیں، اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے‘‘۔
اتراکھنڈ کے بعد گجرات میں آدیباسیوں کو مستثنیٰ کرنے کے بعد وہ یکساں سول کوڈ ہی نہیں رہا۔ اس کے لیے آئینی تحفظات کا حوالہ دیا گیا جبکہ دستورِ ہند میں سبھی کےاپنے مذہب پر عمل کرنے کو بنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے۔ اس لیے ایک طبقے کے آئینی حقوق کا احترام اور دوسرے کی پامالی ظاہر کرتی ہے کہ یہ ظلم و زیادتی کی علمبردار سرکار کی نیت سیاسی مفاد پرستی ہے۔ ایسے میں تعدد ازدواج اور وراثت کے اسلامی موقف کو سمجھنا اور سمجھانا لازمی ہے۔ اسلام میں تعدد ازدواج کے استحقاق کو خصوصی مراعات کے طور پیش کرکے ہندووں کے اندر احساسِ محرومی پیدا کیا جاتا ہے۔ اس کو دور کرنے درست طریقہ مراعات ختم کرنا نہیں بلکہ مرحومین کو اس کی فراہمی ہےلیکن یہاں تو الٹی گنگا بہہ رہی ہے۔ وطنِ عزیز میں مردم شماری سے تعدد ازدواج کی نہایت دلچسپ صورتحال سامنے آتی ہے۔ اس کا سب سے زیادہ تناسب قبائلی سماج میں ( 2.6 فیصد) ہے۔ سرکاری منطق کے لحاظ سے اس کا اطلاق سب سے پہلے ان پر ہونا چاہیے تھا لیکن انہیں تو مستثنیٰ کردیا گیا۔ مسلمانوں سے خیر خواہی کا ڈھونگ کرنے والوں کو بتانا چاہیے کہ وہ آدیباسیوں کے بدخواہ کیوں ہیں؟ اورانہیں اس سے مستفید کیوں نہیں کرنا چاہتے ؟
تعدد ازدواج کے معاملے میں عیسائی دوسرے نمبر پر یعنی2.1 فیصد پر ہیں پھر مسلمانوں کا نمبر آتا جو 1.8پر اور ہندو بھی کم نہیں وہاں 1.3فیصد لوگ تمام تر پابندیوں کے باوجود ایک سے زائد بیوی رکھنے کا اعلان کرتے ہیں ۔ ہندووں کی آبادی چونکہ مسلمانوں سے کئی گنا زیادہ ہے اس لیے یہ کم تناسب بھی زیادہ افرادپر مشتمل ہے۔ یہ عددکم نظر آتا ہے کیونکہ وہ قانونی و سماجی دباو کے سبب اسے چھپاتے ہیں ورنہ بعید نہیں کہ تناسب بھی مسلمانوں سے زیادہ ہو ۔ مندجہ بالا اعدادو شمار سے ظاہر ہے کہ نہ تو پابندی سے یہ سلسلہ رکتا ہے اور نہ اجازت کے باوجود ایک حد سے آگے بڑھتا ہے ۔ یہ گویا ایک معاشرتی ضرورت ہے اور اس کا اعتراف کرتے ہوئے مغرب سے لیواِن ریلیشن کا طریقہ درآمد کیا گیا جس میں مرد و عورت بلا نکاح ایک دوسرے کے ساتھ جنسی تعلقات استوار کرسکتے ہیں۔ اس طرح تعدد ازدواج کے حاجتمندمرد ایک سے زیادہ عورتیں تو رکھ لیتے ہیں مگر بیوی کی حیثیت سے ان کے نان نفقہ کی ذمہ داری سے پیچھا چھڑا لیتے ہیں اور بلا وجہ اس رشتے کو منقطع کرنے کے بھی مجاز ہوتے ہیں ۔اسلام میں تعدد ازدواج کے لیے چار کی تحدید اور انصاف کی شرط ہے لیکن لیواِن ریلیشن ان دونوں سے بے لگام ہے۔
لیو ان ریلیشن میں رہنے والی عورت کو سماج میں بری نظر سے دیکھا جاتا ہے اور وہ زوجہ کے حقوق و احترام سے محروم ہوتی ہے۔ کہنے کو عورت بھی ایک سے زیادہ مردوں کے ساتھ لیوان ریلیشن میں رہ سکتی ہے لیکن کسی مہذب سماج میں اسے تسلیم نہیں کیا جاتا۔ اول تو کوئی خاتون اس کا اعلان نہیں کرے گی اور اگر کرتی ہے تو سارے مرد اس سے رشتہ توڑ لیں گے۔ اس طرح مرد تو فائدے میں رہتا ہے لیکن خسارہ عورت کا ہوجاتا ہے کیونکہ عزت و وراثت دونوں سے محروم کردی جاتی ہے۔ اس کے باوجود اگر گجرات کے وزیر اعلیٰ یہ اعلان کرتے ہیں کہ مسلمان عورتوں کو اس کا انتظار تھا تو ان سے بڑا احمق دنیا میں کوئی اور نہیں ہوسکتا۔لیو ان ریلیشن سے جنم لینے والے بچوں کا بھی نہایت سنگین مسئلہ ہے کیونکہ اگر ان کی ماں نے کسی شادی ہی نہیں کی تو وہ اس کی اولاد کیسے ہوگی؟ این ڈی تیواری کے ناجائز بیٹے کی کشمکش سب کے سامنے ہےجسے بار بار عدالت سے رجوع ہوکر رسوا ہونا پڑا۔ اس کے برعکس ہیمامالنی نے چونکہ دھرمیندر سے دوسری شادی کرلی اور ایشا دیول ہر آزمائش سے بچ گئی ۔ ہیما مالنی اور دھرمیندر کو اپنے ٹکٹ پر ایوان پارلیمان میں پہنچاکر بی جے پی نے ثابت کردیا کہ وہ اسے معیوب نہیں سمجھتی ۔
فرمانِ خداوندی ہے:’’ یہ بصیرت کی روشنیاں سب لوگوں کے لیے ہیں ‘‘۔ ہر کوئی اس کے فیوض و برکات کو محسوس کرسکتا ہے لیکن :’’ ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں‘‘۔ یعنی یہ شرعی ہدایات یقین کرکے اس پر عمل کرنے والے اہل ایمان ہی کے لیےدنیا و آخرت میں باعثِ رحمت بنے گی ۔ وراثت کے تعلق سے بھی اسلامی شریعت خواتین کو میکے اور سسرال دونوں ذرائع سے مستفید کرتی ہے نیز ان پر گھر کے اخراجات کی ذمہ داری نہیں ڈالتی۔ مسلمان معاشرہ اگر اس پر عمل کرے اور خواتین اس کے خلاف عدالت میں نہ جائیں تو کوئی گھر گھر آکر انحراف پر مجبور نہیں کرسکتا اس لیے ضرورت اس بات کی ہے اہل ایمان ازخود اپنے معاملات میں دین رحمت کی پاسداری کریں اور اگر تنازع پیدا ہوجائے تو اسے اپنی شرعی عدالت میں اسلام کے مطابق سلجھا کر اس پر راضی و مطمئن رہیں ۔ یکساں سِول کوڈ کے نقصانات سے بچنے کا یہی سب سے موثر طریقۂ کار ہے۔
Post Views: 3
Like this:
Like Loading...