Skip to content
رمضان کے بعد ہماری زندگی
ازقلم:(حافظ)افتخاراحمدقادری
انسانی حیات کے نشیب و فراز میں بعض اوقات ایسے ایّام اور لمحات بھی در آتے ہیں جو وقت کا گزر جانے والا حصہ نہیں ہوتے بلکہ انسان کے باطن میں ایک ہمہ گیر انقلاب کی بنیاد رکھ جاتے ہیں۔ یہ لمحات اس کے فکر و شعور کو جھنجھوڑتے، ضمیر کو بیدار کرتے اور ایک نئی معنویت، نئی سمت اور ایک نئے عزم سے آشنا کرتے ہیں۔ رمضان المبارک بھی انہی روح پرور اور انقلاب آفریں اوقات کا ایک درخشاں مظہر ہے جو اپنے دامن میں انوارِ الٰہی، تجلیاتِ ربانی اور فیوض و برکات کا ایک بحرِ بے کراں سمیٹے ہوئے آتا ہے اور جب رخصت ہوتا ہے تو اہلِ ایمان کے دلوں میں ایک عمیق تڑپ، روحانی خلا اور ایک فکری سوال چھوڑ جاتا ہے کہ آیا ہم نے اس مہینے کے حقیقی پیغام کو اپنی زندگی کا حصہ بنایا یا نہیں؟ جب رمضان المبارک اپنی تمام تر جلوہ سامانیوں کے ساتھ رخصت ہوتا ہے تو یہ ایک مہینے کا اختتام نہیں ہوتا بلکہ ایک ایسے تربیتی دور کا اختتام ہوتا ہے جس میں انسان کو اپنے رب سے تعلق استوار کرنے، نفس کو قابو میں رکھنے اور اپنی زندگی کو شریعتِ مطہرہ کے سانچے میں ڈھالنے کا سنہری موقع فراہم کیا گیا ہوتا ہے۔ اب اس کے بعد کی زندگی دراصل اسی تربیت کا عملی امتحان ہوتی ہے۔ یہی وہ مرحلہ ہے جہاں انسان کی حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ آیا وہ واقعی بدلا ہے یا محض وقتی جذبات کے زیرِ اثر چند اعمال انجام دے کر خود کو مطمئن کر بیٹھا ہے۔
رمضان کے بعد سب سے پہلا اور بنیادی تقاضا یہ ہے کہ انسان اپنے اندر پیدا ہونے والی روحانی کیفیت کو زائل نہ ہونے دے بلکہ اسے استقامت کے ساتھ برقرار رکھے۔ عبادات کا تسلسل، ذکر و اذکار کی پابندی، تلاوتِ قرآن کا اہتمام اور فرائض و واجبات کی ادائیگی میں سنجیدگی وہ امور ہیں جو ایک مؤمن کی زندگی کا لازمی جزو ہونے چاہئیں۔ اگر رمضان کے بعد یہ تمام اعمال موقوف ہو جائیں یا ان میں سستی آ جائے تو یہ اس بات کا کھلا ثبوت ہے کہ ہم نے رمضان کے اصل مقصد کو سمجھا ہی نہیں۔ بندگی کا تقاضا یہ ہے کہ انسان ہر لمحہ اپنے رب کے حضور جھکا رہے، نہ کہ صرف ایک مخصوص مہینے میں۔ اسی طرح رمضان کے بعد احتسابِ نفس کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ رمضان میں تو ماحول سازگار ہوتا ہے، ہر طرف نیکی کا چرچا ہوتا ہے، مساجد آباد ہوتی ہیں اور دلوں میں ایک عمومی رجحانِ خیر پایا جاتا ہے مگر رمضان المبارک کے بعد یہی فضا بدل جاتی ہے اور انسان دوبارہ دنیاوی مصروفیات میں الجھ جاتا ہے۔ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ انسان اپنے نفس کا مسلسل محاسبہ کرتا رہے، اپنے اعمال کا جائزہ لیتا رہے اور ہر لمحہ یہ سوچے کہ آیا اس کا ہر عمل الله تعالیٰ کی رضا کے مطابق ہے یا نہیں۔ یہی احتساب دراصل انسان کو گمراہی سے بچاتا اور اسے صراطِ مستقیم پر قائم رکھتا ہے۔ رمضان المبارک ہمیں ضبطِ نفس، صبر و تحمل اور تقویٰ کی جو عملی تربیت دیتا ہے، اس کا تسلسل برقرار رکھنا نہایت ضروری ہے۔ تقویٰ کوئی وقتی کیفیت نہیں بلکہ یہ ایک مستقل رویہ اور ایک دائمی شعور کا نام ہے جس کے تحت انسان ہر اس کام سے بچنے کی کوشش کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضی کا سبب بنے۔ اگر رمضان میں ہم اپنی نگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں، اپنی زبان کو لغویات سے بچاتے ہیں اور اپنے دل کو برائیوں سے پاک رکھنے کی کوشش کرتے ہیں تو رمضان کے بعد بھی یہی روش برقرار رہنی چاہیے، کیونکہ یہی دراصل تقویٰ کی حقیقی روح ہے۔ قرآنِ مجید جو رمضان المبارک کا سب سے عظیم تحفہ ہے، اس کے ساتھ تعلق کو بھی مستحکم کرنا از حد ضروری ہے۔ رمضان میں جس شغف اور انہماک کے ساتھ ہم تلاوتِ قرآن کرتے ہیں اگر وہی ذوق سال بھر برقرار رکھا جائے تو یہ کتاب ہماری زندگیوں میں ایک عظیم انقلاب برپا کر سکتی ہے۔ قرآن محض الفاظ کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ایک زندہ اور جاوید پیغام ہے، ایک ایسا دستورِ حیات ہے جو انسان کو ہر میدان میں رہنمائی فراہم کرتا ہے۔ اس کے معانی میں تدبر، اس کی تعلیمات پر عمل اور اس کے احکام کی پیروی ہی دراصل اس کے ساتھ حقیقی تعلق کا مظہر ہے۔
رمضان المبارک کا ایک اہم پہلو معاشرتی اصلاح اور انسانی ہمدردی بھی ہے۔ اس مہینے میں ہم جس جذبۂ ایثار کے ساتھ محتاجوں کی مدد کرتے ہیں، ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ جذبہ سال بھر برقرار رہے۔ موجودہ دور کی معاشی ناہمواریوں، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور غربت کے تناظر میں یہ ہماری دینی و اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اردگرد موجود ضرورت مند افراد کی خبرگیری کریں، ان کی مشکلات کو سمجھیں اور حتی المقدور ان کی مدد کریں۔ یہی وہ عمل ہے جو معاشرے میں محبت، اخوت اور یکجہتی کو فروغ دیتا ہے۔ درحقیقت رمضان المبارک ایک ایسا جامع تربیتی نظام ہے جو انسان کو ایک مہینے میں وہ اسباق سکھا دیتا ہے جو اس کی پوری زندگی کے لیے کافی ہوتے ہیں، مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم ان اسباق کو اپنی عملی زندگی میں نافذ کریں۔ اگر رمضان کے بعد ہماری زندگی میں کوئی مثبت تبدیلی رونما نہ ہو، ہمارے اخلاق میں کوئی نکھار پیدا نہ ہو اور ہمارے اعمال میں کوئی استقامت نہ آئے تو ہمیں سنجیدگی کے ساتھ اپنے طرزِ عمل پر غور کرنا چاہیے۔ آخر الامر یہی کہا جا سکتا ہے کہ رمضان کا اصل پیغام یہی ہے کہ انسان اپنی زندگی کو اللہ تعالیٰ کی بندگی کے لیے وقف کر دے، اپنے نفس کی سرکشی کو قابو میں رکھے، اپنے رب سے تعلق کو مضبوط بنائے اور مخلوقِ خدا کے ساتھ حسنِ سلوک کو اپنا شعار بنائے۔ اگر ہم اس پیغام کو اپنی زندگی کا محور بنا لیں تو یقیناً ہماری دنیا بھی سنور جائے گی اور آخرت بھی کامیابی سے ہمکنار ہوگی۔ الله تعالیٰ ہمیں یہ توفیق عطا فرمائے کہ ہم رمضان کے فیوض و برکات کو محض یادوں تک محدود نہ رکھیں بلکہ انہیں اپنی زندگی کا مستقل سرمایہ بنا لیں، اپنے ایمان کو تازگی بخشیں، اپنے اعمال کو سنواریں اور اپنی زندگی کو اس نہج پر استوار کریں جو اس کے نزدیک مقبول ہو۔ یہی ایک سچے مؤمن کی پہچان ہے اور یہی حقیقی کامیابی کا راستہ ہے۔ آمین۔
Post Views: 5
Like this:
Like Loading...